علامہ محمد اسد: شاہراہ مکہ کا سیماب صفت راہی


آزادانہ تحقیق کے سرخیل داعی، یہودی خاندان کے چشم و چراغ لیوپولڈ ویس ( 2 جولائی 1900۔ 20 فروری 1992 ) عبرانی، عربی، آرامی، انگریزی اور متعدد دیگر زبانوں کے ماہر، صحافی، مہم جو، مصنف، سفارت کار، شارح، مترجم اور مذہبی مفکر شعوری طور پر 1926 میں ایک ہندوستانی دوست کے ہاتھ اسلام قبول کر کے محمد اسد پکارے گئے۔ متعدد یورپی، عرب ممالک، امریکہ، افغانستان اور ہندوستان میں وقت گزارنے کے بعد تاریخی شہر غرناطہ میں داعی اجل کو لبیک کہہ کے ادھر ہی سپردِ خاک ہوئے۔

آپ کی کتاب ’دی روڈ ٹو مکہ‘ ( 1954 ) کو اس لئے ’روحانی آپ بیتی یا سفر نامہ‘ قرار دیا جا رہا ہے کہ اس میں اسفار و اخبار کے ساتھ روحانی تجربات بھی بیان کیے گئے ہیں۔ مصنف فنِ قصہ گوئی، جزئیات نگاری، ماضی کو حال پر منطبق کرنے کا فن اور مستقبل بینی میں ید طولیٰ رکھتے تھے۔ کتاب میں مشمولہ ’دی سٹوری آف سٹوری‘ میں مصنف رقمطراز ہیں کہ ’قبولیتِ اسلام کے بعد چھ سال تک میں عربوں کے ہاں رہ کر بادشاہ ابن سعود کی قربتوں سے لطف اندوز ہوتا رہا۔ اس کے بعد ہندوستان گیا اور اہم مسلم فلسفی شاعر اور تصورِ پاکستان کے روحانی سرخیل محمد اقبال سے ملاقات کی۔ انہوں نے مجھے مائل کیا کہ مشرقی ترکستان، چین اور انڈونیشیا کے سفر کا منصوبہ ترک کروں، ہندوستان رہوں اور آئندہ کی اسلامی ریاست، جو تب اقبال کے وجدانی ذہن میں ایک خواب سے بڑھ کر تھی، کی توضیح میں مدد کر سکوں۔ جب 1947 میں پاکستان بن گیا تو مجھے اسی حکومت نے اسلامی محکمہ تعمیر نو منظم کرنے کے لئے بلوایا۔ جس نے ریاست کاری کے اسلامی تصور اور نظریات کی وضاحت کرنا تھی۔ جس پر اس کی بنیاد رکھی گئی تھی اور آگے سفر کرنا تھا۔ دو سال بعد میرا تبادلہ پاکستان کے محکمہ خارجہ میں ہو گیا اور اسی وزارت میں مشرق وسطیٰ ڈویژن کا سربراہ متعین ہو کر میں نے پاکستان اور باقی مسلم دنیا کے درمیان تعلقات کو مضبوط تر بنانے پر اپنی توجہ مرکوز کر دی۔ اور وقت گزرنے کے ساتھ میں نے اپنے آپ کو نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے دفتر میں پاکستانی مشن کا حصہ پایا‘ ۔

ہوم کمنگ آف دی ہرٹ ’اس کتاب کا دوسرا حصہ ہے جو 1933 سے 1992 تک کے حالات پر مشتمل ہے اور اس کو انہوں نے اپنی زوجہ پاؤلا حمیدہ اسد کی شراکت سے تحریر کیا ہے۔ حکومتِ پاکستان کی دعوت پر آپ انصاری کمیشن کی بھی معاونت کرتے رہے۔

دی روڈ ٹو مکہ کا بہترین فنی اردو ترجمہ یاسر جواد نے کیا ہے۔ ہندوستان سے شائع انگریزی اشاعت ( 2004 ) کا انتساب محمد اسد نے اپنی شریکِ حیات پاؤلا حمیدہ کے نام کیا ہے۔ ابتدائی تعارفی باب میں علامہ نے اس کتاب کو ’ایک یورپی کی اسلام کی دریافت اور مسلمان معاشرہ میں مدغم ہونے کی ایک داستان‘ قرار دیا ہے۔ ’پیاس‘ اور ’شاہراہ کی ابتدا‘ سے لے کر ’شاہراہ کے اختتام‘ تک بارہ ابواب گویا بارہ چشمے ہیں۔

آپ نے احادیثِ رسولﷺ کی مستند کتاب صحیح بخاری کا انگریزی ترجمہ اور تشریحات ( 1935 ) شائع کیا اور اسی خاطر آپ ایک عرصہ تک سری نگر میں مقیم رہے۔

’ اسلام ایٹ دی کراس روڈز‘ ( 1934 ) ایک ابتدایئے اور آٹھ مضامین پر مشتمل دوسری کتاب کے عربی ترجمہ ’الاسلام علی مفترق الطرق ( 1987 ) کے نام سے الدکتور عمر فروخ کے مترجمہ نسخہ کے مقدمہ میں الدکتور مصطفیٰ الخالدی لکھتے ہیں کہ‘ سینکڑوں کتابوں میں ایک اس بہترین کتاب نے اپنی موضوعاتی انفرادیت اور مسائل کے مجوزہ حل کی وجہ سے مجھے اس کو عربی میں ترجمہ کرنے پر آمادہ کیا۔ مغربی تہذیب کی طرف کیا رویہ اپنایا جائے اس کتاب کی محتویات کا مرکزی نکتہ ہے۔ اس کتاب کا ’اسلام دوراہے پر‘ کے نام سے اردو ترجمہ مجلس صحافت و نشریات اسلام ندوۃ العلماء لکھنؤ سے شائع ہوا ہے۔ سید ابوالحسن علی ندوی اور ڈاکٹر محمد اقبال کو یہ کتاب بہت پسند تھی۔ انگریزی میں شہرہ آفاق کتاب ’اسلام میں ریاست اور حکومت کے اصول‘ ( 1961 ) تحریر کی۔ جو قیادت و سیادت کے ضمن میں اہم دستاویز سمجھی جاتی ہے۔

تفسیر قرآن سے متعلق آپ کی ایک اہم کتاب ’دی میسج آف دی قرآن‘ ( 1980 ) بارہ سو انسٹھ صفحات پر مشتمل ہے جو قرآنِ کریم کی تمام سورتوں کی معانی اور تشریح ترتیبِ مصحفی کے اعتبار سے کرتی ہے۔ اسلوب سادہ، نیم فلسفیانہ، مدرسانہ اور قابل فہم ہے۔ متن میں جا بجا احادیث کے حوالے نظر آتے ہیں اور متن کی طوالت کو کم کرنے کے لئے آخر میں قدرے تفصیلی انڈیکس ہیں۔ اسد صاحب کے بقول ان کا ’رجحان زیادہ تر مفتی محمد عبدہ اور علامہ رشید رضا کی تشریحات کی طرف رہا ہے۔ اس تفسیر میں مارماڈیوک پکتھل کی تفسیر کے مقابلہ میں عربی متن اور تلفظ نہیں بلکہ محض انگریزی تشریحات پر اکتفا کیا گیا ہے۔

محقق جوسف لِنہاف ’دی مسلم ورلڈ‘ ( 2021 ) میں شائع اپنے ایک مقالہ ’ایک جدید ظاہری؟ محمد اسد کے قانونی تصورات‘ میں اسد کے حوالہ سے لکھتے ہیں ’کہ اسلام محض ایک اعتقادی متن نہیں بلکہ اپنے اندر ایک واضح سماجی اور سیاسی منصوبہ رکھتا ہے۔ مذہب اور غیر معمولی صداقتوں کو عام زندگی سے نکال باہر کرنا جدید زندگی کے المیے کا بنیادی سبب ہے۔ اسد شریعت کی بات تو کرتے ہیں لیکن یہ واضح ہے کہ شریعت سے متعلق ان کے ذہن میں ایک خاص بات یا موقف ہے۔ جوسف کے خیال میں صیہونی استعماریت کی اصطلاح سب سے پہلے آپ نے استعمال کی‘ ۔

انیس سو سینتیس میں حیدر آباد دکن سے نکلنے والے مجلہ ’اسلامک کلچر‘ ( Islamic Culture) کے مدیر رہنے کے بعد 1939 میں حکومت برطانیہ نے انہیں گرفتار کیا اور تقریباً چھ سال پسِ زنداں رہے۔ رہائی کے بعد آپ ’عرفات‘ ( 1946 ) کے نام سے ایک انگریزی جریدہ سے وابستہ رہے۔

’یورپ کا اسلام کو تحفہ‘ سمجھے جانے والے محمد اسد کے بارے میں جوسف لنہاف مجلہ ’کریٹیکل مسلم‘ میں شائع اپنے مقالہ ’اسد دی نگلیکٹڈ تھنکر ( اسد : ایک نظر انداز مفکر ) میں لکھتے ہیں کہ‘ محمد اسد اپنے فکری ماخذات میں اصلاح پسند مفتی محمد عبدہ، (خود ساختہ ) تصوف کے ناقد اور احیاء پسند امام ابن تیمیہ حرانی اور قانونی پہلو سے ابن حزم کی طرف مائل تھے۔ ’محمد اسد اپنی بعض دینی تعبیرات میں مروجہ خیال کی بجائے عقلیاتی استنباطات کی طرف زیادہ راجح نظر آتے ہیں۔ اور کہیں کہیں منفرد و متفرد بھی محسوس ہوتے ہیں تاہم اپنے دعویٰ کی تائید کے لئے آپ دلیل و برہان سے لیس ہوتے ہیں۔

ہرات سے کابل سفر کے دوران دیہہ زنگی نامی گاؤں میں حاکمِ علاقہ شاہ امان اللہ خان کے قریبی رشتہ دار سے ملاقات و قیام، سہ تار والے بربط پر پشتو گیتوں سے تواضع، اور مکالمہ کہ ’آپ مسلمان ہی ہیں، بس آپ کو اس بارے میں معلوم نہیں‘ جو آئندہ کئی ماہ تک اسد کے دماغ میں گونجتا رہا اور بالآخر رسمی طور پر اسلام قبول کرنے پر منتج ہوا۔ مزاحمت کی تحریکوں سے واقفیت، مسجد ِنبوی میں سیدی محمد السنوسی سے ملاقات، ڈاکٹر محمد اقبال سے صحبتیں سب اس بات کی غماز ہیں کہ آپ ان تمام تحریکات سے متعلق وسیع مطالعہ رکھتے تھے لیکن اپنے آپ کو علمی کاموں تک محدود کیے رکھا۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ آپ کے کیے گئے علمی کارناموں پر اگر مغرب میں کچھ تحقیقات ہوئی ہوں تو معلوم نہیں، ہمارے ہاں تعارفی کاوشوں کے علاوہ تا حال کوئی بہت ہی علمی رتبے کا کام کلی طور پر نظر نہیں آتا۔ اور ان تمام معلومات کا منبع بھی محمد اسد کی اپنی آپ بیتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ابھی بھی آپ کی حیات اور علمی کارناموں سے متعلق بہت سے سوالات کے جوابات تشنہ و نا مکمل ہیں۔ جیسے آپ نے عربی اور دینی علوم کی تحصیل کے لئے کسی مستند عالم کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا یا ذاتی مشقت و مطالعہ کی بنیاد پر اپنی علمی تشنگی سیراب کرتے رہے۔

Facebook Comments HS