حمیرا اصغر: تنہائی کا المیہ اور رنگ و نور کے پسِ پردہ تاریکی


حمیرا اصغر کی المناک موت کے حوالے سے گزشتہ تین چار دنوں میں کئی خبریں پڑھنے کو ملیں۔ ایک خوبصورت، جوان اور فنکارانہ صلاحیت کی حامل خاتون کی ایسی دردناک موت کہ مہینوں تک کسی کو پتا نہ چلا، یقیناً بدقسمتی اور معاشرتی المیہ ہے۔ کچھ عرصہ قبل سینئر اداکارہ عائشہ خان کی بھی فلیٹ میں تنہائی کے عالم میں وفات ہو گئی تھی۔ شکر ہے کہ ان کے بارے میں ہمسایوں کو جلد پتا چل گیا اور دروازہ توڑ کر لاش نکال لی گئی۔ البتہ حمیرا کا معاملہ کافی تکلیف دہ رہا جن کی وفات مبینہ طور پر چھے سے آٹھ ماہ قبل ہوئی۔

ان دو واقعات کے بعد شوبز شخصیات نے جس طرح حمیرا کی تدفین اور ضرورت مند فنکاروں کی مدد کرنے کی پیشکش کی، وہ قابلِ ستائش ہے۔ یہ واقعی وقت کا تقاضا ہے کہ فنکار برادری اس شعبے کے ضرورت مند افراد کی مدد کے لیے کوئی ایسا پلیٹ فارم بنائے جہاں ہر کسی کو مالی اور دیگر ہر طرح کی معاونت حاصل ہو۔ شوبز کی دنیا کا جو رخ ہم سوشل میڈیا پر دیکھتے ہیں، حقیقت میں یہ اس سے بہت مختلف ہے۔ کوئی فنکار اپنی زندگی میں کن حالات اور جدوجہد سے گزر رہا ہے، ہمیں اندازہ نہیں ہو سکتا۔ ظاہری رنگ و نور کے پسِ پردہ کوئی گہری تاریکی بھی ہو سکتی ہے، اس کا ادراک عوام کو تبھی ہوتا ہے جب کوئی افسوس ناک واقعہ پیش آتا ہے۔

آج زندگی میں خوشیاں کم اور رنج و الم زیادہ ہیں۔ عائشہ آپا اور حمیرا کے ساتھ پیش آنے والے واقعات سے ہمیں اس حقیقت کا احساس ہو جانا چاہیے کہ تنہائی دورِ حاضر کا کتنا بڑا المیہ ہے۔ یہ بات تحقیق میں سامنے آ چکی ہے کہ تنہائی ایک قاتل ہے جو ہر سال دنیا میں لاکھوں اموات کا باعث بن رہی ہے۔ ڈان نیوز کے مطابق ”تنہائی صرف ایک جذباتی کیفیت نہیں بلکہ ایک سنگین عالمی مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کی حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں سالانہ آٹھ لاکھ سے زائد افراد تنہائی کے باعث زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ تمباکو نوشی، امراضِ قلب، موٹاپا، فضائی آلودگی وغیرہ کی طرح تنہائی بھی صحت کے لیے برابر نقصان دہ ہے۔ گویا سماجی میل جول اور روابط نہ صرف خوشی اور اطمینان کا ذریعہ ہیں بلکہ یہ قبل از وقت موت کا خطرہ بھی نمایاں حد تک کم دیتے ہیں۔“

حمیرا کی المناک موت سے ایک بات بالکل واضح ہو چکی ہے کہ دورِ حاضر کی مادہ پرستی، بے حسی اور خود غرضی نے لوگوں کو ایک دوسرے سے بے نیاز کر دیا ہے۔ رازداری اور ذاتیات اپنی جگہ لیکن ایک دوسرے کی خبر گیری کی جتنی ضرورت ہمیں آج ہے، پہلے نہ تھی۔ اب فنکار برادری واٹس ایپ گروپ وغیرہ کی صورت میں ایسے اقدامات کر رہی ہے جن سے کراچی سے باہر کے اور تنہا رہنے والے فنکاروں کو ایک پلیٹ فارم فراہم کیا جائے تاکہ دوسرے لوگ ان کے حالات و واقعات سے باخبر رہیں۔ یہ اقدامات قابلِ ستائش ہیں۔

حمیرا اپنے آخری ایام بالخصوص آخری وقت کے دوران کس جدوجہد اور جذباتی کشمکش سے گزر رہی تھیں، یہ تو وہی جانتی تھیں۔ یہ راز انہی کے ساتھ قبر میں دفن ہو گیا۔ خدا ہر کسی کو ایسے المناک انجام سے محفوظ رکھے۔ زندگی اللہ کا بہترین تحفہ ہے۔ اس کی حفاظت کے لیے بعض اوقات کسی کے آگے دستِ سوال بھی دراز کرنا پڑ جاتا ہے۔ کچھ لوگ اپنے حالات اور مسائل دوسروں کو بتانے اور مدد مانگنے کا حوصلہ کر لیتے ہیں لیکن کچھ یہ سوچ کر خاموش رہ جاتے ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے۔ ابھی تک ایسی کوئی خبر نگاہ سے نہیں گزری کہ حمیرا نے اپنے حالات اور مسائل کسی کو بتائے ہوں۔ اگر وہ بتا دیتیں تو غالباً آج صورتِ حال مختلف ہوتی۔

اس معاملے میں ہمیں خود بھی اپنا رویہ بدلنے کی ضرورت ہے۔ اور وہ یہ کہ ضرورت اور پریشانی کے وقت شرم اور جھجک محسوس نہ کریں۔ ہر بات اپنے ہی دل پر نہ سہتے رہیں بلکہ کسی ہمدرد اور قابلِ اعتماد شخص کو ضرور بتائیں تاکہ وہ خود ہمارے لیے کچھ کر سکے یا کوئی حل، کوئی راستہ بتا سکے۔ اور اس سے اہم بات یہ ہے کہ مثبت تبدیلی کا آغاز اپنی ذات سے کریں اور اپنے اردگرد رہنے والوں اور واقف کاروں کی خبر لیتے رہیں تاکہ عائشہ آپا اور حمیرا اصغر جیسا المیہ کسی کے ساتھ پیش نہ آئے۔ ایک شخص پریشانیوں میں مبتلا دنیا سے رخصت ہو جائے اور اس کے جانے پر ہم صدمے اور ندامت کا شکار ہو جائیں تو بہتر ہے کہ آج کسی کی خبر لے لیں، اس کا ہاتھ تھام کر مسائل کے گرداب سے نکال لیں تاکہ زندگی کا نور تاریکی کی نذر نہ ہونے پائے اور کیمرے کے سامنے جگمگاتے اور مسکراتے چہرے حقیقی زندگی میں بھی مسکراتے رہیں۔ ایک دوسرے کا سہارا بن جانے اور ہاتھ تھام لینے سے جانے کتنی زندگیاں قبر کی وحشت ناک تاریکی سے بچ جائیں۔

Facebook Comments HS