نام میں بہت کچھ ہے


 ولیم شیکسپئیر نے کہا تھا ’ نام میں کیا رکھا ہے ؟ گلاب کو کسی بھی نام سے پکار لو ، اُس کی مہک کم نہیں ہو گی ‘ ۔ مہاتما گاندھی کے ایک خط کے جواب میں ، جنہوں نے قائد اعظم ، جناح بھائی اور ڈیئر مسٹر جناح میں سے پسندیدہ القاب کے بارے میں پوچھا تھا ، بانیء پاکستان نے شیکسپیئر کا قول دہرا کر انہیں چپ کرا دیا ۔ ایک سبب یہ بھی ہے کہ قائد، مہاتما کے خلاف پنلٹی سٹروک لگانے کا موقع ضائع نہیں کرتے تھے۔1944 ء میں مالابار ہلز میں مذاکرات شروع ہوئے تو صحافیوں اور پریس فوٹو گرافروں کے بے تاب ہجوم کو دیکھ کر گاندھی جی نے کہا تھا ’جناح ، ایمان کی کہو ، تمہیں یہ سب کچھ بہت پسند ہے نا!‘ ۔ ’ ہے تو سہی مگر اُتنا نہیں جتنا تمہیں‘ ۔ پھر گفت و شنید کے دوران قائد نے یہ کہہ کر فیلڈ گول کر دیا کہ21رمضان کو حضرت علیؓ کا یوم شہادت ہے ، سو اُس دن بات چیت نہیں ہو گی۔ پاکستانی قوم بابائے ملت کے لئے جس درجہ عقیدت رکھتی ہے اس کے ہوتے ہوئے کسی کو گماں نہیں گزرتا کہ اُن کا نام محمد علی جناح کے سوا کچھ اور بھی ہو سکتا تھا۔ہاں، ذرا نیچے اتریں تو کام آسان ہو جائے گا ۔ جیسے قائد کے دست راست لیاقت علی خاں کا نام اگر پنجاب کے ایک مسلم لیگی لیڈر کی طرح شیخ کرامت علی ہوتا یا خواجہ ناظم الدین کسی وجہ سے میاں نواز شریف کہلانے لگتے تو شائد لوگوں کو حیرت نہ ہوتی۔ پھر بھی ایسی تبدیلی کا اطلاق ہر کسی پہ نہیں ہو تا۔ مثلاً سردار عبدالرب نشتر کسی صورت آئی آئی چندریگر نہیں بن سکتے تھے، نہ راجہ غضنفر علی کی شخصیت عبدالحمید بھاشانی کے چوکھٹے میں فٹ ہو سکتی۔اسی طرح جس نسل نے منفرد مونچھ والے گورنر مغربی پاکستان، نواب کالا باغ کی امیر محمد خانیاں دیکھی ہیں وہ تصور نہیں کر سکتی کہ مرحوم کا نام اعتزاز احسن یا نجم سیٹھی ہو سکتا تھا ۔

میری بات کا یقین نہ آئے تو راولپنڈی کے نواحی قصبہ ٹیکسلا میں، جسے مقامی باشندوں نے ’شاہواں دی ڈھیری ‘ ہی کہا، بیلوں کی سالانہ اتھلیٹک مِیٹ پر برسوں پہلے سنا یہ کچا پکا قصہ آپ بھی سن لیجئے ۔ کہتے ہیں جب ایک سو بیس سال قید کی سزا سننے والے وادیء سون کے محمد خان ڈاکو کا مقدمہ ابتدائی عدالت میں گیا تو گورنر صاحب نے مجسٹریٹ کو ٹیلی فون پر کہا کہ ’محمد خانے آں بری کر چھوڑ‘ ۔ اُن دنوں قتل اور ڈکیتیوں سمیت ہر طرف محمد خان کے فوجداری جرائم کا چرچا تھا ۔ اس وجہ سے مجسٹریٹ نے جواب دیا کہ یہ آدمی تو بڑا ظالم ہے ، اس نے کئی قتل کئے ہیں۔’وا کیتے ہوسن، پر اجیہے ہیرے مانواں روز روز جمنیاں نیں؟‘ قصہ گو نے ’اللہ بخشے وڈے ملک صاحب‘ سے یہی الفاظ منسوب کئے کہ بھئی ، قتل کئے ہوں گے، مگر بتاؤ کہ محمد خان جیسے ہیِروں کو مائیں روز روز جنم دیتی ہیں‘۔

یہ کہنا تو مشکل ہے کہ ملک امیر محمد خاں کی شخصیت کا طنطنہ محض ان کے نام کی بدولت تھا، لیکن معروف دانشور اور جنرل ایوب کے سکرٹری اطلاعات الطاف گوہر کی تحریروں میں مرحوم کا جو سراپا بیان کیا گیا ہے ، اسے پڑھ کر ان ڈراؤنی فلموں کا خیال ضرور آتا ہے جن کے اشتہار میں لکھا ہوتا تھا کہ کمزور دل اصحاب دیکھنے کی تکلیف نہ کریں۔پھر بھی ہر انسان کی طرح نواب کالا باغ کی طبیعت میں شگفتگی کے پہلو بھی تھے۔جیسے الطاف گوہر کو ، جو ان دنوں مغربی پاکستان کے سکرٹری مالیات تھے،ان کے سیکولر نام کی وجہ سے ’الطاف صابا‘ بروزن بابا کہہ کر بلانا اور ان سے اردو پنجابی کی بجائے انگریزی میں گفتگو کرنا۔

لیکن یہ عقدہ اس وقت کھلا جب گورنر صاحب پر یہ منکشف ہوا کہ الطاف گوہر جدی پشتی سُنی مسلمان ہیں ، ورنہ ان کا کہنا تھا کہ ’میں تو تمہیں نو مسلم ہی سمجھتا رہا‘۔ الطاف گوہر نے ’نوائے وقت‘ میں شائع ہو نے والے اپنے کالموں میں اوپر کا یہ واقعہ مزے لے لے کر بیان کیا ہے۔اِس سے زیادہ مزے کی بات یہ ہے کہ کہ نام کے حوالے سے اس طعنہ زنی کی ابتدا اُن کے دوست اور بعد کی زندگی میں معروف قانون دان اعجاز بٹالوی اُس رات کر چکے تھے جب دونوں کو بغیر لائٹ سائیکل چلانے کے جرم میں،اس وقت کے قانون کے مطابق،پولیس نے لاہور کی مال روڈ پہ روک لیا۔ولیس کے سوال پر اعجاز بٹالوی نے اپنا تعارف تو فرضی طور پر سید اعجاز حسین کہہ کر کرا دیا، مگر جب سنتری نے عام ڈگر سے ہٹا ہوا نام ’ الطاف گوہر‘ سُنا اور اپنی عادت کے مطابق قوم پوچھی تو ’ملزم‘ کے جواب سے پہلے ہی بٹالوی صاحب پکار اٹھے کہ جناب ، نو مسلم ہے ۔

در اصل، الطاف گوہر نے 1920ء کی دہائی میں جب گوجرانوالہ میں دھیان سنگھ کی حویلی کے نواح میں آنکھ کھولی تو اُس وقت تک مسلم شناخت کے بڑھتے ہوئے شعور کی بدولت مخصوص نوعیت کے نام مقبول ہونے لگے تھے۔یعنی جنہیں براہ راست اسلامی روایت یا کسی ایسے خطے سے وابستہ خیال کیا جاسکے جہاں سے مسلمان اپنے علمی ، لسانی اور تمدنی ورثہ سے لدے پھندے برصغیر میں وارد ہوتے رہے۔اِس اثاثے کا کچھ نہ کچھ حصہ تو ہم جیسے مقامی باشندوں کی جھولی میں بھی پڑا جن کے بارے میں اقبال نے کہا ہے کہ ’اصل کا مَیں سومناتی‘۔میرا گمان ہے کہ الطاف گوہر کا ابتدائی نام بھی،جو پیدائشی طور پر راجہ غضنفر علی والے پنڈ دادن خان کے جنجوعہ قبیلے سے تھے ، اپنے والد راجہ تفضل حسین اور چھوٹے بھائی راجہ تجمل کی طرح الطاف حسین رکھا گیا ہو گا، مگر ان کی ’حسینیت‘ ادبی عرفیت میں دب کر رہ گئی ۔

 الطاف گوہر کے معاملے میں ذاتی دلچسپی اِس لئے ہے کہ بحیثیت شاہد ملک خود میرا تعارف بھی ارتقاء کے کئی مرحلوں سے گزرا، لیکن اسباب وہ نہیں جن کی بنا پر کئی لوگ اپنا نام اے آر وکٹر یا ایم بی چودھری رکھ لیتے ہیں۔یوں بھی یہ تبدیلیاں میرے ہوش سنبھالنے سے پہلے کی ہیں اور اگر کالج کے دنوں میں خوامخواہ سیالکوٹ میونسپل کمیٹی یا موجودہ کارپوریشن کے رجسٹر پیدائش و اموات میں جھانکنے کا اتفاق نہ ہوتا تو اصل معلومات مجھ تک کبھی نہ پہنچتیں ۔ متعلقہ دفتر میں خدا جانے میرا کس کام سے جانا ہوا۔بہر حال، وہاں موت اور ولادت کے رجسٹر ترتیب وار پڑے ہوئے تھے ۔ میں نے ایک کلرک کی مدد سے اپنی پیدائش کا سال ، مہینہ اور دن نکالا اور اندراجات دیکھ کر ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔ولدیت، تاریخ پیدائش، نام پتہ سب کچھ میرا، مگر نام لکھا تھا احمد منیر۔یہ احمد منیر کون ہے ؟

پتا نہیں آپ اس ڈرامائی احساس کو سمجھ سکیں گے یا نہیں، لیکن اُس وقت مجھے یوں لگا کہ میں کبھی پیدا ہی نہیں ہوا اور اگر ہوا ہوں تو موٹر کار کی نمبر پلیٹ والے قانون کی طرح خود کو پچھلی ڈیٹ سے ’ریگولرائز‘ کروانا پڑے گا۔گھر پہنچ کر دادی سے پوچھا تو انہوں نے یہ کہانی سنائی کہ پاکستان بننے سے پہلے تمہارے ابا نذیر احمد کے واحد چھوٹے بھائی منیر احمد اسکول میں داخل ہونے کے کچھ ہی دن بعد اچانک بیمار پڑے اور خدا نے انہیں اپنے پاس بلا لیا۔منیر ایک نیک طینت اور ذہین بچہ تھا ، سو اسی کے نام پر تمہارا نام رکھ دیا گیا۔بات سمجھ میں آگئی، مگر دیگر سماجی رجحانات کی طرح ناموں کے رواج بھی بدلتے رہتے ہیں ۔ اللہ دتا ، باغ علی اور فضل الہی کے دور کے بعد محمد سعید ، فضل محمود اور نذیر حسین تو چلتے رہے ، لیکن منیر احمد کی بجائے احمد منیر والی ترتیب ذرا بعد کے دور کی لگتی ہے ۔

جس فکری لہر نے میری ریسرچ کی کشتی کو ساحل پہ پہنچایا وہ میونسپلٹی کے رجسٹر میں میرے اطلاع کنندہ ہیں ، یعنی دادا کے اکلوتے بھائی جو پیر فقیر بزرگ کی دعا سے پیدا ہوئے اور اسی لئے اپنے جنرک نام لالہ سائیں سے پکارے گئے ۔ کچھ کہہ نہیں سکتا کہ ’پرچی‘ بنوانے کے لئے ایک ایسے چٹے ان پڑھ بزرگ کو کیوں روانہ کیا گیا جنہیں یہ بھی علم نہیں تھا کہ ان کا اپنا باضابطہ نام غلام نبی ہے ۔ بعد میں لالہ جی سے کئی موضوعات پر ڈُونگھی باتیں کرنے کا موقع ملا تو مجھے یقین ہو گیا کہ منیر احمد کو اُس اصول کی رو سے نا دانستہ احمد منیر کر دیا گیا تھا جس کے تحت پرانے لوگ ایک روپیہ چھ آنے کو چھ آنے ایک روپیہ اور عبد الخالق کو خالق عبدل کہا کرتے ۔ پتا نہیں اب ہمارے صوبے میں اِس اصول کی پیروی میں ٹیشن ریلوے ، فارم پلیٹ اور کولا کوکا جیسی تراکیب بولنے والے کتنے لوگ باقی رہ گئے ہیں ۔

میرے نام کی موجودہ شکل میں کوئی خاص پیچیدگی نہیں ، سوائے اس کے بچپن میں شاہد نذیر ملک کا ایک درمیانی وقفہ بھی آیا ، جس کا سراغ میں نے والدین کی مدد کے بغیر ایک دستاویزی شہادت سے لگایا تھا ۔ ہفت روزہ ’قندیل‘ کے اندرونی سر ورق پر ’شخصیات‘ کے زیر عنوان ساڑھے پانچ ماہ عمر کے ایک بچے کی تصویر جسے 1953 ء کے عالمی یوم صحت پر ایک ’بے بی شو‘ میں پہلا انعام ملا ۔ بچے کی صحت میں کوئی غیر معمولی بات دکھائی نہیں دیتی ، اس لئے ہو سکتا ہے کہ انعام کا جواز ایسے اسباب ہوں جن کی بنا پر انسان جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے پہ مجبور ہو جاتا ہے ۔ باقی ، سکول میں داخل ہونے سے پہلے اور بعد مجھے اپنی جو واحد عرفیت یاد پڑتی ہے وہ موجودہ نام ہی ہے ، جس کی ’لادینیت‘ نے الطاف گوہر کی سی صورتحال سے دوچار تو نہ کیا ، لیکن اِس حوالے سے کچھ دلچسپ مغالطے ضرور وجود میں آئے۔

ایک تو پہلی بار بھارت پہنچتے ہی نئی دہلی کے ہوائی اڈے پر میرے کچھ ’اوصاف حمیدہ‘ ایک سفارتکار کے مشابہہ نکل آئے ، جس پہ مجھے اور میرے ساتھیوں ظفر عباس اور رحیم اللہ یوسف زئی کو قدرے ’ٹف ٹائم‘ ملا ۔ کئی سال بعد ’سولو سرکس ‘ کرنے والے ایک شاہد ملک کی تصاویر کے ساتھ بی بی سی نیوز روم سے مجھے لاہور میں یہ تہنیتی پیغام ملا ’ ہمیں علم نہیں تھا کہ نامہ نگاری کے علاوہ آپ یہ کام بھی خوبصورتی سے کرتے ہیں‘ ۔ اسی طرح ایک سابق برطانوی وزیر بھی نام کی مشابہت کی بدولت میری شہرت کا باعث بنتے رہے ۔ لیکن لینڈ لائنوں کے عہد کی وہ فون کال کبھی نہیں بھولے گی جسے سن کر مَیں نے اتنا ہی کہا ہی تھا کہ نہیں ، میں سمن آباد والا شاہد ملک نہیں کہ میرے دوسرے فون پر وہی اجنبی آواز دوبارہ گونجی ’ یار ، ایک منٹ پہلے تمہارے بھلیکھے میں نے ایک اور شاہد ملک کو فون کر دیا تھا ‘۔

آج آزادی نسواں کے عہد میں عکاشہ ، راکنہ اور شزا جیسے نئے ناموں کا دور دورہ ہے اور ’بجنگ آمد‘ کے مصنف کرنل محمد خاں جیسے نام واقعی ’کاشتکارانہ‘ سے معلوم ہوتے ہیں ۔ پھر بھی کرنل صاحب کی طرح ، مَیں بھی سروش ، نسرین یا تسنیم جیسا ’اپ ٹو ڈیٹ‘ تخلص چسپاں کرنے کا خطرہ مول نہیں لینا چاہتا کہ اِن ماڈرن ناموں سے ، بقول کرنل محمد خاں ، نر مادہ کا پتا ہی نہیں چلتا اور ایک کھٹکا سا رہتا ہے کہ کہیں اٹھتے بیٹھتے ، انگڑائی لیتے صنف میں خلل نہ آجائے ۔ ذاتی بات کروں تو میرے نام کا براہ راست ٹکراؤ بری فوج کی بجائے فضائیہ کے ایک افسر سے ہے ، جو اب پنشن کے مرحلے پہ پہنچ چکے ہیں ۔ چنانچہ ، اِس سے پہلے کہ انٹلکچول پراپرٹی کے قانون کی رو سے گلاب کو سچ مچ کسی اور پھول سے موسوم کر دیا جائے ، بہتر یہ ہوگا کہ مَیں ہی سیالکوٹ کا چکر لگاؤں اور بلدیہ کے دفتر سے شاہد ملک کی جگہ احمد منیر کے نام کی پرچی لے آؤں ۔

بشکریہ روزنامہ پاکستان

Facebook Comments HS