استاد مرحوم


موسیقی سے شغف تھا اور گلے میں نور بھی تھا۔ لیکن محلے والے اچھے نہیں تھے۔ استاد کی خواہش تھی کہ شہر سے باہر تنہا کوئی مکان ہو تو دل جمعی سے تکمیل شوق کریں۔ ویسے کبھی کبھی محفل میں ہارمونیم لے کر بیٹھ جاتے تھے کہ یہی ان کا محبوب ساز تھا۔ اور سہگل مرحوم کی مشہور غزل ’’نکتہ چیں ہے غم دل اس کو سنائے نہ بنے‘‘، سنانی شروع کر دیتے۔ ایسے موقع پر نکتہ شناس لوگ آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارے کر کے ایک ایک کر کے اُٹھ جاتے کیوں کہ اس فن کے ریاض کے لیے تنہائی ضروری ہے۔

استاد مرحوم ہاتھ دیکھنے میں ید طولیٰ رکھتے تھے اور طبیب حاذق بھی تھے۔ آخر میں طبابت تو انھوں نے ترک کر دی تھی۔ کیوں کہ ایک مریض کے رشتہ داروں نے جو ان کے زیر علاج تھا اور ان کی تیر بہدف دوا ’حکمی‘ کی ایک خوراک کھانے کے بعد خالق حقیقی سے ملا تھا، بے وجہ ایک فساد کھڑا کر دیا تھا اور نوبت پولیس تھانے تک پہنچی تھی۔

دست شناسی کا شوق البتہ جاری رہا۔ طبابت کی طرح اس فن میں بھی نہ کسی کے شاگرد تھے نہ کوئی کتاب پڑھی۔ خود فرماتے مبدا فیاض کی دین ہے۔ ماضی کا حال نہایت صحت سے بتاتے۔ لیکن اجنبیوں کا ہاتھ دیکھنا پسند نہ کرتے تھے۔ انھی سے کھلتے جن سے دیرینہ واقفیت اور رسم و راہ ہوتی۔ مستقبل کے بارے میں ان کا اصول تھا کہ لوگوں کو صحیح بات نہ بتانی چاہیے۔ ورنہ ان کا تقدیر اور عالم غیب پر سے ایمان اُٹھ جاتا ہے۔ اس فن سے ان کی آمدنی خاصی تھی اور اسی پر قانع تھے۔ اسکول کی تن خواہ بچا کر خدا کر راہ میں لوگوں کو سود پر دے دیتے تھے۔

ایسی دیدہ زیب شخصیتیں چشم فلک نے کم ہی دیکھی ہوں گی جیسے استاد چراغ رحمتہ اللہ علیہ تھے۔ قد پانچ فٹ سے بھی نکلتا ہوا۔ جسم بھرابھرا خصوصاً کمر کے آس پاس۔ سر پر میل خورے کپڑے کی ٹوپی اور اس کے ساتھ کی شیروانی۔ راقم نے کبھی ان کو ٹوپی کے بغیر نہ دیکھا۔ ایک بار خود ہی فرمایا کہ ایک تو یہ خلاف تہذیب ہے۔ دوسرے کوّے ٹھونگیں مارتے ہیں۔ ٹانگیں چھوٹی چھوٹی تھیں۔ جس کی وجہ سے چال میں بچوں کی سی معصومیت تھی۔ رنگ سرمئی، آنکھیں سُرخ و سفید اور پھر جلال ایسا کہ مائیں دیکھ کر بچوں کو چھپا لیتی تھیں۔ دانت تمباکو خوری کی کثرت سے شہید ہو گئے تھے۔ لہٰذا تمباکو چھوڑ دیا تھا۔ فقط نسوار کا شوق رکھا تھا۔ چشمہ لگاتے تھے لیکن ہماری طرح چشمے کے غلام نہ تھے۔ بالعموم اس کے اوپر سے دیکھتے تھے۔

سرخ کمربند میں چابیوں کا گچھا چاندی کے گھنگھرووں کی طرح بجتا۔ دور ہی سے معلوم ہو جاتا کہ حضرت تشریف لا رہے ہیں۔ ایک ہاتھ میں چھہ انگلیاں تھیں۔ اس لیے گیارہ تک با آسانی گن لیتے تھے۔ حواس پر ایسا قابو تھا کہ جس محفل میں چاہتے بیٹھے بیٹھے سو جاتے اور خراٹے لینے لگتے۔ پھر آپ ہی آپ اُٹھ بھی بیٹھتے۔ کھانے کا شوق ہمیشہ سے تھا۔ خصوصاً دعوتوں میں۔ فرماتے کھانے میں دو خوبیاں ہونی چاہیں۔ اچھا ہو اور بہت ہو۔ کھانے کے آداب کا ذکر کرتے تو فرماتے کہ سب سے پہلے شروع کرو اور سب سے آخر میں ختم کرو۔

جس ضیافت میں استاد مرحوم ہوتے، لوگ کھاتے کم اور ان کی طرف رشک سے دیکھتے زیادہ تھے لیکن یہ جوانی کی باتیں ہیں۔ آخر عمر میں پرہیزی کھانا کھانے لگے۔ میزبان کے ہاں پہلے سے کہلوا دیتے کہ یخنی وغیرہ کا انتظام کر لینا اور میٹھے میں سوائے حلوے کے اور کچھ نہ ہو۔ چوزے کے متعلق فرماتے کہ زود ہضم ہے، خون صالح پیدا کرتا ہے۔ دال سے احتراز فرماتے کہ نفخ پیدا کرتی ہے۔

بذلہ سنجی استاد مرحوم کی طبیعت میں ایسے تھی جیسے باجے میں راگ، جیسے تلوار میں جوہر۔ ’’لطائف بیربل و ملا دو پیازہ‘‘ کے سب لطیفے نوک زبان تھے۔ ان سے محفلوں کو گرماتے تھے۔ سچ تو یہ ہے کہ لطیفوں کی تخصیص نہیں، لوگ ان کی دوسری باتوں پر بھی ہنستے تھے۔

ایسا بڑا آدمی اور سادگی کا یہ عالم کہ کبھی خیال نہ کیا کہ لباس میلا ہے یا پیوند لگا ہے۔ فرماتے انسان کا مَن اُجلا ہونا چاہیے تن تو ایک عارضی چولا ہے۔ اس مضمون کا کبیر کا ایک دوہا بھی پڑھتے۔ کپڑا پہننے کا سلیقہ تھا۔ ایک کالی اچکن کو پورے بیس سال تک چلایا۔ جب سردی آتی۔ اس کو جھاڑ کر پہن لیتے۔ فرماتے کپڑے کے دشمن دو ہیں۔ دھوبی اور استری۔ واقعی سچ ہے۔ یہ اچکن جو آخر میں ملگجے رنگ کی ہو گئی تھی اور دور سے چرمی نظر آتی تھی، دھوبی اور استری کے ہتھے چڑھ جاتی تو کبھی کی غارت ہو گئی ہوتی۔

ایک روز اسے پہنے راقم کے ہم راہ کسی قوالی میں جا رہے تھے۔ قوالی کرنے نہیں، سننے، کہ چوراہے پر رکنا پڑا۔ ایک مرد شریف نے نہ جانے کیا خیال کر کے ان کے ہاتھ پر ٹکا رکھ دیا۔ راقم کچھ کہنے کو تھا کہ استاد مرحوم نے اشارے سے منع کر دیا اور ٹکا جیب میں ڈال لیا۔ یہی حال جوتے کا تھا۔ فرماتے جوتا ایسی چیز ہے کہ کبھی ناکارہ ہو ہی نہیں سکتا۔ تلا پھٹ جاتا تو نیا لگوا لیتے۔ اوپر کا حصہ پھٹ جاتا تو اسے بدلوا لیتے۔ داڑھی مہاراجا رنجیت سنگھ کی طرح پر رُعب، گھنی اور لمبی۔ اسے ترشواتے نہیں تھے۔ فرماتے خدا کا نور ہے۔ بعض لوگوں کو گمان تھا کہ پیسا بچانے کے لیے ایسا کرتے ہیں لیکن یہ غلط ہے۔ ان کے پاس پیسے بہت تھے اور جمع کرنے کا شوق بھی تھا لیکن پیسے کی طمع ان میں نہ تھی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5