استاد مرحوم
استاد مرحوم کو رباعی، قصیدہ، غزل وغیرہ کے علاوہ تضمین سے خاص دل چسپی تھی۔ میونسپلٹی کے چیئرمین کے بچے کے ختنے پر جو دھوم دھامی مشاعرہ ہوا۔ اس کے لیے آپ نے غالبؔ کی غزل کی مخمس میں تضمین کی تھی۔ اس پر بے انتہا داد ملی۔ جب یہ بند کے چوتھے اور پانچویں مصرع پر آتے لوگ سبحان اﷲ اور جزاک اﷲ کے ڈونگرے برساتے۔
یہ سچ ہے کہ استاد مرحوم کا نام اتنا مشہور نہ ہوا جتنا ان کے ہم عصروں اقبالؔ، حفیظؔ، جوشؔ وغیرہ کا۔ بات یہ ہے کہ یہ زمانہ پروپیگنڈےکاہے اور استاد مرحوم نام و نمود اور چھپنے چھپانے کے قائل نہ تھے۔ ایک بار راقم نے استاد مرحوم کے ایما پر ان کی کچھ غزلیں مختلف رسالوں کو بھجوائی تھیں۔ ان میں سے ایک لالہ چونی لال خستہؔ کے ریواڑی گزٹ میں آب و تاب سے چھپی لیکن باقی واپس آگئیں۔ آیندہ کے لیے منع کر دیا اور اپنی طرف اشارہ کر کے یہ شعر پڑھا:
اے تماشا گاہِ عالم روئے تو!
تو کجا بہرِ تماشا می روی
یہی حال ان کے مجموعوں کا ہوا۔ اپنا کلام مضبوط ولائتی کاغذ پر لکھتے تھے اور جب پورا رجسٹر ہوجاتا تو اس کی جلد بندھوا کر جلد اوّل، جلد دوم وغیرہ لکھ کر الماری میں سجا دیتے۔ مولانا کے ہاں مخطوطات کا بہت بڑا ذخیرہ تھا اور ایک بات میں تو یہ ذخیرہ برٹش میوزیم، انڈیا آفس، خدا بخش لایبریری وغیرہ کے ذخیروں سے بھی ممیز اور فائق سمجھنا چاہیے۔ ان کتب خانوں میں سب مخطوطات پرانے زمانے کے ہیں۔ بعض تو ہزار ہزار سال پرانے۔ خستہ اور بدرنگ۔ ہاتھ لگاو تو مٹی ہو جائیں لیکن استاد مرحوم کے سبھی مخطوطات نہایت اچھی شکل میں تھے اور زیادہ تر ان کے اپنے ہاتھ کے لکھے ہوئے بیسویں صدی کے، مخطوطات کا اتنا بڑا ذخیرہ غالباً کسی کے پاس نہ ہوگا۔
استاد کی چیزیں جو طباعت کے عیب سے آلودہ نہ ہوئیں، اسے بھی راقم مصلحت خداوندی سمجھتا ہے۔ اگر سبھی چیزیں چھپ جایا کریں تو قلمی نسخے کہاں سے آیا کریں اور قلمی نسخے نہ ہوں تو لوگ ریسرچ کس چیز پر کریں اور ریسرچ نہ ہو تو ادب کی ترقی رک جائے اور پی ایچ ڈی نقاد پیدا ہونے بند ہوجائیں۔
راقم نے ایک بار عرض کیا کہ ان نوادر کو تو کسی ریسرچ لایبریری میں ہونا چاہیے۔ فرمایا۔ میرا اپنا یہی خیال تھا اور میں نے پنجاب یونیورسٹی لایبریری کو لکھا بھی تھا اور مسودات کی فہرست منسلک کی تھی۔ ان بے چاروں نے شکریہ ادا کیا۔ لیکن معذرت کی کہ فی الحال ہماری لایبریری میں جگہ کی کمی ہے البتہ نعمت اﷲ کباڑی مرحوم کہ دہلی کے ایک علم دوست گھرانے سے تعلق رکھتے تھے، اکثر ان کے گھر کے چکر کاٹتے تھے اور مخطوطات جدید و مفید کا یہ سارا ذخیرہ اٹھانے کو تیار تھے۔ اماں بی یعنی استاد مرحوم کی منجھلی اہلیہ نے کئی بار کہا بھی کہ اس وقت اچھا بھاو جارہا ہے۔ تلوا دو لیکن استاد مرحوم نے کبھی لالچ گوارا نہ کیا۔ جواب دیا تو یہی کہ میرا مقصد جلب منفعت نہیں، خدمت ادب ہے۔
استاد مرحوم کا خط نہایت پاکیزہ اور شکستہ تھا۔ کسی خاص صنعت میں لکھتے تھے۔ جس کا نام اس وقت راقم کے ذہن سے اتر گیا ہے۔ خوبی اس کی یہ ہے کہ صرف لکھنے والا اسے پڑھ سکتا ہے۔ راقم التحریر کے املا میں بھی جو لوگوں کو یہ خصوصیت نظر آتی ہے، ادھر ہی کا فیضان ہے۔
طبیعت میں ایجاد کا مادہ تھا۔ لکیر کے فقیر نہ تھے۔ اب اسی لفظ فیضان کو لیجیے۔ اسے وہ ظ سے لکھتے تھے۔ ایک بار طوطا رام صیاد نے اس پر اعتراض بھی کیا۔ یہ صاحب ہوشیار پور کے رہنے والے تھے اور معمولی تعلیم یافتہ تھے۔ استاد مرحوم نے چمک کر جواب دیا۔ یہ ہماری زبان ہے پیارے۔ ہم جیسا لکھیں گے وہی سند ہو گا۔ ماسٹر جی اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔ بعد میں راقم کو استاد مرحوم نے ایک مستند قلمی نسخے میں فیضان ظ سے لکھا ہوا دکھایا۔ اس نسخے کا نام یاد نہیں۔ لیکن کم از کم پچیس سال پرانا ہو گا اور خود استاد مرحوم کے ہاتھ کا لکھا ہوا تھا۔ ان شہادتوں کے باوجود وسیع القلب اتنے تھے کہ آخر عمر میں فرمایا کرتے۔ ض سے لکھنا بھی غلط نہیں۔ اسی طرح بہت سے اور الفاظ تھے۔ جن کا تلفظ اور املا وہ رواج عام سے ہٹ کر کرتے تھے۔ کوئی انگشت نمائی کرتا تو جواب دیتے کہ ہمارے گڑ گاوں میں یونھی لکھتے اور بولتے ہیں۔ معترض چپ ہو جاتا۔
استاد مرحوم کے اوصاف حمیدہ کا حال لکھنے کے لیے ایک دفتر چاہیے۔ اس مضمون میں اس کی گنجایش نہیں۔ مختصر یہ کہ دریا دل آدمی تھے۔ کوئی شخص کوئی چیز پیش کرتا تو کبھی انکار نہ کرتے۔ دوسری طرف اس بات کا خیال رکھتے کہ کسی کے جذبات کو ٹھیس نہ لگے۔ کوئی سائل یا حاجت مند آتا تو نہ صرف یہ کہ خود کچھ نہ دیتے۔ دوسروں کو بھی منع کر دیتے تھے کہ یہ بھی تمھاری طرح انسان ہے۔ اس کی خود داری مجروح ہو گی۔ اس شخص کو پند نصائح سے مطمئن کر کے بھیج دیتے۔
استاد مرحوم کی طبیعت خوشامد سے نفور تھی۔ راقم کو معلوم نہیں کہ محکمہ تعلیم کے افسروں اور ڈپٹی کمشنر کے علاوہ، کہ حاکم ضلع ہونے کے لحاظ سے اولو الامر کی تعریف میں آتے ہیں۔ انھوں نے کبھی کسی کا قصیدہ کہا ہو، البتہ کسی افسر یا سیٹھ کے ہاں شادی ہو تو سہرا کہہ کر لے جاتے اور ترنم سے پڑھ کر سناتے۔ فرماتے یہ وضع داری ہے۔ اس کا انعام کسی نے دے دیا تو لے لیا ورنہ اصرار نہ کرتے۔ اشاعت تعلیم سے دل چسپی تھی۔ چناں چہ ہیڈ ماسٹر صاحب اور انسپکٹر تعلیمات کے بچوں کو پڑھانے جایا کرتے تھے۔
استاد مرحوم کا مسلک صلح کل تھا۔ جس زمانے میں مولوی محمد عمر انسپکٹر تعلیمات تھے یہ تنظیم اہل سنت کے جلسوں میں باقاعدگی سےشریک ہوتے تھے۔ ان کی جگہ ظلّ حسنین امروہوی آئے تو اِن کو تنظیم سے شکایتیں پیدا ہو گئیں۔ اور اثنا عشری مسجد میں دیکھے جانے لگے۔ اہل بیت کے جو مرثیے ان کے دیوان میں ہیں، اسی زمانے کے ہیں۔ کچھ دنوں قاضی نور احمد کا تقرر بھی اس خدمت پر رہا۔ یہ قادیانی احمدی تھے۔ استاد مرحوم ان دنوں برملا فرماتے کہ مجھے تو اگر اسلام کی سچی روح کہیں نظر آتی ہے تو انھی کے ہاں۔ اس سال عید کی نماز انھوں نے احمدیوں کی مسجد میں پڑھی۔ فرماتے سبھی خدا کے گھر ہیں۔ کوئی فرق نہیں۔ پنڈت رادھے شیام ہیڈ ماسٹر ان سے ہمیشہ خوش رہے۔ انھیں استاد مرحوم ہی سے معلوم ہوا تھا کہ کرشن جی باقاعدہ نبی تھے اور تورات میں ان کی آمد کا ذکر ہے۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

