ناشاد الطاف حسین کی ناساز طبیعت


متحدہ قومی موومنٹ کے بانی، شہری سندھ کی سیاست کے معمار، اور دہائیوں تک کراچی کے بے تاج بادشاہ کہلانے والے الطاف حسین ایک بار پھر خبروں میں ہیں۔ اس بار اپنی خراب صحت کی وجہ سے۔ لندن کے اسپتال سے جاری ہونے والی ایک حالیہ تصویر نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی۔ کچھ نے دعاؤں اور ہمدردیوں کے پیغامات بھیجے، جبکہ دوسروں نے طنز، دشنام اور موت کی جھوٹی خبریں پھیلانے میں دیر نہ کی۔ مگر ان جذباتی ردعمل سے زیادہ تشویشناک بات یہ تھی کہ پاکستان کے اندر موجود کچھ ’سلیپر سیل‘ ایک بار پھر متحرک نظر آئے۔ انسانی ہمدردی کی آڑ میں ایک ایسی سیاسی لاش میں جان ڈالنے کی کوشش شروع ہو گئی، جسے وقت، تاریخ، اور خود اس کے اعمال دفنا چکے ہیں۔

الطاف حسین ایک متنازع شخصیت ہیں۔ نفسیاتی طور پر بائی پولر ڈس آرڈر جیسے عارضے کا شکار، وہ بارہا اپنی تقریروں اور فیصلوں سے ثابت کر چکے ہیں کہ وہ نہ صرف خود کو بلکہ اپنی جماعت، کارکنوں اور شہر کو بھی عدم استحکام کی طرف لے گئے۔ مگر سچ یہ بھی ہے کہ کچھ حقائق ان کی سیاسی وراثت کا حصہ رہیں گے۔

یہ الطاف حسین ہی تھے جنہوں نے ’مہاجر‘ کو ایک سیاسی شناخت دی۔
شہری سندھ کے متوسط طبقے کو سیاست کے ایوانوں تک لایا۔
کراچی کے طلبہ کو نظم و ضبط اور تنظیمی طاقت سے لیس کیا۔
قومی سیاست کے مہروں میں ایک نیا کردار شامل کیا، جو شناخت، میرٹ اور شہری حقوق کے گرد گھومتا تھا۔

لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کی نفسیاتی کیفیت نے ان کے سیاسی بیانیے کو ایک خطرناک موڑ دیا۔ سلام پاکستان سے آغاز، اور پھر نریندر مودی کی حمایت میں نعرے۔ یہ سب ان کے زوال کا اعلان تھا۔ برطانیہ میں بیٹھ کر وہ کبھی منظور پشتین اور کبھی ڈاکٹر اللہ نذر جیسے علیحدگی پسندوں کے بیانیے کو تقویت دیتے رہے۔ یہاں تک کہ بھارت سے شہریت کی درخواست دے کر ثابت کر دیا کہ وہ پاکستان کی سیاست سے مکمل طور پر غیر متعلق ہو چکے ہیں۔

ذاتی طور پر میری ان سے متعدد ملاقاتیں ہوئیں۔ ان کی مہمان نوازی، علم دوستی اور مشاہدہ متاثر کن تھا مگر ان کی تیزی سے بدلتی سوچ ہمیشہ ایک سوالیہ نشان بنی رہی۔ کبھی گھنٹوں میں مزاج بدل جاتا، کبھی رات کچھ اور صبح کچھ کا منظر سامنے آتا۔ آج بھی ایک صحافی کی حیثیت سے ذہن میں یہی سوال کلبلا رہا ہے کہ کیا یہ وہی شخص تھا جس کے ایک اشارے پر لاکھوں نوجوان سڑکوں پر نکل آتے تھے؟ ایک نسل جو اب ضعیف ہو چکی ہے، آج بھی ان کی تقاریر، نعروں اور ترانوں کے سحر میں جیتی ہے۔ مگر اس نسل کی قیمت نئی نسل نے اپنے خون سے چکائی۔ اور آج کی نئی نسل ان سے لاعلم اور نئی جہت کی جانب گامزن ہے۔ بوری بند لاشیں، ریاستی آپریشنز، سیاسی بے راہ روی۔ یہ سب اسی دوہری فطرت کا نتیجہ تھے۔
الطاف حسین لندن چلے گئے اور کراچی، جس کی گلی گلی میں ان کی گونج تھی پھر کبھی واپس نہیں آئے۔
میرا ان سے ایک یادگار انٹرویو آج بھی ذہن میں ہے، جس میں انہوں نے نہایت سنجیدگی سے ”سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا“ پڑھا۔ اُس لمحے مجھے یہ جاننے کے لیے کسی تجزیے کی ضرورت نہ تھی کہ وہ اب کس کی صف میں کھڑے ہیں۔

آج وہ جسمانی اور ذہنی بیماری کے ساتھ اسپتال میں ہیں۔ ان کے لیے بطور انسان ہم دعاگو ضرور ہیں، مگر بطور صحافی ہمارا فرض ہے کہ ہم تاریخ کو فراموش نہ ہونے دیں۔ یہ صرف ایک بیمار انسان کی کہانی نہیں، یہ ایک سیاسی سبق ہے۔ سبق یہ کہ شخصیات نہیں، نظریات زندہ رہتے ہیں۔ اور اگر نظریہ کمزور ہو تو ساری قیادت صرف ایک شخصیت کا سایہ بن کر رہ جاتی ہے۔

الطاف حسین ایک وقت میں ایک نظریہ تھے۔ آج وہ ایک انتباہ ہیں۔ اللہ ہمیشہ پاکستان کو شخصیت پرستی کے سائے سے دور رکھے۔ تمام بیماروں کے لئے دعا ہے چاہے وہ جسمانی بیمار ہوں یا ذہنی لاچار۔

Facebook Comments HS

انیس فاروقی، کینیڈا

انیس فاروقی ایک منجھے ہوئے جرنلسٹ، ٹی وی ہوسٹ، شاعر اور کالم نگار ہیں، اور کینیڈا میں مقیم ہیں۔

anis-farooqui has 27 posts and counting.See all posts by anis-farooqui