پوٹھوہاری زبان کے لئے نجی ٹی وی چینلز کی خدمات


پرویز مشرف کے دور حکومت میں جب نجی ٹی وی چینلز کو لائسنس ملنا شروع ہوئے تو پشتو، سرائیکی، پنجابی سمیت مختلف علاقائی زبانوں کے فروغ کے لئے بھی ٹی وی چینلز کا قیام عمل میں لایا گیا، پوٹھوہاری زبان و ادب کی ترویج و ترقی میں بھی نجی ٹی وی چینلز نے مقدور بھر حصہ ڈالا ہے اور ابھی تک ڈال رہے ہیں، انگلینڈ میں مقیم پوٹھوہاری اور پہاڑی کمیونٹی کے لئے برطانیہ سے بھی نجی چینلز نے اپنی نشریات کا آغاز کیا تھا، ذیل میں ان پاکستانی اور برطانوی ٹی وی چینلز کی تفصیل دی جا رہی ہے جن پر پوٹھوہاری پروگرام نشر ہوتے رہے یا ہو رہے ہیں۔

”ڈی ایم ڈیجیٹل چینل یو کے“

”ڈی ایم ڈیجیٹل چینل یو کے“ کا آغاز 21 مئی 2005 کو برطانیہ کے شہر مانچسٹر سے ہوا، چینل کے مالک ڈاکٹر لیاقت ملک ہیں، جو مانچسٹر کے نواحی قصبے راچڈیل میں قیام پذیر ہیں۔ اس چینل پر اردو، پنجابی، پشتو اور پوٹھوہاری ٹاک شور، میگزین پروگرام اور ڈرامے نشر ہوتے تھے۔ ارشد چہال کے لکھے ہوئے دو پوٹھوہاری ڈرامہ سیریل ”چبارے“ اور ”برف بنیرے“ بھی یہاں چلے تھے، چبارے طاہر چوہدری نے پوٹھوہار وژن اور برف بنیرے نسیم عارف نے خاوری پروڈکشن کے تحت بنایا تھا، ارشد چہال کی کچھ ٹیلی فلمیں بھی اس پر چلی تھیں جیسے ”مائے نی مائے“ وغیرہ۔ ڈی ایم ڈیجیٹل چینل یو کے کے آغاز کے ساتھ ہی دوسرے دن ہی پوٹھوہاری پروگرام ”اساں ناں کشمیر“ ٹیلی کاسٹ ہونا شروع ہوا تھا جس کی تفصیل حسب ذیل ہے۔

”اساں ناں کشمیر“

”اساں ناں کشمیر“ پوٹھوہاری پروگرام کے میزبان اور پروڈیوسر طارق بٹ (ساگری /کلر سیداں ) تھے برطانیہ کی تاریخ میں ٹیلی ویژن پر سب سے پہلے پوٹھوہاری میں گفتگو اسی پروگرام میں طارق بٹ نے کی تھی، پروگرام کے فارمیٹ کے مطابق زیادہ تر آزاد کشمیر سے برطانیہ آئی ہوئی حکومتی، سیاسی، مذہبی اور ادبی شخصیات اور وہاں قیام پذیر کشمیری کمیونٹی کے سرکردہ افراد کو بطور مہمان بلا کر مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر کے ایشوز اور سیاست پر پوٹھوہاری میں گفتگو کی جاتی تھی۔ سن رائز اور ایشین ساؤنڈ جیسے ریڈیو چینلز پر پوٹھوہاری پروگرام ہوتے تھے لیکن ٹی وی پر پہلی بار برطانیہ میں پوٹھوہاری پروگرام یا گفتگو کا سہرا طارق بٹ کے سر ہی سجتا ہے، طارق بٹ ساڑھے تین سال تک یہاں پروگرام کرتے رہے اس کے بعد وہ 2010 میں پاکستان آ گئے، بعد ازاں چینل بھی کچھ عرصہ بعد بند ہو گیا، آج کل (جولائی 2025 ) میں یہ خبریں چل رہی ہیں کہ یہ چینل کسی نئے یا تبدیل شدہ نام کے ساتھ دوبارہ لانچ ہو رہا ہے۔

”آپنا دیس چینل“ یوکے

”آپنا دیس چینل“ کا آغاز برطانیہ کے شہر بریڈفورڈ سے 2006 میں ہوا تھا، اس کا ذیلی دفتر سکیم تھری راولپنڈی میں تھا، ریکارڈنگ اسی سٹوڈیو میں ہوتی تھی، گانے، شعر، ڈرامے، پوٹھوہاری پروگرام یہاں ریکارڈ ہوتے تھے۔ ٹیسٹ ٹرانسمیشن کے لئے ایک پوٹھوہاری مشاعرہ بھی ریکارڈ ہوا تھا جو دن رات ٹیلی کاسٹ ہوا، پوٹھوہاری مشاعرہ کے میزبان سید آل عمران تھے۔ شعرا میں سید آل عمران، ازرم خیام، شاہد الحسن مہر، حسن دلگیر، راجہ نثار احمد یاور، عابد حسین جنجوعہ اور غلام اکبر طالب عباسی شامل تھے۔ اس پر پیش کیے جانے والے پوٹھوہاری پروگراموں ”چوپال“ اور ”گمداند“ کی تفصیل حسب ذیل ہے۔

”چوپال“

پوٹھوہاری پروگرام ”چوپال“ کے میزبان سید آل عمران تھے، اس پروگرام میں پوٹھوہاری مشاعرے، مذاکرے اور دیگر سرگرمیاں ہوتی تھیں، اس پروگرام میں ”پوٹھوہاری ادب نی ترقی“ کے نام سے ایک مذاکرہ بھی ہوا تھا جس کے شرکاء عابد حسین جنجوعہ اور طالب بخاری تھے۔ چوپال میں سید آل عمران ہر شعبہ ہائے زندگی کی شخصیات کو مدعو کر کے ان سے گفتگو اور انٹرویو کرتے تھے۔

”گمداند“

پوٹھوہاری پروگرام ”گمداند“ کے میزبان طاہر چوہدری تھے، جو ساتھی میزبان کے ساتھ پوٹھوہاری گپ شپ لگاتے تھے۔

”وینس ٹی وی لندن“

ویمبلے لندن سے لانچ ہونے والے وینس ٹی وی پر بھی طارق بٹ نے ”دیسوں آئے لوک“ کے نام سے چار پانچ پوٹھوہاری پروگرام کیے تھے۔

”کے ٹو ٹی وی“

کے ٹو ٹی وی کا قیام اگست 2008 میں عمل میں لایا گیا، اس کے سی ای او کامران حامد راجہ ہیں جن کا تعلق شکرپڑیاں اسلام آباد سے ہے، چینل کا ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں ہے، کے ٹو ٹی وی پہلا قومی سیٹلائٹ چینل ہے جس پر ملک کے مختلف علاقوں، ثقافتوں اور روایات پر مبنی پروگرام پیش کیے جاتے ہیں، ان پروگراموں میں ڈرامے، کامیڈی، دستاویزی فلمیں، لائف سٹائل، تفریحی پروگرام، بچوں کے پروگرامز اور ٹاک شوز شامل ہیں۔ کے ٹو سے مختلف علاقائی زبانوں پہ پروگرامز ہوتے ہیں جن میں پوٹھوہاری زبان بھی شامل ہے۔ کے ٹو ٹی وی پر نشر ہونے والے مختلف پروگراموں کی تفصیلات حسب ذیل ہیں۔

”جی کراں“

2010 میں کے ٹو، ٹی وی اسلام آباد کے پوٹھوہاری پروگرام ”جی کراں“ کا آغاز ہوا، جس کے میزبان سید آل عمران (م: 25 جون 2020 ) تھے۔ پروڈیوسر مدثر علی، شاہ اسماعیل اور مختار راجا تھے۔ ”جی کراں“ کے پروگرام ان ڈور اور آؤٹ ڈور دونوں صورتوں میں ریکارڈ ہوتے تھے۔

”ڈھوک“

فروری 2011 میں سید آل عمران نے کے ٹو ٹی وی پر ”ڈھوک“ کے نام سے پوٹھوہاری ثقافت پر مبنی پروگرام شروع کیا تھا۔ اس پروگرام کے لکھاری و محقق بھی سید آل عمران اور پروڈیوسر مدثر علی تھے۔

”سرگ“

2013 میں کے ٹو، ٹی وی سے پوٹھوہاری زبان کی تاریخ میں پہلی بار سحر ٹرانسمیشن کے پروگرام ”سرگ“ کا آغاز ہوا جس کے میزبان سید آل عمران تھے۔

”چاندنی چوک“

ناصر راجہ کے ٹو ٹی وی پر ”چاندنی چوک“ سے پوٹھوہاری پروگرام کرتے ہیں۔

”احوال پوٹھوہار“

”احوال پوٹھوہار“ کے میزبان سید منتظر امام تھے، کے ٹو ٹی وی پر مئی 2019 میں یہ ان کا پہلا پوٹھوہاری پروگرام تھا، جس میں پوٹھوہار سے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات کے انٹرویوز گاؤں گاؤں جا کر ریکارڈ کیے جاتے تھے اور یہ سلسلہ مئی 2021 تک جاری رہا۔

”ست بسم اللہ“

سید منتظر امام نے پہلا ”ست بسم اللہ“ کم و بیش 300 سے زائد لوگوں کے ساتھ جاتلی کے مقام پہ ریکارڈ کیا، پروگرام کا نام ”ست بسم اللہ“ انہوں نے خود تجویز کیا جس کے پروڈیوسر یاسر زمان ہیں، پہلے پروگرام کی کامیابی پر اسے پرائم ٹائم کی سلاٹ میں شامل کر دیا گیا اور یوں بقول ڈائریکٹر پروگرامز عارف قاضی ”یہ پروگرام پوٹھوہاری زبان کا ایسا پہلا ایک گھنٹہ دورانیے کا پروگرام بن گیا جسے پرائم ٹائم کی ریگولر سلاٹ میں ہفتہ وار پیش کیا گیا“ یوں مئی 2021 سے اب تک یہ پروگرام منتظر امام کی میزبانی اور سکرپٹ رائٹنگ میں پیش کیا جا رہا ہے، شعرخوانی، لوک گیت اور لوک داستان کو خاص اہمیت دی جاتی ہے علاوہ ازیں میلاد النبی ﷺ، محرم الحرام، رمضان، عید اور ثقافتی تہواروں کے موقع پہ بھی ”ست بسم اللہ“ کی متعدد اقساط سٹوڈیوز میں پروگرامز اور محفل مسالمہ ریکارڈ کیے جاتے ہیں جن میں سلام یا حسین، لہو لکیراں، ساہواں نی زنجیر، دیس نیاں گلاں وغیرہ شامل ہیں، مسلسل چھ ماہ کے ٹو کے سب نشر ہونے والے پروگرامز میں ”ست بسم اللہ“ کو ویوور شپ کی بنیاد پہ پہلے نمبر پہ رہنے پر کے ٹو ٹی وی اسپیشل ایوارڈ سے نوازا گیا۔

Facebook Comments HS

فیصل عرفان

فیصل عرفان پوٹھوہاری شاعر، محقق، چار کتابوں کے مولف اور روزنامہ نوائے وقت اسلام آباد میں سب ایڈیٹر ہیں

faisal-irfan-chohan has 16 posts and counting.See all posts by faisal-irfan-chohan