استاد مرحوم
اہل علم خصوصاً شعرا کے متعلق اکثر یہ سنا ہے کہ ہم عصروں اور پیش رووں کے کمال کا اعتراف کرنے میں بخل سے کام لیتے ہیں۔ استاد مرحوم میں یہ بات نہ تھی بہت فراخ دل تھے۔ فرماتے، غالب اپنے زمانے کے لحاظ سے بہت اچھا لکھتا تھا۔ میر کے بعض اشعار کی بھی تعریف کرتے۔ امیر خسرو کے بھی معترف تھے۔ برملا کہتے کہ ذہین آدمی تھے اور ان کی کہہ مکرنیاں ہمیشہ یادگار رہیں گی۔
امیرخسرو کی ایک غزل استاد مرحوم کی ایک غزل کی زمین میں ہے۔ فرماتے، انصاف یہ ہے کہ پہلی نظر میں فیصلہ کرنا دشوار ہوجاتا ہے کہ ان میں سے کون سی بہتر ہے۔ پھر بتاتے کہ امیر خسرو مرحوم سے کہاں کہاں محاورے کی لغزش ہوئی ہے۔ اقبال ؒ کے متعلق کہتے تھے کہ سیالکوٹ میں ایسا شاعر اب تک پیدا نہ ہوا تھا۔ اس شہر کو ان کی ذات پر فخر کرنا چاہیے۔ ایک بار بتایا کہ اقبال سے میری خط کتابت بھی رہی ہے دو تین خط علامہ مرحوم کو انھوں نے لکھے تھے کہ کسی کو ثالث بنا کر مجھ سے شاعری کا مقابلہ کر لیجیے۔ راقم نے پوچھا نہیں کہ ان کا جواب آیا کہ نہیں۔
استاد مرحوم کو عموماً مشاعروں میں نہیں بلایا جاتا تھا کیوں کہ سب پر چھا جاتے تھے اور اچھے اچھے شاعروں کو خفیف ہونا پڑتا۔ خود بھی نہ جاتے تھے کہ مجھ فقیر کو ان ہنگاموں سے کیا مطلب۔ البتہ جوبلی کا مشاعرہ ہوا تو ہمارے اصرار پر اس میں شریک ہوئے اور ہر چند کہ مدعو نہ تھے منتظمین نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ دیوانہ کسمنڈوی، خیال گڑگانوی او ر حسرت بانس بریلوی جیسے اساتذہ اسٹیج پر موجود تھے۔ اس کے باوجود استاد مرحوم کو سب سے پہلے پڑھنے کی دعوت دی گئی۔ وہ منظر اب تک راقم کی آنکھوں میں ہے کہ استاد نہایت تمکنت سے ہولے ہولے قدم اٹھاتے مائیک پر پہنچے اور ترنم سے اپنی مشہور غزل پڑھنی شروع کی۔
ہے رشتہ غم اور دل مجبور کی گردن
ہے اپنے لیے اب یہ بڑی دُور کی گردن
ہال میں ایک سناٹا چھا گیا۔ لوگوں نے سانس روک لیے۔ استاد مرحوم نے داد کے لیے صاحب صدر کی طرف دیکھا لیکن وہ ابھی تشریف نہ لائے تھے، کرسی صدارت خالی پڑی تھی۔ دوسرا شعر اس سے بھی زوردار تھا:
صد حیف کہ مجنوں کا قدم اٹھ نہیں سکتا
اور دار پہ ہے حضرت منصور کی گردن
دوسرا مصرع تمام نہ ہوا تھا کہ داد کا طوفان پھٹ پڑا۔ مشاعرے کی چھت اُڑنا سُنا ضرور تھا، دیکھنے کا اتفاق آج ہوا۔ اب تک شعرا ایک شعر میں ایک مضمون باندھتے رہے ہیں وہ بھی بمشکل۔ اس شعر میں استاد مرحوم نے ہر مصرع میں ایک مکمل مضمون باندھا ہے اور خوب باندھا ہے۔ لوگ اسٹیج کی طرف دوڑے۔ غالباً استاد مرحوم کی پابوسی کے لیے۔ لیکن رضاکاروں نے انھیں باز رکھا۔ اسٹیج پر بیٹھے استادوں نے جو یہ رنگ دیکھا تو اپنی غزلیں پھاڑ دیں اور اٹھ گئے۔ جان گئے تھے کہ اب ہمارا رنگ کیا جمے گا۔
ادھر لوگوں کے اشتیاق کا یہ عالم تھا کہ تیسرے شعر ہی پر فرمائش ہونے لگی۔ مقطع پڑھیے۔ مقطع پڑھیے۔۔۔ چوتھے شعر پر مجمع بے قابو ہو رہا تھا کہ صدر جلسہ کی سواری آگئی اور منتظمین نے بہت بہت شکریہ ادا کر کے استاد مرحوم کو بغلی دروازے کے باہر چھوڑ کر اجازت چاہی۔ اب ضمناً ایک لطیفہ سن لیجیے جس سے اخبار والوں کی ذہنیت عیاں ہوتی ہے۔
دوسری صبح روزنامہ ’پتنگ‘ کے رپورٹر نے لکھا کہ جن استادوں نے غزلیں پھاڑ دی تھیں، وہ یہ کہتے بھی سنے گئے کہ عجب نامعقول مشاعرے میں آگئے ہیں۔ لوگوں کی بے محابا داد کو اس بد باطن نے ہوٹنگ کا نام دیا اور استاد مرحوم کے اس مصرع کو صد حیف کہ مجنوں کا قدم اٹھ نہیں سکتا۔ بوجہ لاعلمی یا شرارت بجائے توارد کے سرقہ قرار دیا۔ بات فقط اتنی تھی کہ منتظمین نے ایڈیٹر پتنگ کے اہل خانہ کو مشاعرے کے پاس معقول تعداد میں نہ بھیجے تھے۔ اگر یہ بات تھی تو اسے منتظمین کے خلاف لکھنا چاہیے تھا نہ کہ استاد مرحوم کے خلاف اور پھر اس قسم کے فقروں کا کیا جواز ہے کہ استاد چراغ شعر نہیں پڑھ رہے تھے روئی دُھن رہے تھے۔ صحیح محاورہ روئی دھننا نہیں روئی دھنکنا ہے۔
اس دن کے بعد سے مشاعرے والے استاد مرحوم کا ایسا ادب کرنے لگے کہ استاد اپنی کریم النفسی سے مجبور ہو کر پیغام بھجوا دیتے کہ میں شریک ہونے کے لیے آرہا ہوں تو وہ خود معذرت کرنے کے لیے دوڑے آتے کہ آپ کی صحت اور مصروفیات اس کی اجازت نہیں دیتیں۔ استاد تو استاد ہیں۔ ہمیں ان کے ناچیز شاگردوں کو بھی رقعہ آجاتا کہ معمولی مشاعرہ ہے۔ آپ کے لائق نہیں۔ زحمت نہ فرمائیں۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

