بلوچستان میں سفاکانہ کارروائیوں کا تسلسل


10 جولائی 2025 کی رات، پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ایک خوفناک واقعہ پیش آیا، جہاں مسلح حملہ آوروں نے کوئٹہ سے پنجاب جانے والی دو مسافر بسوں کو روکا، شناختی کارڈز کے ذریعے نو پنجابیوں کی شناخت کی، انہیں اغوا کیا اور ژوب اور لورالائی اضلاع کے قریب پہاڑی علاقے میں قتل کر دیا۔

یہ سوچی سمجھی سفاکانہ کارروائی، جس کی ذمہ داری علیحدگی پسند بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) نے قبول کی، نے پاکستان کے گہرے ہوتے نسلی تناؤ، بلوچستان میں جاری بغاوت، اور علیحدگی پسند تشدد کے بنیادی اسباب سے نمٹنے میں ریاست کی جدوجہد کے بارے میں خدشات کو دوبارہ زندہ کر دیا۔ یہ حملہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں بلکہ نسلی ہدف بنانے والے تشدد کے ایک پریشان کن نمونے کا حصہ ہے، جو بغاوت کو ہوا دینے والی شکایات اور حکومت کے ردعمل کے تنقیدی جائزے کا مطالبہ کرتا ہے۔ واضح رہے کہ اس قسم کی کارروائیوں کا نشانہ سندھی اورسرائیکی حتیٰ کے سندھ سے تعلق رکھنے والے بروہی بھی بن چکے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق، حملہ آوروں نے این 70 شاہراہ پر سور دکائی کے قریب، ژوب لورالائی سرحد پر واقع ایک دور افتادہ علاقے میں بسوں کو روکا۔ انہوں نے منظم طریقے سے مسافروں کے شناختی کارڈز چیک کیے، پنجاب سے تعلق رکھنے والے نو افراد کو الگ کیا، اور انہیں پہاڑوں میں لے گئے، جہاں سے بعد میں ان کی گولیوں سے چھلنی لاشیں ملیں۔ حملے کی درستگی، جو خاص طور پر پنجابیوں کو نشانہ بناتا تھا، ایک خوفناک نسلی جہت کو اجاگر کرتی ہے۔ ایک زندہ بچ جانے والے نے بتایا کہ جب حملہ آور متاثرین کو لے جا رہے تھے تو اس نے گولیوں کی آواز سنی، یہ ایک دل دہلا دینے والی تفصیل ہے جو اس عمل کی وحشت کو بیان کرتی ہے۔

حکومت نے معمول کے مطابق اس واقعے کو بھی غیرملکی ہاتھ سے نتھی کیا اور اسے بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے ) سے منسوب کیا، جبکہ بی ایل ایف نے بعد میں ذمہ داری قبول کی، یہ الزام لگاتے ہوئے کہ متاثرین پاکستانی انٹیلی جنس کے جاسوس تھے۔ ایک دعویٰ جو بغیر ثبوت کے ہے اور نسلی ہدف بندی کے بہانے کے طور پر دکھائی دیتا ہے۔

بلوچستان، پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا لیکن ”کم آباد“ صوبہ، قدرتی وسائل جیسے ہائیڈرو کاربن اور معدنیات سے مالا مال ہے۔ اس کے باوجود، یہ ملک کے غریب ترین علاقوں میں سے ایک ہے، جہاں اس کی 15 ملین آبادی کا 70 فیصد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارتا ہے۔ بلوچ علیحدگی پسند، جن میں بی ایل اے اور بی ایل ایف جیسے گروہ شامل ہیں، دلیل دیتے ہیں کہ پنجاب کی غلبہ والی مرکزی حکومت صوبے کے وسائل کو دوسرے علاقوں کی ترقی کے لیے استعمال کرتی ہے جبکہ مقامی ضروریات کو نظر انداز کرتی ہے۔

62 ارب ڈالر کی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) ، جو بلوچستان سے گزرتی ہے، تنازع کا ایک مرکزی نقطہ بن گئی ہے۔ علیحدگی پسند اسے ایک استحصالی منصوبہ قرار دیتے ہیں جو بقول ان کے غیر ملکی اور پنجابی مفادات کو مقامی کمیونٹیز پر ترجیح دیتا ہے، جس سے بلوچ عوام کو کم اقتصادی فائدہ پہنچتا ہے۔

علیحدگی پسندوں کا بیانیہ بے بنیاد نہیں ہے۔ بلوچستان کا بنیادی ڈھانچہ، تعلیم، اور صحت کے نظام پنجاب کے مقابلے میں کہیں پیچھے ہیں، اور صوبے کے رہائشی اکثر پاکستان کے سیاسی اور اقتصادی ڈھانچے میں خود کو نظر انداز محسوس کرتے ہیں۔ تاہم، بے گناہ شہریوں، مزدوروں اور مسافروں کو نشانہ بنانا بہرحال بلاجواز ہی گردانا جائے گا۔ تشدد کے یہ اقدامات ممکنہ حامیوں اور ہمدردوں کو بھی برگشتہ کرنے اور نسلی تقسیم کو گہرا کرنے کا خطرہ رکھتے ہیں، جس سے پنجابیوں کو ایک ایسے علاقے میں غیر کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جو پہلے ہی عدم اعتماد سے بھرا ہوا ہے۔

حکومت کا حملے پر ردعمل ایک مانوس پیرایہ کی پیروی کرتا ہے : مذمت، انصاف کے وعدے، اور غیر ملکی مداخلت کے مبہم لیکن بلند بانگ الزامات۔ وزیراعظم شہباز شریف کا دعویٰ کہ حملہ ”بھارت کے حمایت یافتہ دہشت گردوں“ نے کیا، تنازع کی گھریلو جڑوں سے توجہ ہٹاتا ہے۔ اگرچہ سکیورٹی فورسز نے اسی رات کوئٹہ، لورالائی، اور مستونگ میں دیگر حملوں کو ناکام بنایا، لیکن اس طرح کے واقعات کو روکنے میں ان کی ناکامی بلوچستان کے وسیع اور ناہموار علاقے پر کنٹرول برقرار رکھنے کے چیلنجز کو اجاگر کرتی ہے۔

حکومت کا غیرسیاسی حل پر انحصار۔ بغاوت کو ہوا دینے والی سماجی، اقتصادی اور سیاسی شکایات کو حل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے بلوچستان کے بحران کے لیے ”منصفانہ سیاسی حل“ کا مطالبہ کیا ہے، یہ ایک ایسی رائے ہے جو کارکنوں نے دہرائی ہے جو دلیل دیتے ہیں کہ فوجی کریک ڈاؤن صرف تناؤ کو بڑھاتے ہیں۔

سخت گیر حربوں، جن میں بلوچ کارکنوں کی رپورٹ شدہ گمشدگیاں اور دیگر اقدامات شامل ہیں، نے ناراضی کو ہوا دی اور آبادی کے کچھ حصوں کو شدت پسندی کی طرف مائل کیا۔ بلوچ رہنماؤں کے ساتھ بامعنی مذاکرات میں ناکامی اور منصفانہ ترقی فراہم کرنے کی ناکامی نے بغاوت کو پھلنے پھولنے کا موقع دیا۔

بلوچستان میں پنجابیوں کو نشانہ بنانا پاکستان میں ایک وسیع تر نسلی خلیج کو ظاہر کرتا ہے۔ پنجاب، جہاں ملک کی نصف سے زائد آبادی رہتی ہے، اس کی سیاست، فوج، اور معیشت پر غلبہ رکھتا ہے۔ یہ غلبہ چھوٹے صوبوں جیسے بلوچستان میں ناراضی کو جنم دیتا ہے، جہاں پنجابیوں کو اکثر غیر منصفانہ نظام کے فائدہ اٹھانے والوں کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

حملہ آوروں کا متاثرین کو قتل کرنے سے پہلے شناختی کارڈز چیک کرنے کا فیصلہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ پنجابیوں کو ایک گروہ کے طور پر سزا دینے کی دانستہ کوشش کی گئی، ان کے انفرادی حالات سے قطع نظر متاثرین، جنھیں گھر واپس جانے والے مزدوروں کے طور پر بیان کیا گیا، نہ تو پالیسی ساز تھے اور نہ ہی فوجی اہلکار بلکہ ایک بڑے تنازع کی زد میں آنے والے عام شہری تھے۔

یہ نسلی ہدف بندی پاکستان بھر میں فرقہ ورانہ اور علاقائی تناؤ کو بڑھانے کا خطرہ رکھتی ہے۔ جیسا کہ ایک سوشل میڈیا پوسٹس بھی ہیں، اس طرح کے اقدامات علیحدگی پسندوں کے مقصد کو غیر ملکیوں سے نفرت پر مبنی تشدد کے طور پر پیش کر کے نقصان پہنچا سکتے ہیں، جس سے بلوچستان کے اندر اور باہر ممکنہ ہمدردوں کو دور کیا جا سکتا ہے۔

یہ قتل پنجاب کی کمیونٹیز کو غیر یقینی صورتحال میں ڈالتے ہیں، خوف کو فروغ دیتے ہیں اور ممکنہ طور پر جوابی جذبات کو جنم دے سکتے ہیں جو ملک کو مزید غیر مستحکم کر سکتے ہیں۔ بلوچستان بس حملہ ایک تلخ یاد دہانی ہے کہ پاکستان صرف مذمت اور طاقت کے ذریعے اپنے بغاوت کے مسئلے کو حل نہیں کر سکتا۔

ایک کثیر جہتی نقطہ نظر کی ضرورت ہے، جو سکیورٹی اقدامات کو بلوچ شکایات کو حل کرنے کی حقیقی کوششوں کے ساتھ ملائے۔ سب سے پہلے، حکومت کو بلوچستان میں منصفانہ ترقی کو ترجیح دینی چاہیے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ وسائل کی دولت مقامی کمیونٹیز کو فائدہ پہنچائے۔ تعلیم، صحت، اور بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری بلوچستان اور پنجاب جیسے زیادہ خوشحال صوبوں کے درمیان خلیج کو کم کرنے میں مدد کر سکتی ہے۔

دوسرے، سیاسی مذاکرات ضروری ہیں۔ اعتدال پسند بلوچ رہنماؤں اور سول سوسائٹی گروہوں کے ساتھ رابطہ مذاکرات کی راہ ہموار کر سکتا ہے جو زیادہ خودمختاری اور وسائل پر کنٹرول کے مطالبات کو پورا کرے۔

حکومت کو سکیورٹی فورسز کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کی تحقیقات بھی کرنی چاہئیں، کیونکہ یہ بغاوت کے ظلم کے بیانیے کو ہوا دیتے ہیں۔ آخر میں، پاکستان کے رہنماؤں کو بغیر ثبوت کے غیر ملکی عناصر کو مورد الزام ٹھہرا کر تنازع کو بیرونی بنانے کے لالچ سے بچنا چاہیے۔ ایسی بیان بازی گھریلو ناکامیوں سے توجہ ہٹاتی ہے اور حکومت کے ردعمل کی ساکھ کو نقصان پہنچاتی ہے۔

بی ایل ایف کی ذمہ داری کا دعویٰ، بی ایل اے کے اسی طرح کے حملوں کی تاریخ کے ساتھ، ایک گھریلو مسئلے کی طرف اشارہ کرتا ہے جس کے لیے خود احتسابی اور اصلاح کی ضرورت ہے۔ بلوچستان میں نو پنجابی مسافروں کا قتل ایک المیہ ہے جو پاکستان کو پریشان کرنے والی گہری نسلی اور سیاسی تقسیم کو اجاگر کرتا ہے۔

اگرچہ باغیوں کی شکایات حقیقی عدم مساوات کی عکاسی کرتی ہیں، شہریوں کو نشانہ بنانا ناقابل دفاع اور غیر نتیجہ خیز ہے۔ حکومت کو اپنی طرف سے ردعمل کے اقدامات سے آگے بڑھنا چاہیے اور ترقی، مذاکرات، اور جوابدہی کے ذریعے بلوچ بغاوت کے بنیادی اسباب کو حل کرنا چاہیے۔

اس طرح کے اقدامات کے بغیر، تشدد کا سلسلہ جاری رہے گا، جو پہلے ہی اقتصادی اور سیاسی عدم استحکام سے دوچار قوم کو مزید تقسیم کرے گا۔ این 70 شاہراہ پر بہایا گیا خون نہ صرف مذمت بلکہ دیرپا تبدیلی کے عزم کا مطالبہ کرتا ہے۔

Facebook Comments HS