مانکٹارو: تاریخ کی درستی


سندھ میں جس تاریخی مقام کو عام طور پر مانکٹارو کہا جاتا ہے، دراصل اس کا صحیح نام مانک دڑو ہے۔ یعنی مانک نامی سولنکی (سولنگی) قبیلے کی ریاست رہائش کا ٹیلہ۔ اس بستی کی بنیاد مانک رائے نے رکھی تھی، جو جیسر رائے سولنکی (سولنگی) کا بیٹا تھا۔ اس نے اس علاقے میں ریاست قائم کی اور وہ مقام تعمیر کیا جو بعد میں مانک دڑو یعنی ”مانک کا ٹِیلہ یا بستی“ کہلایا۔

مورخ یوسف میرک نے بھی اپنی کتاب تاریخ مظہر شاہ جہانی میں جیسر رائے ماچھی (سولنگی) کا ذکر کیا ہے، جس کی حکمرانی موجودہ دادو سے لے کر پنجاب کے ماچھکو کے علاقے تک تھی۔ ماچھکو بھی ماچھی (سولنگی) کے حوالے سے مشہور ہوا۔

فارسی تاریخی کتابوں میں اس اصل نام کے تلفظ اور رسم الخط کی محدودیت کی وجہ سے مسخ کر دیا گیا۔ فارسی میں اسے ”مانک درہ“ یا ”مانکتادرہ“ کے طور پر لکھا گیا۔ جب تاریخ کے ان فارسی مسودوں کا سندھی زبان میں ترجمہ کیا گیا، تو مترجمین نے سندھی حرف ”ٹ“ (ن) کو تو قائم رکھا، لیکن ”ڑ“ (سندھی ڙ) کو غلطی سے ”ر“ ہی لکھا اور ”ہ“ کو ”و“ میں اور ”د“ کو ”ٹ“ میں تبدیل کر دیا، جس کے نتیجے میں یہ بگڑا ہوا نام مانکٹارو (ن کے لیے سندھی ٹ) رائج ہو گیا۔ یہ بات بھی نظرانداز کر دی گئی کہ فارسی لفظ درہ کا یہاں مطلب دڑو یا ”ٹِیلہ یا بستی“ ہے۔

اس غلطی کا پہلا تحریری ثبوت میر علی شیر قانع کی فارسی میں کتاب تحفتہ الکرام میں ملتا ہے، جس میں انہوں نے فارسی مسودے کے صفحہ 62 پر ”مانکتادرہ“ لکھا، جو کہ اصل نام کی درست نمائندگی نہیں کرتا۔ بعد میں آنے والے سندھی مترجمین نے اس کو بغیر تحقیق یا غور کرنے کے ”مانکٹارو“ (سندھی ٹ، ن) کے طور پر اختیار کر لیا۔ بعد کے مورخین اور محققین نے بھی اسی نام کو دہراتے ہوئے اصل نام کو مزید دھندلا دیا۔

تاہم اگر قانع کی تحریر کو غور سے دیکھا جائے، تو واضح ہوتا ہے کہ مانک حاکم یا بانی کا نام، اور درہ کا مطلب ہے دڑو (ٹِیلہ یا بستی) ۔ چونکہ فارسی میں ”ن“ سندھی ”ڻ“ (ن) اور ”ڑ“ جیسے حروف موجود نہیں ہیں، اس لیے مانکدرہ یا مانکتادرہ دراصل مانک دڑو کی ہی بگڑی ہوئی شکلیں ہیں۔ اصل اور درست نام مانک دڑو ہی ہے، جو وقت کے ساتھ ساتھ نقل و ترجمہ کی غلطیوں سے مانکٹارو بن گیا۔ بعض لکھاریوں نے تو اسے علامتی مطلب دینے کی بھی کوشش کی، جیسے سندھی لفظ مانک (موتی جیسا) یا ”آنکھ کی پتلی“ ۔

مانکٹارو یا مانک دڑو کا مقام ضلع دادو کے گاؤں پیارو گوٹھ سے تقریباً ایک کلومیٹر دور واقع ہے۔ مورخین کے مطابق عرب دور سے لے کر سما دور تک، اس علاقے میں سولنکی (سولنگی) قبیلے کی سات ریاستیں تھیں، جن میں کاچھو (دادو سے شہداد کوٹ تک) بھی شامل تھا۔ ارغون دور میں مانک دڑو سمیت تمام ماچھی سولنگی ریاستیں ختم ہو گئیں۔

انسائیکلوپیڈیا سندھانہ کے مطابق، محمد بن قاسم کی آمد کے وقت مانکٹارو یا مانک دڑو ایک سولنکی ریاست تھی، جس پر جیسر رائے حکومت کرتا تھا، جو ججا سولنکی کا بیٹا تھا۔ میر علی شیر قانع (تحفتہ الکِرام) ، رحیم داد خان مولائی شیدائی (جنت السندھ) اور دیگر مورخین کے مطابق، جیسر رائے نے ناصر الدین قباچہ ( 1203۔ 1228 عیسوی) کے دور حکومت میں مانک دڑو پر حکمرانی کی۔

میرے نزدیک، اگرچہ جیسر رائے یا مانک رائے سولنکی عرب دور کے حاکم ہو سکتے ہیں، لیکن محمد بن قاسم کی آمد کے وقت وہ اقتدار میں نہیں تھے۔ چچ نامہ کے مطابق، اس وقت اس علاقے کو ”بدھیا علاقہ“ کہا جاتا تھا، اور اس پر بدھ مت کے پیروکار (چنہ قبیلہ) حکمرانی کر رہے تھے، نہ کہ سولنکی۔

زیادہ تر مورخین اس بات پر متفق ہیں کہ مانک دارو یا مانکٹارو ایک قدیم مقام ہے۔ اگر واقعی ایسا ہوتا، تو مشہور ماہر آثار قدیمہ این جی مجمدار اپنی تحقیق میں اسے نظرانداز نہ کرتے۔ انہوں نے لوہم دڑو کی کھدائی کی تھی، جو کہ پیارو گوٹھ ریلوے اسٹیشن کے قریب واقع ہے اور مانک دڑو سے زیادہ دور نہیں۔

بہرحال درست نام کے سلسلے میں تاریخی ریکارڈ کی درستی ضروری ہے۔ اس ٹیلے کا اصل نام مانک دارو یا مانگ دڑو ہے، اور سما دور میں یہ علاقہ سولنکی (سولنگی) قبیلے کے زیر قبضہ تھا۔

 

Facebook Comments HS