وزیراعظم نواز شریف کو جے آئی ٹی پر کیا اعتراضات ہیں؟


وزیراعظم نواز شریف نے جے آئی ٹی اور اس کی تفتیش پر اعتراضات میں یہ بھی کہا ہے کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ واجد ضیا نے برطانیہ میں باہمی قانونی معاونت کے لیے جس فرم کی خدمات حاصل کیں وہ ان کے رشتہ دار اختر راجا کی ہے جو برطانیہ میں پاکستان تحریک انصاف کے کارکن ہیں۔

اُنھوں نے جے آئی ٹی میں شامل انٹرسروسز انٹیلی جنس یعنی آئی ایس آئی کے نمائندے برگیڈیئر نعمان سعید پر اعتراض میں موقف اختیار کیا کہ جے آئی ٹی کی تشکیل کے وقت آئی ایس آئی کا نمائندہ اپنے ادارے میں حاضر سروس افسر نہیں تھا۔

بی بی سی اردو کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اعتراضات میں کہا گیا ہے کہ آئی ایس آئی کے نمائندے کا بطور ایک سورس تعیناتی کا انکشاف ہوا ہے اور ایسے ملازم کی قانون میں کوئی حیثیت نہیں ہوتی جبکہ سرکاری دستاویزات میں نمائندے کی تنخواہ کا بھی ذکر نہیں۔

اعتراض میں کہا گیا کہ جے آئی ٹی کا اپنی رپورٹ کی جلد 10 کو خفیہ رکھوانا بدنیتی پر مبنی ہے۔ اس کے علاوہ ان اعتراضات میں عدالت عظمیٰ سےاستدعا کی گئی کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ کی جلد نمبر 10 کی کاپی فراہم کی جائے۔

ان اعتراضات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تمام تفتیشی عمل متعصبانہ، غیر منصفانہ اور غیر جانبدارانہ ہے اس کے علاوہ وزیراعظم کی ذات اور نوکری سے متعلق حقائق تصوراتی اور وزیر اعظم کے خلاف شہادتیں عدالتی اختیارات استعمال کرنے کے مترادف ہیں۔
اعتراض میں کہا گیا کہ مدعا علیہان کے ٹرائل کے لیے قانون کے مطابق مواد حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔

وزیراعظم نے اپنے اعتراض میں کہا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ نامکمل اور نقائص سے بھرپور ہے، جبکہ جے آئی ٹی نے عدالت کے سامنے کہا کہ مکمل رپورٹ جمع کروائی جا رہی ہے۔
وزیر اعظم کی طرف سے اُٹھائے گئے اعتراضات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جے آئی ٹی کی طرف سے نامکمل رپورٹ کے باعث مدعا علیہان کے خلاف کوئی حکم نامہ جاری نہیں کیا جا سکتا اور شفاف ٹرائل مدعا علیہان کا بنیادی حق ہے اور یہ حق اُنھیں آئین نے دیا ہے۔

وزیر اعظم نے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ چونکہ اس رپورٹ میں قانونی تقاضوں کو پورا نہیں کیا گیا اس لیے درخواست کو منظور کرتے ہوئے جے آئی ٹی کی رپورٹ کو مسترد کیا جائے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 25398 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp