آئین کی حکمرانی، صرف خواب دیکھنا ہی کافی نہیں


مجھے برطانیہ آئے دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، اس دوران یہاں کے نظامِ عدل کو پرکھنے، پارلیمنٹ کی شفاف کارروائیوں کو دیکھنے اور اداروں کے باہمی توازن اور احترام کا مشاہدہ کرنے کا بارہا موقع ملا ہے۔ ہر بار میں دل ہی دل میں یہ ضرور سوچتا ہوں کہ کیا ہی اچھا ہو کہ پاکستان میں بھی آئین کی حکمرانی کا یہی معیار قائم ہو جائے۔ یہ خواہش محض ایک جذبۂ حسرت نہیں بلکہ ہر اس شخص کی گہری آرزو ہے جو اپنے وطن سے محبت رکھتا ہو اور اسے ترقی کی راہ پر دیکھنا چاہتا ہو۔ برطانیہ میں آئین کی حکمرانی کے دیکھے جانے والے ”فیوض و برکات“ استحکام، انصاف کے حصول، شہری حقوق کے تحفظ اور اداروں کی پائیداری میں جھلکتے ہیں جو درحقیقت آئین کی بالادستی اور اس پر عملدرآمد کے ہی عملی مظاہر ہیں۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان میں یہ خواب کیوں شرمندہ تعبیر نہیں ہو پا رہا؟ اور کیا اسے ممکن بنایا جاسکتا ہے؟

یاد رہے کہ برطانیہ میں آئینی حکمرانی کوئی راتوں رات درختوں پر اُگ آنے والا پھل نہیں ہے بلکہ اس کی جڑیں صدیوں کی جدوجہد، میگنا کارٹا جیسے تاریخی معاہدوں اور ایک ایسی سیاسی ثقافت میں پیوست ہیں جہاں اداروں کی آزادی، قانون کی حکمرانی اور شہریوں کے حقوق کو ناقابل تنسیخ سمجھا جاتا ہے۔ پارلیمنٹ کی خودمختاری یہاں کا بنیادی اصول ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ پارلیمنٹ جو قانون پاس کرے، وہی آخری حکم ہوتا ہے اور عدلیہ اس کی تشریح تو کر سکتی ہے لیکن اسے کالعدم قرار نہیں دے سکتی۔ یہ بھی یاد رہے کہ برطانیہ میں عدلیہ کو آئینی جائزہ لینے کا روایتی اختیار حاصل نہیں ہے۔ یہاں کلیدی بات یہ ہے کہ تمام ادارے حکومت، عدلیہ، فوج اور انتظامیہ اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے آئین اور قانون کے دائرے میں کام کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ شفافیت، جوابدہی اور سیاسی عمل میں عوامی شرکت اس نظام کو چلانے والے ایندھن ہیں۔

پاکستان کا المیہ یہ نہیں کہ یہاں آئین موجود نہیں۔ متعدد ترامیم کے باوجود 1973 کا آئین ایک جامع دستاویز ہے جو بنیادی حقوق، ریاستی ڈھانچے، وفاقی اور صوبائی اختیارات اور عدلیہ کی آزادی جیسے اہم اصول وضع کرتا ہے۔ مسئلہ آئین کے متن کا نہیں بلکہ اس پر مسلسل، مستقل اور بلا امتیاز عملدرآمد نہ ہونے کا ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ آئین کی بالادستی کے لیے جدوجہد اور اسے پامال کرنے کی کوششوں کے اتار چڑھاؤ سے بھری پڑی ہے۔

پاکستان میں آئینی حکمرانی کے راستے میں کئی بنیادی رکاوٹیں حائل ہیں۔

مثال کے طور پر ہمارا سیاسی کلچر ابھی تک مضبوط شخصیات، خاندانی سیاست اور مفاد پرست گروہوں کے گرد گھومتا ہے۔ ادارے آئین اور قانون کے تابع رہنے کے بجائے اکثر ان شخصیات یا گروہوں کے مفادات کے تابع ہو جاتے ہیں۔ پھر پاکستان کی تاریخ میں فوجی آمریتوں کے طویل ادوار نے جمہوری تسلسل کو توڑا اور آئین کو معطل یا مسخ کرنے کی مثالیں قائم کیں۔ اگرچہ حالیہ برسوں میں صورتحال میں تبدیلی آئی ہے لیکن فوج کا غیر متناسب اثر و رسوخ اور قومی سلامتی کے امور پر اس کا کنٹرول، شفاف سیاسی عمل اور مکمل شہری حکمرانی میں ایک بنیادی رکاوٹ سمجھا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ عدلیہ کو آئین کی حکمرانی کا محافظ ہونا چاہیے لیکن پاکستان میں عدلیہ اکثر سیاسی دباؤ، تقرریوں کے تنازعات اور کبھی کبھار اپنی ہی خودمختاری کے دعووں کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنتی رہی ہے۔ مستقل، بے خوف اور آزاد عدلیہ کے بغیر آئین کی بالادستی کا خواب ادھورا رہے گا۔ پھر بار بار حکومتوں کا تختہ الٹنا، سیاسی انتقام کی روایت اور اداروں کے درمیان کشمکش نے مستقل جمہوری اقدار کو پروان بھی تو نہیں چڑھنے دیا۔ سیاسی جماعتیں بھی زیادہ تر اندرونی جمہوریت، شفافیت اور پالیسی پر مبنی سیاست سے عاری رہی ہیں۔ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ عوامی سطح پر اداروں پر عدم اعتماد اور یہ احساس پایا جاتا ہے کہ قانون صرف غریبوں کے لیے ہے، یہ سوچ یا تاثر آئینی حکمرانی کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ جب معاشرے کے طاقتور طبقات خود کو قانون سے بالاتر سمجھیں تو آئین محض کاغذ کا ٹکڑا بن کر رہ جاتا ہے۔ انتظامی ڈھانچے کی کمزوری، بدعنوانی اور نا اہلی کا عناصر بھی آئین کے تحت دیے گئے بنیادی حقوق (یعنی صحت، تعلیم، انصاف وغیرہ) کی فراہمی میں رکاوٹ بنتے ہیں، جس سے عوام کا اعتماد مزید کم ہو جاتا ہے۔

ان تمام رکاوٹوں اور وجوہات کے باوجود مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ پاکستان میں آئین کی حکمرانی کا سفر مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔ اس حوالے سے کچھ مثبت اشارے بھی موجود ہیں۔

مثال کے طور پر آئین میں 18 ویں ترمیم وفاقی ڈھانچے کو مضبوط کرنے، صوبائی خودمختاری بڑھانے اور پارلیمنٹ کی بالادستی کو بحال کرنے کی ایک اہم کوشش تھی۔ اگرچہ اس پر عملدرآمد میں خامیاں رہیں لیکن یہ ایک اہم سنگ میل ہے۔ پھر عدلیہ بحالی تحریک نے عدلیہ کی آزادی کے لیے عوامی حمایت کو واضح کیا اور یہ ظاہر کیا کہ عوام اداروں کی آزادی کے لیے بیدار ہیں۔ میڈیا کو اگرچہ دباؤ کا سامنا رہتا ہے لیکن اس کے باوجود میڈیا نے حکمرانوں کی جوابدہی اور عوامی شعور بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے جو لائق تحسین ہے۔

اس کے علاوہ انسانی حقوق، خواتین کے حقوق اور شفافیت کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور سول سوسائٹی گروپس آئینی اقدار کو فروغ دینے میں مصروف ہیں، جو اچھی بات اور ایک مثبت اشارہ ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ تعلیم یافتہ نوجوان نسل اپنے حقوق اور حکمرانوں سے جوابدہی کے بارے میں زیادہ بیدار ہے اور تبدیلی کا مطالبہ کر رہی ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ آئین کی حکمرانی کا خواب کیسے شرمندہ تعبیر ہو سکے گا؟ جواب بڑا سادہ ہے کہ برطانیہ کی تاریخ سے ہمیں صرف یہی سبق نہیں لینا چاہیے کہ وہاں آئین کی حکمرانی ہے بلکہ یہ بھی سیکھنا چاہیے کہ انہوں نے صدیوں کی جدوجہد، قربانیوں اور مسلسل بہتری کے عمل سے یہ منزل حاصل کی۔ پاکستان کے لیے بھی کوئی جادوئی چھڑی نہیں ہو سکتی بلکہ یہ ایک طویل، پیچیدہ لیکن ناگزیر عمل ہو گا جس کے لیے اجتماعی عزم درکار ہے۔

سب سے اہم قدم یہ ہے کہ تمام ریاستی ادارے بشمول فوج، عدلیہ، پارلیمنٹ اور انتظامیہ اپنے اپنے آئینی دائرہ کار میں رہ کر کام کریں۔ فوج کو سیاست سے مکمل طور پر الگ ہونا ہو گا اور دفاعی پالیسیوں پر بھی شفاف شہری کنٹرول کو یقینی بنانا ہو گا۔ عدلیہ کو واقعی آزاد اور غیر جانبدار ہونا چاہیے جبکہ پارلیمنٹ کو قانون سازی اور نگرانی کے اپنے بنیادی فرائض بلا خوف و خطر ادا کرنے ہوں گے۔

آئین کی حکمرانی کا مطلب ہی قانون کی حکمرانی ہے۔ یہ تبھی ممکن ہے جب قانون کا اطلاق بلا امتیاز ہو، چاہے طاقتور سے طاقتور فرد ہی کیوں نہ ہو۔ بدعنوانی کے خلاف موثر، آزاد اور طاقتور اداروں (نیب وغیرہ) کے ذریعے سخت کارروائی ہونی چاہیے۔ پھر سیاسی جماعتوں کو خاندانی ”بادشاہتوں“ سے نکل کر جمہوری ادارے بننا ہو گا۔ پارٹی قیادت کے لیے شفاف انتخابات، پالیسیوں پر مبنی منشور اور اراکین کی فعال شرکت ضروری ہے۔

سول سروس کو بدعنوانی سے پاک، قابل اور عوامی خدمت کے لیے وقف ہونا چاہیے۔ پولیس، عدالتی نظام اور بنیادی سہولیات فراہم کرنے والے محکموں کی کارکردگی میں بہتری لانا آئین کے تحت عوام کے حقوق کی فراہمی کے لیے ناگزیر ہے۔ اس کے علاوہ نئی نسل کو آئین، شہری حقوق و فرائض اور جمہوری اقدار کی تعلیم دینا بھی انتہائی ضروری ہے۔ میڈیا اور سول سوسائٹی کو عوامی شعور بیدار کرنے اور حکمرانوں کو جوابدہ ٹھہرانے کا کام جاری رکھنا چاہیے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ عوام کو خود اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنی ہوگی۔ پرامن احتجاج، ووٹ کا استعمال اور اپنے منتخب نمائندوں سے سوالات پوچھنا جمہوریت کا حصہ ہے کیونکہ آئینی حکمرانی کے لیے عوامی مطالبات اور مستقل دباؤ انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

برطانیہ میں بیٹھ کر مجھ سمیت کوئی شخص اگر پاکستان میں آئین کی حکمرانی کے ثمرات دیکھنے کی خواہش رکھتا ہے تو اس کی سوچ غلط نہیں۔ یہی وہ بنیاد ہے جس پر کوئی بھی پائیدار، خوشحال اور پرامن معاشرہ تعمیر ہو سکتا ہے۔ پاکستان کے پاس ایک جامع آئین موجود ہے۔ چیلنج اس پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔ یہ کسی ایک فرد، ادارے یا حکومت کے بس کی بات نہیں بلکہ یہ خواب شرمندہ تعبیر ہونے کے لئے قومی عزم، اجتماعی جدوجہد اور مسلسل محنت کا تقاضا کرتا ہے۔ بلاشبہ رکاوٹیں دیوہیکل ہیں لیکن ناقابلِ عبور نہیں۔ ہر شہری کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا، ہر پاکستانی کو اپنے حقوق کا علم رکھنا ہو گا، اپنے فرائض نبھانا ہوں گے، قانون کی پاسداری کرنا ہوگی اور حکمرانوں سے جواب طلب کرتے رہنا ہو گا۔ یاد رکھیں کہ برطانیہ نے یہ راستہ صدیوں میں طے کیا۔ پاکستان کو اپنا سفر جلد از جلد شروع کر دینا چاہیے۔ آئین کی حکمرانی کوئی دیوتا نہیں جو آسمان سے اتر آئے۔ یہ وہ چراغ ہے جسے ہر شہری کو اپنے حصے کی روشنی فراہم کر کے روشن رکھنا ہے۔ یہی واحد راستہ ہے جس پر چل کر ہم اپنے خوابوں کے پاکستان کو حقیقت کا روپ دے سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS