عیدگاہ شریف کے پیر صاحب نے جسٹس طارق مسعود سے معافی مانگ لی


مورخہ 27 مئی کو تھانہ کالیکی منڈی ضلع حافظ آباد میں ایک ایف آئی آر درج کرائی گئی جس کے مطابق سپریم کورٹ کے جج عزت مآب سردار طارق مسعود اپنی فیملی کے ہمراہ موٹروے پر اپنی کار میں جا رہے تھے۔ سب انسپکٹر محمد اسلم کی جانب سے درج کردہ ایف آئی آر کے مطابق جسٹس طارق مسعود اور ان کے بیٹے نے موٹروے پولیس کی پیٹرولنگ کار کو روک کر بتایا ”کہ کچھ دیر قبل ایک لینڈ کروزر اور ایک سیاہ کرولا نے میری کار کو ہٹ کرنے کی کوشش کی جو میری گاڑی کے آگے آ کر رک گئے اور میری گاڑی کو زبردستی رکوا لیا۔ لینڈ کروزر میں سے دو لوگ باہر آئے۔ ایک سیاہ لباس میں ملبوس باریش نوجوان آدمی تھا جس نے واسکٹ پہن رکھی تھی اور سر پر ٹوپی تھی جب کہ دوسرا شخص ادھیڑ عمر ہلکی داڑھی والا تھا جو لینڈ کروزر کا ڈرائیور تھا اور خاکی کپڑوں میں ملبوس تھا اور جبکہ کار میں 4 جوان سوار تھے جو شلوار قمیض میں ملبوس تھے اور میری گاڑی پر حملہ کر دیا۔ گاڑی کو ٹھڈے اور مکے مارنے لگے اور گاڑی کو نقصان پہنچانا شروع کر دیا۔ مجھے اور میری فیملی کو دھمکاتے اور ہراساں کرتے رہے اور چلتے روڈ پر اپنی دہشت کا مظاہرہ کیا۔ نتیجہ ہمیں دہشت زدہ کر دیا اور بالآخر میں خوف میں مبتلا ان سے جان بچا کر نکل آیا ہوں۔ میرے ساتھ بہت زیادتی ہوئی ہے۔ ان اشخاص نے سرعام بلاوجہ مجھے اور میری فیملی کو ذہنی اذیت پہنچائی ہے اور ہمارے ساتھ دہشت گردی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ایسی صورت حال میں کوئی بڑا حادثہ بھی رونما ہو سکتا تھا، کسی کی جان بھی جا سکتی تھی جس کی اطلاع میں نے 130 پر بھی کی ہے اور آپ کے پاس رک کر بتا رہا ہوں۔ جس طرح ان لوگوں نے مجھ پر حملہ کیا ہے سراسر دہشت گردی ہے۔ ایک شریف آدمی جو موٹروے پر اپنی فیملی کے ہمراہ سفر کر رہا ہو اس کو روڈ پر ہراساں کیا گیا اور دہشت گردی پھیلائی۔“

اسی دوران کرولا ان کے قریب آ کر رکی اور اس میں سے 4 اشخاص باہر نکلے اور موبائل اور جج صاحب کی گاڑی کے قریب آئے جس پر جج صاحب نے ان کو پہچان لیا۔ لینڈر کروزر کو بھی رکنے کا حکم دیا گیا مگر وہ فرار ہو گئی جسے سیال موڑ کے قریب روکا گیا اور اس میں سوار دونوں اشخاص کو گرفتار کر لیا گیا جن میں لینڈر کروزر کا ڈرائیور اور پیر حسان حسیب الرحمان ولد پیر نقیب الرحمان ساکن دربار عالیہ عید گاہ شریف راولپنڈی شامل تھے۔

ان افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے ان کو انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں جج خالد بشیر صاحب نے ملزمان کو بیس روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔ اس موقع پر عدالت نے پراسیکیوٹر کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے مقدمے میں اقدام قتل کی دفعہ324 ت پ بھی شامل کر لی۔

اطلاعات کے مطابق بااثر پیر صاحب سے صلح کرانے کی خاطر بااثر شخصیات اور وزرا نے بھی دباؤ ڈالا۔ سوشل میڈیا پر اس واقعے پر عوام کی عمومی رائے یہ تھی کہ ملزم پیر نقیب الرحمان صاحب کی طاقت اتنی زیادہ ہے کہ ان کے بیٹے کو سزا نہیں ہو گی۔ لیکن سپریم کورٹ کے معزز جج جناب جسٹس سردار طارق مسعود صاحب کسی دباؤ کو خاطر میں نہیں لائے ہیں جس کا ثبوت آج روزنامہ ایکسپریس پر صفحہ اول پر اشتہار کی صورت میں پیر نقیب الرحمان صاحب درگاہ عالیہ عید گاہ شریف کی طرف سے ایک شائع کیا جانے والا معافی نامہ ۔ اس کے الفاظ یہ ہیں:

”معافی نامہ

میں پیر محمد نقیب الرحمن درگاہ عالیہ عید گاہ شریف، جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب میرے بیٹے حسان حسیب الرحمن نے جو واقعہ سپریم کورٹ کے معزز جج جناب جسٹس سردار طارق مسعود صاحب اور ان کی فیملی کے ساتھ کیا اس پر شرمندہ ہوں جس کے متعلق ایف آئی آر نمبر 136 بتاریخ 28-05-2017 بمقام تھانہ کالیکی منڈی حافظ آباد میں درج ہوئی ہے اور میرے بیٹا (بعینہ) اس سلسلے میں حوالات میں بند ہے۔ میں اپنی طرف سے اور اپنے بیٹے حسان حسیب الرحمن کی طرف سے جناب جج صاحب اور ان کی فیملی سے معافی کا خواستگار ہوں اور بطور ہرجانہ میں نے پانچ پانچ لاکھ روپے ایدھی ویلفئیر سینٹر اور فیض الاسلام یتیم خانہ راولپنڈی میں جمع کرا دیے ہیں جن کی رسیدوں کا عکس لف ہے۔ راولپنڈی ڈویژن کے وکلا کی جو دل آزاری ہوئی ہے اسکے لئے بھی معذرت خواہ ہوں“۔

عام افراد کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اقدام قتل اور دہشت گردی کی دفعات لگنے کے بعد صلح نامے کی گنجائش موجود ہے؟

یاد رہے کہ پچھلے برس حسان حسیب الرحمن صاحب اپنی شادی کی وجہ سے خبروں کی زینت رہے تھے جس میں روپیہ پانی کی طرح بہایا گیا تھا اور اسے پاکستان کی مہنگی ترین شادی قرار دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں: جسٹس طارق مسعود اور ان کے اہل خانہ پر حملہ کرنے والا پیر حسان حسیب الرحمان کون ہے ؟

Facebook Comments HS

Comments are closed.