ہم مبالغے کے بادشاہ ہیں

تو کیا خوشامد ‘ کاسہ لیسی اور مبالغہ اس خطے کی سرشت میں شامل ہے۔ پچھلے دنوں ایک محفل میں کسی صاحب نے قصہ سنایا کہ لاہور بھر میں جو توڑ پھوڑ جاری ہے‘ سڑکوں کے جال زبردستی بچھائے جا رہے ہیں تو ایک میٹنگ کے دوران حاکم اعلیٰ سے گزارش کی گئی کہ حضور سڑکیں بے شک تعمیر کی جا رہی ہیں لیکن لاہور بھر میں ان کے کناروں پر بہت کم فٹ پاتھ بنائے گئے ہیں۔ جو پیدل چلنے والوں کے لیے ضروری ہیں۔ بہت سارے حادثات ہو چکے ہیں صرف اس لیے کہ فٹ پاتھ غائب ہو گئے ہیں اور پیدل چلنے والے ٹریفک کی زد میں آ جاتے ہیں تو پیدل چلنے والے کہاں جائیں۔ دروغ برگردنِ راوی۔ میٹنگ میں موجود گناہوں سے بگڑ جانے والے چہرے والے ایک دانشور نے قہقہہ لگا کر کہا۔ کمال ہے یہ پیدل چلنے والے لاہور کے پارکوں میں جا کر پیدل چل لیا کریں۔ شنید ہے کہ حاکم اعلیٰ اس جواز پر نہایت پر مسرت ہوئے اور دانشور کے درجات میں مزید اضافہ کر دیا۔
جھکنے والوں نے رفعتیں پائیں
ہم خودی کو بلند کرتے رہے
یہ طے ہے کہ ہم مبالغے کے بغیر کسی کی عظمت کے معترف نہیں ہوتے۔ ہم نے ہر صورت ان کے نام کے ساتھ کوئی نہ کوئی مبالغہ آمیز لاحقہ نتھی کرنا ہے اور پھر اس کی توقیر کرنی ہے۔ ہماری تسلی نہیں ہوتی جب تک کہ ہم علامہ اقبال کو شاعر مشرق نہ قرار دے دیں۔ بے شک اقبال اس پورے خطے میں سب سے بڑے پر اثر اور فلسفی شاعر تھے لیکن پورے مشرق کو آخر کیوں سمیٹ کر ہم اپنے ہاں لے آتے ہیں۔ میرے ابا جی نہائت عقیدت سے ڈاکٹر اقبال کا تذکرہ کرتے ان کے شکوہ جوابِ شکوہ کے شعر پڑھا کرتے تھے۔ عبدالرحمن چغتائی کی بڑائی ثابت کرنے کے لیے انہیں مصور مشرق کا خطاب دیا گیا حالانکہ انہوں نے مصوری کے بہت سے رموز جاپانی مصوری سے سیکھے۔ کیوں ہم چین جاپان سب کو بھول گئے۔ میرا خیال ہے کہ ہمارا جغرافیہ کمزور ہے۔ ہم آگاہ نہیں کہ مشرق میں کتنے ڈھیر سارے ملک ہیں اور وہاں بھی بہت عظیم مصور اور شاعر ہوا کرتے ہیں۔ البتہ یہ محمد علی جناح تھے جو واقعی ایک قائد اعظم تھے لیکن ان کے بعد پھر یلغار شروع ہو گئی۔ قائد ملت‘ قائد عوام‘ فخر ایشیاء۔ اور اس کے سوا خصوصی طور پر پنجاب میں بہت سے شیر نمودار ہوئے۔ یقین نہ آئے تو جاتی عمرہ کے محلات میں جا کر دیکھ لیجئے۔ وہاں شیر ہی شیر ہیں بلکہ شیرنیاں بھی ہیں۔ یہ عجیب بات ہے کہ سرحد پار اگرچہ گاندھی مہاتما ہو گئے لیکن جواہر لال نہرو‘ فخرِ ہندوستان تک نہ ہوئے۔ کیا ونسٹن چرچل کو انگریزوں نے فاتح اعظم کا خطاب دیا۔ یہ جو مبالغے کی روائت ہے میرا خیال ہے کہ شاعری کے ذریعے ایران سے چلی آئی ہے اور پھر شاعروں میں جو داد فریاد اور شوروغل ہوتا ہے اس نے بھی اسے پروان چڑھایا۔ یعنی کسی فضول سے شعر پر بھی داد اور تحسین کے ڈونگرے برسائے جا رہے ہیں۔ کیا کہنے۔ کیا ہی کہنے۔ پھر سے عطاہو۔ حضور یہ شعر آپ نے نہیں کہا‘ آپ پر اترا ہے۔ اس دوران کچھ بعید نہیں کہ داد دینے والے کوئی صاحب غش کھا کر اوندھے بھی ہو جائیں اور شاعر حضرات کی معصومیت پر قربان جائیے وہ اس داد پر یقین بھی کر لیتے ہیں۔ ایک ٹیلی ویژن پروگرام کے دوران مرتضیٰ برلاس اور شہزاد احمد میرے مہمان تھے۔ میں نے غزل کے بارے میں کوئی بات کی تو برلاس صاحب جھک کر بولے‘ تارڑ صاحب‘ غزل کے حوالے سے آج کون ہے جو میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکے‘ میں نے فوراً شہزاد احمد سے رجوع کیا۔ شہزاد صاحب۔ اب آپ ہی برلاس صاحب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کریں۔ میں درمیان میں نہیں آؤں گا۔
ویسے میں نے اپنی آوارہ گردیوں کے دوران انسانی خصلت کے کچھ پہلوؤں کا بھی مشاہدہ کیا۔ مثلاً افغانی آپ کی توصیف سے بے پرواہ ہے۔کسی قہوہ خانے کے ویٹر کو اگر آپ ٹپ دیں تو وہ زیادہ خوش نہ ہو گا۔ البتہ اسے برادر کہہ کر مخاطب کیجئے اور اسے اپنے طعام میں شرکت کی دعوت دیجئے تو وہ آپ پر نچھاور ہو جائے گا۔ اُدھر ایران میں داخل ہوتے ہی آپ کو احساس ہو گا کہ آپ تو ایک شہنشاہ ہیں۔ بیشتر ایرانی آپ کی بے جا تعریف کریں گے۔ مجھے تبریز کا وہ ویڑیاد ہے جس نے قربان قربان کہہ کر میری انگلیوں کو تھام کر کہا تھا۔ یہ تو میرے محبوب ایسی نازک انگلیاں ہیں قربان جاؤں اور اس کے نتیجے میں مجھے اسے ایک بھاری ٹپ دینا پڑ گیا تھا۔ براہ کرم ایرانیوں کی توصیف پر قطعی طور پر یقینی نہ کیجئے گا۔ البتہ ترک حضرات قدرے کُھردرے ہیں۔ پٹھان بھائیوں کی مانند دوست ہو گئے تو ہمیشہ کے لیے ہو گئے۔ دشمنی پر اتر آئے تو اللہ کی پناہ۔ توصیف اور مبالغے کو نہ صرف ہمارے شاعر اور ادیب بلکہ موسیقار بھی بے حد پسند کرتے ہیں۔ جن دنوں میں موسیقی کے پروگرام’’تیرے نام‘‘ کیا کرتا تھا تو ان زمانوں میں استاد رئیس خان میرے شو میں شریک ہوئے ریکارڈنگ شروع ہونے سے پیشتر پہلے ایوب خاور نے اور پھر خصوصی طور پر فرخ بشیر نے مجھ سے کہا کہ تارڑ صاحب پلیز آپ نے رئیس صاحب کی بے حد تعریف کرنی ہے۔ اگر نہیں کریں گے تو وہ رنجیدہ ہو جائیں گے۔ چنانچہ میں نے توصیف کے پل باندھ دیئے جس کے نتیجے میں استاد رئیس خان نے ستار نوازی میں کمال کر دیا۔ وہ ابھی حال ہی میں ہم سے رخصت ہوئے ہیں۔ بلقیس خانم کو جو ان کا بڑا عشق تھا‘ چھوڑ گئے ہیں۔
’’آج کی شام‘‘ نام کے موسیقی کے پروگرام میں استاد سلامت علی خان میرے معزز مہمان تھے میں نے ان کا تعارف کرواتے ہوئے کہا کہ استاد کی کیا تعریف کروں وہ تو آفتاب موسیقی ہیں۔ اس پروگرام کے تقریباً چھ برس بعد وہ ایک مرتبہ پھر میرے کسی شو میں تشریف لائے تو کہنے لگے‘ تارڑ صاحب آپ نے مجھے آفتاب موسیقی کا خطاب دیا تھا اور یہ میرے لیے بہت بڑا اعزاز تھا۔ میں نے اپنے ملاقاتی کارڈ پر بھی یہ خطاب درج کیا ہے۔ کیسے بھولے اور معصوم لوگ تھے۔ ایک قلیل تعداد ایسے لوگوں کی بھی ہے جو میری تحریروں کے باقاعدہ’’حافظ‘‘ ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ میں حافظ کی سرزمین کے فرید الدین عطار کا کب سے بے دام غلام اور مرید ہوں۔ پچھلے پچاس برس سے عطار کے شاہکار’’منطق الطیرکے سحر میں کیوں گرفتار ہوں کہ ’’پکھیرو‘‘ سے شروع کر کے ’’خس و خاشاک زمانے‘‘ تک میری ہر تحریر میں ان کے پرندے اڑتے پھرتے ہیں۔ ابھی حال ہی میں عطار کی اس معجزہ کتاب کا ایک اور انگریزی ترجمہ شائع ہوا ہے جو ایرانی خاتون شُعلے وولپ نے کیا ہے۔ ابھی میں اس کے ابتدائی مراحل میں ہوں۔ اور یہ کیا ہی شاندار شاعرانہ ترجمہ ہے۔ اسے مکمل طور پڑھنے کے لیے میں اس کے بارے میں ایک الگ اور تفصیلی کالم لکھنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ فی الحال مبالغے کے حوالے سے ذرا ملاحظہ کیجئے کہ جب ایک درویش شرع پر عمل کرنے والا ایک عیسائی حسینہ پر فریفتہ ہو کر اپنا مذہب ترک کر کے مذہب عشق اختیار کرتا ہے تو اس حسینہ کا سراپا عطار کچھ یوں بیان کرتے ہیں’’اس کی پلکیں گویا دو ماہتابوں کے گرد ایک ہالہ تھیں۔ اس کی آنکھیں سینکڑوں روحوں کا شکار کرتی تھیں۔ اس کا چہرہ بھڑکتی ہوئی آگ تھا۔ اس کی مخمور آنکھیں خانہ دل میں اترتی تھیں اور اس کا دہن ایک سوئی کے ناکے سے بھی زیادہ تنگ تھا۔
اب آپ ہی انصاف کیجئے کہ کیا کسی محبوب کا دہن کسی سوئی کے ناکے سے بھی تنگ ہو سکتا ہے۔ یہ مبالغہ نہیں تو اور کیا ہے۔ ویسے کچھ حرج نہیں اگر آپ میں قدرے مبالغہ آمیز ہو کر میری تحریر کو عرشوں پر لکھی گئی تحریر قرار دیں کہ میں بھی تو اس خطے کا باسی ہوں۔ توصیف اور بے جا تعریف کے لیے مرا جاتا ہوں۔
بشکریہ : 92 نیوز

