پرانی یادیں: ایڈورڈز کالج میں گزارے سال


جب میں نے اپنا ہائی اسکول مکمل کیا تو اگلا مرحلہ کالج میں ایف ایس سی میں داخلہ لینا تھا۔ یہ فیصلہ کرنا تھا کہ کس کالج میں داخلہ لیا جائے۔ اس وقت پشاور میں تین بڑے کالج تھے : اسلامیہ کالج جو یونیورسٹی آف پشاور کیمپس میں واقع تھا، گورنمنٹ کالج ابھی نیا بنا تھا اور اس کی اس وقت کوئی خاص شہرت نہیں تھی اور ایڈورڈز کالج جس کو صوبے کا بہترین کالج سمجھا جاتا تھا اور زیادہ تر طلبا کی اولین پسند ہوتا تھا۔ اس طور ایڈورڈز کالج ایک فطری انتخاب تھا۔ یہ ہمارے گھر سے بھی زیادہ دور نہیں تھا۔ میں نے ایڈورڈز کالج میں چار سال گزارے۔ اگرچہ دوسرے تعلیمی اداروں کی نسبت ان سالوں کی گہری یادیں تو محفوظ نہیں لیکن یہ قیام میری مستقبل کی زندگی پر کئی لحاظ سے اثر انداز ہوا۔

ایڈورڈ کالج خیبر پختون خوا کا سب سے پرانا کالج ہے۔ اس کی ابتدا چرچ مشن سوسائٹی کے زیر اہتمام 1855 میں ایڈورڈز ہائی اسکول کے طور پر ہوئی جو اس وقت صوبے کا واحد مغربی تعلیمی ادارہ تھا۔ اس کا نام سر ہربرٹ ایڈورڈز کے نام پر رکھا گیا۔ ہربرٹ ایڈورڈز برٹش کمانڈر تھے جنہیں سکھوں کے ساتھ جنگ میں کلیدی کردار ادا کرنے کی بنیاد پر ہیرو آف ملتان کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ 1900 میں اس اسکول کو کالج کا درجہ دے دیا گیا۔

ایڈورڈز کالج میں پہلے دو سال ایف ایس سی کرتے ہوئے اور باقی دو سال بی ایس سی کرتے گزرے۔ ان دونوں ادوار کی نوعیت میرے لیے بہت مختلف تھی۔

اس وقت کے پاکستانی نظام تعلیم میں سائنس کے طلبا کے لیے ایف ایس سی کے دو سال تعلیمی دور کے اہم ترین سال شمار کیے جاتے تھے۔ روایت یہ تھی کہ ایف ایس سی میں امتیازی نمبر انجینئرنگ اور میڈیکل کالجوں میں داخلوں کی ضمانت تھے۔ اور ایف ایس سی میں سائنس کے ہر طالب علم کی خواہش ڈاکٹر یا انجینئر بننا ہوتا تھا۔ میرے سامنے ایسی کوئی مثال موجود نہیں تھی کہ کسی کو میڈیکل یا انجینئرنگ کالج میں داخلہ ملے اور وہ اس کو ٹھکرا کر بی ایس سی میں داخلہ لے۔

کالج میں داخلے کے وقت تک میں فیصلہ کر چکا تھا کہ انجینئر بننا میری منزل نہیں، میں ایک سائنسدان بننا چاہتا تھا۔ میں فزکس میں پی ایچ ڈی کرنا چاہتا تھا اور یونیورسٹی پروفیسر بننا چاہتا تھا۔ یہ میری زندگی میں کیے گئے چند غیر روایتی فیصلوں میں سب سے پہلا اور شاید سب سے مشکل فیصلہ تھا۔ اس زمانے میں جب یہ روایت عام تھی کہ ایف ایس سی کے بعد زیادہ نمبر حاصل کر نے والے طلبہ یا تو میڈیکل کالج میں ڈاکٹر بننے کے لیے داخل ہو جاتے تھے یا پھر انجنئیرنگ کالج میں چلے جاتے تھے، ایسے میں فزکس میں گریجویشن، ماسٹرز اور پھر پی ایچ ڈی کر کے پروفیسری کا خواب ایک انتہائی غیر روایتی قدم تھا۔ خاص کر متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے بچے کے لیے۔

اس وقت کے معاشرے میں بہت کم لوگ یہ بات سمجھتے تھے کہ طبیعات دان کون ہوتا ہے۔ اگرچہ آئن سٹائن جیسے لوگ سائنس دان اور طبیعات دان کے طور پر جانے جاتے تھے۔ مگر کوئی ان کو اپنا کیریئر بنانے کے لیے رول ماڈل نہیں سمجھتا تھا۔ اس زمانے میں ایک نئی طرح ڈالنا اور اپنے آپ کو ایک طبیعات دان کے طور پر منوانا، جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ آپ چار سالہ انجنئیرنگ یا پانچ سالہ میڈیکل پاس کر کے انجنئیر یا ڈاکٹر تو بن سکتے تھے۔ مگر ایک طبیعات دان یا سائنس دان بننے کے لیے پی ایچ ڈی درکار تھی۔ پاکستان میں اس وقت تک فزکس میں کوئی پی ایچ ڈی پروگرام موجود نہیں تھا۔ لہذا یہ بات بالکل واضح تھی کہ اپنا مقصد پانے کے لئے اور اپنے فیصلے پر عمل درآمد کرنے کے لئے مجھے کم عمری میں ہی پاکستان چھوڑنا ہو گا۔ اور پاکستان میں فزکس میں گریجویشن کے بعد پی ایچ ڈی کی ڈگری کے حصول کے لیے بیرون ملک جانا ہو گا۔

اس وقت پی ایچ ڈی کے لئے سکالرشپ حاصل کرنے کے مواقع نہ ہونے کے برابر تھے۔ لیکن یہ بات مجھ پر واضح تھی کہ فرسٹ ڈویژن لے کر انجینئرنگ یا میڈیکل کالج میں داخلہ لینا تو ممکن تھا لیکن پی ایچ ڈی کے لئے کسی اسکالرشپ کا امکان تب ہی ہو سکتا تھا جب میری کارکردگی اعلی ترین ہو۔

اس طور میرے اوپر ایک اچھی پرفارمنس کے لئے شدید دباؤ تھا اور مجھے اس لحاظ سے اپنے مضامین کا انتخاب بھی کرنا تھا۔

ایڈورڈز کالج میں ایف ایس سی کے دوران آٹھ سیکشن تھے، چار سوشل سائنسز کے لئے اور چار نیچرل سائنسز کے لئے۔ ای سیکشن پری انجینئرنگ اور پری میڈیکل کے ان طلبا کے لئے مخصوص تھا جو سکالر شپ ہولڈرز تھے۔ میری اس کلاس میں جتنے طلبا تھے، وہ انتہائی قابل تھے۔ میں نے اپنی پوری تعلیمی زندگی میں ایک کلاس میں اتنے قابل طلبا نہیں دیکھے۔ اس کلاس کے آدھے طلبا میڈیکل کالج اور باقی آدھے طلبا انجینئرنگ کالج میں چلے گئے۔ یہ سب اپنی مستقبل کی زندگی میں انتہائی کامیاب رہے۔ میں نے کالج میں اول اور بورڈ میں تیسری پوزیشن حاصل کی تھی، لیکن میں واحد طالب علم تھا جس نے جداگانہ راہ اختیار کرتے ہوئے بی ایس سی میں داخلہ لیا۔

ایف ایس سی میں ہر طالب علم کو پورے دو سال تک پانچ کورسز پڑھنے ہوتے تھے۔ انگریزی اور اردو سب کے لیے لازمی مضامین تھے۔ سائنس کے تمام طلبا کو فزکس اور کیمسٹری کے کورسز لینے ہوتے تھے۔ انجینئرنگ میں جانے کا انتخاب کرنے والے طلبا کو ریاضی کا اور میڈیکل کالج جانے کے خواہشمندوں کے لیے بائیولوجی کا کورس لازمی تھا۔ میں نے پری انجینئرنگ کورسز کا انتخاب کیا تھا۔ میرے ذہن میں تھا کہ فزکس میں اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لیے ریاضی کا ماہر ہونا ضروری ہے۔

اس وقت تو مجھے احساس نہیں تھا لیکن یہ نظام، تعلیم میں بہت تشنگی چھوڑ جا تا ہے۔ اس نظام میں اس بات کی گنجائش نہیں کہ کوئی طالب علم ایسے مضامین پڑھ سکے جس میں اس کی دلچسپی تو ہو لیکن ان کا اس کے منتخب شدہ مضامین سے تعلق نہ ہو۔ مثال کے طور پر اس نظام میں پڑھتے ہوئے ایک پری انجینئرنگ کے طالب علم کے لیے یہ موقع بالکل نہیں کہ وہ ریاضی کے ساتھ بائیولوجی بھی پڑھ سکے۔ اسی طرح ایک پری میڈیکل طالب علم کے سلیبس میں ریاضی کا دخل نہیں۔ جب فزکس میں ریسرچ کرتے ہوئے مجھے بائیولوجی کے کچھ تصورات کی ضرورت محسوس ہوئی تو احساس ہوا کہ مجھے پورے تعلیمی کیریر میں کبھی بھی بائیولوجی کا کورس لینے کا اتفاق نہیں ہوا اور مجھے نئے سرے سے ان تصورات کو پڑھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح پری انجینئرنگ یا پری میڈیکل طالب علم کے لیے تاریخ، فلسفہ یا اکنامکس پڑھنے کا کوئی موقع نہیں۔ اس نظام تعلیم میں اس بات کی بھی گنجائش نہیں کہ اگر ایک سال تک کوئی مضامین پڑھنے کے بعد یہ احساس ہو کہ اس کی دلچسپی تو ان مضامین میں نہیں بلکہ کسی دوسرے مضمون میں ہے تو وقت ضائع کیے بغیر اور کالج میں دوبارہ داخلہ لیے بغیر وہ نئے مضمون میں تعلیم جاری رکھ سکے۔

لیکن صورت حال اس سیمسٹر سسٹم میں بہت مختلف ہے جو مثال کے طور پر امریکہ میں رائج ہے۔ میرے خیال میں یہ کوئی اتفاق نہیں کہ امریکہ تعلیمی میدان میں دنیا میں سب سے آگے تصور کیا جاتا ہے۔ موجودہ دور میں ٹیکنالوجی کے میدان میں امریکہ کی برتری میں اس کے تعلیمی نظام کا بہت بڑا حصہ ہے۔ یہاں میں اس تعلیمی نظام کو مختصر طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔

امریکی نظام میں ہائی سکول تک بارہ سال کی تعلیم ہوتی ہے۔ اس طور ہائی سکول پاکستان میں ایف ایس سی کے مساوی ہوتا ہے۔ ہائی سکول مکمل کرنے کے بعد یونیورسٹی میں داخلہ لیا جاتا ہے۔ جہاں چار سال کی تعلیم کے بعد بی ایس کی ڈگری ملتی ہے۔ اس طرح امریکہ کی بی ایس کی ڈگری پاکستان میں ایم ایس سی کی ڈگری کے مساوی ہے۔ اب تو پاکستان میں بھی ایم ایس سی کی بجائے امریکہ کی طرح ایف ایس سی کے بعد چار سال کی بی ایس سی کی ڈگری دینا شروع کر دی گئی ہے۔ اس طور یوں لگتا ہے کہ امریکی سسٹم رائج کر دیا ہے۔ امریکہ کی طرح سال میں دو سیمسٹر ہوتے ہیں۔ اس طور بی ایس کے چار سالوں میں آٹھ سیمسٹر ہوتے ہیں۔

لیکن ایک بہت بنیادی اور اہم فرق ہے۔ امریکی سسٹم میں اس بات کی کھلی گنجائش ہوتی ہے کہ طالب علم ان چار سالوں کے دوران کسی وقت، یہاں تک کہ آخری سیمسٹر میں، اپنا مضمون تبدیل کر سکتا ہے۔

ہر سیمسٹر میں عموماً پانچ کورسز لیے جاتے ہیں۔ اس طور کل چالیس کورسز بنتے ہیں۔ کسی بھی مضمون میں گریجوئیٹ کرنے کے لیے کچھ مخصوص کورسز ضروری ہوتے ہیں اور تقریباً دس یا اس سے زیادہ کورسز ایسے ہوتے ہیں جو طالب علم کی صوابدید پر ہوتے ہیں۔ اب اگر کسی موقعے پر ایک انجینئرنگ کے طالب علم کو احساس ہوتا ہے کہ اس کی انجینئرنگ میں دلچسپی نہیں۔ وہ تو اکنامکس میں دلچسپی رکھتا ہے۔ اس صورت میں اس کے لیے ممکن ہوتا ہے کہ وہ آنے والے سمیسٹرز میں اپنے کورسز کا انتخاب اس طرح کرے کہ کم سے کم وقت ضائع کیے بغیر اکنامکس میں ڈگری حاصل کر سکے۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ امریکی نظام میں تقریباً تمام طلبا اس مضمون میں گریجوئیٹ کرتے ہیں جس میں ان کی دلچسپی ہوتی ہے۔

ایک اور اہم فائدہ یہ کہ اس نظام میں اس بات کی خوب گنجائش ہے کہ ایسے مضامین کا انتخاب کیا جا سکے جن کا تعلق محض دلچسپی سے ہو۔ مثال کے طور پر یہ ممکن ہے کہ اکنامکس یا فزکس کا طالب علم فلسفہ یا تاریخ، یہاں تک کہ میوزک کا کورس پڑھ سکے۔

میرے خیال میں پاکستانی تعلیمی نظام میں ندرت اور تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے ضروری ہے کہ طلبا اور طالبات کو بھی ہر سٹیج پر اپنی پسند کے تعلیمی مواقع میسر ہوں۔

میرے تعلیمی دور میں ایڈورڈز کالج کی سب سے بڑی پہچان اس کے پرنسپل، فل ایڈمنڈز، تھے۔ ان کا تعلق برطانیہ سے تھا اور وہ 1955 سے 1978 تک ایڈورڈز کالج کے پرنسپل رہے۔ میں جس دور میں ایڈورڈز کالج کا طالب علم تھا، وہ دور ملک میں سیاسی طور پر عدم استحکام کا دور تھا۔ حکومت کے خلاف مظاہروں کے خوف سے یونیورسٹیوں کا مہینوں بند ہونا عام سی بات تھی۔

مجھے فل ایڈمنڈز کے یہ الفاظ یاد آتے ہیں کہ یا تو قانون کی پیروی کرو یا قانون کو تبدیل کر دو۔ ان کے مطابق اس بات کی گنجائش نہیں تھی کہ قانون کی خلاف ورزی کی جائے۔ میں نے اپنی پوری زندگی میں اس اصول کی پابندی کرنے کی پوری کوشش کی۔

بی ایس سی کے سال میرے لئے بہت تنہائی کے سال تھے۔ میری منزل اپنے کلاس فیلوز سے بہت مختلف تھی۔ اس طور میرے کوئی دوست نہیں تھے۔ مجھے تو بی ایس سی، ایم ایس سی اور پھر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنی تھی۔ جبکہ میرے کلاس فیلوز ابھی بھی امید کرتے تھے کہ بی ایس سی کی بنیاد پر وہ شاید انجینئرنگ اور میڈیکل کالج میں داخلہ حاصل کر سکیں۔ ان سالوں کے دوران میرا اپنے کلاس فیلوز سے کوئی خاص تعلق نہیں تھا۔ جیسے ہی کلاسز ختم ہوتیں، میں گھر چلا جاتا۔

ایک واقعہ میری خصوصی نوعیت اور تنہائی کی غمازی کرتا ہے۔

جس زمانے میں، میں بی ایس سی میں داخل ہوا، اس زمانے میں حکومت کالجوں کے لئے نظرِ ثانی شُدہ نصاب نافذ کر رہی تھی۔ ریاضی کے دو کورسز تھے۔ دوسرے کورس میں نمبر تھیوری اور ٹوپولوجی کے مضامین شامل کیے گئے تھے۔ یہ مضامین اس سے پہلے بی ایس سی کے کورس میں کبھی شامل نہیں رہے تھے اور کالج کے اساتذہ کے لئے یہ نئے مضامین تھے۔ کلاس کے تمام طلبا نے ریاضی کے اس کورس کی بجائے دوسرے روایتی کورسز کا انتخاب کیا۔ یہ سوچتے ہوئے کہ فزکس کی تحقیق میں ریاضی کا اہم رول ہے، میں نے نمبر تھیوری اور ٹوپولوجی کے اس کورس کو لینے کا فیصلہ کیا۔

اب ایک انوکھی صورت حال کا سامنا تھا۔ محض ایک طالب علم کے لیے ایک پوری کلاس کا انتظام کیا جائے۔ شروع میں مجھے قائل کرنے کی کوشش کی گئی کہ میں بھی کسی اور کورس کا انتخاب کر لوں، لیکن میں نے انکار کر دیا۔ یہ دیکھتے ہوئے کالج کے پرنسپل فل ایڈمنڈز نے مجھے اس تنبیہ کے ساتھ یہ کورس لینے کی اجازت دے دی کہ مجھے یہ کورس اپنے بل بوتے پر پاس کرنا ہو گا اور یہ کہ میں کالج کے کسی استاد کی طرف سے کسی قسم کی رہنمائی کی امید نہ رکھوں۔ اس کا مطلب تھا کہ مجھے وہ کورس خود پڑھ کر پاس کرنا تھا جس کے لئے انتھک محنت کی ضرورت تھی۔ ایڈورڈز کالج جیسے مشہور کالج کی تاریخ میں شاید یہ واحد موقع تھا جب کسی طالب علم کو اکیلے ایسا کورس لینے کی اجازت دی گئی تھی جس کو پڑھانے کے لئے اس وقت کوئی فیکلٹی ممبر تیار نہیں تھا۔

یہ میرے لئے بہت دباؤ کے سال بھی تھے۔ ہر شخص کو مجھ سے پوری امید تھی کہ میں پورے صوبے میں اول پوزیشن حاصل کروں گا۔ صورت حال ایسی تھی کہ سیکنڈ پوزیشن میرے لئے فیل ہونے کے مساوی ناکامی تصور کی جاتی۔

جب جولائی 1971 میں بی ایس سی کا رزلٹ آیا تو میں نے نہ صرف ٹاپ کیا تھا بلکہ 87 فیصد نمبر حاصل کیے تھے جو اس وقت، اور اس کے کئی سالوں بعد تک، کسی طالب علم نے حاصل نہیں کیے تھے۔ ایک اور ریکارڈ جو تقریباً 70 سال گزرنے کے بعد شاید اب تک قائم ہو، وہ یہ کہ میرے اور دوسری پوزیشن حاصل کرنے والی طالبہ کے درمیان 14 فیصد نمبروں کا فرق تھا۔ عموماً تو پہلی دو پوزیشن حاصل کرنے والے طلبا کے درمیان صرف چند نمبروں کا فرق ہوتا ہے۔

یہ میرے لئے خوشی سے زیادہ اطمینان کا موقع تھا کہ میں اپنے والدین، اساتذہ، دوستوں اور سب سے بڑھ کر اپنی توقعات پر پورا اترا تھا۔

یہ میرے اس خواب کی تکمیل کی طرف پہلا قدم تھا جس میں میں نے انجینئرنگ جیسے محفوظ راستے کو چھوڑ کر ایک رسک سے بھرپور سائنسدان بننے کا راستہ چنا تھا۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر سہیل زبیری

ڈاکٹر سہیل زبیری ٹیکساس یونیورسٹی میں کوانٹم سائنس  کے Distinguished Professor ہیں اور اس ادارے میں کوانٹم آپٹکس کے شعبہ میں Munnerlyn-Heep Chair پر فائز ہیں۔

suhail-zubairy has 93 posts and counting.See all posts by suhail-zubairy

One thought on “پرانی یادیں: ایڈورڈز کالج میں گزارے سال

  • 15/07/2025 at 12:59 شام
    Permalink

    Too good Sir.
    Even in those days, those who failed to get admission in Med or Engg on FSc results, can join BSc and there were separate quota of seats in Engg and Medicine for BSc students as well
    It was common in those days to read
    BSc, MBBS, RMP
    on the signboards under the name of Physician who run the clinic

Comments are closed.