ورکرز: جماعت کی روح، لیڈرشپ کی ذمہ داری
سیاست کا میدان ہو یا سماجی خدمت کا، ورکرز کسی بھی تحریک یا جماعت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں۔ وہ اپنی محنت، لگن، اور قربانیوں سے لیڈرز کو عروج تک پہنچاتے ہیں۔ میں، ایک سیاسی کارکن کے طور پر، 1994 سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مختلف ذیلی تنظیموں میں صوبائی سطح پر اہم عہدوں پر خدمات سرانجام دیتا رہا ہوں۔ مشرف کے دور میں، میں نے جنرل (ر) حمید گل مرحوم، محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان مرحوم، سابق وفاقی وزیر و چیئرمین اے پی این ایس میاں مصطفیٰ صادق مرحوم، اور برادرم عبدالکریم ثاقب کے زیرِ سایہ غیر سیاسی پلیٹ فارم ”تحریک استحکام پاکستان“ کا حصہ رہا۔ مقامی سطح پر، میں نے ابتدا میں حافظ گروپ اور پھر عوامی خدمت محاذ کے ساتھ وابستگی اختیار کی، جو آج تک جاری ہے۔ ان برسوں میں، میں نے ورکرز کی اہمیت، ان کی صلاحیتوں، اور ان سے کام لینے کے فن کو گہرائی سے سمجھا ہے۔
ورکرز کی محنت کوئی معمولی چیز نہیں۔ وہ رات دن ایک کرتے ہیں، اپنے لیڈرز کو ہمالیہ کی چوٹیوں پر بٹھاتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے بعض لیڈر اس مقام پر پہنچ کر اپنے ورکرز کی عزت و احترام کو بھول جاتے ہیں۔ حال ہی میں ایک افسوسناک واقعہ سامنے آیا، جہاں نوانی گروپ کے ایک مقامی ممبر قومی اسمبلی نے اپنے اتحادی رہنما و ممبر صوبائی اسمبلی کے سامنے، شریف النفس، ہنس مکھ، اور خاندانی وقار کے مالک ظفر بلوچ کی عزت کو مذاق کا نشانہ بنایا۔
مانا کہ یہ سب مذاق میں ہوا، لیکن نجی گفتگو کی ویڈیو مخالفین تک کس نے پہنچائی؟ اس کے خلاف کیا کارروائی کی گئی؟ اگر یہ محض مذاق تھا، تو کیا لیڈرشپ نے ظفر بلوچ کی عزت بحال کرنے کے لیے کوئی قدم اٹھایا؟ کیا کوئی وضاحتی بیان جاری کیا گیا؟ کیا ورکر کے گھر جا کر معافی مانگی گئی؟ یہ سوالات ہر کارکن کے ذہن میں گونج رہے ہیں۔
ظفر بلوچ جیسے لوگ اپنی وضع داری اور خاندانی اقدار کی بدولت ہر دل میں گھر کرتے ہیں۔ وہ اپنے تعلقات کو نبھاتے ہوئے زندگی گزار دیتے ہیں۔ ان کے ساتھ نامناسب رویہ، خواہ مذاق میں ہو، ناقابلِ قبول ہے۔ نوانی گروپ کا ہمیشہ سے اپنے ورکرز کے ساتھ اس طرح کا ہی طرز عمل رہا جو انتہائی افسوسناک ہے، کیونکہ یہ نہ صرف ایک فرد کی عزت کو ٹھیس پہنچاتا ہے بلکہ ورکرز کے جذبے اور جماعت کی یکجہتی کو بھی کمزور کرتا ہے۔ ورکرز کی عزت کو داغدار کرنے والے رویوں کی جتنی مذمت کی جائے، کم ہے۔
اس کے برعکس، ڈاکٹر محمد افضل خان ڈھانڈلہ ایک ایسی مثال ہیں جو ورکرز کی عزت و احترام کو نہ صرف سمجھتے ہیں بلکہ اسے عملی جامہ بھی پہناتے ہیں۔ وہ نہ صرف اپنے کارکنوں کے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں بلکہ ان کے حقوق کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کرتے ہیں۔ ان کا ادبی انداز، شعر و شاعری کے ذریعے ورکرز کے جوش کو ابھارنا، اور خدمتِ خلق کا جذبہ انہیں ایک مثالی لیڈر بناتا ہے۔ وہ یتیموں کی کفالت کرتے ہیں، صوم و صلوٰۃ کے پابند ہیں، اور ”نیک بنو، نیکی پھیلاؤ“ کا درس دیتے ہیں۔ انہوں نے حالیہ دنوں میں ضلع بھکر میں شجر کاری مہم اور پاک فوج کے حق میں پرچم کشائی کی تقریب میں شرکت کی، جہاں انہوں نے ماحولیاتی تحفظ اور سرسبز پاکستان کے ویژن کو فروغ دیا۔ انہوں نے پاک فوج کو قوم کا فخر قرار دیتے ہوئے ان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔
میں نے اپنی زندگی کے تیس سال سے زائد عرصہ ورکرز کے طور پر گزارا ہے۔ اس دوران، میں نے دیکھا کہ ورکرز کی محنت ہی جماعت کی کامیابی کی ضمانت ہوتی ہے۔ لیکن جب لیڈرشپ ان کی عزت کو نظر انداز کرتی ہے، تو یہ نہ صرف کارکنوں کے حوصلوں کو توڑتی ہے بلکہ جماعت کی بنیادیں بھی کمزور کرتی ہے۔ نوانی گروپ کے حالیہ واقعے نے یہ ثابت کیا کہ بعض لیڈرز ابھی تک ورکرز کی اہمیت کو نہیں سمجھ سکے۔ اس کے برعکس، ڈھانڈلہ جیسے لیڈرز نے ثابت کیا کہ ورکرز کی عزت اور ان کے جذبے کو زندہ رکھنا ہی اصل لیڈرشپ ہے۔
میں نے ہمیشہ عوامی مسائل کو ترجیح دی اور اپنی جماعت کے لیے ہر تحریک میں حصہ لیا، خواہ وہ تحریک استحکام پاکستان ہو یا عوامی خدمت محاذ۔ ورکرز کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا اور ان کی عزت کو مقدم رکھنا ایک لیڈر کی اولین ذمہ داری ہے۔ اگر کوئی غلطی ہو جائے، تو اسے تسلیم کر کے معافی مانگنا عزت بحال کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔ آئیے، عہد کریں کہ ہم اپنے ورکرز کی قدر کریں گے، ان کی عزت کو اپنا فخر سمجھیں گے، اور ان کے جذبے کو ہمیشہ زندہ رکھیں گے۔ ورکرز کے بغیر کوئی جماعت، کوئی لیڈر، اور کوئی تحریک کامیاب نہیں ہو سکتی۔


