شاید تیرے کانوں تک پیغامِ عمل جائے
تمام ٹی وی چینلز پہ ایک لفظ کی تکرار ہے۔ پینتیس ( 35 ) برس کا صحافی بھی سینئر صحافی ہے جس نے پچیس برس کی عمر میں صحافت شروع کی ہو گی گویا دس سال کا تجربہ اور سینئر صحافی، اور پینسٹھ ( 65 ) برس کا بھی سینئر صحافی ہے جسے صحافت کی خاک چھانتے ہوئے چالیس برس گزر چکے، وہ بھی ’سینئر‘ صحافی ہے۔ تیس ( 30 ) سالہ شاعر سینئر شاعر ہے اور ساٹھ ( 60 ) سال کا شاعر بھی سینئر شاعر ہے۔ غربت کا یہ عالم ہے کہ صحافت ہو یا اہلِ علم و زبان، دونوں انگریزی کے لفظ ’سینئر‘ سے گزارہ کر رہے ہیں گویا اردو زبان میں ’سینئر‘ کا متبادل ہے ہی نہیں ؛
جو سختیِ منزل کو سامانِ سفر سمجھے
اے وائے تن آسانی! ناپید ہے وہ راہی
جب ہم نے لفظ سینئر کو جاننے سمجھنے کے لئے لُغات، قاموس مترادفات اور فرہنگِ اصطلاحات جامعہ عثمانیہ کی ورق گردانی کی تو دلی اطمینان ہوا کہ اردو اتنی بھی غریب زبان نہیں ہے۔ یہ سچ ہے کہ نئی نئی ایجادات، اصطلاحات، اختراعات کے حوالے سے اردو کا دامن زیادہ وسیع نہیں ہے، ادارۂ فروغ قومی زبان جیسا کہ نام سے ظاہر ہے یہ ادارہ اردو کو بطور قومی زبان کے فروغ دینے اور ترویج و اشاعت کے لئے کام کرتا ہے۔ ادارہ لغت بورڈ اس کا کام اردو کی ایک جامع لُغت ترتیب دینا ہے۔ اس کے علاوہ اکادمی ادبیات پاکستان ، اردو سائنس بورڈ، مجلس وضع اصطلاحات، ادارہ تالیف و ترجمہ جامع پنجاب اور بھی کئی ادارے ہیں جو اردو زبان کی ترقی و ترویج کے لئے کام کر رہے ہیں۔ ایک طرف یہ ادارے اپنا اپنا کام سر انجام دے رہے ہیں دوسری طرف اشرافیہ اپنا کام تندہی سے کر رہی ہے۔ پارلیمنٹ اور بیوروکریسی کا کوئی بھی کام قانون و پالیسی سازی، مجال ہے قومی زبان میں ہو۔ دراصل اشرافیہ اپنے اور عوام کے مابین ایک فاصلہ رکھ رہی ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ ’حکمران اور رعایا‘ کا فرق جو گورے نے بنایا تھا وہ بر قرار رہے۔ اسی کا شاخسانہ ہے کہ پنجابی اردو بولتا ہے۔ اب خصوصاً شہروں میں لوگ اردو بولنے سے بھی گریز کرتے ہیں۔ جنہیں انگریزی نہیں آتی وہ بھی ٹوٹی پھوٹی انگریزی بولتے ہیں کہ انہوں نے اپنے تئیں حکمرانوں سے رشتہ جوڑ لیا ہے۔ مصافحہ تو اب جہالت کے دور کی بات ہو گیا اب تو ہم ’شیک ہینڈ‘ کرتے ہیں۔ بچوں کو کھانا ختم کرنا نہیں کہتے ’فنش‘ کرنا کہتے ہیں۔ الغرض اپنی زبان سے شرمندہ، اپنے لباس سے شرمندہ، اپنی تہذیب اور کلچر سے شرمندہ، ہم قوم کب ہیں قومیں تو اپنی تاریخ، اپنی زبان، اپنی تہذیب و ثقافت پہ فخر کرتی ہیں، شرمسار نہیں ہوتیں۔
بات لفظ سینئر کی ہو رہی تھی قاموس مترادفات میں ’سینئر‘ کے لئے بڑا، فائق، برتر، مقدم، متقدم، بزرگ اور فرہنگِ اصطلاحات جامعہ عثمانیہ میں اکبر (فلسفہ میں ) ۔ قدیم الخدمت (پبلک ایڈ منسٹریشن، نظمِ عامہ کے لئے ) اور لغت میں طویل عرصے تک خدمات سر انجام دینے والا، عمر میں بڑا، تجربہ کار لکھا ہے۔ ایک لفظ سینئر کے متبادل کم سے کم دس الفاظ ہیں یہ ذخیرہ یقیناً کم ہے کہ میں محقق ہوں اور نہ میرے پاس کتابیں ہیں۔ تاہم یہ تو واضح ہوا کہ ذرا سی کوشش سے ہمارے متعلقہ ادارے اور عالم فاضل لوگ نہ صرف سینئر کا اردو متبادل تراش سکتے ہیں بلکہ بہت سے نئے لفظوں اور اصطلاحات سے اردو کو مالا مال کر سکتے ہیں ؛ ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
مصطفیٰ کمال اتاترک کی قیادت میں ترکی نے رومن رسم الخط اپنا کر اپنی اگلی نسلوں کو اپنی تاریخ سے محروم کر دیا تھا۔ کتابوں کے ذخائر تو موجود تھے مگر اہلِ ترکی انہیں پڑھنے کے قابل نہ تھے کیونکہ انہیں اپنی قومی زبان کے حروفِ تہجی معلوم نہ تھے۔ وہ اپنی قومی زبان کو بھی رومن انگلش میں لکھتے تھے جیسے آج ہم وہی حرکت دانستہ یا انجانے میں کر رہے ہیں۔ آج وطنِ عزیز کی حالت بھی کچھ ایسی ہی نظر آتی ہے۔ رومن اردو میں لکھنے کا چسکا موبائل فون کے استعمال سے عام ہوا ہے چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ سوشل میڈیا کی تمام تر بات چیت رومن اردو میں ہو رہی ہے۔ ٹی وی اور اخبارات میں اشتہارات کی عمومی زبان رومن اردو ہے۔ موبائل پر انٹرنیٹ، فیس بک، وٹس ایپ، انسٹا گرام اور ایکس وغیرہ کی زبان رومن اردو ہی ہے۔ جاپان اور چین انٹرنیٹ پر بھی اپنی زبان استعمال کرنے پر بضد ہیں حالانکہ ان کی زبانیں دنیا کی مشکل ترین زبانوں میں سمجھی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں اسکولوں میں وہ مضامین بھی انگلش میں پڑھائے جاتے ہیں جو کبھی اردو میں پڑھائے جاتے تھے۔ سائنس، اسلامیات، معلوماتِ عامہ وغیرہ جیسے مضامین اردو میں ہی پڑھائے جاتے تھے، چنانچہ آج ہمارے بچے اردو کے حروفِ تہجی سے تقریباً نا واقف ہیں۔ انگلش اسکولوں میں پڑھنے والے بچوں کے لیے اردو پڑھنا مشکل ہے۔ اردو زبان کے کلاسیکل شعراء اور ادباء کا ذکر ہی کیا ہمارے بچے تو اپنے عہد کے شاعروں ادیبوں اور دانشوروں سے بھی واقف نہیں ہیں۔ یہ صورتِ حال پریشان کن ہے۔
ستم یہ ہے کہ پڑھے لکھے لوگ بھی اس فریب کا شکار ہیں۔ جانے انجانے میں ہم سب اس ستم کا شکار ہیں۔ ہم اس زہر کو قند سمجھے ہوئے ہیں۔ اس تن آسانی کے ہولناک انجام سے بے خبر شترِ بے مہار کی مانند چلے جا رہے ہیں۔ ہم سب دیکھ رہے ہیں کہ ٹی وی کی سکرین پر غلط اردو لکھی ہوتی ہے۔ گفتگو کے دوران، حتیٰ کہ خبریں پڑھتے ہوئے بھی غلط الفاظ ادا ہوتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں اصلاح کیسے ہو؟ کون کرے؟ علمِ زبان کے ماہرین! ماہرینِ تعلیم! قلم کے دھنی، ادیب و شعرائے کرام، دانشور! کہ یہ خالصتاً علمی مسئلہ ہے۔ سماجی مسئلہ ہوتا تو ہم سیاستدانوں اور سول سوسائٹی سے کہتے اے قوم کا غم کھانے والو! اک نظر ادھر بھی۔
”Alone we can do so little; together we can do so much.“ (Helen Keller)
گویا یہ کام صرف دانشوروں کو ہی سرانجام نہیں دینا معاشرے کے دیگر لوگوں کو بھی اپنا رول ادا کرنا ہو گا۔ معاشرہ اگر زندہ ہے تو اسے خود اپنے حقوق حاصل کرنا ہوں گے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں، سول سوسائٹی، ادبی تنظیموں وغیرہ کا کام ہے کہ وہ ایسے حل طلب مسائل کے لئے آواز بلند کریں۔ اس کے بعد دانشوروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان مسائل کے حل پیش کریں۔ اس طرح مل جُل کے معاشرے کی بہتری و فلاح ممکن ہے۔ محض سیاستدانوں اور اشرافیہ پہ تنقید کسی بھی مسئلے کو عوام الناس کی خواہشات اور ضرورتوں کے مطابق حل نہیں کر سکتی۔


