عورت ہر زمانے میں ہی بری قرار پاتی رہی ہے

عورت کا کردار مذہب سے لے کر معاشرے اور دور قدیم سے لے کر جدید تک خدا اور مرد کا اولین مسئلہ رہا ہے۔ اماں حوا کے آدم کو جنت سے نکلوا کر ہم انسانوں کی نسل کا اس دنیا میں آغاز وہ پہلا الزام ہے جو عورت پر لگا۔ اسی جرم کی سزا کے طور پر کچھ عقائد کے مطابق عورت کو ماں بننے کے عمل میں تکلیف سے گزرنے کی سزا ملی۔ تاریخ نے بڑے چسکوں کے ساتھ مناسب وقفوں کے ساتھ بری عورتیں ادوار کے سامنے پیش کی ہیں۔ تاکہ معاشرے کے پاس سند رہے اور حسب ضرورت کام آئے۔

ہمارا سارا بچپن یہ سننے میں گزر گیا کہ اچھی لڑکیاں ایسے نہیں کرتیں، ویسے نہیں کرتیں۔ مثال کے طور پر تاریخ سے ڈھونڈ کر دکھایا جاتا کہ ایسی ہوتی ہیں بری عورتیں۔ پدری بنیادوں پر قائم معاشرے میں تو اپنی سنگینی کے حساب سے“لوگ کیا کہیں گے“ کے بعد ”بری عورت کہلاوئی گی“ عورتوں کے دو ازلی خوف ہیں۔ یہ سلسلہ ابد سے جاری ہے۔ آج بھی دیکھو تو کبھی ٹی وی کے شیطانی ڈبے کے اندر کھڑی طاقتور حکمران خاندان کی عورت کو بتانا پڑتا ہے کہ میں ایک شریف عورت ہوں، مجھے تھانہ کچہری نہ گھسیٹو۔

اماں حوا سے لے کر قندیل بلوچ تک عورت کے برے ہونے کی کئی اقسام و درجات ہیں۔ کچھ کی برائی اپنے زمانے تک رہ جاتی، کچھ کی باوا آدم کے دور سے میدان حشر تک چلے گی۔

مذہبی کتاب کی بری ترین عورت ملکہ جزابیل، جو بنی اسرئیل کی بقیہ عورتوں کی طرح کمزور اور گونگی نہیں تھی۔ جس نے نبی علیجاہ کو کہا تھا۔ “تم علیجاہ ہو تو میں بھی جزابیل ہوں“۔ جزابیل اسرائیل میں اجنبی، اپنے وطن سے دور، سٹیٹ سپانسرڈ یہودیت کے ملک میں اقلیتی بت پرست، پدرانہ سیاسی نظام کی حامل قوم کے شاہی فیصلوں میں دخل انداز عورت سیاستدان۔ دس احکام کے آغاز کی زمین پر اپنی اوقات سے باہر عورت، طوائف نہیں کہلائے گی تو اور کیا کہلائے گی۔

جزابیل نے اپنے شوہر ارھاب کو بہکایا، اس کی جگہ خود سیاسی فیصلے کیے، لادین لوگوں کو پناہ دی اور سیاسی مخالفین کی قتل و غارت کی۔ وہ ایک بادشاہ کی بیٹی، بادشاہ کی بیوی اور ایک بادشاہ کی ماں تھی۔ سیاسی بساط پر تخت اور تختے کی جنگ میں شاہی کے طلب گاروں نے اس کے بیٹے کو قتل کر کے معاشرتی نظام سے شاباشی پائی۔ بوڑھی جزابیل کے قتل کا فیصلہ ہوا تو جزابیل نے آنکھوں میں کاجل لگایا، بال سنوارے اور کھڑکی میں بیٹھ کر لگی اپنے قاتلوں کا انتظار کرنے۔ جب مرد بادشاہت ہارتے ہیں، اور بہادری سے موت کو گلے لگاتے تو تاریخ انہیں اکیس توپوں کی سلامی پیش کرتی ہے۔ جب عورت سنگھار کو زرہ بکتر کی طرح سجا کر موت کے آگے کھڑی ہوئی تو اسے تاریخ نے کہا فاحشہ۔

تاریخ نے جزابیل کو ایک طوائف اور طاقت کی خواہشمند عورت کے طور پر ہمیشہ کے لیے راندہ درگاہ قرار دے دیا۔ طاقت کی خواہش، ہار نہ ماننے کا عزم، کمتری سے انکار، چند اوصاف ہیں جو کسی دور میں بھی عورت میں پسندیدہ نہیں سمجھے گئے۔

مصر کے فرعون بڑے مشہور ہیں، اہرام مصر بیحد شاندار ہیں۔ ایک کھدائی کے دوران ستون پر ماہرین آثار قدیمہ نے ایک مٹے مٹے سے عکس میں ایک پر وقار عورت کو بادشاہت کے لوازمات کے ساتھ پایا۔ اس کے عکس کو مٹانے کی کوشش قصداً کی گئی تھی۔ اپنی تاریخ کو سجا سنوار کے انجنئیرنگ کے شاہکار اہراموں میں محفوظ رکھنے والے مصریوں نے اس عورت کے نام و نشان مٹا دینے کی کوشش کیوں کی؟

اس عورت کا نام تھا ہتشیپ ست، فراعین مصر کی تاریخ کی واحد عورت فرمانروا۔ ہتشیپست نے قابل قبول ہونے کے لئے مرد بادشاہوں کی سی وضع قطع بنائی، فرعون کی مصنوئی داڑھی لگائی اور عصا تھام کر مصر پر 22 سال کامیابی سے حکمرانی کی۔ مصر کو امیر ترین بنایا، جنگی مہمیں جیتیں۔ اس کے باوجود اس کے جانشین مرد نے اس کا نام اور نشان ہر جگہ سے مٹا دیا۔ کسی بھی اور عورت کو مصر کے سیاسی اور معاشرتی نظام نے دوبارہ سٹیٹس کو توڑنے کی اجازت نہیں دی۔ ہتشیپست کی غیر معمولی جرات اور سیاسی بصیرت کسی کھاتے میں نہیں رہی کیونکہ اس نے ایک عورت کی مروجہ معاشرتی حد سے نکل کر مرد کے دائرہ کار میں قدم رکھا۔ یہ در اندازی باوا آدم کے زمانے سے ہی عورتوں کو غیر معقول ثابت کرانے میں موثر رہی ہے۔

آج کے قرطبہ کی گلیوں میں گھومتے جہاں عظیم ابن رشد اپنی تصنیف کے ساتھ تمکنت سے شہری فصیل کے سائے میں براجمان ہے، وہیں ایک مجسمہ ہے ولادہ کے خوبصورت ہاتھوں کا۔ گو کہ عربوں کا اندلسیہ بہت آزاد خیال معاشرہ تھا مگر جب ولادہ ابن مستکفی رائج نقاب کے بغیر بازار میں اپنے باریک لباس کی آستین پر لکھوا کر نکلی ”خدا کی قسم، میں عظمت کی حقدار ہوں۔ میں اپنا سر بلند رکھتی ہوں اور اپنی مرضی میں آزاد ہوں“ تو لبرل علما بھی تھرا گئے۔ بے مثال شاعرہ ولادہ کا یہ عمل ابن رشد کی تحقیر کے جواب میں تھا۔ عظیم فلاسفر ابن رشد سمیت اندلسی علما کا خیال تھا کہ ولادہ ضرورت سے زیادہ آزاد ہے، اس کے عاشقوں کی طویل فہرست میں درباری شاعر ابن زیتون کا نام نمایاں ہے۔ ولادہ نے اپنے طرز زندگی کے ساتھ ساتھ اپنے ابن زیتون سے عشق کو بھی برملا آستین پر پہنا اور پھر اپنے ہرجائی محبوب کی تادیب بھی ڈنکے کی چوٹ پر کی۔ ابن زیتون کے کئی مرد و عورت محبوب تھے، وہ کسی کو یاد نہیں رہے۔ البتہ شاعری سے زیادہ ابن ولادہ اپنی آزاد طبع کے باعث مشہور ہوئی۔ ابن زیتون کی اٹکھیلیاں مردوں کے شوق کہلائے۔

اچھی عورت اور غلام کے بیچ کافی قدریں مشترک ہیں۔ غور کریں۔ اپنے دماغ کا استعمال کم ترین لیول پر کرے۔ مرد صنف کو یہ یقین دلانا بیحد ضروری ہے کہ وہ فالور ہے لیڈر نہیں۔ اس کی سوچ چولہا ہانڈی، بننے سنورنے اور مرد جو کسی بھی رشتے میں اس سے منسلک ہو، کی ضروریات پوری کرنے تک ہے۔ اگر کہیں کچہری یا تھانہ جانا پڑ جائے تو شرافت پر حرف آجائے۔ نہ حقوق کی سدھ بدھ رکھے گی نہ ہی مانگنے کا کشٹ اٹھانا پڑے گا۔ جو اس وضع کیے دائرے سے باہر نکلے گی، اسے رام کی سیتا کی طرح راون اٹھا لے جائے گا۔ سزا بھی تجویز شدہ ہے، کارو کاری، غیرت کے نام پر قتل، شادی کے لئے ناپسندیدہ ہونا، معاشرے کی تنزلی کا سبب وغیرہ۔ بری عورت کا ٹھپہ ان سب سے پہلا تمغہ ہے جو ماتھے پر سجایا جائے گا۔ قدرت نےکسی بھلے مرد کو موقع دیا تو آنے والی نسلوں کی عبرت و سبق کے لیے کہانی چھوڑ کے بھی جایا جائے گا۔

عورت کو یہ بارہا ثابت کرنا پڑتا ہے کہ وہ بری نہیں ہے، اس میں خود سے سوچنے سمجھنے کا اگر شعور ہے تو دبا دیا جائے۔ شریف اور اچھی عورت کے طور پر مرد کی عزت اور معاشرتی وقار کی حفاظت کی بھاری ذمہ داری باوا آدم نے اماں حوا کے زمین پر اترتے ہی ان کے حوالے کر دی۔ یہ ذمہ داری جدید دور کی عورت کو وراثت میں منتقل ہوتی آئی ہے۔

دیکھا جائے تو ہر بری کہلائی جانے والی عورت میں وہ تمام خصوصیات ہیں جو کسی بھی آزاد انسان میں ہوتے ہیں۔ سوچ کا شعور، کسی کی برتری ماننے سے انکار کی جرائت۔ اپنا فیصلہ کسی بھی اور کے ہاتھ میں دینے سے گریز۔ جب یہ سب کسی مرد کے لیے بری خاصیت نہیں ہے تو عورتیں کیوں شرمندہ ہوں ان پر۔ معاشرے کے سدھار کی ذمہ داری عورت پر ہی کیوں۔ مرد نے اپنی عزت عورت کی جھولی میں ہی کیوں ڈال رکھی ہے؟ جو مرد اپنی ذاتی عزت خود نہ سنبھال سکے کیا وہ اس قابل ہے کہ دنیا کی باقی پچاس فیصد آبادی کا ضابطہ حیات مقرر کر سکے؟

تعارف: : قراۃ لعین فاطمہ آکسفورڈ سے پبلک پالیسی میں گریجویٹ، سابق ایئر فورس افسراور سول سرونٹ ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words