روٹی، کپڑا اور ٹویٹ؟ پیپلز پارٹی کا نیا منشور


کبھی ”روٹی، کپڑا اور مکان“ کا نعرہ صرف انتخابی منشور نہیں تھا،
یہ ایک عہد تھا، ایک انقلاب کا وعدہ،
ایک پسے ہوئے طبقے کی چیخ کو زبان دینے کی کوشش۔
ذوالفقار علی بھٹو نے اس نعرے کو عوامی شعور کا حصہ بنایا۔
بینظیر بھٹو نے اسے اپنی لہو سے سینچا۔
لیکن آج جب بلاول بھٹو زرداری اس ورثے کے امین ہیں۔
تو سوال یہ ہے کہ کیا وراثت صرف خطاب، لباس، اور ٹویٹ بن کر رہ گئی ہے؟

بلاول بھٹو تعلیم یافتہ، شائستہ اور بین الاقوامی سطح پر موثر بیانیہ رکھنے والے سیاستدان ضرور ہیں۔ ان کی شخصیت میں جاذبیت اور اعتماد ہے۔ مگر سندھ کی سڑکوں، گوٹھوں اور مایوس چہروں پر ان کا سایہ کم کم دکھائی دیتا ہے۔ پیپلز پارٹی، جو کبھی دروازے کھٹکھٹا کر عوام سے ووٹ مانگتی تھی، اب سوشل میڈیا ٹیموں، ایڈیٹڈ کلپس اور انسٹاگرام اسٹوریز میں خود کو تلاش کرتی ہے۔ پارٹی رہنما ٹک ٹاک ریلز کی تیاری میں مشغول، اور سندھ کا نوجوان نوکری، انصاف اور بجلی کا انتظار کرتے کرتے عمر گزار رہا ہے۔

لاڑکانہ کا ووٹر اب خود کو صرف ”بھٹو کے نام“ پر بیوقوف بنانا نہیں چاہتا۔ وہ اپنی محرومیوں کو اب تقدیر نہیں، بدانتظامی سمجھتا ہے۔ بلاول ہاؤس کی دیواریں بلند ہو گئی ہیں۔ مگر عوامی اعتماد کی بنیادیں کمزور ہوتی جا رہی ہیں۔ وہ جو کل تک بلاول کو شہید بی بی کی نشانی سمجھتے تھے، آج سوال کرتے ہیں کہ کیا وہ بھی صرف ایک اور پردہ دار طاقت کی نمائندگی کرنے لگے ہیں

بلاول صاحب! اگر آپ واقعی عوام کے دکھ جاننا چاہتے ہیں، تو صرف ایک دن سندھ کے کسی گوٹھ میں، بغیر پروٹوکول، بغیر کیمرے، ایک عام شہری کی طرح زندگی گزار کر دیکھیے۔ گرمی اور لوڈشیڈنگ میں بے حال دن، مہنگی سبزی خریدنا، سرکاری اسپتال کی قطار میں باری کا انتظار، اور کسی مزدور کے ساتھ پسینے میں شرابور مزدوری۔ یہ سب، صرف ایک دن کے لیے۔ تب شاید اندازہ ہو کہ ”جیئے بھٹو“ صرف نعرہ نہیں، ایک تھکا ہوا سوال بن چکا ہے۔

آج کا سندھ صرف نعرے نہیں مانگتا۔ وہ حقیقی حکمرانی، شفافیت، احتساب، اور میرٹ مانگتا ہے۔ وہ کرپشن، اقربا پروری، ڈاکو راج، مذہبی شدت پسندی اور مفاداتی سیاست سے بیزار ہے۔ اور اب سندھ کے لوگوں کے دلوں میں ایک اور خدشہ بھی پلنے لگا ہے : کیا پیپلز پارٹی اب اسٹیبلشمنٹ کی بی ٹیم بن چکی ہے؟ یہ سوال کھلے عام اٹھ رہا ہے۔ چاہے وہ طالب علم ہو، دیہی کسان، استاد، یا بے روزگار نوجوان۔ جن لوگوں نے آمریت کے خلاف پیپلز پارٹی کے ساتھ کھڑے ہو کر جیلیں کاٹی تھیں، آج وہی لوگ پارٹی کو اشرافیہ کا بازو، اور عوام سے کٹا ہوا جزیرہ محسوس کر رہے ہیں۔

سندھ کو اب انسٹاگرام پوسٹ یا ہولوگرام تقریر سے متاثر نہیں کیا جا سکتا۔ یہ اب فوٹو اینگل نہیں، آنگن میں بیٹھا ہوا رہنما مانگتا ہے۔ یہ اب وعدہ نہیں، ساتھ چاہتا ہے۔ اگر آپ اس کے ساتھ کھڑے نہیں ہوں گے، تو یہ آپ کو صرف ووٹ نہیں، یاد سے بھی نکال دے گا۔

پیپلز پارٹی آج بھی سندھ کے جذبات میں کہیں نہ کہیں زندہ ہے۔ مگر یہ جذبات اب تھک چکے ہیں۔ جذبات کو جگانے کے لیے اب خالی نعرے کافی نہیں۔ قیادت کو اسٹیج سے نہیں، زمین پر اتر کر ثابت کرنا ہو گا کہ وہ اب بھی بھٹو کے وارث ہیں۔ ورنہ سندھ خاموشی سے نہیں۔ بھرپور شعور کے ساتھ الوداع کہے گا

Facebook Comments HS