نیوکلیڈونیا آزادی کی طرف پہلا قدم


کہا جاتا ہے دنیا کہ ہر جزیرے کی اپنی ایک داستان ہوتی ہے۔ نیو کیلیڈونیا کی داستان لہو اور آنسوؤں سے لکھی گئی ہے۔ فرانسیسی استعمار نے جب اپنی فوجی قوت کے بل بوتے پر دنیا کے کمزور ممالک کو نشانہ بنانا شروع کیا تو چشم فلک نے بربریت کا وہ نظارہ دیکھا کہ شمالی افریقہ کے مسلمانوں پر وہ آفت ٹوٹ پڑی کہ جس کی مثال تاریخ میں موجود نہ تھی۔ عمر مختار اور ان کے نقش قدم پر جلنے والوں نے تو بے نظیر قربانیاں دے کر آزادی حاصل کرلی مگر ہنوز دنیا کے کئی دوردراز جزائر فرانسیسی نوآبادیات کے طور پر وجود رکھتے ہیں انہی میں نیوکلیڈونیا بھی ہے۔ یہ وہ سرزمین ہے جہاں بحر الکاہل کی نیلگوں لہریں مقامی باشندوں کے دکھوں کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہیں۔ 1853 میں جب فرانسیسی جہازوں نے اس جزیرے کو اپنی نوآبادیاتی سلطنت میں شامل کیا، تو شاید ہی کسی نے سوچا ہو کہ یہاں کے اصل باسی اپنی شناخت کے لیے صدیوں تک جدوجہد کرتے رہیں گے۔

صدیوں کی غلامی کے بعد جب بیسویں صدی کے آخر میں اس جزیرے کے باشندوں کو محدود خودمختاری ملی تو یوں لگا جیسے آزادی کا سورج طلوع ہونے والا ہو اور غلامی کی طویل اور سیاہ رات کا گھٹا ٹوپ اندھیرا دم توڑنے لگا ہو۔ مگر یہ ایک دھوکہ تھا۔ فرانسیسی استعمار نے اپنے پنجے مزید گہرے گاڑ لیے اور وہاں کے باشندے ایک بار پھر مایوسی کی دلدل میں غرق ہو کر رہ گئے۔ گزشتہ سال جب پیرس نے غیر مقامی باشندوں کو ووٹ کا حق دینے کا فیصلہ کیا، تو یہاں کے اصل باسیوں کو لگا جیسے ان کی سیاسی طاقت کو دائمی اقلیت میں بدل دیا جائے گا۔

ظلم کی چکی میں پستے ہی رہے ہیں تا عمر
ہم سمجھتے تھے کہ ہو گا عدل روز حشر

اس ناعاقبت اندیشانہ رویے کی وجہ سے پورے خطے میں امن و امان کی صورتحال مخدوش ہو گئی۔ مئی 2024 میں پھوٹ پڑنے والے تشدد نے پورے جزیرے کو ہلا کر رکھ دیا۔ چودہ قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں۔ دو ارب یورو کا مالی نقصان ہوا۔ لیکن اس آگ میں جل کر ہی سچی آزادی کے پھول کھلتے ہیں۔ سونا بھٹی میں پگھل کر ہی کندن بنتا ہے۔ حالیہ معاہدہ اسی راستے کا ایک پڑاؤ ہے جبکہ اصل منزل ہنوز دور ہے۔

اب نیو کیلیڈونیا کو ایک ”ریاست“ کا درجہ مل گیا ہے۔ اپنی قومیت، اپنی خارجہ پالیسی۔ مگر یہ مکمل آزادی نہیں۔ دفاع، کرنسی اور انصاف جیسے اہم شعبے اب بھی فرانس کے ہاتھ میں ہیں یعنی اس استعمار کا قبضہ کسی نہ کسی صورت ابھی تک قائم ہے۔ کیا یہ وہ آزادی ہے جس کے لیے کاناکوں کے اجداد نے اپنا لہو بہایا تھا۔

فرانسیسی وزیر مینوئل والس اسے ایک ”ذہین سمجھوتہ“ کہتے ہیں۔ جبکہ کاناک رہنما اسے تشدد کے خاتمے کی پہلی سیڑھی قرار دیتے ہیں۔ مگر سچ تو یہ ہے کہ جب تک اس دھرتی کے اصل وارث اپنے مقدر کے مالک نہیں بنتے، یہ کہانی ادھوری رہے گی۔

آج بھی جب بحر الکاہل کی ہوائیں نیو کیلیڈونیا کے جنگلوں سے گزرتی ہیں، تو لگتا ہے جیسے یہ کاناکوں کے اجداد کے نوحے گا رہی ہوں ان کی قربانیوں پر ماتم کر رہی ہوں۔ یہ وہ سرزمین ہے جہاں ہر پتھر، ہر درخت غلامی کی داستان سناتا معلوم ہوتا ہے۔ کیا 2026 میں ہونے والا ریفرنڈم اس داستان کا خوشگوار انجام ہو گا؟ یا پھر یہ نوآبادیاتی تسلط کی ایک نئی فصل بوئے گا؟

یہ تو وقت ہی بتائے گا
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے

نیو کیلیڈونیا کی جدوجہد محض ایک خطے کی کہانی نہیں۔ یہ ہر اس قوم کے لیے ایک سبق ہے جو غلامی کی زنجیروں کو توڑنا چاہتی ہے۔ وقت بتائے گا کہ کیا یہ جزیرہ اپنی منزل کو پا سکے گا، یا پھر تاریخ کے اوراق میں ایک اور ادھوری خواہش بن کر رہ جائے گا۔ اور کیا دیگر فرانسیسی مقبوضات جیسے مایوتی اور ری یونین جن۔ کی آبادی نیوکلیڈونیا سے کہیں زیادہ ہے نیو کیلیڈونیا کے نقش قدم پر چل پائیں گے دعا ہے کہ ہندوستان کے غاصبانہ قبضے سے کشمیری مسلمانوں اور خالصتان کے سکھوں کو آزادی نصیب ہو۔

Facebook Comments HS