شہباز نثار ملاقات اندرونی کہانی (2)


سیاست بے رحم کھیل ہے بھائیوں کے درمیان اختلاف پیدا ہو جائے تو صرف سیاسی راستے ہی جد انہیں ہوتے ہیں بات ذاتی دشمنی تک جا پہنچتی ہے شہباز نثار ملاقات کا مثبت پہلو یہ ہے چوہدری نثارعلی خان جو گوشہ نشینی کی زندگی بسر کر رہے تھے ایک بار پھر قومی سطح پر موضوع گفتگو بن گئے ہیں مسلم لیگی حلقوں میں بھی کھلبلی مچ گئی ہے سیاسی بونے اور چوہدری نثار علی خان سے بے وفائی کرنے والے سب سے زیادہ پریشان دکھائی دیتے ہیں میرے خیال میں چوہدری نثار علی خان کی مسلم لیگ (ن) میں واپسی برابری کی سطح کی شرط پوری ہونے پر ہی ممکن ہوگی۔

1985 کے غیر جماعتی انتخابات کے بعد بننے والی سرکاری مسلم لیگ کے سربراہ پیر صاحب پگارا تھے محمد خان جو نیجو وزیر اعظم تھے محمد خان جونیجو کی وزارت عظمٰی سے برطرفی کے بعد نواز شریف اور محمد خان کے سیاسی راستے جدا ہو گئے مسلم لیگ دو گروپوں تقسیم ہو گئی ایک گروپ جس کی سرپرستی اس وقت صدر غلام اسحٰق خان کی حاصل تھی جب کہ مسلم لیگ کا مضبوط دھڑا نواز شریف کی پشت پر کھڑا تھا غلام اسحق خان 58 ( 2 ) بی کے اختیارات رکھنے والے صدر غلام اسحٰق کے خوف سے اسلام آباد میں کوئی ہوٹل مسلم لیگ (ن) کی مرکزی جنرل کونسل کے اجلاس کے لئے ہال دینے کے لئے تیار نہ تھا یہ حاجی نواز کھوکھر جیسے بہادر اور جرات مند لیڈر تھے جنہوں نے اس مقصد کے لئے اپنی رہائش گاہ مرکزی کونسل کے اجلاس کے لئے استعمال کرنے کے لئے دے دی۔ حاجی نواز کھوکھر کے ڈرائنگ روم میں جن 10، 15 مسلم لیگی لیڈروں نے میاں نواز شریف کو صدر مسلم لیگ بنانے پر اتفاق کیا ان میں چوہدری نثار علی خان کا نام نمایاں تھا چوہدری نثار علی خان نے نہ صرف نواز شریف کا نام صدر مسلم لیگ کے لئے تجویز کیا بلکہ اس وقت موجود تمام لیڈروں سے اس کی تائید بھی کرائی۔ اسی اجتماع میں مسلم لیگ (ن) وجود میں آئی اس وقت نواز شریف اور چوہدری نثار علی خان یک جان دو قالب تھے۔

34 سال گزرنے کے بعد دونوں کے درمیان اتنی دوریاں پیدا ہو گئیں ایک دوسرے سے فوتگی پر تعزیت کرنا تک چھوڑ دیا ان دوریوں کو دور کرنے میں سات سال کا عرصہ گزر گیا لیکن یہ دوریاں ختم ہونے کو نہیں آ رہیں۔ کبھی کبھار وزیر اعظم شہباز شریف اور چوہدری نثار علی خان کے درمیان رابطوں کی وجہ سے طرح طرح کی افواہیں گردش کرنے لگتی ہیں پھر اس پر طرفہ تماشا یہ کہ جن لوگوں کی چکری کے ”مکین“ کے سایہ تک رسائی نہیں وہ بہت دور کی کوڑی لے کر آ جاتے ہیں کہ حکومت نے عمران خان کو ”راہ راست“ پر لانے کے لئے چوہدری نثار علی خان کی خدمات مستعار لے لی ہیں پھر بات یہیں ختم نہیں ہوتی ایک اور شوشہ چھوڑ دیا جاتا ہے نواز شریف قیدی نمبر 804 سے ملاقات کے لئے اڈیالہ جیل جا رہے ہیں افواہ ساز فیکٹریاں دھڑا دھڑ افواہیں پھیلا رہی ہیں۔ مجھے یاد ہے چوہدری نثار علی خان تازہ تازہ نواز شریف سے الگ ہوئے تھے 2018 ء کے انتخابات کا بگل بجنے والا تھا میجر عامر نے اپنی رہائش گاہ پر عمران خان کی چوہدری نثار علی خان سے ملاقات کا اہتمام کیا تو عمران خان نے انہیں پی ٹی آئی میں شمولیت کی دعوت دی تو چوہدری نثار علی خان نے یہ کہہ کر کہ ”نواز شریف کے ساتھ 34 سال گزار دیے ان سے نباہ نہ ہو سکا آپ کے ساتھ شاید ایک دن بھی نہ گزار سکوں“ پی ٹی آئی میں شمولیت کی دعوت مسترد کر دی عمران خان نے کہا کہ ”نواز شریف تو کرپٹ ہے میرے ساتھ شامل ہو گے تو تمام اختیارات آپ کے پاس ہوں گے ٹکٹ بھی آپ نے ہی جاری کرنے ہیں“ جس پر چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ ”غیب کا علم تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے اگر نواز شریف کرپٹ ہوتا تو میں انہیں کب کا چھوڑ چکا ہوتا“ پچھلے سات سال کے دوران میں نے چوہدری نثار علی خان کو نواز شریف کی ذات کے حوالے سے کوئی منفی گفتگو کرتے نہیں سنا۔ ان دنوں مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کے درمیان سخت لڑائی تھی پی ٹی آئی کی قیادت نواز شریف کے خلاف دشنام طرازی پر اتر آئی تھی ایسی صورت حال میں انہوں نے عمران خان کا کیمپ جوائن کرنے سے انکار کر دیا ان کا کہنا تھا کہ میں اس سٹیج پر بیٹھا اچھا نہیں لگوں گا جس پر نواز شریف کے خلاف دشنام طرازی ہو رہی ہو۔

اب عمران خان زیر عتاب ہیں اور ان کے ساتھ زیادتی کی جا رہی ہے، ایسی صورت حال میں ان کی مسلم لیگ میں واپسی عمران خان کے ساتھ کیے جانے والے سلوک کی حمایت کرنے کے مترادف ہو گی لہذا ان کا چپ رہنا ہی بہتر ہے۔ اس وقت سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ ”فروخت“ ہونے والی خبر چوہدری نثار علی خان کے سیاسی مستقبل کے بارے میں ہے اس لئے اینکرپرسن ان کے بارے میں عجیب و غریب شوشے چھوڑتے ہیں۔ چوہدری نثار علی خان کو اپنی سیاسی زندگی میں تین بار وزارت عظمٰی کے منصب کی پیشکش ہوئی لیکن انہوں نے نواز شریف سے بے وفائی کرنے کی بجائے ان کے ساتھ کھڑا رہنے کا فیصلہ کیا پہلی بار جب صدر غلام اسحٰق خان نے نواز شریف کی جگہ انہیں ملک کا وزیر اعظم بنانے کی پیشکش کی تو انہوں نے یہ کہہ کر کہ ”نواز شریف میرا لیڈر ہے ان کے ساتھ غداری نہیں کر سکتا“ غلام اسحٰق خان کی پر کشش پیشکش مسترد کر دی، دوسری بار جب ایم کیو ایم پیپلز پارٹی سے بہت تنگ تھی تو اس نے چوہدری نثار علی خان کی وزارت عظمیٰ میں حکومت میں شامل ہونے کا عندیہ دیا تو انہوں نے یہ کہہ کر جو جماعت پیپلز پارٹی کے ساتھ چل نہ سکی اس کے ساتھ مسلم لیگ (ن) کا زیادہ دیر چلنا ممکن نہیں ہو گا انکار کر دیا، پھر تیسری بار جب 2014 ء میں عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری نے اسلام آباد پر چڑھائی کی تو پنجاب ہاؤس اسلام آباد میں اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ نے انہیں مسلم لیگ (ن) میں بغاوت کی راہ دکھائی صلہ میں وزارت عظمیٰ کی پیشکش کی لیکن وہ نہ مانے۔ نواز شریف کے اقتدار کے خاتمے سے قبل نواز شریف اور چوہدری نثار علی خان کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کر دی گئیں جو بالآخر دونوں کے سیاسی راستے جدا کرنے کا باعث بنیں۔

نواز شریف کی عدالتی نا اہلی کے بعد وزارت عظمیٰ کا فیصلہ کرنے کا مرحلہ آیا تو نواز شریف نے چوہدری نثار علی خان کو وزیر اعظم نہیں بنایا ہما شاہد خاقان عباسی کے سر بیٹھا چوہدری نثار علی خان نے شاہد خاقان عباسی کیبنٹ کا حصہ بننے سے انکار کر دیا شاہد خاقان عباسی چوہدری نثار علی خان کو وزارت قبول کرنے کے لئے پنجاب ہاؤس گئے تو انہوں نے یہ تاریخی جملہ کہا کہ ”ہم دونوں کا مسلم لیگ (ن) کے سوا کسی اور جماعت میں گزارا نہیں“ ۔ آج دونوں مسلم لیگ (ن) میں نہیں شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے مسلم لیگ (ن) نے ”ووٹ کو عزت دو“ کا بیانیہ ترک کر دیا تو انہوں نے بھی اسے چھوڑ دیا جب کہ چوہدری نثار علی کا کہنا ہے کہ اگر میری بات مان لی جاتی تو یہ خجل خواری نہ ہوتی۔

Facebook Comments HS

One thought on “شہباز نثار ملاقات اندرونی کہانی (2)

  • 14/07/2025 at 3:14 شام
    Permalink

    نثار علی کا کہنا ہے کہ اگر میری بات مان لی جاتی تو یہ خجل خواری نہ ہوتی بالکل ٹھیک کہا۔

Comments are closed.