بلاول۔ پاکستان کا ”بے نظیر“ وکیل


ایک طرف بھارتی صحافت کا ایک بڑا اور معتبر نام 71 سالہ کرن تھاپر، جن کا صحافتی تجربہ قریباً چالیس پینتالیس سال، دوسری طرف پاکستان کا 37 سالہ نوجوان سیاست دان بلاول بھٹو زرداری، جس کی عمر اپنے مد مقابل کے صحافتی تجربہ سے بھی کہیں کم۔ یہ ایک انتہائی دلچسپ انٹرویو کا منظر نامہ ہے جس میں میزبان اپنے مہمان سے تابڑ توڑ متنازعہ سوالات کر رہا ہے اور دوسری طرف نوجوان کبھی مسکرا کر، کبھی انتہائی سنجیدگی اور کبھی جارحانہ انداز میں دلیل کے ساتھ جوابات کے ساتھ اسے مسلسل پسپا کیے جا رہا ہے۔

پریشانی نوجوان مہمان کے چہرے کے بجائے عمررسیدہ اور تجربہ کار صحافی کے چہرے سے واضح جھلک رہی ہے۔ کرن تھاپر سوالات کی صورت پاکستان پر دہشت گردی کے پے درپے الزامات لگا رہے ہیں تو دوسری طرف نوجوان بلاول مدبرانہ اور مدلل انداز میں پاکستان کا مقدمہ لڑتے ہوئے منہ توڑ جوابات دیے چلے جا رہے ہیں اور یاد دلا رہے ہیں کہ بھارتی حکومت نے پہلگام واقعہ کی بین الاقوامی تحقیقات کی پیشکش رد کر دی تھی۔

بلاول بھٹو زرداری جو قبل ازیں پاکستان کے وزیر خارجہ کی حیثیت سے عالمی برادری میں اپنی متاثر کن پہچان بنا چکے ہیں، جب اعلیٰ سفارتکاروں کے وفد کے قائد کے طور پر عالمی سفارتکاری کے اہم مراکز اور مختلف ممالک کے دارالحکومتوں کے دورے پر گئے تو مذکورہ جنگ سے متعلق خبروں کی صداقت نے ان کے دلائل، انداز بیان اور پیش کردہ حقائق کے ساتھ مل کر پاکستان کا بہتر امیج نمایاں کرنے میں موثر کردار ادا کیا۔ ایٹمی فلیش پوائنٹ کہلانے والے مسئلہ کشمیر سمیت ہر ایشو پر مدلل و متاثر کن انداز میں گفتگو کر کے انہوں نے بلاشبہ اپنے وطن کی بہترین وکالت و ترجمانی کی۔

بیرون ملک ان کی اس کامیاب سفارت کاری سے اندرون ملک معاملات میں بھی ان کے مدبرانہ کردار کے پہلے سے موجود بعض نقوش مزید نمایاں ہوئے۔ ان کے نانا ذوالفقار علی بھٹو اور والدہ محترمہ بینظیر بھٹو شہید نے اندرون ملک اپنی کارکردگی کے علاوہ بیرون ملک بھی بڑا نام حاصل کیا۔ ان کے متاثر کن بیانیے نے پاکستان کے وقار میں اضافے اور اس کی اصابت پر بیرونی حلقوں کو قائل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

بھارتی صحافی کرن تھاپر کو انٹرویو دیتے ہوئے بلاول بھٹو نے نہ صرف ان کے سوالات کے تحمل و بردباری سے جواب دیے بلکہ اپنے طرز عمل سے انہیں پوری بات سننے کی طرف مائل بھی کیا بلکہ واضح کیا کہ پاکستان کسی دہشت گرد گروپ کو سپورٹ کرتا ہے نہ کسی گروپ کو ملک کے اندر یا باہر سے دہشت گرد حملوں کی اجازت دیتا ہے۔ پاکستان دہشت گردی کا شکار ملک ہے نہ کہ سہولت کار۔ اسلام آباد اور نئی دہلی کو جامع مذاکرات کے ذریعے دہشت گردی کے خطرے پر بھی کھل کر بات کرنی چاہیے۔

اس مشترکہ چیلنج سے نمٹنے کا راستہ تعاون ہی ہے، ٹیکنالوجی کے اس دور میں بھی بھارت یہ ثابت نہیں کر سکا کہ پہلگام واقعہ کے حملہ آور کون تھے۔ بلاول بھٹو کے مذکورہ انٹرویو سے بعض ایسے رویوں کی نشاندہی بھی ہوئی جو سرد جنگ کے دوران بڑی طاقتوں کے لئے احسن رہے مگر بعد ازاں سنگین مسائل کہلائے۔ مثال کے طور پر دہشت گردی کا لفظ نائن الیون کے بعد استعمال میں آیا۔ قبل ازیں بعض گروپوں کو فریڈم فائٹر کہا جاتا تھا، افغانستان میں اور سرد جنگ لڑنے والوں کو اسی طرح دیکھا گیا۔

تاہم بلاول کے بقول ان کی والدہ اور جماعت پیپلز پارٹی کے لئے اس وقت بھی مذکورہ خیال کی حمایت ممکن نہیں تھی۔ یہ امر بڑی طاقتوں سمیت تمام ہی حلقوں کے لئے قابل توجہ ہے کہ انسانیت کی اعلیٰ اقدار حق اور سچ کی علمبرداری چاہتی ہیں۔ اگر سچائی اور اعلیٰ انسانی اقدار ملحوظ رہیں تو وقت بدلنے کے ساتھ ہیرو اور دہشت گرد کے القابات کی تبدیلی شاید ضروری نہ ہو۔

بھٹو زرداری نے دوران انٹرویو مدلل انداز اختیار کر کے پاکستانی موقف اور زمینی حقائق کو موثر انداز میں واضح کیا کہ پاکستان، بھارت کے ساتھ تمام مسائل بات چیت سے حل کرنے کا خواہاں ہے، تاہم کچھ قوتیں ایسی ہیں جو پاکستان اور بھارت کے درمیان امن کے عمل کو نقصان پہنچانا چاہتی ہیں۔ یہ نان اسٹیٹ ایکٹرز ہی ہیں جنھوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان حقیقی بات چیت کے دروازے بند کیے ہیں، کیونکہ دہشت گردانہ کارروائیوں کے بعد اعتماد کا فقدان بڑھ جاتا ہے، کوئی بھی ریاست سفارتی پیش رفت کرنے سے پہلے اپنے عوام کا تحفظ اور اپنی سالمیت کی حفاظت چاہتی ہے۔

یہ رویہ مذاکراتی عمل کو سست یا بے معنی بنا دیتا ہے۔ نان اسٹیٹ ایکٹرز یعنی غیر ریاستی قوتیں وہ گروہ، تنظیمیں یا نیٹ ورکس ہیں جو کسی بھی حکومت اور عوام کی نمایندگی نہیں کرتے، مگر غیر قانونی دولت کے انبار کی بنا پر بے پناہ اثر و رسوخ رکھتے ہیں اور اپنے اہداف کے حصول کے لیے ریاستوں کی حدود، قوانین اور طاقت کے دائرے سے باہر جا کر کارروائیاں کرتے ہیں۔

ان اقدامات کا دائرہ صرف لوکل یا علاقائی سطح تک محدود نہیں ہوتا بلکہ یہ خطے کی مجموعی سلامتی، معاشی ترقی، انسانی حقوق اور بین الاقوامی تعلقات پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ جب یہ گروہ خود مختار انداز میں کارروائی کرتے ہیں اور سرحد پار حملے کرتے ہیں تو دونوں ریاستیں ایک دوسرے پر الزامات لگاتی ہیں کہ دوسری ریاست نے ان گروہوں کو تحفظ فراہم کیا یا انھیں سرحد پار کارروائی کی اجازت دی۔ مثال کے طور پر 2008 کے ممبئی حملے جنھوں نے بھارت میں سخت ردعمل برانگیختہ کیا۔

دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت اور تعلقات بند ہو گئے۔ یوں عدم اعتماد کی فضا زیادہ بڑھ گئی۔ پاکستان نے عالمی سطح پر خود کو دہشت گردی کے خلاف موقف اختیار کرنے والی ریاست کے طور پر پیش کیا جس نے نیو کاؤنٹر ٹیرر ازم پالیسیز اور متعدد عدالتی کارروائیاں کیں مگر مسئلہ یہ ہے کہ نان اسٹیٹ ایکٹرز اسے اپنے فائدے کے لیے استعمال کرتے ہیں، وہ حکومتوں کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ عسکری رد عمل اختیار کریں۔

یہ گروہ خانہ جنگی، گولہ باری، کار بم دھماکے، عبادت گاہوں پر حملوں، تشدد کے واقعات وغیرہ جیسے اقدامات کرتے ہیں جو نہ صرف جغرافیائی حدود بلکہ ظاہری حقیقت پر مبنی امن کو تباہ کر دیتے ہیں۔ ان کی کارروائیاں عسکریت پسندوں کو پناہ گاہ فراہم کرتی ہیں، ان کی فنڈنگ اور تربیت کا ذریعہ بنتی ہیں اور سیاسی طاقتور حلقوں کو مجبور کرتی ہیں کہ وہ عسکری یا سفارتی ردعمل اختیار کریں۔ نتیجتاً دونوں طرف کی ریاستیں سرحدی نگرانی کو مضبوط کرتی ہیں، نرم حکمت عملی چھوڑ کر سختی اختیار کرتی ہیں اور عوام کو خوف میں مبتلا رکھنے کے لیے اقدامات اٹھاتی ہیں۔

یہ تمام ردعمل علاقے میں توازن کی راہ میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ جب ریاست مسلسل عسکری قوت کا اظہار کرتی ہے تو اس کا اثر عوام پر، کاروبار پر اور عالمی شراکت داریوں پر پڑتا ہے۔ سرحدی تجارتی راستے بند کیے جاتے ہیں، یا سخت سنسر شپ نافذ ہوتی ہے۔ جب جبلتاً ریاستوں کے درمیان یہی خوف، شک اور عسکری آمادگی غالب ہوجاتی ہے۔ میڈیا حساس ہو جاتا ہے، بیانیہ عسکری تشدد یا سلامتی پر مرکوز ہوتا ہے اور سیاسی جماعتیں عوامی جذبات کو ٹرمپ کارڈ کی طرح استعمال کرتی ہیں تاکہ انتخابات میں فائدہ اٹھا سکیں۔ جیسا کہ بھارت میں بی جے پی کر رہی ہے۔

اگر پاکستان اور بھارت سنجیدگی سے امن چاہتے ہیں، تو اس کی پہلی شرط یہ ہے کہ نان اسٹیٹ ایکٹرز کو ختم یا ان کا دائرہ محدود کر دیا جائے۔ یہ صرف عسکری طاقت سے ممکن نہیں، بلکہ معلومات، اشتہاری نشریات، انٹیلی جنس اطلاعات، اور باخبر معاشرتی و تعلیمی اقدامات کے ذریعے ہی ممکن ہے، اگر بھارت اور پاکستان ایک دوسرے پر الزام لگانے کے بجائے مشترکہ انٹیلی جنس شیئرنگ، فوجی رابطہ فورمز اور سرحد کے معاملات میں شفافیت اختیار کریں، تو نان اسٹیٹ گروہوں کے لیے آزادانہ حملے خفیہ یا سہولت سے نہیں ہو سکیں گے۔

یہ نقطہ آغاز نوجوان نسل کے بجائے عام آدمی کی سطح پر امن فضا پیدا کر سکتا ہے۔ جب عوام کو احساس ہو کہ کشمیر کے مسائل، سرحدی کشیدگی، یا ملک گیر تشدد کا بہترین حل عسکری نہیں بلکہ مذاکرات، معاشی شراکت داری اور مشترکہ ترقی ہے، تو ریاستیں بھی اس رجحان کے مطابق فیصلے کریں گی۔ پاکستان کو دہشت گرد ریاست کے طور پر نامزد کرنے کا بھارتی سفارتی منصوبہ بین الاقوامی سطح پر کام کرنے والا نہیں ہے کیونکہ بھارت کے رہنما عالمی سطح پر اسی بیانیے کو استعمال کر رہے ہیں جو سخت گیر ہندو حامیوں کے لیے بی جے پی کے بیانیہ کا حصہ ہے مگر اس طرح کے سامعین بین الاقوامی سطح پر دستیاب نہیں ہیں جیسے بی جے پی کو اندرونِ ملک مل جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا بیانیہ بھارت اور پاکستان کے مسائل کے بارے میں عالمی سوچ سے زیادہ مطابقت رکھتا ہے جو دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مسائل کے پرامن اور مذاکرات کے ذریعے حل اور کثیر ریاستی تعاون پر زور دیتا ہے۔

بھارت عالمی سطح پر اپنے پاکستان مخالف مباحثے کی پذیرائی نہ ملنے سے تکلیف محسوس کرتا ہے۔ بھارتی سرکاری حلقوں کے سخت بیانات مئی میں اپنی فوجی شکست پر قابو پانے کے لیے پاکستان کو فوجی محاذ آرائی میں دوبارہ شامل کرنے کی خواہش کی عکاسی کرتے ہیں، لہذا ان حالات میں امریکا کے زیر اہتمام جنگ بندی کا مستقبل غیر یقینی ہے۔ پاکستان اور بھارت کے لیے ضروری ہے کہ وہ یہ تسلیم کریں کہ نان اسٹیٹ ایکٹرز کی موجودگی یا رہنمائی کسی ریاست کے لیے باعثِ فخر نہیں بلکہ شرمندگی کی بات ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں جو نقصان ہوتا ہے، وہ صرف سرحدی جھڑپوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ اعتماد کا نقصان ہوتا ہے، جب ریاستیں داخلی طاقت، قانون، عدل اور مشترکہ ترقی کے آئیڈیل پر کام کرنے لگتی ہیں، تو نان اسٹیٹ ایکٹرز خود بخود طاقت کھو بیٹھتے ہیں۔

ایسے وقت میں جب پوری دنیا تیزی سے معاشی تعاون کی طرف بڑھ رہی ہے، ریاستیں وسعتِ نظری اور مشترکہ اقدار پر غور کر رہی ہیں، پاکستان اور بھارت کے درمیان امن کی گرہیں کھولنے کا راستہ ہے جہاں نان اسٹیٹ ایکٹرز کے لیے کوئی جگہ نہ ہوگی اور دوستانہ ترقی خطے کی پہچان بن جائے گی۔ پاکستان نے تو بار بار یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ دہشت گردی کا خاتمہ چاہتا ہے، اب بھارت کو اس کا جواب دینا ہے۔ ماضی میں دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی سے دونوں طرف کے غربت، مہنگائی اور صحت و تعلیم کے مسائل میں گھرے لوگ متاثر ہوئے ہیں۔

خطے میں معاشی ترقی کے لیے امن ضروری ہے غربت اور بیماری کو اس خطے کا مقدر نہیں ہونا چاہیے۔ عمررسیدہ کرن تھاپر سمیت بھارت کے تمام دانشوروں، صحافیوں اور سیکولر ازم حامیوں پر لازم ہے کہ وہ نوجوان بلاول بھٹو کے مدبرانہ بیانئے کی روشنی میں اپنے ملک میں آر ایس ایس اور بھارتی جنتا پارٹی کے ہندوتوا پرچارکوں کے خلاف آواز بلند کریں جو ان کے ملک کو مذہبی، لسانی اور گروہی مفادات کی آگ میں جھلسا کر بھسم کر دینا چاہتے ہیں۔

Facebook Comments HS