چار مہینے اور منجمد زندگی۔ گزشتہ سے پیوستہ


ابو جان آپ کی آواز سننے کو دل ترستا ہے۔ ہم نے آپ کی وائس ریکارڈنگز اپنے پاس محفوظ کر کے رکھی ہوئی ہیں ان کو سن کر اور آپ کی تصاویر دیکھ کر زندگی گزار رہے ہیں۔ آپ نے ہم سب پر کتنی محنت کی اپ ہم سب کو اچھے اور مہذب انسان دیکھنا چاہتے تھے اور اللہ کے فضل سے آپ کا خواب پورا ہوا۔ ابو جان اولاد کا باپ کے ساتھ فطری پیار تو اپنی جگہ لیکن اپنی بھرپور محنت سے آپ نے ہمیں معاشرے کے اچھے انسان بنایا ہمیں اچھے اور برے کی تمیز سکھائی آپ کا یہ کتنا بڑا احسان ہے ہم پر۔ زندگی کے بڑے فیصلے کرتے وقت آپ کو کہاں سے لائیں گے ہم۔ آپ سے سے پوچھے بغیر ہم کب کوئی کام کرتے تھے۔ اب کیسے کریں گے سب کام۔ ہم نے گھر میں آپ کی تصاویر بڑی کروا کر آویزاں کی ہیں ان کی طرف دیکھ کر ہم اپنے کام کرتے ہیں۔

ابو جان میرے معاملے میں آپ بہت زیادہ پروٹکیٹو تھے میری ہر چیز آپ خود لے کر آتے، میرا ہر کام آپ خود اپنی ذمہ داری میں کرواتے تھے جیسے آپ کو میرے معاملے میں کسی اور پر بھروسا نہ ہو۔ میرے یونیورسٹی کے سالوں میں جب یونیورسٹی بس نہیں آتی تھی آپ خود آفس سے آف کر کے مجھے پک اینڈ ڈراپ کرتے ایسے جیسے آپ مجھے بہت حفاظت سے رکھنا چاہتے ہوں اور میری فرینڈز آپ کو کہتی انکل آپ اس کو خود آنے جانے دیا کریں اور آپ ہنس دیتے تھے کہ یہ ابھی اتنی کانفیڈنٹ نہیں پھر آپ نے مجھے اتنا بہادر بنا دیا کہ اب آپ کے بغیر زندگی گزار رہی ہوں۔ ابو جان آپ کا مطالعے کا شوق اور یہی شوق اپنے بچوں مین ڈالنے کی خواہش بہت حیران کن تھی۔ لیکن جو ڈسپلن اور وقت کی پابندی آپ کی شخصیت میں تھی وہ ہم میں نہیں ہے۔

ابو جان ہم سب کتنی پرسکون اور خوشحال زندگی گزار رہے تھے جب 2 مارچ کا وہ منحوس دن آیا جب ایک خوفناک سونامی ہمارا سب کچھ بہا کر لے گیا۔ ابو جان جب آپ کی سانسیں اکھڑ رہی تھیں میں آپ کو اپنی سانسیں دینے کے لیے آپ کے پاس کھڑی تھی آپ ایک بار آنکھ کھولتے میں آپ کو اٹھا کر خود آپ کی جگہ پہ لیٹ جاتی۔ آپ خود بتائیں ابو جان آپ کی ختم ہوتی سانسوں کے سامنے ہم نے اپنی سانسیں کیا کرنی تھیں۔ آپ کے گرتے ہوئے بلڈ پریشر پر ہم نے اپنا بلڈ پریشر کیا کرنا تھا آپ کہتے تو ابو جان آپ کے بچے آپ پر اپنا آپ لوٹانے کے لیے کھڑے تھے۔ آپ کے بڑے بھائی اور ہمارے تایا ابو جن سے آپ بہت پیار کرتے تھے وہ آپ کے پاس کھڑے تھے لیکن آپ نے کسی کی بھی نہیں سنی اور چلے گئے۔

ابو جان کیا ہے اس دنیا میں جو آنکھوں کے سامنے سے آپ کے جانے کے لمحات کو ہٹا سکے۔ سب حوصلہ اور صبر کرنے کا کہتے ہیں سب کو کیسے بتائیں کہ آپ کے چلے جانے پہ صبر آ بھی جائے لیکن وہ منظر جب آپ اچانک چلے گئے۔ آپ کبھی کوئی خاص بیمار نہیں ہوئے تھے۔ ابھی اس بار بھی کوئی زیادہ مسئلہ تو نہیں تھا ڈاکٹرز سب مطمئن تھے اور آپ کو گھر بھیجنے کا سوچ رہے تھے لیکن آسمانوں پہ کچھ اور طے ہو رہا تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ آسمان پہ فیصلہ اسی وقت اور اچانک ہوا تبھی تو اتنی ناقابل یقین صورتحال میں آپ چلے گئے۔ آپ تو بالکل فٹ تھے کوئی بھی مسئلہ نہیں تھا اسی وقت آپ کی ادا اللہ کو پسند آئی اور آپ کو فوراً اپنے پاس بلا لیا گیا۔ ابو جان ایسا لگتا ہے کہ جب میرا دنیا سے جانے کا وقت آئے گا اس وقت بھی آپ کی آخری سانسیں میری آنکھوں کے سامنے ہوں گی۔ وہ وقت جب ہمیں پتہ تھا کہ ہمارا سورج ہمیشہ کے لیے چھپ رہا ہے۔

ابو جان اب میں مزید کیسے لکھوں، بس کروٹ کروٹ جنت ہو آپ کے لیے ابو جان۔

Facebook Comments HS