دسترخوان: تہذیب، روایت اور رشتوں کی زنجیر


دسترخوان ایک قدیم روایت جو صرف کھانے کے لیے بچھائے جانے والے کپڑے تک محدود نہیں، بلکہ مشرقی تہذیب کی جڑوں میں پیوست ایک علامت سمجھی جاتی تھی۔ وہ وقت تیزی سے رخصت ہو رہا ہے جب دستر خوان محبت، سلیقے اور خاندان کو اپنے دامن میں سمیٹ لیا کرتے تھے۔ اس پر صرف کھانا نہیں بلکہ تعلقات، جذبات، قربتیں اور نسلوں کی تربیت رکھی جاتی تھی۔ جب دسترخوان بچھایا جاتا تھا تو اس کے گرد صرف خاندان کے افراد نہیں بلکہ ایک تہذیب اکٹھا ہو جاتی تھی۔

ایرانی، ترک اور مغل درباروں سے ہوتا ہوا یہ رواج برصغیر کے گھروں تک پہنچا۔ پہلے قالینوں پر سجے شاہی دسترخوان اور پھر عام گھروں میں ریشمی یا سوتی چادروں پر ہاتھ سے کڑھے اور محبت سے سجے دسترخوان۔ ہر جگہ اس روایت نے اپنی شناخت بنائی۔ یہ صرف ایک روایت نہیں، بلکہ ایک تربیتی عمل بھی تھا جس کے ذریعے خاندان کے افراد خصوصاً بچوں کو آدابِ معاشرت سکھائے جاتے تھے۔

دسترخوان بچھانے کے اپنے اصول ہوتے تھے۔ سب سے پہلے بزرگ بیٹھتے، ان کے بعد مہمان اور بچے۔ ”بسم اللہ“ پڑھنا، خاموشی سے کھانا، سب کے لیے برابر کھانا رکھنا، اور کھانے کے بعد ”الحمد للہ“ کہنا، ادب سے بیٹھنا اور شکر گزاری۔ یہ ساری تربیت دسترخوان کا حصہ تھی۔

دسترخوان عورت کے سلیقے اور ذوق کا آئینہ دار بھی تھا۔ وہ اسے نہایت محبت سے سجاتی، صاف ستھرا رکھتی، خاص مواقع کے لیے علیحدہ دسترخوان رکھتی۔ ان پر خوبصورت کڑھائی، پھولوں کے نقش اور دعائیں لکھی جاتیں۔ جو صرف دھاگے نہیں، محبت، دعا، اور سلیقے کے وہ رنگ سمجھے جاتے تھے جو خاندان کی عورت نسلوں کے لیے سجاتی تھی۔

ہاتھ سے کڑھا ہوا دسترخوان بیٹی کے جہیز میں خاص اہتمام سے شامل کیا جاتا تھا۔ جو تحفے سے بڑھ کر تہذیب منتقل کرنے کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ ماں اپنی بیٹی کو یہ خاموش پیغام دیتی کہ وہ جہاں بھی جائے، وہاں یہ دسترخوان بچھا کر وہی محبت، خلوص اور سلیقہ قائم رکھے جو اس نے ورثے میں پایا ہے۔ اس دسترخوان پر ماں کی تربیت، دعائیں اور خاندانی وقار لپٹا ہوتا۔ یوں صرف ایک کپڑا، مکمل طرزِ زندگی بن جاتا۔ ماں کی سوئی کا ہر ٹانکا، ہر بیل گویا بیٹی سے کہہ رہی ہوتی کہ یہ چادر جہاں بھی بچھائی جائے اس پر صرف کھانا نہیں، تہذیب رکھی جائے۔

دستر خوانوں پر اشعار اور دعائیں محض لکھے نہیں جاتے تھے، بلکہ محسوس کیے جاتے تھے
محبت رکھی جاتی اور برکت پائی جاتی۔

دسترخوان پر بیٹھنے والے افراد دعاؤں کی خوشبو میں ڈھل جاتے تھے، نوالے صرف جسم نہیں، روح کو بھی سیر کرتے تھے۔

وقت کے ساتھ بہت کچھ بدل گیا۔ وہ صحن جہاں سب ایک ساتھ بیٹھ کر کھاتے تھے، اب کمروں میں تقسیم ہو گئے۔ موبائل فون، ٹی وی اسکرین، اور اکیلے پن نے وہ نرمی اور قریبی لمحات چھین لیے جو کبھی دسترخوان کی شناخت ہوا کرتے تھے۔ بچے الگ کھاتے ہیں، بڑے وقت کی قلت میں الجھے ہوتے ہیں، اور دسترخوان وہ اب صرف تہواروں پر یا فقط تصویروں میں دکھائی دیتا ہے۔

یہ ایک اداس سوال ہے کہ کیا آج کا بچہ جانتا ہے کہ دسترخوان کیا ہوتا تھا؟ کیا وہ جانتا ہے کہ پہلے زمانے کی مائیں اس چادر کو کتنا محبت سے سجاتی تھیں؟ کیا وہ اس خاموش تربیت سے واقف ہے جو ہر نوالے کے ساتھ منتقل ہوتی تھی؟

وقت آ گیا ہے کہ ہم اس خوبصورت روایت کو دوبارہ زندہ کریں۔ صرف کھانے کے لیے نہیں، بلکہ تعلقات کی گرہ دوبارہ باندھنے کے لیے، خاندانی قربتیں واپس لانے کے لیے، اور اس تہذیب کو نئی نسل میں سانس لینے کے لیے۔ ہفتے میں ایک دن سہی، مگر سب افراد ایک دسترخوان پر بیٹھیں، بغیر کسی اسکرین، بغیر کسی مصروفیت کے، صرف ایک دوسرے کے ساتھ وقت بتائیں۔ گھر کے ہر فرد کو اس کی اندر کی تنہائی سے باہر کھینچ لائیں۔

جب دسترخوان آباد ہوتا ہے، تو دل خالی نہیں رہتے۔ جب سب مل بیٹھتے ہیں، تو گھر صرف مکان سے محبت کی چھاؤں بن جاتے ہیں۔ رشتے مرتے نہیں ان میں کچھ سانس باقی رہ جاتی ہے۔

Facebook Comments HS