معاشرتی مردانگی: جب میں خود سے دور ہوا
میں نے اپنے بچپن کا ایک اہم حصہ ہسپتال کے اِک کمرے میں لیٹے پردوں میں پڑی سلوٹوں کو گنتے بِتایا۔ اس عرصے میں، میں نے مرد کے نام پر صرف اپنے باپ کو دیکھا جو کہ ایک نہایت شریف آدمی تھے اور میرا مردوں کے بارے میں یہ نظریہ قائم ہو گیا کہ شاید تمام مرد ایسے ہی بھلے ہوتے ہیں۔ اسی نظریہ کو ساتھ لیتے ہوئے میں نے اپنا بچپن گزارا۔ شاید میرا نظریہ اب تک اس لیے بھی سلامت تھا کیونکہ میں نے اپنی تعلیم ایک آل بوائز سکول میں حاصل کی تھی جہاں لڑکیوں کا نام و نشان بھی نہ تھا۔ پر پھر نویں جماعت میں میرا داخلہ ایک ایسے سکول میں ہو گیا جو ایک کو ایجوکیشن نظام پر چلتا تھا۔
شروعاتی چند روز تو میرے اسی خوشی میں نکل گئے کہ میں اب نویں جماعت میں ہو گیا ہوں اب خاندان میں میری رائے کو بھی عزت بخشی جائے گی۔ پر جوں جوں وقت گزرا میں نے اپنے آپ کو باقی ہم جماعت لڑکوں سے بہت مختلف جانا۔ میں بچپن سے رشتوں اور دوستی کی عدم دستیابی کی وجہ سے ایک مخلص دوست کی تلاش میں تھا۔ پر میں نے اپنی اور اپنے ہم جماعتوں کی سوچ میں گہرا تضاد پایا۔ چونکہ بچپن سے لے کر اب تک میرا واحد دوست میری ماں تھی جس کی وجہ سے میرا رجحان ادب نظم اور غزل کی طرف زیادہ تھا جبکہ ان کی گفتگو کا موضوع اکثر لڑکیاں اور ان کے چند اعضا پر مبنی ہوتا۔ جب وہ مجھ سے اس بارے میں سوال کرتے تو میں ہمیشہ خاموشی کا سہارا لیتا۔ جس کے سنگین نتائج مجھے بعد میں بھگتنے بھی پڑے۔ کچھ عرصہ بعد سب لڑکوں نے مجھ سے کنارا کر لیا اور مجھے ”کیک“ اور ”چھکے“ جیسے عجیب و غریب القابات سے نوازا جانے لگا۔
مجھے اس بات کے رنج سے ایک سوال ستا رہا تھا آٹھویں جماعت تک تو سب ٹھیک تھا تو نویں جماعت میں آتے ہی لڑکوں کی سوچ میں اتنا گہرا بدلاؤ کیسے آیا۔ جس کا جواب مجھے جا کر گیارہویں جماعت میں ملا۔ کرونا کی آمد ہوئی اور ساتھ ہی ایک رشتہ دار کی بھی جس کی سوچ کئی حد تک انھیں ہم جماعتوں سے ملتی تھی۔ ہماری آپس میں ایک بہت نا مناسب سی شرط لگی۔ صاحب کا کہنا تھا کہ وہ میری آئی ڈی سے میری کسی بھی ہم جماعت کو میسج کر کے اس کو دو دن کے اندر میرا گرویدہ بنا لیں گے جبکہ میں ان کے اس خیال سے متفق نا تھا۔ پر میں یہ دیکھ کر دنگ رہ گیا کہ صاحب واقعی اپنے قول پر پورا اترے اور انھوں نے میری اک ہم جماعت کو ان کی زبان کے مطابق ”سیٹ“ کر لیا۔ مجھے اس بار لڑکیوں سے بھی مایوسی ہوئی کہ کیا ایک لڑکی کی پسند کا معیار بھی اس قدر گر چکا ہے کہ وہ ایک لڑکے جس کی باتوں سے اس کی ہوَس صاف صاف چھلک رہی ہے اسے روکنے کی بجائے اس کی مداح بن بیٹھی ہے۔
بارہویں جماعت کے ختم ہونے تک مجھے اس چیز کا تو احساس ہو چکا تھا کے اگر مجھے اس معاشرے میں گزارا کرنا ہے تو مجھے بھی اپنی شخصیت کے اندر کچھ چیزوں کا اضافہ کرنا ہو گا۔ جن میں کوئی بات کرتے ہوئے ہر جملے میں دو تین گالیوں کو شامل کرنا، عقل اور سمجھ والی باتوں سے اجتناب کرنا، اور لڑکی کو چیز سے تشبیہ دینا تو سر فہرست ہے۔
جب میں یونیورسٹی پہنچا تو میں نے اپنی شخصیت کو اس طرح نکھارا کہ میں نے اپنے اندر ہر وہ خوبی شامل کرلی جو معاشرے کے حساب سے مرد میں ہونی چاہیے۔ آج کل کے نوجوان ایسی خوبیوں والے شخص کو ”ایلفا میل“ کہتے ہیں۔ خیر یونیورسٹی شروع ہوئی اور پہلے ہی ہفتے میرے کئی دوست بن گئے یہاں تک کے لڑکیاں بھی۔ یونیورسٹی کا ماحول بہت ہی کھلے مزاج کا ہوتا ہے۔ یہاں ٹیچر کی عزت کرنا آپ پر فرض نہیں کیونکہ اب آپ کو نہ مار پڑنے کا ڈر رہتا ہے اور نہ ہی گھر شکایت جانے کا۔ اسی چیز کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمارے اکثر نوجوان جی بھر کر استاد کی بے عزتی کرتے ہیں اور اسے بے عزتی سمجھتے بھی نہیں۔ سمجھیں بھی کیسے جب انھیں اس بے عزتی کے عوض لڑکیوں کی طرف سے اتنی قدردانی جو ملتی ہے۔ جو لڑکا جتنے کھلے مذاق کرتا ہے اس کا سینس آف ہؤمر اتنا ہی قابل قبول ہوتا ہے۔
خیر کیونکہ میں بھی اب تک وقت کی رفتار سے چلنا سیکھ چکا تھا تو مجھے بھی اب یہ باتیں نازیبا نہ لگتی۔ میں سمجھ چکا تھا کے نویں جماعت سے یونیورسٹی تک کے عرصے میں آپ کو تھوڑا بے غیرت تو ہونا ہی پڑتا ہے ورنہ آپ پر ”تنگ نظر“ کی مہر لگ جاتی ہے۔ پر جیسے جیسے یونیورسٹی میں کچھ دیر گزری تو میری دوستوں کی فہرست پھر سے گھٹنے لگی۔ شروع کے چند دنوں لڑکے لڑکیوں میں بیٹھ کر میں خود کو کوُل سمجھ رہا تھا اب وہ حرکتیں نیچ لگنے لگیں۔ میرے قہقہے اب ٹیچرز کی بے عزتی پر پھیکے پڑنے لگے۔ مجھے لگنے لگا کہ میں جیسے صرف ایک کردار ادا کر رہا ہوں اصل میں میں تو ایسا ہوں ہی نہیں۔
اس تبدیلی کا سبب جاننا چاہا تو معلوم ہوا کہ اب میری ملاقات چند ایسے نوجوانوں سے ہو چکی تھی جن میں وہ تمام خصوصیات تھی جو میں یونیورسٹی آنے سے پہلے میں ترک کر چکا تھا۔ ایسا نہیں تھا کہ انھوں نے اس جھوٹی مردانگی کا لبادہ نہیں اوڑھا ہوا تھا جو ہمارے معاشرے کے پیمانے پر پورا اترتی ہے بس انھوں نے اس شخصیت کو اپنے اندر کہیں چھپا کر رکھا تھا جس کا میں گلا گھونٹنے چلا تھا۔ ان سے ملنے کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ ہر بار انسان کے لیے ضروری نہیں کے وہ معاشرے کے بتائے طور طریقوں پر چلے کبھی کبھی معاشرہ غلط اور انسان درست بھی ہو سکتا ہے۔
حالیہ بات کی جائے تو اب میں خود ایک استاد ہوں، اور روز انہی سوالات سے گزرتا ہوں جو کبھی میرے اپنے تھے۔ جب کوئی طالبعلم صرف لڑکیوں کی واہ واہ سمیٹنے کے لیے استاد کی تضحیک کرتا ہے، تو میرا دل چاہتا ہے کہ اسے وہ آئینہ دکھاؤں جو مجھے سالوں بعد دکھائی دیا۔ پر میں خاموش رہتا ہوں، کیونکہ جان چکا ہوں کہ بعض سبق وقت خود پڑھاتا ہے۔
لیکن اس خاموشی کے باوجود، میں یہ دعا ضرور کرتا ہوں کہ ہر نوجوان کو وقت پر وہ ایک ”اچھا دوست“ ملے۔ چاہے وہ ماں ہو، استاد ہو، یا کوئی ہم عمر۔ جو اسے یہ سمجھا سکے کہ مرد بننے کے لیے غیرت کو مارنا نہیں پڑتا، اور نہ ہی عزت کمانے کے لیے کسی کی بے عزتی ضروری ہے۔
مجھے یقین ہے، اگر ہم ایک نسل کو یہ سکھا سکیں کہ ”اصل مردانگی“ طاقت میں نہیں، احساس میں ہے۔ تو شاید کل کا معاشرہ آج سے بہتر ہو۔


