آیت اللہ خمینی کے مزار پر خودکش حملہ


ایرانی میڈیا کے مطابق مسلح افراد نے تہران میں واقع پارلیمان کی عمارت کے علاوہ انقلابِ ایران کے بانی آیت اللہ خمینی کے مزار کو نشانہ بنایا ہے اور ان حملوں میں چند افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق کم از کم ایک حملہ آور نے پارلیمان کے اندر گھس کر فائرنگ کی جس سے ایک محافظ زخمی ہوا۔ اس واقعے میں مزید افراد کے زخمی ہونے کی متضاد اطلاعات ہیں۔ اس واقعے کے ساتھ ہی تہران کے جنوبی علاقے میں واقع آیت اللہ خمینی کے مزار پر کم از کم تین حملہ آوروں نے دھاوا بولا۔ نیم سرکاری خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ ان میں سے دو نے زائرین پر فائرنگ کی جبکہ تیسرے نے خود کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا۔ ایک عینی شاہد نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ پارلیمان میں پیش آنے والا واقعہ اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے اور اب ڑی تعداد میں سکیورٹی اہلکار پارلیمان کے اندر اور باہر موجود ہیں۔

ایران کی ایرب نیوز ایجنسی نے پارلیمان کے ایک رکن الیاس حضراتی کے حوالے سے کہا ہے کہ پارلیمنٹ پر متعدد افراد نے حملہ کیا جنھوں نے کلاشنکوفیں اٹھا رکھی تھیں۔ انھوں نے بتایا کہ دو حملہ آور کلاشنکوفوں سے مسلح تھے جبکہ ایک کے پاس پستول تھا۔ خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ حملے میں دو سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔ اطلاعات کے مطابق بظاہر پارلیمان اور مزار پر ایک ہی وقت میں حملہ ہوا۔ تاحال کسی گروپ کی جانب سے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے۔

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp