گزشتہ ایک دہائی میں چین کی کامیاب سفارتکاری


عوامی جمہوریہ چین نے اپنے قیام کے بعد ہی سے اپنی سفارتی پالیسی کو بہت محتاط انداز میں نافذ کیا۔ اس پالیسی میں کسی ملک اور خطے کے خلاف کسی قسم کی جارحیت نہیں ہے اور اس کا اندازہ ہمیں آج یعنی 2025 تک کے چین کے عالمی اقدامات سے بھی ہوتا ہے۔ اپنے قیام کے بعد عوامی جمہوریہ چین نے اپنے منفرد نظام کو نافذ کرنے کے لئے ملکی سطح پر کئی تجربات کیے جو کہ اس کا حق بھی تھا اور پھر ایک دور وہ آیا جب ڈنگ شیاؤ پھنگ کی قیادت میں چین نے اپنے دروازے دنیا کے لئے کھولے۔ 1978 سے آج تک چین نے اس پالیسی میں عالمی حالات کی مناسبت سے کئی وقتی ”ایڈجسٹمنٹس“ بھی کی ہیں اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے لیکن ایک بات جو ماضی اور حال میں مشترک رہی، وہ چین کی عالمی دوستی کی پالیسی ہے جس نے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ چین کے دوستوں میں اضافہ کیا ہے۔

چین نے خاص طور پر گزشتہ دس برس میں اپنی سفارتی حکمت عملی کو ایک متحرک، جامع اور عالمی پیمانے پر اثر و رسوخ رکھنے والا نظام بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اس دور میں جہاں اس نے اقوام متحدہ میں اپنا کردار مزید مستحکم کیا، وہیں دنیا بھر کے ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات میں قابلِ قدر اضافہ ہوا۔ چینی وزارت خارجہ کے مطابق، ”پچھلے دس سال کے دوران چین نے 172 سے بڑھ کر 181 ممالک کے ساتھ باضابطہ سفارتی تعلقات قائم کیے، جبکہ شراکت دارانہ تعلقات 41 سے بڑھ کر 113 تک پہنچے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صرف تعداد میں اضافہ نہیں ہوا بلکہ تعلقات کی نوعیت بھی زیادہ معنی خیز اور باہمی تعاون پر مبنی ہو گئی ہے۔

یہ ترقی نہ صرف اعداد و شمار میں دیکھی گئی بلکہ تجارتی اہمیت اور عالمی سطح پر اثر و رسوخ میں بھی عروج پر پہنچی۔ چینی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ چین اب 140 سے زائد ممالک و علاقوں کے لیے اہم تجارتی شراکت دار بن چکا ہے، جبکہ عالمی تجارتی فیصلوں اور اقتصادی تعاون پر چین کا کردار روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ عالمی اقتصادی طاقت نہ صرف معاشی بہتری لانے میں مددگار ثابت ہوئی بلکہ کئی ممالک میں چین کے لیے اعتماد کا سبب بھی بنی۔

ان سفارتی تعلقات میں اضافہ کی ایک نمایاں مثالوں میں وسطی تنصیبات جیسے ساؤتھ پیسفک کے وہ ممالک شامل ہیں جنہوں نے چین کے ساتھ تعلقات بحال کیے یا نئے تعلقات قائم کیے۔ مثال کے طور پر 2015 میں ساؤلومن آئلینڈز اور جزائر برکینا فاسو، اس کے بعد کیربیئن اور لاطینی امریکی ممالک جیسے پاناما، ڈومینیکن ریپبلک، ایل سلواڈور، سلوینیا اور 2021 میں نکاراگوا کے ساتھ تعلقات بحال کیے گئے۔ ان تمام ممالک کا چین کے ساتھ تعلقات بحال یا نئے سرے سے قائم کرنا چین کے عالمی اثر کی گواہی ہے۔

2013 میں چین کے صدر بننے والے شی جن پھنگ کی عالمی مسائل اور امور کے حوالے سے دور اندیشی اور باریک بینی نے آج چین کو ایک نئے مقام پر لا کھڑا کیا ہے۔ اس سفر میں ان کے عالمی مسائل کو حل کرنے میں مختلف عالمی انیشیٹوز کو پیش کرنا یقیناً بہت معنی رکھتا ہے۔ ان اقدامات میں گلوبل سکیورٹی انیشیٹو، گلوبل سولائزیشن انیشیٹو، گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو شامل ہیں جنہوں نے دنیا کو نئے انداز اور حالات میں نئے تعلقات کے ساتھ جوڑا ہے۔ آج کے چین کے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے تحت معاشی تعاون اور انفراسٹرکچر کی ترقی کے عہد کے ساتھ بھی جڑے ہوئے ہیں۔ چینی وزارت خارجہ کے مطابق چین نے 2013 سے اب تک 150 سے زائد ممالک و علاقوں کے ساتھ بی آر آئی کے تحت اشتراک کیا ہے، جس کا مقصد تعمیرات، توانائی، نقل و حمل اور کمیونیکیشن کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔ اس تعاون کی وجہ سے چین کے انتظامی تعلقات مضبوط ہوئے، جس سے نئے دوست ممالک کے لیے دروازے کھلے۔

افریقہ کے حوالے سے دیکھا جائے تو اس خطے میں طویل عرصے سے جاری سفارتی ترقی کی مدت میں نمایاں پیش رفت دیکھی گئی ہے۔ چین نے افریقی یونین کے ساتھ ممکنہ پہلے غیر افریقی ملک کے طور پر مستقل نمائندہ دفتر قائم کیا ہوا ہے، جبکہ دونوں کا رشتہ 2002 میں رسمی طور پر شروع ہوا۔ 2011 میں چینی حکومت نے افریقی یونین کیمپ میں اپنا سفارتی دفتر قائم کیا اور 2014 میں ایک مشترکہ تعاون کا منصوبہ بھی ترتیب دیا گیا۔ یہ نہ صرف سفارتی بلکہ اسٹریٹجک تعاون کا بھی ثبوت ہے۔

جنوب مشرقی اور وسطی ایشیا میں بھی چین کے سفارتی حالات سازگار ہیں۔ چین نے اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ تجارتی شراکت کے منصوبوں کے ذریعے مثبت تعلقات قائم کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ اس سلسلے میں چین نے 18 پڑوسی ممالک کے ساتھ اپنی سب سے بڑی تجارتی شراکت داری قائم کی، جن میں پاکستان، روس، شمالی کوریا، ویتنام، ملائیشیا، میانمار، بنگلہ دیش، جاپان، کوریا، اور دیگر شامل ہیں۔

مندرجہ بالا اعداد و شمار 2015 سے لے کر حالیہ برس 2025 تک چینی سفارتی حکمت عملی کی سمت اور تیزی کو واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں۔ چین نے اپنا سفارتی دائرہ دنیا کی اہم تنظیموں جیسے اقوام متحدہ، برکس، شنگھائی تعاون تنظیم، آر سی ای پی اور ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں شاندار انداز میں بڑھایا۔ چین کے بقول، ”یہ دہائی، بڑے پیمانے پر عالمی شراکت داری اور امن کے لیے کام کرنے کی دہائی تھی۔

حامی ممالک کی جہاں تعداد بڑھتی گئی، وہاں تعلقات کی نوعیت بھی ’پارٹنر شپ‘ کی شکل اختیار کرنے لگی۔ چینی وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ شراکت دارانہ تعلقات ”کمپری ہینسیو سٹریٹیجک پارٹنرشپ“ یا ”گلوبل پارٹنرشپ فار پیس اینڈ ڈویلپمنٹ“ جیسی اصطلاحات کے تحت درجہ بند کی جا رہی ہیں۔ ایسے الفاظ خود سفارتی تعلقات کی قوت اور گہرائی کو اجاگر کرتے نظر آتے ہیں۔

یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ صرف سرکاری ڈیٹا ہی نہیں بلکہ چینی عوامی شواہد بھی اس سفارتی کامیابی کی تصدیق کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر 2025 میں امریکہ میں چین کے سفارت خانے نے ایک سروے جاری کیا جس میں 183 ممالک کے ساتھ چین کے تعلقات کو دوستانہ یا شراکت دارانہ تسلیم کیا گیا اور 80 فیصد سے زیادہ افراد نے چین کو ایک ”دوست“ یا ”اسٹریٹجک پارٹنرشپ“ والا ملک قرار دیا۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اقوام اور متعدد شعبوں میں تقویت پانے والی چین کی سفارت کاری نے اس کی عالمی پوزیشن کو نمایاں طور پر بہتر کیا ہے۔ دوست ممالک کی تعداد اور سفارتکاری والے ممالک کی تعداد اب 180 سے زائد ہو چکی ہے اور شراکت کی اقسام نیز تعاون کے سکوپ میں بھی بے پناہ وسعت آئی ہے۔

گزشتہ دس برسوں میں چین ایک معاشی، سیاسی اور ثقافتی عالمی ملک بن کر ابھرا ہے، جس کے اثرات نہ صرف اعداد پر مبنی ہیں بلکہ عالمی سطح پر اس کے اعتماد و تعاون کے رنگ سے بھی نمایاں ہیں۔

Facebook Comments HS