جامعات: آگے کی بات، لیکن کیسے؟

کچھ دنوں پہلے یونیورسٹی آف کمالیہ کے انٹرنیشنل مشاورتی بورڈ میں شمولیت کا دعوت نامہ ملا تو دلی خوشی ہوئی ایک تو وطن سے جڑے رہنے کا بہانہ دوسرا ٹوبہ ٹیک سنگھ کے لوگوں کا ایک قرض اتارنے کا موقع ہاتھ آیا، جوانی کے دنوں میں ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ایک بار ہاکی کھیلنے کا موقع ملا تھا اور اس وقت جو محبت ملی تھی آج تک اپنے آپ کو اس محبت کا مقروض محسوس کر رہا ہوں۔
ڈاکٹر یاسر نواب صاحب یونیورسٹی آف کمالیہ کے وائس چانسلر ہیں اس سال کے اوائل میں پاکستان میں ایک مختصر ملاقات ہوئی اور اس کے بعد سے کبھی کبھی واٹس ایپ اور فیس بک پر رابطہ ہو جاتا ہے۔ آج ہی ان کی فیس بک پوسٹ پڑھی انہوں نے بجا طور پر ہم سب کی توجہ اس امر کی طرف مبذول کروائی ہے کہ جامعات صرف عمارتوں کا نام نہیں، بلکہ فکر، تحقیق اور سماجی تبدیلی کے مراکز ہونی چاہئیں۔ ان کی یہ گفتگو ”اینٹ، پتھر سے آگے کی بات“ ایک اہم آغاز ہے ؛مگر اگلا سوال یہی ہے لیکن کیسے؟
یہ مضمون اس سوال کا تعلیمی و فکری زاویے سے جائزہ لیتا ہے، اور تین بنیادی اصولوں پر زور دیتا ہے :
اقدار پر مبنی تعلیم
عمل پر مبنی تدریس اور سیکھنے کی حکمت عملی
روزمرہ کے افعال اور تحقیق پر گہری فکر اور تدبر
اقدار پر مبنی تعلیم: ایک فکری بنیاد
پاکستانی جامعات کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی ترجیحی بنیادی اقدار کی واضح نشاندہی کریں۔ جیسے ایک فرد، خاندان یا قبیلے کی کچھ بنیادی اقدار ہوتی ہیں جو ان کی روزمرہ فیصلہ سازی اور مستقبل کے لائحہ عمل میں رہنمائی کرتی ہیں، اسی طرح کسی تعلیمی ادارے کے لیے بھی لازم ہے کہ وہ اپنی بنیادی اقدار کو واضح کرے اور اُن کی تشہیر کرے، تاکہ اساتذہ اور طلبہ ان اصولوں سے رہنمائی حاصل کر سکیں۔ یہ اقدار صرف مذہبی بنیادوں تک محدود نہیں ہونی چاہئیں، بلکہ ان میں مقامی سماجی اور ثقافتی تناظر بھی شامل ہونا چاہیے۔ جب تک ہمارے تعلیمی ادارے اپنے مقامی تناظر میں جَڑی اقدار کی واضح طور پر نشاندہی نہیں کرتے، وہ مغربی ماڈل پر مبنی ایک ایسے نظامِ تعلیم کا حصہ بنے رہیں گے جس کا تعلق مقامی معاشرے اور ماحول سے کم، اور صنعتی اداروں یا نوکر شاہی سے زیادہ ہوتا ہے۔ اقدار پر مبنی تعلیم نہ صرف تعلیمی پالیسیوں اور تدریسی طریقوں کو ایک فکری و اخلاقی سمت دیتی ہے بلکہ اساتذہ اور طلبہ کے کردار و عمل کو بھی ایک بامقصد رخ عطا کرتی ہے۔
عمل پر مبنی تدریس: مقامیت اور وابستگی
کمرۂ جماعت کی سرگرمیاں اور تدریسی مواد اگر مقامی تناظر و مسائل سے جُڑا نہ ہو تو طالبعلم کے لیے تعلیم ایک اور ٹھہرا ہوا، جمود کا شکار، غیر حقیقی تجربہ بن جاتا ہے۔ ہمیں ایسے تدریسی طریقے اپنانے ہوں گے جو ”مقامیت“ اور ”وابستگی“ (situatedness and positionality) کے اصولوں پر مبنی ہوں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ تدریس صرف کتابی علم نہ ہو بلکہ طلبہ کو مقامی مسائل، مثلاً پانی، زراعت، صحت، یا مقامی صنعتوں کے ساتھ براہ راست جوڑا جائے جیسا کہ ڈاکٹر یاسر نواب صاحب نے بھی اپنے پوسٹ میں فرمایا ہے ؛ لیکن کیسے؟ اس سوال کے جواب کے لئے جامعات کو اپنی سوچ اور طریقہ کار کے بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی لانی ہو گی۔
کلاس رومز میٹیریل، سلیبس اور ریسرچ ایجنڈا کو اس انداز سے مرتب کیا جائے کہ ارد گرد کا ماحول اور معاشرہ آپ کے کلاس رومز اور جامعہ کا حصہ ہو۔ آپ کا کسان کلاس رومز میں آ کے آپ کے طلبہ کو بتا سکے کہ کھیتی کی آج کی دنیا کیسی ہے اس کے علم کی قدر کلاس رومز میں بھی ہو اور آپ کا طالب علم اور استاد کھیت اور دکان میں جا کے مشاہدہ کر سکے اور مسائل کو جانے تب وہ جب بات کرے گا تو اس کی باتوں سے مٹی کی خوشبو آئے گی۔ اس وقت جامعات کا زیادہ زور ”مسائل کے حل“ پر ہے۔ لیکن جب تک طالب علم اور استاد مسائل کو اس کے مقامی تناظر میں سمجھیں گے نہیں ان کی کہی ہوئی بات میں اثر کم ہو گا۔
تدبر و تفکر
قرآن مجید میں بارہا ”تَتَفَکَّرُونَ“ (غور و فکر کرنے والے ) اور ”یَعقِلُونَ“ (عقل سے کام لینے والے ) جیسے الفاظ کے ذریعے انسان کو اپنی زندگی، کائنات، اور اپنے اعمال پر گہرے تدبر کی دعوت دی گئی ہے۔
بدقسمتی سے، اس وقت ہمارا نصاب اور ریسرچ کا نظام فکر، تدبر اور غور کو وہ اہمیت نہیں دیتا جو دی جانی چاہیے۔
تاریخ کے عظیم رہنماؤں کی زندگیاں چاہے وہ حضرت عیسیٰؑ ہوں، حضرت محمد ﷺ ہوں، یا گوتم بدھ ایک مشترک پہلو کو نمایاں کرتی ہیں : یہ سب شخصیات کسی بھی بڑی فکری یا عملی تحریک سے پہلے خاموشی، خلوت، اور تنہائی اختیار کرتی رہیں۔ انہوں نے اپنے مشن کو سمجھنے، اس پر غور و فکر کرنے، اور یہ واضح کرنے کے لیے وقت نکالا کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں، وہ کیوں کر رہے ہیں۔
یہی تدبر اور غور و فکر وہ عنصر ہے جو طلبہ اور اساتذہ کو روزمرہ کے سطحی ردِ عمل سے نکال کر فکری پختگی، اخلاقی بصیرت، روحانی گہرائی اور زندگی میں مقصد عطا کرتا ہے۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری جامعات قوم کی فکری رہنمائی کا کردار ادا کریں، تو ہمیں ایک ایسی اجتماعی فضا قائم کرنی ہوگی جو رک کر سوچنے، سوال کرنے، اور ”تَتَفَکَّرُونَ“ کی روح کو اپنے علم اور عمل کا مرکز بنانے پر زور دے۔ یہ عمل ترتیب سے کرنا ہو گا، مستقل کرنا ہو گا، اور ادارہ جاتی سطح پر کرنا ہو گا تاکہ علم اور عمل کے درمیان وہ ربط قائم ہو سکے جو طالبعلم کو محض نوکری کا متلاشی نہیں، بلکہ معاشرتی شعور، اخلاقی جرات، اور فکری بصیرت کا حامل انسان بنائے۔
اوپر جو میں نے یہ تینوں بنیادی اصول بتائے ہیں، یہ محض کتابی اسباق نہیں۔ یہ اصول دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں میں رائج ہیں اور وہاں کے اساتذہ، محققین، اور طلبہ کو روزمرہ کی فیصلہ سازی، تدریس، اور تحقیق میں فکری رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
میں پچھلے دس سالوں سے ملائیشین جامعات اور اساتذہ کے تربیتی پروگرامز کا حصہ ہوں، جن میں ہم انہی اصولوں پر مبنی عملی تربیت دیتے ہیں۔ میری بھرپور کوشش ہوگی کہ یونیورسٹی آف کمالیہ میں بھی انہی اقدار، عملی تدابیر، اور غور و فکر پر مبنی تعلیم کے فروغ کے لیے اپنی رہنمائی فراہم کر سکوں، تاکہ یہ جامعہ نہ صرف تعلیمی میدان میں نمایاں ہو، بلکہ فکری، اخلاقی، اور سماجی طور پر بھی ایک نئی مثال قائم کرے۔

