عورت کی معاشی خود مختاری کے تصور میں ایک اعتراض کا پیراڈاکس


”ایک مرد ساری عمر بیوی بچے پالتا ہے، پر جیسے ہی یہ نظام عورت کو چلانا پڑے تو لعن طعن شروع ہو جاتی ہے۔“

اس جملے میں الفاظ اور گرائمر کے ذریعے ایک معنیٰ تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ معنیٰ ”جلی حروف“ میں ہے۔ یعنی اس تک پہنچنے کے لیے ”گہرائی“ میں نہیں سوچنا پڑتا۔ اور ایک ایسا معنیٰ جو بظاہر یعنی فوری طور پر بالکل درست لگتا ہے، جو ایک سماجی حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ لیکن اس میں سارے الفاظ۔ مرد، بیوی، پرورش (پالنا) ، نظام، عورت، لعن طعن سماجی طور پر بنائے گئے (تشکیل شدہ) ہیں۔ یعنی لفظ مرد یا عورت انسانی بدن کی طرح، یا کسی درخت یا پتھر کی طرح، فطرت کا مظہر نہیں ہے۔ انسان نے ہزاروں سال کی زندگی میں بود و باش کے دوران زبان کی صلاحیت کے ساتھ یہ لفظ اور اس سے جڑے تصورات اور معنی خود بنائے ہیں۔ الفاظ اور اس کے معنی انسانوں کے بنائے ہوئے ہیں، اور الفاظ اور معنی میں رشتہ فطری نہیں ہوتا (یعنی فطرت کا دیا ہوا نہیں ہوتا جو پتھر کی طرح ٹھوس شے ہو، جو ہمیشہ پتھر ہی کی طرح جامد رہے ) ، اس لیے مذکورہ بالا اقتباسی جملہ جو معنیٰ دے رہا ہے وہ بھی کوئی ٹھوس حقیقت نہیں ہے۔

جملے کو توڑ کر دیکھیں : ”ایک مرد ساری عمر بیوی بچے پالتا ہے“ ایسا مرد اس لیے کرتا ہے کیوں کہ معاشرے نے اس کے لیے یہ ذمہ داری ”ہمیشہ کے لیے“ متعین کر دی ہے۔ وہ مرے یا جیے اسے یہی کرنا ہے۔ اس کے لیے اسے اپنی سوچ، اپنی خواہشات، اپنے نفسیاتی میلانات، اپنی جسمانی ضرورتیں تج دینا پڑ جاتی ہیں۔ صرف یہی نہیں، اسے ہزاروں سال سے دن رات یہ سبق پڑھایا جا رہا ہے کہ وہ ”مرد“ ہے، اس کا کام ”بیوی بچے پالنا“ ہے۔ یہ کردار جسمانی نہیں ہے بلکہ صنفی ہے یعنی بلاشبہ، نر جسمانی طور پر لاکھوں سال سے مادہ سے مختلف چلا آ رہا ہے۔ لیکن اس کا ”کردار“ جسمانی نہیں صنفی ہے۔

یہ وزن، عضلاتی طاقت، کمر، پیلوک (پیڑو) کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں۔ یہ فرق جینیاتی ہے۔ ارتقائی ہے۔ اس میں معاشرتی ”کردار“ کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ یعنی سیدھا چلنے، شکار، حمل اور دودھ پلانے کی ضرورت نے جسمانی طور پر انسان کو مخصوص شکل دی۔ لیکن اس جسمانی فرق کو مخصوص ”سماجی ترتیب“ فطرت نے نہیں، بلکہ آدمیوں نے اس وقت سے دینا شروع کی، جب سے اس نے گروہوں کی شکل میں رہنا شروع کیا اور رشتوں اور تعلقات کی نئی اور زیادہ وسیع شکلیں بننے لگیں۔

پھر زبان نے اس فرق کو اور وسیع کیا، یہاں تک کہ کردار ”باقاعدہ“ طور پر بانٹ دیے گئے۔ ایسے الفاظ بنائے گئے جو حتمی اصول سمجھے گئے۔ یعنی مادہ ہر حال میں ایک ہی طرح کا کام کرے گی، اور یہ ہر حال میں دوسری طرح کے کام کے میدان سے دور رہے گی۔ اگر یہ پابندی جسمانی سطح کی ہو، تو یہ مادہ کا اپنا جسمانی تقاضا ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ پابندی سماجی ہو تو پھر یہ مادہ پر مسلط کردہ تقاضا ہے۔ انسان پر گزری تاریخ کے ہر دور میں مادہ نے نر کے ساتھ ساتھ ہر میدان میں اپنی کار گزاری دکھائی۔

آثار قدیمہ اس کے بھرپور اور ناقابل تردید ثبوت فراہم کرتے ہیں۔ پیرو کی تقریباً 9 ہزار سال پرانی ولامایا سائٹ سے ملنے والی شکاری عورت کی باقیات اس کی ایک مثال ہے۔ جدید تحقیق بتاتی ہے کہ (جسمانی ساخت کے باوجود۔ اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ جسمانی فرق فخر کے لیے معمولی سا بھی سہارا فراہم نہیں کرتا) ابتدائی انسانوں میں خوراک کا بڑا حصہ عورتیں جمع کرتی تھیں (مرد کے شکار والے حصے کے ساتھ ساتھ) ۔

اور زرعی انقلاب تو ایسا لگتا ہے کہ عورت کے کندھوں ہر دھرا ہوا ہے۔ کھیتی باڑی کا نصف سے زیادہ کام عورت کے ذمے تھا۔ صرف جانور ہی نہیں پالے، انسانیت کو برتن بنانا اس نے سکھایا، کپڑا بُننے کی صلاحیت اس نے پیدا کی۔ آثار قدیمہ میں اس کے بے تحاشا ثبوت میسر ہیں۔

جس طرح مذکورہ بالا مخصوص طور پر بنایا ہوا جملہ ”روایتی سوچ“ پر مبنی ہے، اسی طرح روایتی تاریخ نے عورت کو جنگ کے میدان سے دور دکھایا ہے۔ یہ بھی اس جملے کی طرح فطری ”سچ“ نہیں ہے۔ آثار ثبوت فراہم کرتے ہیں کہ خانہ بدوش عورتیں اس میدان میں بھی مردوں کے ساتھ ساتھ رہیں۔ کیا ہم یہاں خود سے یہ سوال نہ کر لیں کہ کیا یہ عورتیں جسمانی طور پر مردوں سے مختلف نہ تھیں۔ بالکل تھیں۔ یہ عورتیں اس وقت بھی بچے پیدا کرتی تھیں، انھیں دودھ پلاتی تھیں۔ لیکن پھر حقیقت یہ تھی کہ فرق جسمانی تھا لیکن معاشرتی نہیں تھا، فرق باقاعدہ ترتیب دے کر بانٹا ہوا نہیں تھا، فرق زبان کے الفاظ اور معنی نے پیدا نہیں کیا تھا۔

گیارہویں صدی تک کے وائکنگز ہی نہیں، یونانی اساطیر میں امیزون وارئرز بھی صرف کہانیاں نہیں ہیں۔ لیکن جسمانی فرق کو رفتہ رفتہ معاشرتی فرق میں تبدیل کیا گیا۔ زبان کے ذریعے اسے ”ہمیشگی“ اور ”الوہی“ سطح فراہم کی گئی۔ یہاں تک کہ زرعی دور میں عورتوں کا کردار گھریلو دائرے تک محدود کر دیا گیا۔ سماجی تاثر نے اس پر مہر ”تصدیق“ ثبت کر دی۔

اس بشریاتی (Anthropological) پس منظر پر ایک نگاہ دوڑانے کے بعد اب اس جملے پر ایک بار پھر نگاہ دوڑائیں : ”ایک مرد ساری عمر بیوی بچے پالتا ہے، پر جیسے ہی یہ نظام عورت کو چلانا پڑے تو لعن طعن شروع ہو جاتی ہے۔“ اس میں آپ کو آدمی مرد کی وہ طویل نفسیاتی اُپج دکھائی دے گی جس کے سبب وہ خود کو ”مرد“ کے منصب پر الوہی طور پر ”فائز“ سمجھتا ہے۔

جیسے ہی دونوں اکائیوں میں معمولی سطح کا جھگڑا رونما ہوتا ہے، نر آدمی اپنی بڑائی کو فطری سمجھتے ہوئے مادہ آدمی کو اس کی حیثیت جتانے لگ جاتا ہے، بار بار یاد دہانی کراتا ہے کہ وہ اس کا ”پالن ہار“ ہے۔ اس لیے دنیا کے ہر معاشرے میں چیخنا چلانا مرد ہی کا زیادہ ”حق“ بنتا دکھائی دیتا ہے۔ یہ ”حق“ اسے اس کی معاشی ”خود مختاری“ نے دیا ہے۔ عورت کو معاشرے نے ایک تو اس حق سے باقاعدہ طور پر محروم کیا ہوا ہے، دوم اگر اسے یہ کسی طرح مل جاتا ہے تو اس کے روایتی اظہار (جو وہ مرد کے عمل اور رویے میں دیکھتی آ رہی ہے ) پر یہی مرد اعتراض وارد کر دیتا ہے۔

اب اس جملے کو پھر سے پڑھیں : ”ایک مرد ساری عمر بیوی بچے پالتا ہے، پر جیسے ہی یہ نظام عورت کو چلانا پڑے تو لعن طعن شروع ہو جاتی ہے۔“

کیا یہ اب آپ کو اپنے آپ میں ایک پیراڈاکس دکھائی نہیں دے رہا؟ یعنی جس عمل کے لیے عورت کو مطعون کیا جا رہا ہے، وہی عمل خود دراصل مرد کر رہا ہے۔

Facebook Comments HS