عبدالستار ایدھی کے صاحبزادے فیصل ایدھی سے انٹرویو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عبدالستار ایدھی صاحب کے بعد ایدھی فاؤنڈیشن کے معاملات

ایدھی فاؤنڈیشن کے خلاف ویڈیو سکینڈل پر موقف

طلاق یافتہ جوڑے بھی اپنے بچے پنگھوڑے میں ڈال جاتے ہیں

مفتی منیب اور جنازہ نہ پڑھانے کا تنازع

بلوچستان اور فاٹا میں ایدھی فاؤنڈیشن کی خدمات

عطیات کا معاملہ اور ایدھی کے خلاف مہم

***   ***

عدنان کاکڑ:  ایدھی صاحب کی شخصیت کیسی تھی اور اس کے آپ پر کیا اثرات آئے ہیں۔

فیصل ایدھی: وہ نہایت سادہ انسان تھے۔ ان کی شخصیت کوئی ڈھکی چھپی تو ہے نہیں۔ جو ان کے دل میں ہوتا تھا وہی زبان پر ہوتا تھا۔ کسی کی شخصیت پر انہوں نے کبھی گفتگو نہیں کی۔ جب بھی بات کی تو جنرل بات کی اور اجتماعی مفاد اور مقاصد کے لئے بات کی۔

عدنان کاکڑ:  ان کی زندگی میں احمدی فاؤنڈیشن کی جانب سے انعام ملنے پر بھی ایک بہت بڑا سکینڈل بنایا گیا تھا۔

فیصل ایدھی: اس پر ایدھی صاحب نے کہا تھا کہ میں انسانیت کے لئے کام کرتا ہوں اور میرے انسانیت کے لئے کیے گئے کام کی اگر کوئی پذیرائی کرے گا تو یہ میرے لئے قابل تعریف ہے میں اس کی پذیرائی کو قبول کر لوں گا۔ یوٹیوب پر ایدھی صاحب کا یہ بیان موجود ہے۔

عدنان کاکڑ:  ایدھی صاحب کی وفات کے بعد فاونڈیشن کی کارکردگی پر کیا فرق پڑا؟ کیا عطیات میں فرق پڑا ہے؟

فیصل ایدھی: کوئی خاص فرق نہیں پڑا بس ایدھی صاحب ہماری طاقت تھے، ان کی عدم موجودگی ہی ہمارے لئے سب سے بڑا چیلنج تھا۔ ان کے جو فیصلے ہوتے تھے وہ کافی میچور فیصلے ہوتے تھے۔ ہمارے لئے کافی مشکل وقت یہ تھا کہ ان کی غیر موجودگی میں ہمارے سسٹم کو چلانا تھا۔ سسٹم بہت سادہ اور کارگر ہے اور آسانی سے اپنے طریقے سے چلتا ہے۔ اس میں کوئی بہت زیادہ اوور ہیڈ اخراجات اور سسٹم نہیں ہے۔ پیچیدگیاں نہیں ہیں۔ اکاؤنٹس بہت سادہ بنائے گئے ہیں۔ اب میں جا کر اسے تھوڑا سا کمپیوٹرائز کر رہا ہوں اور اس سے بہتر نتائج اخذ ہوں گے۔ آگے ایڈوانسمنٹ کی طرف جا رہے ہیں بہت سی چیزوں میں۔

عطیات میں تقریباً پچیس فیصد تک کمی آئی تھی لیکن اس رمضان میں لوگوں نے مہم بہت اچھی چلائی اور اس کا مثبت اثر ہے۔ اس  سے پچھلے سال جو عطیات تھے اس کے برابر اکٹھے کر سکے۔

حسنین جمال:  ایدھی صاحب کے انتقال کے بعد علما نے کراچی اور لاہور میں بھی ایک باقاعدہ مہم چلائی۔ کیا آپ کے خیال میں اس سے فرق پڑا؟ خاص طور پر ایدھی صاحب کی رواداری کو نشانہ بنایا گیا۔

فیصل ایدھی: انہوں نے تو کام کے علاوہ ذات کے حوالے سے بھی اسکینڈل بنایا تھا۔ لوگوں نے اثر قبول نہیں کیا۔

عدنان کاکڑ:  مفتی منیب صاحب کے جنازے میں شرکت نہ کرنے کو ایشو بنایا گیا تھا۔ وہ کیا معاملہ تھا؟

فیصل ایدھی: میں نے درخواست کی تھی کہ اگر مفتی منیب صاحب موجود ہیں کراچی میں تو وہ جنازہ پڑھائیں۔ وہ اتفاقاً اپنے آبائی علاقے ایبٹ آباد میں تھے۔ جب ان کو کراچی انتظامیہ نے اپروچ کیا تو انہوں نے معذرت کی۔ انہوں نے وضاحت بھی کی کیوں کہ سوشل میڈیا پر لوگ بہت جذباتی ہو کر ان کے خلاف بولنا شروع ہو گئے تھے۔ سوشل میڈیا رکتا نہیں ہے۔

عدنان کاکڑ:  ایدھی صاحب کے مشن کو آگے بڑھانے کے لئے آپ کے کیا منصوبے ہیں۔

فیصل ایدھی: ہم اس کو توسیع دیں گے۔ ہم بہت سی چیزوں میں پیچھے ہیں اور اس کو بہتر کریں گے۔ ٹریننگ کے حوالے سے ہم بہت پیچھے ہیں۔ ہم ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ بنا رہے ہیں جس میں ہم اپنی سروس سے متعلقہ لوگوں کی ٹریننگ کریں گے تاکہ ہماری سروس کی کوالٹی کو بہتر کیا جا سکے۔

حسنین جمال:  ٹریننگ کے حوالے سے آپ کے کیا ارادے ہیں؟

فیصل ایدھی: ہسپتال پہنچانے سے پہلے ایک زخمی کو بچانے کی تربیت دی جائے گی۔

حسنین جمال:  1122 سے کچھ تعاون نہیں لیا جا سکتا؟

فیصل ایدھی:  1122 سے بھی کر سکتے ہیں مگر ہمارا اپنا سیٹ اپ بھی ہے۔ آئرلینڈ اور برطانیہ کے پاکستانیوں کی ڈرپ کے نام سے انجمن ہے۔ ڈیزاسٹر ریلیف بائی آئرش اینڈ پاکستانیز۔  اب ہم اگلی سٹیج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے ہمیں یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ تمام تر مہارت ہمیں فراہم کریں گے اور وہ پاکستان کا پہلا سرٹیفائیڈ ادارہ ہو گا جو یورپی سٹینڈرڈ پر چلے گا۔ اس کا یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے ساتھ الحاق کیا جائے گا۔ انہوں نے ایک سالہ کورس کرایا تھا ای ایم ٹی کورس۔ اس میں ایدھی فاؤنڈیشن کے دو افراد شامل تھے۔ ان کو انسٹرکٹر ریٹنگ بھی مل چکی ہے۔ اب وہ خود پاکستان میں تربیت دینے کا عمل خود سے کر سکیں گے اور اب کسی کی محتاجی نہیں ہے۔

عدنان کاکڑ:  کراچی بہت پرتشدد رہا ہے۔ کوئٹہ کے حالات بھی ایسے ہی ہیں۔ آپ کے کارکن ہر بم دھماکے پر، ہر پرتشدد جگہ پر سب سے پہلے پہنچتے ہیں، کیا ان کی حفاظت کے انتظامات سے آپ مطمئین ہیں یا اس کے لئے کچھ کر رہے ہیں۔

فیصل ایدھی: کوئٹہ، پشاور، سوائے پنجاب کے سب ہی پرتشدد ہو گئے۔ ہمارے تقریباً نو ساتھی کام کرتے ہوئے شہید ہوئے ہیں۔ ان میں سے چھے یا سات بم دھماکوں میں شہید ہوئے ہیں جن میں سے چار کوئٹہ میں اور دو کراچی میں۔ باقی گولی کا نشانہ بنے ہیں۔ حالات ایسے ہوتے ہیں کہ ہمیں کام کرنا ہے۔ یہ جو شہید ہونے کی جو عموماً وجہ بنی ہے وہ پہلے دھماکے کے بعد جب لوگ مدد کرنے کے لئے جمع ہوتے ہیں تو دوسرا دھماکہ نقصان کا باعث بنتا ہے۔ ہمارے چار شہیدوں کی وجہ وہ بنا ہے۔

عدنان کاکڑ:  ریاست اور عوام کی جانب سے ایدھی صاحب کو جو عزت اور تکریم دی گئی، پاکستان کی محترم ترین شخصیت تھے، اس کے بارے میں آپ کے کیا کمنٹ ہیں۔

فیصل ایدھی: میں شکرگزار ہوں پاکستان کی حکومت کا اور افواج کا کہ انہوں نے ایدھی صاحب کو یہ عزت بخشی اور ایدھی صاحب وہ واحد پاکستانی شخص ہیں جو میرے خیال میں اس پورے ایشیا میں انہیں نان گورنمنٹ فرد ہونے کے باوجود انیس توپوں کی سلامی دی گئی۔ کسی حکومت سے تعلق نہیں تھا۔ پورے ایشیا میں شاید ایسی کوئی دوسری شخصیت نہیں ہے۔

عدنان کاکڑ:  ایدھی صاحب کو نوبیل پرائز کے لئے نامزد کرنے کا مطالبہ سامنے آتا رہتا تھا۔ اس پر آپ کیا کہیں گے۔

فیصل ایدھی: بہت مرتبہ کیا گیا۔ بے نظیر بھٹو نے نامزد کرنے کی کوشش کی، مشرف نے کی۔ اب درخواست آگے گئی۔ لیکن نوبیل کمیٹی نے کبھی اس کو منظور نہیں کیا۔ وجہ ہمیں نہیں پتہ چلی کہ کیوں نہیں کیا۔

عدنان کاکڑ:  آپ کے مستقبل کے منصوبوں میں عوام آپ کی کیسے مدد کر سکتے ہیں؟

فیصل ایدھی: عوام ہمارے ساتھ ہیں۔ عوام ہماری مدد کرنے میں ہمیشہ آگے رہے ہیں۔ اس رمضان میں بھی میں آپ کے پلیٹ فارم کے ذریعے ان کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ پاکستانی عوام نے ہمارا اس سال بھی ساتھ دیا۔ ہم تھوڑے سے پریشان تھے کہ اگر اس دفعہ چندہ کم ہوا تو ہماری سرگرمیوں پر اثرانداز ہوں گی۔ لیکن عوام نے بڑھ چڑھ کر ساتھ دیا۔ ہمارے خلاف جو آخر میں سازش ہوئی اس کا کچھ نقصان ہوا۔ آخری ہفتہ بہت اہم ہوتا ہے۔ سب سے زیادہ عطیات اس میں دیے جاتے ہیں۔  تو اس ہفتے میں ہمیں پھر ٹارگیٹ کیا گیا۔ پھر بھی پاکستانی عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے ہمارا ساتھ دیا۔ انسانیت کا یہ مشن ہے انشا اللہ اس کو ہم جاری رکھ سکیں گے۔

حسنین جمال:  آپ نے سوشل میڈیا کا ذکر کیا، اس میں بہت کم پیسوں میں بہت کارگر مہم چلائی جا سکتی ہے۔ کیا اس پر آپ نے توجہ کی؟

فیصل ایدھی: میں تو سوشل میڈیا استعمال نہیں کرتا لیکن کوکا کولا کی کمپین میں سوشل میڈیا کو بھی استعمال کیا گیا۔ خود کمپین چلانے کے بارے میں سوچا جا سکتا ہے۔

عدنان کاکڑ:  عمران خان صاحب شوکت خانم کے لئے فنڈ جمع کرانے کے لئے ایس ایم ایس کے ذریعے پیسے جمع کرتے ہیں۔ کیا یہ طریقہ آپ کے لئے مددگار نہیں ہو گا؟

فیصل ایدھی: کوکا کولا نے یہ طریقہ استعمال کیا تھا۔ اس پر میرا ٹیلی نور کے ساتھ کافی دن تک تنازع چلتا رہا۔ کیونکہ ایس ایم ایس پر دس روپے کے عطیے پر وہ چھے روپے وہ سروس چارجز اور ٹیکس میں کاٹ لیتے تھے۔ میں کافی حد تک لڑتا رہا۔ اس میں سب سے بڑی رقم ٹیکس ہے۔ خیر لڑ لڑا کر چار سے چھے روپے تک لے کر آیا لیکن پھر بھِی میں راضی نہیں تھا مگر کوکا کولا نے کہا کہ جانے دیں کیونکہ بیشتر رقم ٹیکس ہے۔

عدنان کاکڑ:  امریکہ میں خیراتی اداروں کو دیے گئے عطیات ٹیکس فری ہوتے ہیں۔ کیا پاکستان میں ایسا نہیں ہے؟

فیصل ایدھی: پاکستان میں ایسا نہیں ہے۔ اس سروس پر کوئی سپیشل ٹیکس ہیں۔ وہ ٹیکس فری نہیں ہے۔ انکم ٹیکس کی چھوٹ ہے۔ خیراتی اداروں کو ٹیکس سے چھوٹ ملنی چاہیے۔

حسنین جمال:  اس حالیہ ویڈیو والی خاتون کا کیا کسی مذہبی تنظیم کے لئے زکوۃ اکٹھے کرنے کا تنازع تو نہیں تھا؟

فیصل ایدھی: ہمارے پاس کوئی واضح ثبوت تو نہیں ہے مگر یہ غالباً ایک ملٹی نیشنل کمپنی کی رقابت تھی۔ ملٹی نیشنل نے افریقہ اور دنیا بھر میں جو کیا ہے وہ آپ نے دیکھا ہی ہے۔ ہم نے تو سب سے پہلی ملٹی نیشنل ایسٹ انڈیا کمپنی کو دیکھ رکھا ہے۔ اب تاج برطانیہ بظاہر چلا گیا ہے مگر ملٹی نیشنل کمپنیوں کی صورت میں وہ باقی ہے۔

عدنان کاکڑ:  اپنے نیٹ ورک کے بارے میں کچھ بتائیں

فیصل ایدھی: دو ائیر ایمبولینس کراچی میں ہیں اور 1800 ایمبولینس ہیں۔ ایک ہیلی کاپٹر خراب ہے جو بڑا اوورہال مانگ رہا ہے جس کا خرچہ چار پانچ کروڑ ہے۔ وہ پرواز کے قابل نہیں ہے۔ فکس ونگ ائیر کرافٹ بہت جلد کام شروع کرنے والا ہے۔

حسنین جمال:  آپ حکومت سے اس بارے میں کچھ بات کرتے ہیں جیسے چار پانچ کروڑ ہیلی کاپٹر پر لگنا ہے اس کا خرچہ کوئی اٹھا لے۔ محکمہ زکوۃ وغیرہ۔

فیصل ایدھی: آرمی ہمیں سب سے زیادہ سپورٹ کرتی ہے۔ لیکن ہیلی کاپٹر کا یہ کام آرمی کے بس میں نہیں ہے۔ ان کے پاس ہمارے اس مخصوص ماڈل کے لئے سہولت موجود نہیں ہے۔ اگر ایم آئی 17 ہوتا تو وہ کر سکتے تھے۔ اس ہیلی کاپٹر پر چھوٹا موٹا پارٹس اور مرمت کا وہ ساتھ دیتی رہی ہے۔

حسنین جمال:  کیا اس طرف پنجاب یا وفاقی حکومت کی توجہ نہیں دلائی جا سکتی ہے؟

فیصل ایدھی: بہتر صوبائی حکومتوں کو اپروچ کرنا ہوتا ہے۔ میں کل پرسوں حکمرانوں کے شہر میں ہوں۔ بولیں گے تو مل لیں گے۔ لیکن وہ بولتے ہیں کہ ہمارے ساتھ سٹیج پر بیٹھیں۔ فون آتا ہے کہ سی ایم صاحب ملنا چاہتے ہیں۔ پیپلز پارٹی والے دعوے تو بہت کرتے ہیں لیکن کرتے کچھ نہیں۔ مسلم لیگ ن والے پھر بھی کچھ نہ کچھ کر دیتے ہیں۔

حسنین جمال:  ایدھی کے لئے بلوچستان کی کیا صورتحال ہے؟ کوئٹہ کے علاوہ کہاں کام ہو رہا ہے؟

فیصل ایدھی: بلوچستان میں بکھری ہوئی آبادی ہے تو اس کی جو مرکزی شاہرائیں ہیں وہاں تو ہمارا سیٹ اپ اور نیٹ ورک بہت اچھا ہے۔ آگے جا کر بہت سارے علاقے حساس ہیں۔ لیکن ہمیں تو منع نہیں کریں گے۔ سروس تو ہماری جاتی رہتی ہے اور آتی رہتی ہے۔ لیکن فاصلے بہت زیادہ ہیں۔ وہاں ہتھیار اٹھانے والے نسل پرستوں سے ہماری بنتی نہیں ہے۔ قوم پرست اور نسل پرست میں فرق ہوتا ہے۔ غریب مزدوروں کو مارنے والے قوم پرست نہیں ہوتے۔ کراچی میں بھی ہمیں ایسا ہی مسئلہ درپیش ہے۔ کراچی میں تین تقسیمیں ہو چکی ہیں، اردو سپیکنگ، بلوچ اور پشتون۔ کراچی بیروت بن چکا ہے۔

عدنان کاکڑ:  کراچی ایک پیچیدہ شہر ہے۔ جرائم بھی بہت ہیں اور بلڈنگز وغیرہ بھی بہت بلند ہیں۔ وہاں بلڈنگ کی سیفٹی کے لئے بنائے گئے ہنگامی اخراج کے راستے بھی بند ہوتے ہیں۔ آگ لگنے کے واقعات میں بلڈنگ میں لوگ پھنس جاتے ہیں۔ ان کو بچانے کے لئے آپ کے پاس کوئی حکمت عملی ہے؟

فیصل ایدھی: کراچی کو مافیاز چلاتی ہیں۔ ڈرگ مافیا۔ بھتہ مافیا۔ ٹینکر مافیا۔ بلڈر مافیا۔ اونچی اونچی بلڈنگ بنتی ہے۔ لفٹ استعمال نہیں کر سکتے ہیں۔ ہماری تو حالت خراب ہو جاتی ہے۔ ریجنٹ پلازا میں آتشزدگی میں ہماری سیڑھیاں چڑھ چڑھ کر حالت خراب ہو گئی تھی حالانکہ وہ صرف آٹھ منزلہ تھی۔ اب تو ستر ستر منزلہ بننی شروع ہو گئی ہیں۔ سیفٹی میکینزم وہ واضح نہیں کرتے۔ فائر بریگیڈ کی ایسی حالت ہے کہ ان کے 22 انجن اب جا کے کام کرنا شروع کیے ہیں اور ان 22 انجنوں کی یہ صورتحال ہے کہ وہ تیس تیس سال پرانے ہیں۔ یورپ میں پانچ سال سے پرانا انجن استعمال نہیں ہوتا۔ اس کے بعد اسے ڈسکارڈ کر دیتے ہیں۔ ہمارے انجن ایسی حالت میں ہیں کہ کباڑی بھی انہیں نہ دیکھیں۔ اب وہ استعمال کے قابل نہیں ہیں۔

عدنان کاکڑ:  یعنی اونچی عمارات والے بس اللہ کے آسرے پر ہیں۔

فیصل ایدھی: اونچی کیا نیچی والے بھی اللہ کے آسرے پر ہیں۔ ادھر لاہور میں بھی اونچی اونچی بلڈنگ بن رہی ہیں۔ ادھر پتہ نہیں کیا صورتحال ہے۔ عمارات بند کرنے کے لئے گرل تو نیویارک میں بھی لگتی ہیں۔ مگر ادھر لوہے کی ڈراپ ڈاؤن ایگزٹ ہوتی ہے تاکہ ایمرجنسی میں کوئی نکل سکے۔ کراچی کی کچھ کمرشل بلڈنگ میں وہ لگی ہیں۔ مگر ہمارے انڈسٹریلسٹ پیسے بچانے کے لئے ایسا کام نہیں کرتے۔ وہ سیفٹی کو بہت نظرانداز کرتے ہیں جس سے بھیانک واقعات ہوئے ہیں۔ اگر فائر سیفٹی کے قوانین پر عمل کیا گیا ہوتا تو اتنی زیادہ ہلاکتیں نہ ہوتیں۔

عدنان کاکڑ:  کیا آپ فاٹا وغیرہ میں کام کر رہے ہیں؟ ادھر کیا صورتحال ہے؟

فیصل ایدھی: فاٹا میں ہم ہیں۔ پارا چنار میں ایدھی سینٹر کھلا ہے۔ ہمیں تنگ نہیں کیا جاتا۔ ہم شاید ان کے لئے تھریٹ نہیں ہیں۔

حسنین جمال:  کیا کبھِی ایدھی ایمبولینس کی آڑ میں تخریب کاری کا کوئی واقعہ ہوا ہے؟

فیصل ایدھی: گاڑیاں چھینی جاتی تھیں جب ایم کیو ایم کے خلاف نصیر اللہ بابر کا آپریشن چلا تھا۔ اس وقت ہماری گاڑیاں چھین کر لڑکوں کو محاصرہ شدہ علاقے سے دوسرے علاقے میں بھگانے کے چند واقعات ہوئے تھے۔

عدنان کاکڑ:  کیا فاٹا میں آرمی آپ کو فل سپورٹ کرتی ہے؟

فیصل ایدھی: فاٹا میں وزیرستان کے علاقے میں ہماری گاڑیوں پر حملے ہوتے ہیں۔ وہ گھات لگا کر کیے جانے والے اچانک حملے ہوتے ہیں۔ ہمارا سٹاف وہاں جانے سے ڈرتا ہے۔ ایک سال پہلے یہ صورتحال تھی میں نے حالیہ صورتحال کے بارے میں پتہ نہیں کیا۔

عدنان کاکڑ:  پاکستان میں آپ کا سب سے بڑا نجی اور ادارتی ڈونر کون ہے؟

فیصل ایدھی: بڑے ڈونر کے پاس ہم نہیں جاتے۔ ریاض ملک صاحب نے ہمیں دو مرتبہ عطیہ دیا مگر ہم نے واپس کر دیا۔ ہمارا تجربہ ہے کہ بڑے ڈونر دو کروڑ کا عطیہ دے کر دس کروڑ دینے کا اشتہار دیتے ہیں۔ کوئی بھی فرد جو اپنے عطیات کو مشتہر کرے تو وہ ہمیں برداشت نہیں ہوتا۔ جتنی بھی بڑی شخصیات ہوتی ہیں وہ متنازع ہوتی ہیں۔ ہم ان کے چکروں میں نہیں پڑنا چاہتے۔ اگر خاموشی سے دے دیں تو ٹھیک ہے۔ لیکن اگر وہ ہمیں اپنی ذاتی تشہیر کے لئے استعمال کرنا چاہیں گے تو ہمیں قبول نہیں ہے۔

حسنین جمال:  ایدھی صاحب کہیں بھی نکل پڑتے تھے اور چندہ مانگتے تھے۔ آپ کا کیا تجربہ ہے؟

فیصل ایدھی: رمضان سے پہلے میں کراچی میں بغیر اعلان کیے بیٹھ گیا تھا۔ اگر اعلان کرتا تو یقیناً زیادہ اچھا ریسپانس آتا۔ سکول کے بچے خاص طور پر ہم سے جڑنا چاہتے ہیں۔ باقی ہماری یہ قوم مردہ پرست ہے۔ ایدھی صاحب کہتے تھے کہ یہ مرنے کے بعد زیادہ پوجنے والی قوم ہے تو میری قبر بڑی بنانا اور چندے کی پیٹی زیادہ بڑی لگانا۔ زندہ ہوتا ہے تو گالیاں دیتے ہیں اور مر جاتا ہے تو عقیدت کرتے ہیں۔

حسنین جمال:  اگر فنڈز زیادہ ہوں تو آپ کی ٹاپ پرائرٹی کیا ہو گی؟

فیصل ایدھی: ہمارا سب سے بڑا سفید ہاتھی ایمبولینس ہے۔ یہ ہمارا اسی فیصد فنڈ لے جاتی ہیں۔ ٹرانسپورٹ میں کوئی نہیں آنا چاہتا۔ ہر سال ہماری ایمبولینس میں تقریباً دس فیصد اضافہ ہوتا ہے۔

عدنان کاکڑ:  کیا آپ پاکستان سے باہر کام کر رہے ہیں؟

فیصل ایدھی: ہم نیویارک میں ہیں۔ سروسز بہت تھوڑی سی ہیں۔ چیریٹی شاپس ہیں۔ آگے جا کر مجھے لگتا ہے کہ ہم کریں گے۔ ان مغربی ممالک میں کریں گے جہاں پاکستانی کمیونٹی زیادہ ہے۔ برطانیہ اور امریکہ میں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ادھر پاکستانی کمیونٹی اچھا خاصا چندہ دیتی ہے جو ہم سارا کا سارا اٹھا کر پاکستان لے آتے ہیں۔ وہاں کی مقامی حکومتیں کہتی ہیں کہ آپ ہمارے ملک میں بھی تھوڑا سا کام کریں۔ پانچ فیصد کریں، دس فیصد کریں، مگر کچھ کریں۔ ہم پر انہوں نے کبھی ہاتھ ڈالا نہیں ہے۔

ابھی لندن میں جو آگ لگی تھی جس میں پانچ چھے سو لوگ متاثر ہوئے ہیں، اس میں میں نے ان کو ایک لاکھ پاؤنڈ عطیہ دینے کا کہا ہے۔ وہاں کی مقامی کونسل کو بھیج رہا ہوں۔

سوال: سوشل میڈیا پر آپ کے متعلق ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جیسے ایدھی کچھ بھی نہیں کرتا اور وہاں پتہ نہیں کیا کیا ظلم ہو رہا ہے۔

فیصل ایدھی: میں سمجھتا ہوں کہ یہ ہمارے خلاف سازش تھی اور اسے پیڈ کمرشل کے طور پر وائرل کرنے کے لئے فنڈنگ کر کے استعمال کیا گیا تاکہ ایدھی کی فنڈنگ کو نقصان پہنچایا جائے۔ پیچھے کون ہے اس کے بارے میں تو واضح طور پر نہیں بتا سکتے مگر یہ سوچی سمجھی سازش تھی جسے ایک دفعہ رمضان کے شروع میں کوشش کی گئی مگر وہ نہیں چلی اور پھر آخری عشرے میں دوبارہ کوشش کی گئی۔

رمضان کے شروع میں ایک سجی بنی خاتون کے چہرے کو فلمایا گیا اور نشر کیا گیا جس میں اسی طرح کی باتیں کی گئیں۔ بعد میں دوبارہ سے یہیں لاہور کی خاتون آئیں جن کی ویڈیو کو وائرل کیا گیا۔ آمنہ نام بتاتی ہیں جو ان کا ماڈل انڈسٹری کا نام ہے۔

سوال: ایک کمرہ دکھا کر اس کو ٹارگیٹ کر رہے ہیں جس میں کچھ بچے نظر آ رہے ہیں٫

فیصل ایدھی: دو بچے سپیشل چائیلڈ ہیں اور نارمل نہیں ہیں۔ اور سپیشل چائلڈ کی وہ کیٹیگری ہے جنہیں پیشاب پاخانے کی بھی سینس نہیں ہوتی، حس نہیں ہوتی اور وہ اپنے بستر میں، کپڑوں میں کرتے ہیں تو اس طرح کی جو کیٹیگری ہوتی ہے ان کو تھوڑا تنہائی میں رکھتے ہیں۔ تو آئیسولیٹڈ ایریا میں گھس کر یہ ویڈیو بنائی گئی۔

سوال: ان بچوں کی بیک گراؤنڈ کیا ہے؟ کیسے آئے تھے؟

فیصل ایدھی: یا تو سڑکوں سے ملتے ہیں، پولیس والے ان کو پکڑتے ہیں، یا علاقے والے محلے والے کہ ان کا ایکسیڈینٹ ہو جائے گا، یا ایکسیڈنٹ ہوا ہوتا ہے، کوئی مار کر چلا جاتا ہے، تو یہ ہمیں لوگ جمع کرا دیتے ہیں۔ کوئی ادارہ ایسا نہیں ہے جہاں ان کو رکھا جائے۔ گورنمنٹ کے جتنے بھی انسٹی ٹیوشن ہیں وہ ایسے سپیشل چائلڈ کو نہیں لیتے جن کو بہت زیادہ کیئر کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کو ایسے بچے چاہیے ہوتے ہیں جو صاف ستھرے ہوں اور گندگی نہ کریں۔

سوال: حکومت کیسے نہیں لیتی؟

فیصل ایدھی: چائلڈ پروٹیکشن، ایس او ایس وغیرہ کوئی نہیں لیتا۔ وہ ایسے بچے لیتے ہیں جو نارمل ہوں۔

عدنان کاکڑ:  یعنی ایبنارمل بچوں کو کوئی نہیں لیتا

حسنین جمال:  یعنی منع نہ کرنے کا خمیازہ آپ کو اس ویڈیو کی صورت میں بھگتنا پڑا ہے۔

فیصل ایدھی: ایسے ایبنارمل جن کو کوئی نہیں لیتا ان کو ایدھی لیتا ہے۔ ہم کسی کو انکار نہیں کرتے۔ اگر ہم منع کریں گے تو یہ سڑکوں پر مر جائیں گے۔ ایدھی سینٹر زندہ یا مردہ کسی بھی انسان کو لینے سے انکار نہیں کرتا ہے اور ہر ایک کو قبول کرتا ہے چاہے جیسی بھی حالت ہو۔ انسان تو انسان جانور بھی ہمارے پاس آ جاتا ہے تو ہم انکار نہیں کرتے۔ ہمارے پاس اس وقت آٹھ نو گدھے ہیں کراچی کے اینیمل سینٹر میں۔ وہ صحیح ہو گئے ہیں۔ ان کے ایکسیڈینٹ ہو گئے تھے۔ ریڑھی والے غریب ہوتے ہیں اور ان کا علاج نہیں کرا سکتے۔ علاج کرا بھی لیں تو گدھے اور گھوڑے کے اندر ایک ایشو یہ ہے کہ ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ جائے تو جڑنے کے بعد اتنی طاقتور نہیں ہوتی کہ وہ پھر مال برداری کے لئے استعمال ہو۔ کمرشلی وہ اس غریب کے لئے بوجھ بن جاتا ہے۔ وہ اسے سنبھال نہیں سکتا۔ اگر سنبھال سکتا ہوتا تو امیروں سے زیادہ پیار کرتا۔ ابھی میں نے سوچا تھا کہ کلری جھیل میں پچھلی سائیڈ پر گھاس اگی ہوئی ہے ہم وہاں پر اسے چھوڑ دیتے ہیں۔ جب تک زندگی ہے ان کو گھاس اور پانی ملتا رہے گا۔ کلری جھیل کی اتھارٹی اجازت دے گی تو ہم انہیں وہاں چھوڑ دیں گے۔

عدنان کاکڑ:  کیا ہم اس سینٹر میں جا کر صورتحال کو دیکھ سکتے ہیں؟

فیصل ایدھی: آپ کسی بھی وقت جا کر کسی بھی ایدھی سینٹر کو دیکھ سکتے ہیں۔ ہمارے پاس اتنے مالی ذرائع نہیں ہیں کہ ہم فائیو سٹار سہولیات دے سکیں۔ مگر ہم ان لوگوں کو چھت، کھانا اور نگہداشت فراہم کرتے ہیں جن کو سب ٹھکرا چکے ہوتے ہیں، ان کے اپنے بھی اور ریاست بھی۔

حسنین جمال:  جھولے میں جو بچے ڈالے جاتے ہیں کیا ان کی واپسی کا بھی کسی نے کلیم کیا ہے؟

فیصل ایدھی: وہ اس کنڈیشن میں ہوتا ہے جو بچہ پندرہ دن مہینے ڈیڑھ مہینے کا ہو۔ آج ایک چھوٹی سی بچی آئی۔ مجھے وہ طلاق کا کیس لگتا ہے۔ اس کے ہاتھ پر اس کی ماں کا نام لکھا تھا۔ طلاق ہوتی ہے تو بعض اوقات بچے کو ضائع کر دیتے ہیں یا آخری مہینے ہوں تو پھر ایدھی کو دے دیتے ہیں۔ کیونکہ بچہ رل جاتا ہے۔ اسقاط حمل کرا دیا جاتا ہے مگر زیادہ دیر ہونے پر ایسا کرنے سے نقصان ہو سکتا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •