استاد مرحوم


استاد مرحوم یوں تو اپنے سبھی شاگردوں سے محبت کرتے تھے۔ حاجی امام دین سوختہ بیکری والے، خلیفہ اے۔ ڈی۔ مقراض مالک جنٹل مین ہیرکٹنگ سیلون۔ حسین بخش مدعی، عرائض نویس وغیرہ سبھی ان کے اخلاق حسنہ اور الطاف عمیم کی گواہی دیں گے لیکن راقم سے ان کو ربط خاص تھا۔ فرماتے میرے علم و فضل کا صحیح جانشین تو ہو گا۔ رات کا کھانا اکثر راقم کے ساتھ کھاتے اور وقت کی پابندی کا لحاظ اس درجہ تھا کہ ادھر ہم دسترخوان پر بیٹھے ادھر استاد مرحوم پھاٹک سے نمودار ہوئے۔ بچوں سے لگاو تھا، جو بچہ ہمت کر کے ان کے قریب آتا انعام پاتا۔ ایک بار راقم کے بڑے بھتیجے کو ایک اکنی دی تھی۔ وہ اب تک استاد مرحوم کی یادگار کے طور پر رکھے ہوئے ہے۔

ایک دن فرمایا ۔ ایک بات کہوں؟ راقم نے عرض کیا۔ فرمائیے۔ بولے جھوٹ تو نہ سمجھو گے؟ راقم نے کہا۔ خانہ زاد کی کیا مجال! فرمایا۔ تو کان کھول کر سنو۔ میری نظر میں تم جوش، جگر وغیرہ بلکہ آج کل کے سبھی شاعروں سے اچھا لکھتے ہو۔ راقم نے آب دیدہ ہو کر ان کے ہاتھ کو بوسہ دیا اور عرض کیا کہ سب آپ کا فیض ہے۔ ورنہ بندہ کچھ بھی نہ تھا۔ قارئین اسی سے اندازہ کر سکتے ہیں کہ استاد مرحوم کی نظر کتنی گہری تھی اور رائے کتنی صائب۔

ان کا یہ قول راقم نے اکثر لوگوں کو سنایا۔ بعضوں نے جو انصاف پسند تھے، اعتراف کیا کہ ہاں ایسے استاد کا ایسا شاگرد کیوں نہ ہو۔ کچھ ایسے بھی تھے۔ جنھوں نے کہا کہ یہ بات شاید استاد نے فقط تمھارا دل بڑھانے کو کہی ہو۔ ان سے راقم کیا بحث کرتا۔ یہی کہا کہ آپ جو فرمائیں بجا ہے، لیکن دل میں سوچا کہ جس شخص کو زندگی بھر تملق اور زمانہ سازی سے واسطہ نہ رہا ہو وہ اس بات میں کیوں مبالغہ کرنے لگا۔ اور پھر اپنے ایک ادنیٰ شاگرد کے لیے؟

۱۹۶۳ء عجب ظالم سال تھا۔ اس میں دنیا کو ایک طرف صدر کینیڈی کا داغ دیکھنا پڑا اور دوسری طرف علم و فضل اور جود و سخا کا یہ آفتاب جس نے واقعی چراغ بن کر زمانے کو روشن کیا تھا، غروب ہو گیا۔ عمر عزیز کے ۸۲ برس ابھی پورے نہ ہوئے تھے۔ کچھ دن باقی ہی تھے، ہائے استاد!
تم کون سے ایسے تھے کھرے داد و دستد کے
کرتا ملک الموت تقاضا کوئی دن اور

وصال تاندلیانوالہ ہی میں ہوا جہاں استاد مرحوم پاکستان بننے کے بعد مقیم ہو گئے تھے اور گھی کی آڑھت کرتے تھے۔ سنا ہے معمولی بخار ہوا تھا۔ اور ہر چند کہ اپنے ہی مجربات سے علاج کیا، طبیعت بگڑتی ہی گئی۔ راقم کو خبر ملی تو دنیا آنکھوں میں اندھیر ہو گئی۔ بے ساختہ زبان سے نکلا۔ ’’ہائے الہ دین کا چراغ بجھ گیا‘‘۔ عدد گنے تو پورے ۱۳۸۳ھ کیسی برجستہ اور سہل ممتنع تاریخ ہے۔ آج استاد مرحوم زندہ ہوتے تو اس کی داد دیتے۔ اُستاد کے خاندان کی کیفیت بھی مختصر الفاظ میں عرض کر دوں۔

چارشادیاں تھیں۔ پانچویں عمر بھر نہ کی، کیوں کہ شرع سے انحراف منظور نہ تھا۔ آہ بھر کر فرماتے جب تک چاروں زندہ ہیں۔ ایک اور کیسے کرلوں۔ شرع میں چار کی اجازت بھی اس شرط کے ساتھ ہے کہ سلوک یک ساں ہو۔ سو الحمد اللہ کہ چاروں کا سلوک ان سے یک ساں تھا۔ لیکن استاد بھی ایسے صابر تھے کہ کبھی حرف شکایت زبان پر نہ لاتے۔ اولاد صرف ایک سے ہوئی۔ امید ہے کہ عزیز مکرم ہدایت علی ان کے فرزند اکبر جو خود بھی موزوں طبع ہیں اور فراغ تخلص کرتے ہیں، اپنے والد کے صحیح جانشین ثابت ہوں گے۔

رسمی تعلیم ان کی زیادہ نہیں۔ صفائے باطن کے مراحل فقیروں کے تکیوں اور قوالی کی محفلوں میں طے کیے۔ یہ معلوم کر کے خوشی ہوئی کہ استاد مرحوم کے وصال کے بعد سر عام شراب پینا انھوں نے ترک کر دیا ہے۔ اور افیم بھی اب اعتدال سے کھاتے ہیں۔ یہ بھی اپنے نامی والد کی طرح رُپے کو ہاتھ کا میل سمجھتے ہیں۔ لہٰذا تعزیت کے خط کے جواب میں فوراً پانچ سو رُپے منگوا بھیجے۔

راقم نے لکھا کہ عزیزی اس خانوادے پر متاع دل و جان نثار کر چکا ہوں۔ رُپیا کیا پیچھے رہ گیا؟ تم یوں کرو کہ استاد مرحوم کی قبر پر سبز چادر چڑھا کر بیٹھ جاؤ۔ خدا برکت دے گا۔ اور وہیں رزق پہنچا دیا کرے گا۔ اور اگر فتح علی، مبارک علی راضی ہو جائیں تو سبحان اللہ۔ سال کے سال عرس سراپا قدس کا اہتمام بھی کرو۔ معلوم نہیں یہ خط ان کو ملا کہ نہیں کیوں کہ پھر جواب نہیں آیا اور راقم کو بھی مکروہات دینوی سے اتنی فرصت نہ ملی کہ دوبارہ خط لکھتا۔

(از: خمار گندم)

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5