صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 47 : نئی شناسائیاں


” میرا یہ حکم ہے کہ جس طرح میں نے تم سے محبت رکھی تم بھی ایک دوسرے سے محبت رکھو۔ اس سے بڑی محبت کوئی نہیں کہ کوئی اپنی جان اپنے دوستوں کے لیے دے۔“ یوحنا 15 : 12۔ 13

پارٹی کو عادل کی کوٹھی پر ہی رکھا گیا تھا اور اُس کا مقصد عارف کے دوستوں سے مریم کا تعارف کرانا تھا۔ عارف نے مشورہ دیا کہ کھانا شنگری لا چائینیز ریسٹورنٹ سے لیا جائے مگر کریم چاچا ناراض ہو گئے کہ اُن کے بنائے ہوئے کھانے پر باہر کے کھانے کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

”باہر کا کھانا؟ کیا میں مر گیا ہوں؟“ انہوں نے منہ پُھلا کر کہا۔

چناں چہ اُن کی عزت نفس کو بچانے کی خاطر نہ صرف کھانا بنانے کا چارج، بلکہ مینو کا اختیار بھی ان ہی کو دے دیا گیا۔ مریم نے اُن سے درخواست کی وہ اُن ڈشوں کو بھی بنائیں جو انہوں نے پچھلی بار بنائی تھیں جب وہ شادی سے پہلے وہاں آئی تھی، لہٰذا انہوں نے مینو میں مٹن قورمہ، مرغ بریانی اور شامی کباب کے علاوہ شل بٹا مچھ، ماچر جھول اور چِنگری مالائی کری بھی رکھی اور میٹھے میں فرنی اور شاہی ٹکڑے بنانے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے دو دن پہلے سے ہی اجزا جمع کرنے شروع کر دیے اور مجمّل کو بھی مدد کرنے کے لیے بلا لیا۔

عادل اور گلوریا اُس رات کو کہیں اور مدعو تھے لہٰذا انہوں نے پارٹی میں شرکت کرنے سے معذوری کا اظہار کر دیا۔ غالباً وہ خود ہی وہاں موجود رہنا نہیں چاہتے تھے تاکہ بچے بے تکلفی سے اپنی پارٹی کر سکیں۔ عارف نے کریم چاچا کو مہمانوں کی تعداد تیس بتائی تھی اور دوستوں کو تاکید کردی تھی کہ پارٹی غیر رسمی تھی لہٰذا کوئی سوٹ بوٹ میں نہ آئے۔ جب مہمان آنا شروع ہوئے تو کوئی جینز اور ٹی شرٹ میں تھا، کوئی کرتا اور چپل پہنے ہوئے، کچھ کے ہاتھ میں گٹار اور کچھ کے پاس کیمرہ تھا۔ زمین پر دری بچھا دی گئی تھی، جس پر کشن ڈال دیے گئے تھے، مگر ساتھ ہی کچھ کرسیاں بھی تھیں تاکہ ٹیڈی بوائز جو زمین پر نہیں بیٹھ سکتے تھے وہ کرسیاں استعمال کر لیں۔

کریم چاچا کے کھانے کی خوشبو پورے آنگن میں پھیل چکی تھی۔ گٹار بج رہا تھا، اور کوٹھی کی چھت کے نزدیک لگی ہوئی تیز روشنیوں نے رات کودن بنا دیا تھا۔ عارف اور مریم گیٹ کے پاس ہی کھڑے ہو گئے تھے تاکہ آنے والے مہمانوں کا استقبال کر کے انہیں آگے بڑھا دیں۔ تقریباً سب مہمان آچکے تھے۔ وقار آخری مہمانوں میں سے ایک تھا۔ یہ وقار، عارف کا وہی بے تکلف دوست تھا، جس نے پچھلی بار مریم سے کہا تھا کہ اُس سے عارف کی شادی کا دن لڑکیوں کے لیے یومِ سیاہ تھا۔ وہ مریم کی طرف مسکرا کر آیا۔

”کیا بات ہے، آج تو سنڈریلا بیلجیم کی شہزادی لگ رہی ہے،“ وقار نے کہا۔
”بس اب میں بارہ بجے کے بعد بھی جوتا نہیں چھوڑتی،“ مریم نے ہنس کر کہا۔
” وقار، تُو چل ہم آنے والوں کا انتظار کر رہے ہیں،“ عارف نے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔

اسی وقت گیٹ پر ایک جوڑا داخل ہوا، ایک سنجیدہ سی خاتون، صاف ستھرا سا لباس، ماتھے پر ہلکی سی لکیریں، اور ان کے ساتھ ایک خاموش مزاج مرد۔ عارف اور مریم نے دو قدم آگے بڑھ کر ان کا استقبال کیا۔

” مریم، ان سے ملو۔ یہ ہیں ڈاکٹر رضیہ سلطانہ اور اِن کے شوہر، سلمان،“ عارف نے کہا، ”یہ دونوں کالج میں میرے ساتھ تھے۔ مجھے رضیہ سے عشق ہو گیا تھا مگر اِسے سلمان لے اُڑا۔“

”یار کچھ تو خدا کے غضب سے ڈر،“ سلمان نے مریم سے ہاتھ ملاتے ہوئے عارف سے کہا، ”نئی نئی بیوی ہے، کیا سوچے گی؟“

”آپ فکر مت کریں سلمان، میں اس شخص کو بچپن سے ہی جانتی ہوں۔ یہ ہمیشہ سے دل پھینک رہا ہے،“ مریم نے قہقہہ لگایا، ”آپ دونوں سے مل کر بڑی خوشی ہوئی۔“

” مجھے بھی تم سے مِل کر بہت خوشی ہوئی ہے، میں نے تمہارے بارے میں گلوریا آنٹی سے بہت کچھ سنا ہے، اور یہ شیطان عارف بھی تمہارا دیوانہ ہے۔“

اسی دوران، گیٹ سے اندر آتا ایک دبلا پتلا نوجوان دکھائی دیا۔ اس کے ہاتھ میں کاغذ میں لپٹا ہوا ایک گل دستہ تھا۔

”میرا نام محمود ہے،“ نو وارد نے جھک کر مریم کو گل دستہ پیش کرتے ہوئے کہا۔

”یار، میں نے تاکید کی تھی کہ کوئی تحفہ ووحفہ لانے کی ضرورت نہیں، پھر تُو یہ کیا لے آیا؟“ عارف نے گل دستے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

”یہ تحفہ نہیں ہے۔ میں پہلی بار بھابھی سے مل رہا ہوں تو خالی ہاتھ کیسے آتا؟“ محمود نے کہا۔
”مریم، یہ محمود کالج کے بعد فارمیسی میں چلا گیا تھا اور اب اس کا میڈیکل اسٹور ہے۔“ عارف نے کہا۔

”محمود، تم رہ کہاں گئے تھے؟“ رضیہ نے پوچھا، ”میں نے کلینک سے نکلتے وقت تم سے پوچھا تھا تو تم نے کہا تھا کہ تم بھی بس نکل رہے ہو۔“

”میری دکان بند کرنا آسان نہیں ہے،“ محمود نے جواب دیا، ”تم نے ڈانٹا تو ڈر کے مارے اسٹور بند کر دیا۔“

”محمود کا اسٹور رضیہ کی کلینک کے برابر ہے۔ دونوں مل کر چاروں ہاتھوں سے دولت بنا رہے ہیں،“ عارف نے مریم کو بتایا۔

”ہم لوگ آگے بھی بڑھیں گے یا رات بھر یہیں کھڑے رہیں گے؟“ سلمان نے کہا اور چل دیا۔
سلمان کے پیچھے پیچھے رضیہ اور محمود تھے اور ان کے پیچھے عارف اور مریم۔
”تمہارے دوست مجھے بہت پسند آئے،“ مریم نے عارف کی طرف دیکھ کر کہا۔

اس وقت مریم کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ اس کی زندگی کے افق پر جو طوفان منڈلانے والا ہے اُس کی باگیں رضیہ اور محمود کے ہاتھوں میں ہوں گی۔

***

مریم کی شادی کو ایک مہینہ گزر چکا تھا۔ عارف صبح ہی صبح کام پر نکل جاتا اور رات کے کھانے سے کچھ دیر پہلے ہی تھکا ہارا واپس آتا۔ کبھی کبھار وقت نکال کر دوپہر کو لنچ کرنے کے لیے آ جاتا تھا۔ مریم کا سارا دن مَوجمِّل کے ساتھ گزرتا تھا جو باورچی خانے میں لگا رہتا تھا۔ مریم اس کے پاس جانے سے کتراتی تھی کیونکہ وہ بلا کا باتونی تھا اور اُس کی باتیں بھی کچھ ایسی نہیں تھیں جن میں مریم کو کوئی دل چسپی ہوتی۔ چنانچہ اس کا معمول تھا کہ وہ سارا دن بستر پر ٹیک لگائے بیٹھی خط لکھتی رہتی تھی۔ انکل شاہد، آنٹی اور سب بہن بھائیوں کو علیحدہ علیحدہ خط لکھتی۔ انکل شاہد کے کئی کئی صفحات کے خطوط آتے جن میں اس کے لیے اپنے شوہر اور سسرال سے محبت کرنے کی ہدایات ہوتیں۔ خطوط لکھنے کے علاوہ کوئی کام نہیں تھا۔

مریم ایسے گھر میں پلی بڑھی تھی جس میں بچوں کی ریل پیل تھی اور آنے جانے والوں کا تانتا بندھا رہتا تھا۔ اسے اکثر تنہائی کی تلاش ہوتی تھی اور وہ کتاب لے کر اپنے کمرے میں دروازہ بند کر کے لیٹ جاتی تھی۔ مگر یہاں تنہائی سی تنہائی تھی! وہ اس تنہائی سے بیزار ہو کر کمروں میں جھانکتی پھرتی، برآمدے میں ٹہلتی اور صحن میں جُھک جُھک کر پھولوں کو سونگھتی۔ وہ گھر جس میں اس کی نئی زندگی کا آغاز ہوا تھا، خوبصورت ضرور تھا مگر اُس میں نہ بچوں کا شور تھا اور نہ ان کے لڑائی جھگڑے، نہ اُس کا صلح صفائی کرانا تھا، اور نہ باورچی خانے سے بچوں کو تائی کی ڈانٹیں۔ کچھ بھی تو نہ تھا۔ بس خاموشی تھی جو دیواروں سے ٹپکتی رہتی تھی۔ اسے احساس ہوا کہ اُس کی ساس بھی اتنی ہی تنہا تھیں جتنی وہ خود تھی۔ فرق صرف اتنا تھا کہ انہوں نے اس تنہائی کو خاموشی سے قبول کر لیا تھا، جب کہ وہ ابھی اس سے لڑ رہی تھی۔ اُن کی خاموشی نے ان کی زندگی کو پرسکون تو بنا دیا تھا، مگر اس سکون کی تہہ میں اداسی کی آمیزش تھی۔

گلوریا اکثر صبح ہی صبح مریم کو فون کر دیتیں اور ڈرائیور کو بھیج کر اسے بلا لیتیں۔ وہ اکثر سوچتی کہ کیسے ایک عورت اپنے جسم پر مگرمچھ کی کھال پہن کر اپنے آپ ہی میں جی لیتی ہے۔ جب بھی وہ دونوں ساتھ ہوتیں، گلوریا کی بے جان مسکراہٹ کہتی تھی کہ ”سب ٹھیک ہے“ ، مگر اس کے پیچھے چھپی سسکیاں صاف سنائی دیتی تھیں۔ ایک دن مریم نے ہمت کر کے پوچھ ہی لیا، ”آنٹی، آپ کا دل نہیں گھبراتا اتنی خاموشی میں؟“

گلوریا نے چونک کر اسے دیکھا۔ ان کی آنکھوں میں ایک لمحے کو اُداسی سی ابھری مگر وہ فوراً مسکرا دیں۔
”گھبراتا تو ہے، بیٹی، مگر اب عادت ہو گئی ہے۔ انسان ہر چیز کا عادی ہو جاتا ہے۔“

مریم نے سر جھکا لیا۔ اس کا دل چاہا کہ زور سے چیخے، ”مجھے عادت نہیں ڈالنی! مجھے یہ خاموشی نہیں چاہیے! “ مگر وہ جانتی تھی، اس کے اختیار میں کچھ نہ تھا۔

گلوریا اور مریم کی تنہائی ایک جیسی تھی، مگر اس کا رنگ مختلف تھا۔ گلوریا کی تنہائی میں صبر کی سفیدی تھی، جب کہ مریم کی تنہائی میں اضطراب کی سیاہی۔ گلوریا نے اپنی تنہائی کو خاموشی سے قبول کر لیا تھا جب کہ مریم کی تنہائی نے بے چینی کا رخ اختیار کیا تھا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ جب وہ دونوں ایک ساتھ ہوتیں تو کچھ دیر کے لیے گلوریا اپنی خاموشی کی دیواروں کو گرا دیتی۔ اُسے مریم کی جوانی اور معصومیت میں اپنی پرانی مسکراہٹ نظر آتی۔

ایک دوپہر جب دونوں چٹاگانگ کے ہل ٹریک کی بلندیوں پر بیٹھی نیچے شہر کو دیکھ رہی تھیں، گلوریا نے آہستہ سے کہا، ”بیٹی، اپنی خوشی کو دوسروں کی خوشی کے تابع مت کرو۔ خوشی تمہارے اندر ہونی چاہیے۔ انسان کے پاس اگر اپنی ذات کی خوشی نہ ہو تو سب کچھ ہونے کے باوجود دل خالی رہتا ہے۔“
مریم نے خاموشی سے ان کا ہاتھ تھام لیا۔

Facebook Comments HS