علم کی لاش پر کھڑا تاج محل


کہا جاتا ہے کہ ایک زمانے میں دنیا کے نقشے پر ایک ریاست تھی، جس کا نام تھا الکمونیا۔ یہ وہ سرزمین تھی جہاں صبح کی اذان اور اسکول کی گھنٹی ایک ساتھ گونجا کرتی تھی۔ جہاں استاد کو مسیحا سمجھا جاتا تھا اور طالب علم کو مستقبل کی روشنی۔ الکمونیا میں کتاب محض علم کا ذریعہ نہ تھی بلکہ ایک روحانی رشتہ تھی قوم اور شعور کے درمیان۔ لیکن یہ سب ماضی کی بات ہے۔

وقت بدلا نہیں، موڑا گیا۔ الکمونیا کے حکمران بدلے نہیں، صرف ان کی نیتیں بدل گئیں۔ انہوں نے تعلیم اور صحت جیسے شعبوں کو آہستہ آہستہ غیر ضروری خرچ قرار دینا شروع کیا۔ ریاست کے مالی فیصلے اکاؤنٹنٹس اور بیرونی مشیروں کے ہاتھوں میں چلے گئے، جو صرف منافع دیکھتے تھے۔ انسان اور ادارے صرف پیداواری یونٹ رہ گئے۔ علم اب ایک بیکار سرمایہ بن چکا تھا۔

پہلے اسکولوں کا بجٹ کم کیا گیا، پھر کالجوں کے فنڈز کاٹے گئے، اور بالآخر یونیورسٹیوں کو خود مختار قرار دے کر تنہا چھوڑ دیا گیا۔ ریاست نے ایک ایک کر کے تعلیمی ادارے بیچنا شروع کیے۔ وہ ادارے جو کبھی قوم کی نرسری ہوا کرتے تھے، اب طاقتور مگر نالائق سرمایہ داروں کے ہاتھوں کاروبار بن چکے تھے۔ وہ لوگ جو تعلیم کو نہ سمجھتے تھے، نہ مانتے تھے، مگر چونکہ ان کے پاس پیسہ، طاقت اور تعلقات تھے، انہیں یونیورسٹیاں بیچ دی گئیں۔

الکمونیا میں تعلیم ایک دکان بن گئی۔ اسکول سے یونیورسٹی تک ہر شے کی قیمت طے تھی۔ جیب میں پیسہ ہو تو ڈگری حاضر تھی۔ اساتذہ یا تو کم تنخواہ پر ذلیل ہوتے رہے، یا سسٹم سے باہر دھکیل دیے گئے۔ جنہوں نے سوال کیا، وہ معطل ہوئے۔ جنہوں نے آواز اٹھائی، ان پر انکوائریاں کھول دی گئیں۔ اساتذہ کے الاؤنسز ختم کیے گئے، تنخواہیں منجمد کر دی گئیں، اور ان کی تذلیل ریاستی پالیسی بن گئی۔

اسی دوران، صحت کا شعبہ بھی تباہ ہو چکا تھا۔ اسپتالوں کی چھتیں ٹپکنے لگیں، دوائیں بازار سے غائب ہو گئیں، اور ڈاکٹروں کو اخراجات سمجھا جانے لگا۔ اور الکمونیا جو کبھی اپنے شہریوں کو تعلیم اور صحت بطور بنیادی حق دیتا تھا اب انہی کو بوجھ سمجھ کر چھوڑ چکا تھا۔

ایک دن، الکمونیا کے ایک غریب علاقے میں رہنے والا نوجوان، دانش، اپنے پھٹے جوتوں اور کمزور جسم کے ساتھ روز کالج جاتا رہا۔ اس کے والد نے ایک دن کہا، ”بیٹا، پڑھ کر کیا کرے گا؟ نوکریاں رشوت سے ملتی ہیں۔ استاد بنو گے تو ذلت الگ، اور اگر سوال کرو گے تو غدار کہلاؤ گے۔“ دانش نے آہستہ سے جواب دیا، ”ابا، شاید علم پیٹ نہ بھرے، مگر قوم کی ریڑھ سیدھی کرتا ہے۔ اگر ہم نہ سیکھے، نہ سمجھے تو ہم صرف بھیڑ رہ جائیں گے۔“

مگر دانش کا خواب بھی ریاستی پالیسی کے بوٹ تلے آ کر کچلا گیا۔ آئی ایم ایف نے قرض کی اگلی قسط دینے سے پہلے شرط رکھی کہ تعلیم پر سبسڈی ختم کرو، اور حکومت نے فوری طور پر تمام سرکاری کالج بند کرنے کا اعلان کر دیا۔ وہ دن بھی آیا جب الکمونیا نے اپنا آخری اسکول ایک رئیل اسٹیٹ ٹائیکون کو بیچ دیا۔ ایک ایسا شخص جس کا بیٹا تیسری جماعت بھی مکمل نہ کر سکا تھا۔ اب وہاں اسکول نہیں، ایک شادی ہال تعمیر ہو رہا تھا۔

دانش نے ایک مظاہرے میں سوال کیا: ”میرا علم کہاں ہے؟ میری کتاب کہاں گئی؟“ اور اسی دن اسے گرفتار کر لیا گیا۔ ریاست کو باشعور نوجوان نہیں، صرف مطیع رعایا درکار تھی۔ الکمونیا میں اب صرف دو طرح کے ادارے بچے تھے : وہ جو پیسے لے کر جعلی ڈگری دیتے تھے، اور وہ جو ایمان بیچتے تھے۔

پھر وہ دن آیا جس دن الکمونیا کا باضابطہ سقوط ہوا۔ آئی ایم ایف نے الکمونیا کو ناقابلِ بھروسا قرار دے دیا۔ کوئی قرض، کوئی رعایت، کوئی نرمی نہیں ملی۔ حکمران بیرون ملک چلے گئے، اور عوام سڑکوں پر رہ گئے۔ تعلیمی ادارے شاپنگ مال بن گئے۔ یونیورسٹیاں چائے خانوں میں بدل گئیں۔ اور استاد کسی ہسپتال کے باہر لائن میں دوا کے لیے کھڑا تھا۔

ان ویران کھنڈرات میں ایک ضعیف استاد پروفیسر فضل آخری بار اپنی بریف کیس کے ساتھ اسکول کی بوسیدہ لائبریری آیا، جہاں اب چوہے اور خاک اُڑتی تھی۔ اس نے ایک صفحہ نکالا، اور لکھنا شروع کیا: ”میں پروفیسر فضل، الکمونیا کا آخری استاد، یہ تحریر اس امید پر چھوڑ رہا ہوں کہ شاید کبھی کوئی پڑھ لے۔ میں گواہ ہوں کہ الکمونیا اس دن مرا جب ریاست نے علم سے ہاتھ اٹھایا اور استاد سے قلم چھین لیا۔ جب یونیورسٹیاں ٹھیکیداروں کو دے دی گئیں، جب طالب علم صرف گاہک بن گیا، جب تعلیم کاروبار بن گئی تو سمجھ لو کہ ریاست نے اپنی قبر خود کھود دی۔

جب استاد کی تنخواہ پر ٹیکس لگائے گئے، جب علم کی قیمت رئیل اسٹیٹ سے کم ہو گئی، جب بجٹ سے کتاب غائب اور گاڑی شامل ہو گئی تب ہم نے اپنا کل بیچ دیا۔ میں ان حکمرانوں کے نام نہیں لیتا، کیونکہ وہ سب ایک جیسے تھے : وردی والے ہوں یا ووٹ والے، سب نے قوم کو جہالت کے سپرد کر دیا۔ میری وصیت ہے : اگر کوئی نسل بعد میں آئے، تو کتاب کو عبادت سمجھے، تجارت نہیں۔ استاد کو مزدور نہیں، معمار سمجھے۔ اگر الکمونیا کو دوبارہ زندہ دیکھنا ہو تو اسے تعلیم کا نور دینا ہو گا، وہ نور جسے ہم نے خود بجھا دیا۔“

یہ وصیت لکھ کر پروفیسر فضل نے قلم رکھا، دیوار سے ٹیک لگائی، اور آنکھیں بند کر لیں۔ الکمونیا کا آخری استاد، آخری سچ لکھ چکا تھا۔

کچھ برس بعد ، ایک پردیسی نوجوان، جس کے دادا الکمونیا سے ہجرت کر چکے تھے، انہی کھنڈرات میں آیا۔ اس نے جھولتی ہوئی تحریر پڑھی، اور آہستہ کہا: ”یہ وصیت صرف الکمونیا کی نہیں یہ ہر اُس ریاست کی ہے جو علم سے غداری کرتی ہے۔ میں وعدہ کرتا ہوں دادا، ہم یہ چراغ پھر سے جلائیں گے۔“ اور اس دن، ایک پرانی لائبریری میں ایک چھوٹا سا دیا جل اٹھا۔

Facebook Comments HS