انصاف کرو ہو کہ کرامات کرو ہو… (پہلا حصہ)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہماری ملی غیرت کو تگنی کا ناچ نچا کر ہمارے ہی دیت کے شرعی قوانین کے تحت رہا ہونے والے ریمنڈ ڈیوس نے یہاں کے مایہ ناز نظام انصاف بارے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے اپنی کتاب میں لکھا ہے ” پہلی پیشی پر پراسیکیوٹرنے عدالت کو بتایا کہ مسٹر ڈیوس نے دو ایسے افراد قتل کیے جو اسے گولی مارنا چاہتے تھے ، دونوں کے پاس اسلحہ اور گولیاں تھیں ۔ اگلی مرتبہ پراسیکیوٹر نے عدالت سے کہا کہ مسٹر ڈیوس نے دو مسلح افراد قتل کیے جو اسے کوئی نقصان نہیں پہنچانا چاہتے تھے ، دونوں کے پاس پستول تھے مگر ان کے چیمبر خالی تھے ۔ تیسری دفعہ اس نے دعویٰ کیا کہ مقتولین ایک خفیہ ایجنسی کے ملازم تھے ۔ چوتھی پیشی پر پراسیکیوٹر نے کہا کہ دونوں مقتولین غیر مسلح تھے ‘‘۔ ڈیوس کے بقول اس تمام غلط بیانی کی وجہ پولیس کی جانب سے دیا گیا مواد تھا ۔ وہ حیران تھا کہ پراسیکیوٹر کے ہر مرتبہ بیان بدلنے کے باوجود جج صاحب نے نوٹس کیوں نہ لیا؟ ہمارے خیال میں اپنے نظام انصاف کے متعلق ایک غیر ملکی ایجنسی کے ایجنٹ کی لغو باتوں کو اہمیت نہیں دینی چاہیے ۔ البتہ اپنے ہی ایک جج صاحب کے عمومی تجربے پر غور کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔
نجی محفل میں ایک سابق جج نے اپنے تجربے کا نچوڑ بیان کیا۔ کہا ” مدعی جھوٹ بولتا ہے ۔ مدعا علیہ یا ملزم اپنا جوابی جھوٹ گھڑ کر لاتا ہے ۔ گواہان اپنے حصے کی غلط بیانی کرتے ہیں ۔ پولیس سب سے بڑھ کر جھوٹ بولتی ہے ۔ یہ سب اپنے اپنے جھوٹ جج کے سامنے رکھ کر کہتے ہیں کہ لو اب تم ہمارے ساتھ انصاف کرو‘‘…اگر جج صاحب یہ بھی بتا دیتے کہ اس کے بعد انصاف کے میدان میں عدالت کا کردار کیا ہوتا ہے تو ہمارے پورے نظام انصاف کا مکمل احاطہ ہو جاتا ۔ شاید ان کی بات کو سابق چیف جسٹس آف پاکستان جواد ایس خواجہ نے 9جون2015ء کو سینئر وکیل جناب علی ظفر کے ایک مقدمے کی سماعت کے دورا ن ریمارکس سے مکمل کردیا تھا کہ ”بچوں کے بچے مر جاتے ہیں ، فیصلے نہیں ہوتے ‘‘ …ظاہر ہے کہ جب ہم عدالتوں میں تھوک کے حساب سے جھوٹ بولیں گے تو وہ کس طرح بروقت انصاف مہیا کریں گی ؟ ایسے ”شفاف‘‘ نظام انصاف میں اگر کوئی عدالت تیسری نسل کو ہی سہی مگر انصاف مہیا کر دے تو یہ کرامت ہی شمار ہو گی ۔
ہم لوگ اغواء اور قتل کے فوجداری مقدمات میں کتنا سچ بولتے ہیں ؟ لڑکی اپنی مرضی سے لڑکے کے ساتھ جاتی ہے اور نکاح کر لیتی ہے ۔ ہم جبراً اغواکرنے کا پرچہ درج کرادیتے ہیں اور اس میں لڑکے کے والدین اور بہن بھائیوں کو بھی نامزد کرنا نہیں بھولتے ۔ چونکہ جوڑے کے بازیاب ہونے پر مقدمے کے فیصلے کادارومدار لڑکی کے بیان پر ہوتا ہے ، لہٰذا فریقین اسے اپنے حق میں جھوٹ بولنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں ۔ لواحقین اسے خاندان کی عزت کے واسطوں سے لے کر اجتماعی خودکشی تک کی دھمکیاں دے کر بلیک میل کرتے ہیں کہ وہ عدالت میں ہر صورت جھوٹ بولے ۔ اگر لڑکی مجبوراً مان جائے تو پھر پولیس اور وکلاء اس کے منہ میں ازل سے گھڑا گھڑایا بیان دے دیتے ہیں کہ میں گھر میں اکیلی تھی ۔ نہا کر صحن میں بال سکھا رہی تھی کہ اچانک عقبی دیوار پھلانگ کر فلاں فلاں گھر میں داخل ہوئے اور مجھے اسلحہ کے زور پر اغوا کر کے سفید رنگ کی کار میں ڈال کر لے گئے ۔اسی طرح قاتل ایک ہوتا ہے مگر مقتول کے لواحقین ایک جھوٹا وقوعہ گھڑ کر قاتل کے ان تمام رشتہ داروں کو ایف آئی آر میں نامزد کر دیتے ہیں ، جنہیں وہ مقدمے کی پیروی کرنے کے قابل سمجھتے ہیں ۔کسی کے ہاتھ میں کلہاڑا ، کسی کو مسلح بندوق اور کسی کے ہاتھ میں پسٹل تھما دیتے ہیں ، چاہے ” مسلح کلہاڑا اور پسٹل ‘‘ جائے وقوعہ سے ہزار میل دور بیٹھے ہوں ۔ جب کہ قاتل کے والد بزرگوار کو للکارنے والا شمار کیا جاتا ہے ، جس کے ذمہ یہ ڈائیلاگ لگایا جاتا ہے کہ بچ کر جانے نہ پائے ۔ پھر جب اپنا جھوٹ عدالت میں ثابت نہیں کر پاتے اور ملزمان بری ہو جاتے ہیں تو نظام انصاف کو کوستے ہیں۔ پولیس چاہے گھر کی چار دیواری پھلانگ کر چرس برآمد کرے مگر آفیسر استغاثہ میں لکھے گا کہ معمول کی گشت پر تھا۔ لاری اڈہ کے قریب ایک شخص کو‘ جس کا نام بعد میں یہ معلوم ہوا ، مشکوک سمجھ کر آواز دی تو وہ بھاگ نکلا۔ چند قدم دوڑ کر پکڑ لیا او رجامہ تلاشی کے بعد اس کی شلوار کے نیفے سے اتنے سو گرام چرس برآمد کرلی ۔
اکثردیوانی مقدمات کی بھی یہی صورتحال ہے ۔ اگر آپ کو کچہری سے واسطہ پڑتا ہے اور آپ قانون کی شد بُد رکھتے ہیں تو دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کہ حق شفع کے مقدمات میں طلب مواثبت سے طلب اشہاد اور شہادتوں سے بحث تک کون سی چیز سچ ہوتی ہے ؟ کیا گواہان کی موجودگی میں حق شفع کے اعلان کی کہانی میں سچ نا م کی بھی کوئی بلا ہوتی ہے ؟ مصیبت یہ ہے کہ ہمارے جسٹس سسٹم میں بعض اوقات سچ بول کر اپنا حق حاصل کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ تکمیل مختص کے مقدمات میں اگر فریقین معاہدے پر عملدرآمد پر راضی بھی ہوں تو بعض صورتوں میں پھر بھی جھوٹا دعویٰ کرنا پڑتا ہے کہ مدعا علیہ مدعی کا حق تسلیم کرنے سے انکاری ہے ۔ مدعا علیہ عدالت میں آ کر اس کا حق تسلیم کر لیتا ہے اور مدعی کے حق میں ڈگری صادق ہوتی ہے ۔ بعض اوقات معاہدہ کیا ہی اس پلان کے تحت جاتا ہے کہ بعد میں مدعی فرضی مقدمہ دائر کر کے ڈگری حاصل کرلے گا۔ مطابق قانون سودا بیعہ اس وقت مکمل ہوتا ہے جب سالم زر ثمن ادا شدہ ہو اور جائیداد کا قبضہ تبدیل ہو گیا ہو ۔ اب دیہات میں بسا اوقات یوں ہوتا ہے کہ بوجوہ سالم رقم ادا نہیں ہوتی یا قبضہ تبدیل کرنے میں کچھ وقت درکار ہوتا ہے ۔ ایسی صورت میں فریقین سب رجسٹرار ، حلقہ آفیسر ریونیو یا اے ڈی ایل آر کی عدالت میں سفید جھوٹ بولتے ہیں کہ زر ثمن وصول ہو گیا ہے اور قبضہ حوالہ مشتری کردیا گیا ہے ۔ سچ بولنے کی صورت میں افسرمجاز ان کی دستاویز یا انتقال تصدیق نہیں کر سکتا۔ کچہری میں اکثر مقدمات دھوکہ دہی اور فراڈ سے جائیداد ہتھیانے کے ہوتے ہیں ۔ ان میں کئی خود ہی دھوکہ ، فراڈ اور جھوٹ کا نمونہ ہوتے ہیں ۔ ہوتا یوں ہے کہ ہمارے بڑے اپنی زندگی میں کوئی جائیداد فروخت کرتے ہیں ۔ ان کے بعد جب وقت کے ساتھ ساتھ جائیداد قیمتی ہو جاتی ہے تو ہماری نیت میں فتور آ جاتا ہے اور ہم دعویٰ دائر کر دیتے ہیں کہ بزرگ زمین بیچنے عدالت میں گئے نہ کوئی بیان دیا۔ انتقال بھی فرضی ہے اور ان کا انگوٹھا بھی جعلی ہے ۔ پھر جب سالہا سال تک عدالتوں کے دھکے کھا کر مقدمہ خارج ہو جاتا ہے تو ہم ان مظلوموں کی آواز میں آواز ملا کر کہتے ہیں کہ انصاف نہیں ملا، جنہیں واقعی انصا ف نہیں ملتا۔
کچہری کی رونقیں حقیقی مظلوموں اور اپنے حقوق کے لیے لڑنے والوں کے علاوہ ان پیشہ ور ” شائقین انصاف‘‘ کے دم سے قائم ہیں، جن کا کھانا کچہری جائے بغیر ہضم نہیں ہوتا۔ ان پیشہ ور مقدمہ بازوں میں کپڑے کے تھیلے اور شاپر اٹھائے مخصوص وضع قطع کے دیہاتی بھی شامل ہوتے ہیں ۔ ہم دیہاتیوں کے یہ تھیلے زمینوں کے کاغذات ، انگریز دور سے اب تک کے فرد ہائے ملکیت ، رجسٹریاں ، انتقالات ، عکس ہائے شجرہ ، اشٹام پیپرز اور سابقہ مقدمات کی نقول سے فربہ ہوتے ہیں ، جو ہمیں جان سے بھی عزیز ہیں کیونکہ ہمارے ہنگامہ ہائے شوق کو یہی مڑے تڑے اور پھٹے پرانے کاغذات ہی زندہ رکھتے ہیں ۔ علاقے میں کوئی بھی جائیداد فروخت ہو رہی ہو ، تعمیرات شروع ہو یا اس کا کوئی تنازع کھڑا ہو جائے تو ہمارے یہ پیشہ ور مقدمے باز برادران اس میں اپنی ٹانگ اڑا کر دعویٰ تقسیم ، استقرار حق یا حق شفع وغیرہ کے تحت عدالت سے حکم امتناعی حاصل کرنا اپنا فرض اولین سمجھتے ہیں ۔
خدا بھلا کرے ، وکلاء بھی اس کارِ خیر میں ہماری بھرپور مدد کرتے ہیں ۔ ان حالات میں ہر روز عدالتوں کے باہر مقدمات کی طویل فہرست آویزا ں ہوتی ہے ، جس کے سبب جھوٹے مقدمات کے ساتھ ساتھ جائز حقداروں کے مقدمات بھی لٹکتے رہتے ہیں ۔ ایسی صورت میں عدالتیں بھی انصاف سے زیادہ ”کرامات‘‘ ہی دکھاسکتی ہیں اور دکھا رہی ہیں ۔ (جاری )

ہماری ملی غیرت کو تگنی کا ناچ نچا کر ہمارے ہی دیت کے شرعی قوانین کے تحت رہا ہونے والے ریمنڈ ڈیوس نے یہاں کے مایہ ناز نظام انصاف بارے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے اپنی کتاب میں لکھا ہے ” پہلی پیشی پر پراسیکیوٹرنے عدالت کو بتایا کہ مسٹر ڈیوس نے دو ایسے افراد قتل کیے جو اسے گولی مارنا چاہتے تھے ، دونوں کے پاس اسلحہ اور گولیاں تھیں ۔ اگلی مرتبہ پراسیکیوٹر نے عدالت سے کہا کہ مسٹر ڈیوس نے دو مسلح افراد قتل کیے جو اسے کوئی نقصان نہیں پہنچانا چاہتے تھے ، دونوں کے پاس پستول تھے مگر ان کے چیمبر خالی تھے ۔ تیسری دفعہ اس نے دعویٰ کیا کہ مقتولین ایک خفیہ ایجنسی کے ملازم تھے ۔ چوتھی پیشی پر پراسیکیوٹر نے کہا کہ دونوں مقتولین غیر مسلح تھے ‘‘۔ ڈیوس کے بقول اس تمام غلط بیانی کی وجہ پولیس کی جانب سے دیا گیا مواد تھا ۔ وہ حیران تھا کہ پراسیکیوٹر کے ہر مرتبہ بیان بدلنے کے باوجود جج صاحب نے نوٹس کیوں نہ لیا؟ ہمارے خیال میں اپنے نظام انصاف کے متعلق ایک غیر ملکی ایجنسی کے ایجنٹ کی لغو باتوں کو اہمیت نہیں دینی چاہیے ۔ البتہ اپنے ہی ایک جج صاحب کے عمومی تجربے پر غور کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔  نجی محفل میں ایک سابق جج نے اپنے تجربے کا نچوڑ بیان کیا۔ کہا ” مدعی جھوٹ بولتا ہے ۔ مدعا علیہ یا ملزم اپنا جوابی جھوٹ گھڑ کر لاتا ہے ۔ گواہان اپنے حصے کی غلط بیانی کرتے ہیں ۔ پولیس سب سے بڑھ کر جھوٹ بولتی ہے ۔ یہ سب اپنے اپنے جھوٹ جج کے سامنے رکھ کر کہتے ہیں کہ لو اب تم ہمارے ساتھ انصاف کرو‘‘…اگر جج صاحب یہ بھی بتا دیتے کہ اس کے بعد انصاف کے میدان میں عدالت کا کردار کیا ہوتا ہے تو ہمارے پورے نظام انصاف کا مکمل احاطہ ہو جاتا ۔ شاید ان کی بات کو سابق چیف جسٹس آف پاکستان جواد ایس خواجہ نے 9جون2015ء کو سینئر وکیل جناب علی ظفر کے ایک مقدمے کی سماعت کے دورا ن ریمارکس سے مکمل کردیا تھا کہ ”بچوں کے بچے مر جاتے ہیں ، فیصلے نہیں ہوتے ‘‘ …ظاہر ہے کہ جب ہم عدالتوں میں تھوک کے حساب سے جھوٹ بولیں گے تو وہ کس طرح بروقت انصاف مہیا کریں گی ؟ ایسے ”شفاف‘‘ نظام انصاف میں اگر کوئی عدالت تیسری نسل کو ہی سہی مگر انصاف مہیا کر دے تو یہ کرامت ہی شمار ہو گی ۔  ہم لوگ اغواء اور قتل کے فوجداری مقدمات میں کتنا سچ بولتے ہیں ؟ لڑکی اپنی مرضی سے لڑکے کے ساتھ جاتی ہے اور نکاح کر لیتی ہے ۔ ہم جبراً اغواکرنے کا پرچہ درج کرادیتے ہیں اور اس میں لڑکے کے والدین اور بہن بھائیوں کو بھی نامزد کرنا نہیں بھولتے ۔ چونکہ جوڑے کے بازیاب ہونے پر مقدمے کے فیصلے کادارومدار لڑکی کے بیان پر ہوتا ہے ، لہٰذا فریقین اسے اپنے حق میں جھوٹ بولنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں ۔ لواحقین اسے خاندان کی عزت کے واسطوں سے لے کر اجتماعی خودکشی تک کی دھمکیاں دے کر بلیک میل کرتے ہیں کہ وہ عدالت میں ہر صورت جھوٹ بولے ۔ اگر لڑکی مجبوراً مان جائے تو پھر پولیس اور وکلاء اس کے منہ میں ازل سے گھڑا گھڑایا بیان دے دیتے ہیں کہ میں گھر میں اکیلی تھی ۔ نہا کر صحن میں بال سکھا رہی تھی کہ اچانک عقبی دیوار پھلانگ کر فلاں فلاں گھر میں داخل ہوئے اور مجھے اسلحہ کے زور پر اغوا کر کے سفید رنگ کی کار میں ڈال کر لے گئے ۔اسی طرح قاتل ایک ہوتا ہے مگر مقتول کے لواحقین ایک جھوٹا وقوعہ گھڑ کر قاتل کے ان تمام رشتہ داروں کو ایف آئی آر میں نامزد کر دیتے ہیں ، جنہیں وہ مقدمے کی پیروی کرنے کے قابل سمجھتے ہیں ۔کسی کے ہاتھ میں کلہاڑا ، کسی کو مسلح بندوق اور کسی کے ہاتھ میں پسٹل تھما دیتے ہیں ، چاہے ” مسلح کلہاڑا اور پسٹل ‘‘ جائے وقوعہ سے ہزار میل دور بیٹھے ہوں ۔ جب کہ قاتل کے والد بزرگوار کو للکارنے والا شمار کیا جاتا ہے ، جس کے ذمہ یہ ڈائیلاگ لگایا جاتا ہے کہ بچ کر جانے نہ پائے ۔ پھر جب اپنا جھوٹ عدالت میں ثابت نہیں کر پاتے اور ملزمان بری ہو جاتے ہیں تو نظام انصاف کو کوستے ہیں۔ پولیس چاہے گھر کی چار دیواری پھلانگ کر چرس برآمد کرے مگر آفیسر استغاثہ میں لکھے گا کہ معمول کی گشت پر تھا۔ لاری اڈہ کے قریب ایک شخص کو‘ جس کا نام بعد میں یہ معلوم ہوا ، مشکوک سمجھ کر آواز دی تو وہ بھاگ نکلا۔ چند قدم دوڑ کر پکڑ لیا او رجامہ تلاشی کے بعد اس کی شلوار کے نیفے سے اتنے سو گرام چرس برآمد کرلی ۔  اکثردیوانی مقدمات کی بھی یہی صورتحال ہے ۔ اگر آپ کو کچہری سے واسطہ پڑتا ہے اور آپ قانون کی شد بُد رکھتے ہیں تو دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کہ حق شفع کے مقدمات میں طلب مواثبت سے طلب اشہاد اور شہادتوں سے بحث تک کون سی چیز سچ ہوتی ہے ؟ کیا گواہان کی موجودگی میں حق شفع کے اعلان کی کہانی میں سچ نا م کی بھی کوئی بلا ہوتی ہے ؟ مصیبت یہ ہے کہ ہمارے جسٹس سسٹم میں بعض اوقات سچ بول کر اپنا حق حاصل کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ تکمیل مختص کے مقدمات میں اگر فریقین معاہدے پر عملدرآمد پر راضی بھی ہوں تو بعض صورتوں میں پھر بھی جھوٹا دعویٰ کرنا پڑتا ہے کہ مدعا علیہ مدعی کا حق تسلیم کرنے سے انکاری ہے ۔ مدعا علیہ عدالت میں آ کر اس کا حق تسلیم کر لیتا ہے اور مدعی کے حق میں ڈگری صادق ہوتی ہے ۔ بعض اوقات معاہدہ کیا ہی اس پلان کے تحت جاتا ہے کہ بعد میں مدعی فرضی مقدمہ دائر کر کے ڈگری حاصل کرلے گا۔ مطابق قانون سودا بیعہ اس وقت مکمل ہوتا ہے جب سالم زر ثمن ادا شدہ ہو اور جائیداد کا قبضہ تبدیل ہو گیا ہو ۔ اب دیہات میں بسا اوقات یوں ہوتا ہے کہ بوجوہ سالم رقم ادا نہیں ہوتی یا قبضہ تبدیل کرنے میں کچھ وقت درکار ہوتا ہے ۔ ایسی صورت میں فریقین سب رجسٹرار ، حلقہ آفیسر ریونیو یا اے ڈی ایل آر کی عدالت میں سفید جھوٹ بولتے ہیں کہ زر ثمن وصول ہو گیا ہے اور قبضہ حوالہ مشتری کردیا گیا ہے ۔ سچ بولنے کی صورت میں افسرمجاز ان کی دستاویز یا انتقال تصدیق نہیں کر سکتا۔ کچہری میں اکثر مقدمات دھوکہ دہی اور فراڈ سے جائیداد ہتھیانے کے ہوتے ہیں ۔ ان میں کئی خود ہی دھوکہ ، فراڈ اور جھوٹ کا نمونہ ہوتے ہیں ۔ ہوتا یوں ہے کہ ہمارے بڑے اپنی زندگی میں کوئی جائیداد فروخت کرتے ہیں ۔ ان کے بعد جب وقت کے ساتھ ساتھ جائیداد قیمتی ہو جاتی ہے تو ہماری نیت میں فتور آ جاتا ہے اور ہم دعویٰ دائر کر دیتے ہیں کہ بزرگ زمین بیچنے عدالت میں گئے نہ کوئی بیان دیا۔ انتقال بھی فرضی ہے اور ان کا انگوٹھا بھی جعلی ہے ۔ پھر جب سالہا سال تک عدالتوں کے دھکے کھا کر مقدمہ خارج ہو جاتا ہے تو ہم ان مظلوموں کی آواز میں آواز ملا کر کہتے ہیں کہ انصاف نہیں ملا، جنہیں واقعی انصا ف نہیں ملتا۔  کچہری کی رونقیں حقیقی مظلوموں اور اپنے حقوق کے لیے لڑنے والوں کے علاوہ ان پیشہ ور ” شائقین انصاف‘‘ کے دم سے قائم ہیں، جن کا کھانا کچہری جائے بغیر ہضم نہیں ہوتا۔ ان پیشہ ور مقدمہ بازوں میں کپڑے کے تھیلے اور شاپر اٹھائے مخصوص وضع قطع کے دیہاتی بھی شامل ہوتے ہیں ۔ ہم دیہاتیوں کے یہ تھیلے زمینوں کے کاغذات ، انگریز دور سے اب تک کے فرد ہائے ملکیت ، رجسٹریاں ، انتقالات ، عکس ہائے شجرہ ، اشٹام پیپرز اور سابقہ مقدمات کی نقول سے فربہ ہوتے ہیں ، جو ہمیں جان سے بھی عزیز ہیں کیونکہ ہمارے ہنگامہ ہائے شوق کو یہی مڑے تڑے اور پھٹے پرانے کاغذات ہی زندہ رکھتے ہیں ۔ علاقے میں کوئی بھی جائیداد فروخت ہو رہی ہو ، تعمیرات شروع ہو یا اس کا کوئی تنازع کھڑا ہو جائے تو ہمارے یہ پیشہ ور مقدمے باز برادران اس میں اپنی ٹانگ اڑا کر دعویٰ تقسیم ، استقرار حق یا حق شفع وغیرہ کے تحت عدالت سے حکم امتناعی حاصل کرنا اپنا فرض اولین سمجھتے ہیں ۔  خدا بھلا کرے ، وکلاء بھی اس کارِ خیر میں ہماری بھرپور مدد کرتے ہیں ۔ ان حالات میں ہر روز عدالتوں کے باہر مقدمات کی طویل فہرست آویزا ں ہوتی ہے ، جس کے سبب جھوٹے مقدمات کے ساتھ ساتھ جائز حقداروں کے مقدمات بھی لٹکتے رہتے ہیں ۔ ایسی صورت میں عدالتیں بھی انصاف سے زیادہ ”کرامات‘‘ ہی دکھاسکتی ہیں اور دکھا رہی ہیں ۔ (جاری )

(بشکریہ روزنامہ دنیا)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •