موسمیاتی تبدیلی: تاریخ، انکار اور تباہی کا سفر

انسانی ترقی کے نام پر زمین کو پہنچنے والے زخم اتنے گہرے ہیں کہ اوزون کی تہہ کی تباہی جیسے ناقابلِ تلافی سانحات بھی محض علمی مباحث کا حصہ بن کر رہ گئے۔ 1972 ء کے اس تاریخی موڑ پر جب کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں دنیا بھر کے ممالک پہلی بار ماحولیات کے بحران پر اکٹھے ہوئے، تو اندرا گاندھی کے الفاظ ”مغرب کے لئے ماحول کی آلودگی مسئلہ ہے اور ہمارے لئے غربت“ نے شمال اور جنوب کے درمیان پائے جانے والے اس بنیادی تصادم کو جنم دیا جو آج تک جاری ہے بلکہ آنے والی صدیوں کے لیے سیاسی بیانیے کی بنیاد بنا۔ 5 سے 16 جون تک جاری رہنے والے اسی اجلاس نے ماحولیاتی تحریک کو جنم دیا، اور 5 جون کو عالمی یومِ ماحولیات کے طور پر تاریخ کے اوراق میں ثبت کر دیا گیا۔
بیس سال بعد 1992 ء میں برازیل کے شہر ریوڈی جنیرو میں ”ایجنڈا 21“ کے نام سے جو دستاویز منظور ہوئی، اس نے پائیدار ترقی کے سترہ اہداف کی بنیاد رکھی۔ مگر حقیقی تبدیلی کا لمحہ 2015 ء میں آیا، جب پیرس معاہدے نے درجۂ حرارت کو صنعتی دور سے پہلے کے سطح کے مقابلے میں 2 ڈگری سینٹی گریڈ سے نیچے رکھنے کا خواب دکھایا۔ یہیں سے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دنیا کے درمیان چھپی ہوئی کشمکش عیاں ہوئی۔ پاکستان، بنگلہ دیش اور افریقی ممالک کا موقف ایک بے بسی کے ساتھ واضح تھا ’ہم اس معاہدے پر راضی ہیں۔ مگر عمل درآمد کے کے لئے وسائل نہیں‘ ۔ چین نے ابتدا میں اسے ”مغرب کی ترقی روکنے کی سازش“ قرار دیتے ہوئے سرد مہری کا مظاہرہ کیا، مگر عالمی دباؤ نے اسے جلد ہی موقف بدلنے پر مجبور کر دیا۔ امریکہ کا رویہ آج بھی اسی ڈول ڈال پر ناچ رہا ہے، اوباما نے دستخط کیے تو ٹرمپ نے معاہدے سے نکلنے کا اعلان کر دیا، بائیڈن دوبارہ شامل ہوئے اور اب ٹرمپ کی واپسی کے سائے میں یہ جھول جاری ہے۔
2025 ء کی تباہیوں نے انسانیت کو جس بے چارگی سے دوچار کیا، وہ تاریخ کے سیاہ ترین ابواب میں درج ہوگی۔ ٹیکساس میں محض پینتالیس منٹ کی بارش نے ایک سو سے زائد انسانی جانوں کا چراغ گل کر دیا اور بائیس ارب ڈالر کی املاک کو ملیامیٹ کر کے رکھ دیا۔ سب سے ہولناک حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کو صرف سیلاب سے سالانہ پانچ سو ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے، مگر وہ پیرس معاہدے کے تحت ترقی پذیر ممالک کو درکار دو سو ارب ڈالر سالانہ دینے سے قاصر ہے۔ اسی دوران چین کے صوبے گوانگ ڈونگ میں تین سو ستتر افراد سیلاب کی بھینٹ چڑھ گئے، تین لاکھ اڑسٹھ ہزار گھر مٹی کے ڈھیر میں بدل گئے، اور صرف ایک شہر میں تیرہ لاکھ افراد سڑکوں پر پناہ تلاش کرتے نظر آئے۔ 2024 ء کے عالمی اعداد و شمار بھی خوشگوار نہیں رہے تھے جب، قدرتی آفات نے سولہ ہزار سات سو تریپن جانیں نگل لیں، تین سو بیس ارب ڈالر کا نقصان ہوا، جس میں سے ایک سو آٹھ ارب ڈالر کا بوجھ صرف انشورنس کمپنیوں نے اٹھایا تھا۔
ماہرینِ ماحولیات کی پیش گوئیاں مستقبل کے خوفناک امکانات کی عکاسی یوں کرتی ہیں کہ غریب ممالک کی مجموعی قومی آمدنی میں پندرہ سے بیس فیصد تک کی کمی واقع ہوگی، گندم اور مکئی کی پیداوار میں تیس فیصد گراوٹ آئے گی، جبکہ سڑکوں، پلوں اور بندرگاہوں کی مرمت پر سالانہ ایک کھرب ڈالر خرچ ہوں گے۔ موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں ہونے والے ہجرت میں افریقہ سے آٹھ کروڑ پچاس لاکھ، وسطی امریکہ سے ایک کروڑ اور جنوبی ایشیا سے چار کروڑ افراد کا خاندانوں سمیت کوچ کرنا دنیا کے جغرافیائی، سماجی، سیاسی منظر کو ہی بدل کر رکھ دے گا۔
پاکستان اس المیے میں سب سے زیادہ مجبور نظر آتا ہے، جہاں قدرت کا دیا گیا جغرافیائی تنوع ہی اس کے لیے عذاب بن چکا ہے۔ جنوب میں کیٹی بندر کا چالیس فیصد علاقہ سمندر کی بھینٹ چکا ہے، اور سمندر ہر سال مزید پندرہ میٹر زمین نگل رہا ہے۔ تھرپارکر میں صحرا آٹھ کلومیٹر سالانہ کی رفتار سے پھیل رہا ہے، جبکہ شمال میں چترال، سوات اور ہنزہ کے پہاڑی علاقوں میں زمینی کٹاؤ نے پچیس فیصد رہائشی علاقوں کو غیر آباد کر دیا ہے۔ چترال کی وادی تو گویا موسمیاتی تباہی کی زندہ مثال بن چکی ہے، گزشتہ دہائی میں دریائے چترال کے غضب نے آٹھ دیہات نگل لیے، جن میں کئی گاؤں صفحۂ ہستی سے مٹ گئے۔ ایک گاؤں کے مکینوں کی آنکھوں میں اپنے آبا و اجداد کی قبروں کا پانی بہہ جانے کا درد میں نے خود اپنی انکھوں سے دیکھا۔
درجہ حرارت میں ڈیڑھ سے ڈھائی ڈگری اضافے نے پنجاب کی زراعت کو تہ و بالا کر دیا ہے۔ سالانہ ساٹھ سے ستر دن پینتیس ڈگری سے اوپر کی گرمی نے کاشتکاری کے روایتی موسم کو تباہ کر کے رکھ دیا۔ گندم اور چاول کی پیداوار میں پندرہ سے بیس فیصد کمی، جبکہ کپاس کی پیداوار میں تیس فیصد گراوٹ نے کسانوں کی نسلوں پر محیط علم کو بے معنی بنا دیا ہے۔ دریاؤں میں پانی کا بہاؤ اس وقت پچیس فیصد بڑھ چکا ہے، مگر ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ آنے والے عشروں میں چالیس فیصد کمی کے ساتھ خشک سالی کا ایک طویل دور شروع ہو گا۔ صحت کے نظام پر ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات تو گویا قیامت خیز ہیں، ملیریا اور ڈینگی کے مریضوں میں تین سو فیصد اضافہ ہوا، پنجاب میں ہیٹ اسٹروک سے ہونے والی اموات چار سو فیصد بڑھیں، اور سندھ کے سیلابی علاقوں میں ڈائریا اور ہیپاٹائٹس کے کیسز سات سو فیصد تک پہنچ گئے ہیں۔ مجموعی طور پر دو سو سے تین سو پچاس ارب ڈالر کے معاشی نقصان کے ساتھ ایک کروڑ پاکستانیوں کے بے گھر ہونے کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ سب سے المناک امر یہ ہے کہ پاکستان عالمی کاربن اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ دار ہے مگر دنیا کے دس سب سے متاثرہ ممالک میں شامل ہے۔
سرد جنگ کے اختتام ( 1990 ء) کے بعد سے روایتی جنگیں ساٹھ فیصد کم ہوئی ہیں، مگر قدرتی آفات سات گنا بڑھ چکی ہیں۔ امریکہ اور چین کا انکار جہاں پیرس معاہدے کے 2035 ء تک کے اہداف کو ناممکن بنا رہا ہے، وہیں ٹیکساس کا پانچ سو ارب ڈالر کا سالانہ نقصان اس تلخ حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اب ترقی کا یہ کھیل ’ہماری ترقی، ہماری تباہی ”میں بدل چکا ہے۔ نیپال کے بعد پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو بحیرہ عرب کی گہرائیوں سے کے ٹو کی آٹھ ہزار چھ سو ایک میٹر بلندی تک پھیلا ہوا ہے۔ اسی جغرافیائی تنوع نے اسے فطری حسن دینے کی بجائے تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ کراچی کے ساحل پر کھڑا کوئی ماہی گیر جب سمندر کو اپنی جھونپڑی نگلتے دیکھتا ہے، یا چترال کا کوئی بزرگ جب اپنے آبائی قبرستان کو دریا کی نذر ہوتے دیکھتا ہے، تو ان کی آنکھوں میں وہ سوال ہوتا ہے جو عالمی برادری سے پوچھا جانا چاہیے کہ“ کیوں ان کی زمین ان کے لئے سزا بن چکی ہے؟ ”
پاکستان جیسے ممالک کے لیے موسمیاتی تبدیلی کوئی علمی مباحثہ نہیں بلکہ بقا کی جنگ ہے۔ اس جنگ میں صرف پانی، ہوا اور مٹی کا تحفظ ہی نہیں بلکہ اپنی ثقافت، تہذیب اور شناخت کو بچانے کی جدوجہد بھی شامل ہے۔ چترال کے گمشدہ گاؤں کے کھنڈر، کیٹی بندر کے ڈوبتے ہوئے گھر، اور تھرپارکر کے پھیلتے صحرا دراصل انسانی تہذیب کے قبرستان بنتے جا رہے ہیں۔ اس جنگ کو جیتنے کے لیے سالانہ سات سے چودہ ارب ڈالر کی فوری ضرورت ہے، جو پاکستان جیسے ملک کے بس سے باہر ہے۔
آخری سوال یہ نہیں کہ پاکستان اس بحران سے کیسے نمٹے گا؟ اصل سوال یہ ہے کہ جن ممالک نے صنعتی انقلاب کے نام پر فضا میں کاربن کے اربوں ٹن اگل کر زمین کا درجہ حرارت بڑھایا، وہ اپنے تاریخی قرضے کی ادائیگی سے کیوں بھاگ رہے ہیں؟ عالمی برادری کو سمجھنا ہو گا کہ یہ کوئی رفاہی چندہ نہیں بلکہ تاریخی انصاف کا تقاضا ہے۔ اگر آج بھی انکار کا یہ سلسلہ جاری رہا، تو آنے والی نسلیں ہمیں ”وہ لوگ“ کہہ کر یاد کریں گی جنہوں نے اپنی عیاشیوں کے عوض زمین کے سب سے معصوم باسیوں کو تباہی کے حوالے کر دیا۔ سیلاب، خشک سالی اور آفات کے اس دور میں ہر گزرتا دن انسانی ضمیر پر ایک نیا داغ ہے اور تاریخ ایسے داغوں کو کبھی نہیں مٹاتی۔
ہماری زمین کے سینے پر لکھی یہ داستان صرف اعداد و شمار کی نہیں، ان لاکھوں آنکھوں کی ہے جو ہر روز اپنا گھر، اپنی زمین اور اپنی یادیں کھو رہی ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کا المیہ محض ایک ملک کا نہیں، بلکہ اس نا انصافی کا منظرنامہ ہے جہاں مجرم انصاف کے تختے پر بیٹھے ہیں اور مظلوم سزا بھگت رہے ہیں۔ جب تک نام نہاد ترقی یافتہ ممالک اپنی تاریخ کا احتساب نہیں کریں گے، تب تک ٹیکساس کے سیلاب، گوانگ ڈونگ کے سانحے اور چترال کے ڈوبتے دیہات کا سلسلہ رکنے والا نہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کا یہ سفر اگر انکار اور تباہی کا مرثیہ بن کر رہ گیا، تو آنے والی صدیوں میں انسانیت کا کوئی مورخ ہمارے بارے میں لکھے گا ”وہ زمین بچانے کے بجائے اپنی قبریں کھودتے رہے“ ۔

