قائد اعظم ایک لبرل پاکستان چاہتے تھے: گورنر سندھ

کراچی کے گورنر ہاؤس میں وزارتِ اطلاعات کی جانب سے پاکستان کی پہلی فلم پالیسی بنانے کے لیے تمام فلم کے شعبے سے متعلق افراد سے مشاورت کے لیے پہلا باضابطہ اجلاس منعقد ہوا جس میں فلمی صنعت سے وابستہ افراد شریک ہوئے۔ اس موقع پر سندھ کے گورنر محمد زبیر نے کہا کہ قائدِ اعظم محمد علی جناح ایک لبرل اور برداشت پر مبنی پاکستان چاہتے تھے اور ان کی گیارہ اگست کی تقریر اس بات کی گواہ ہے کہ انہوں نے مسجد اور مندر کا نام ایک ہی ساتھ لیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ 70 سال کے سفر کے بیچ میں ہم نے قائد اعظم کے پاکستان کو انتہا پسندی کا پاکستان بنا ڈالا اور وہ پیغام ہی بدل دیا۔ اس طرح جب بندوق ہماری کنپٹی پر رکھی گئی تب ہمیں خیال آیا کہ ہم نے بہت سی جگہ انتہا پسندی کو سونپ دی ہے۔
گورنر سندھ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں فلموں کی نمائش میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کی انہوں نے بہت کوشش کی۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے اعلیٰ ترین سطح پر کہا کہ وہ ماہرہ خان والی فلم پاکستان میں لگنی چاہیے اور وزیرِ اطلاعات مریم اورنگزیب گواہ ہیں کہ میں نے بہت کوشش کی اگرچہ یہ کوشش بارآور ثابت نہیں ہوئی۔
اس موقع پر وزیرِ اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان میں فلمیں سیاحت کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے بچے بِگ بین کی تصویر پہچانتے ہیں مگر روہتاس کے قلعے کا انہیں نہیں معلوم۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں حکومت کئی ماہ سے کام کر رہی ہے اور اسی لیے اب اس مشاورت کا باقاعدہ عمل شروع کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں ہم زیادہ تر فلمیں درآمد کر رہے ہیں اور اس میں بھی بہت مسائل کا سامنا رہتا ہے جبکہ مقامی صنعت کو حکومت کی جانب سے کسی قسم کی مراعات حتٰی کہ ٹیکس میں چھوٹ تک نہیں دی جا رہی اور یہ حکومت اس کو بدلنا چاہتی ہے۔
انہوں نے کہا اس وقت ہم اپنے مقامی طور پر تیار کیے گئے مواد کے بارے میں پراعتماد نہیں ہیں جس کی وجہ سے عدم تحفظ کا شکار ہیں اور جھنڈے اور ترانے پر بھی اعتراض کر دیا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ وزارتِ اطلاعات کی جانب سے فلم پالیسی کے لیے منعقد یہ اجلاس سنیچر کو بھی جاری رہے گا جس میں فلم سے تعلق رکھنے والے مختلف افراد حکومت کو اپنی رائے سے آگاہ کریں گے۔

