کوئٹہ میں آئی جی پولیس کے دفتر کے قریب دھماکہ، کم از کم نو افراد ہلاک


صوبہ بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں انسپیکٹر جنرل پولیس کے دفتر کے قریب دھماکہ ہوا ہے جس میں کم از کم نوافراد ہلاک جبکہ 10 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ دھماکہ کوئٹہ میں گلستان روڈ پر واقع جناح چیک پوسٹ کے قریب ہوا۔ حکومت بلوچستان کے ترجمان انوار الحق کاکڑ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گلستان روڈ پر واقع شہدا چوک کے قریب جناح پوسٹ پر گاڑی کو رکنے کے لیے اشارہ کیا گیا جس پر دھماکہ ہوا۔ انھوں نے بی بی سی اردو کے نامہ نگار محمد کاظم سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس دھماکے میں نو افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 10 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ خودکش دھماکہ ہی لگتا ہے لیکن حتمی طور پر مزید تحقیقات کے بعد ہی کہا جا سکے گا۔ ڈپٹی کمشنر محمد عتیق کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے واقعے کے بارے میں مخصوص اطلاع نہیں تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ جس جگہ یہ دھماکہ ہوا ہے یہ حساس علاقہ ہے جہاں سکیورٹی سخت ہوتی ہے۔ کوئٹہ کے سول ہسپتال اور بولان میڈیکل کالج میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ محمد عتیق کے مطابق زخمیوں کو سول ہسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں پر تمام ڈاکٹرز موجود ہیں۔ ڈی آئی جی پولیس عبدالرزاق چیمہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت حملہ آور کے ہدف کے بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے۔ انھوں نے کہا کہ گاڑی میں سوار حملہ آور کو جب روکنے کا اشارہ کیا گیا تھا۔ اس چوک اور اس کے قریب پہلے بھی بم دھماکے ہوتے رہے ہیں۔ سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔
متعلقہ عنوانات

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp