دستاویزات اصلی ہیں یاجعلی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سماعت کے آغاز پر بنچ کے سربراہ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ گزشتہ روز عدالت میں دستاویزات جمع کرانے کے لئے مہلت لی گئی تھی مگر حسین نواز کی یہ دستاویزات پہلے میڈیا کو جاری کی گئیں، اگرایسا ہی کرنا ہوتا ہے تو دلائل بھی میڈیا پر ہی دے دیں، وہیں مقدمہ لڑلیں۔ جسٹس عظمت نے کہا کہ باہر میڈیا کا پوڈیم لگا ہے وہاں جاکر بات کرلیں۔ وکیل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ دستاویزات میڈیا میں آنے کی ذمہ داری ان پر عائد نہیں ہوتی۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ سپریم کورٹ کو جے آئی ٹی کے لئے بھجوائی گئی دستاویزات موصول ہوئی ہیں ان میں قطر کے شیخ کا خط اور برٹش ورجن آئی لینڈ کے اٹارنی جنرل کا جواب شامل ہے، عدالت میں سب کے سامنے کھولی جارہی ہیں اور فریق کو اس کی نقل فراہم کی جائے گی۔

وکیل نے دلائل کا آغاز کیا تو جسٹس اعجاز الاحسن نے بات کرنا شروع کر دی۔ وکیل نے بھی اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ مجھے بولنے دیا جائے۔ اس صورتحال میں جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ راجا صاحب، آپ کو تفصیل سے سنیں گے جب جج بول رہا ہو تو آپ خاموش رہ کرسن لیا کریں۔ وکیل نے اس پر معذرت کرلی۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جو دستاویزات عدالت کے سامنے ہیں ان پر جے آئی ٹی نے مریم سے سوال کیے تھے، انہوں نے لاعلمی ظاہرکی تھی تو کیا اب اس کے نتائج نہیں ہوںگے؟ وکیل نے کہا کہ تمام امور پر تفصیل سے معاونت کروں گا، پہلے متحدہ عرب امارات کی دستاویزات پر دلائل دینے ہیں، تفتیشی ٹیم نے امارات سے منتقل کی گئی مشینری کو اسکریپ کہا، تفتیشی ٹیم نے طارق شفیع کو اہلی اسٹیل کے پچیس فیصد حصص کی فروخت سے حاصل بارہ ملین درہم کو بھی غلط قرار دیا ہے۔

جسٹس عظمت نے کہا کہ پہلے امارات کے محکمہ انصاف کا وہ خط دیکھ لیتے ہیں جس میں تفتیشی ٹیم کو بتایا گیا ہے کہ انہوں نے طارق شفیع کے حصص فروخت کی تصدیق نہیں کی اور نہ ہی مشینری دبئی سے جدہ گئی کیونکہ اس کی بنیادپر ہی جے آئی ٹی نے آپ کی دستاویزات کو غلط کہا ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جے آئی ٹی نے آپ کی دستاویزات کی محکمہ انصاف امارات سے تصدیق کرائی اور نہ ہونے پر اپنی رپورٹ میںان کوغلط قراردیا۔ وکیل نے کہا کہ جے آئی ٹی نے یہ بات حسن، حسین کو جرح کے وقت نہیں بتائی ورنہ وہ جواب دیتے اور درست کرتے۔ جسٹس عظمت نے کہا کہ دبئی حکام نے کہا کہ یہ دستاویزات انہوں نے بنائی ہی نہیں ہیں، ان سے کبھی تصدیق بھی نہیں کرائی گئی جبکہ آپ کی دستاویزات پر دبئی کی مہرہے، اب اس مرحلے پر یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس کے نتائج کیا نکلیں گے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جے آئی ٹی کے سوالوں کے جواب میں حسین اور طارق شفیع دونوں نے کہا کہ انہوں نے دبئی جاکر ان دستاویزات کو تصدیق نہیں کرایا، جب اس کا کوئی ریکارڈ ہی نہیں تو پھر یہ جعلی ہی ہوئیں۔ وکیل نے کہا کہ حسین نے کہا کہ وہ خود نہیں گیا، اس کی طرف سے کوئی گیا ہوگا۔ جسٹس اعجاز نے کہا کہ دبئی حکا م نے ان دستاویزات پر تصدیق شدہ نہ ہونے کی مہر لگائی۔ وکیل بولے کہ حسین سے جے آئی ٹی نے ان دستاویزات پر سوال ہی نہیں کیے۔ جسٹس اعجاز نے کہا کہ اگر دوبارہ تصدیق کے لئے بھیجیں اور نہ ہو تو پھر کیا ہوگا؟ جسٹس عظمت نے کہا کہ ہم کھلے دل اور دماغ کے ساتھ بیٹھے ہیں، پہلے بھی تفصیل سے سنا تھا، سارے گلے شکوے دور کرچکے ہیں کہ ہمیں سنا نہیں گیا۔

وکیل نے کہا کہ موقع دیا جائے دبئی حکام سے تصدیق کرادیں گے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ تصدیق کراتے پھریں اور ہم بیٹھے آپ کا انتظار کرتے رہیں۔ وکیل بولے کہ مجھے ملزم ٹھہرایا گیا ہے تو میرے جواب کا انتظار بھی کرنا ہوگا، دبئی حکام کے خلاف قانونی چارہ جوئی بھی کرسکتا ہوں۔ جج نے حسین نواز کے تفتیشی ٹیم کے سامنے خاموشی کی بات دہرائی تو وکیل بولے کہ جے آئی ٹی میں جب آئی ایس آئی کے نمائندے نے غیر ضروری طورپر حسین سے اپنے دوست کا نام بتانے کے لئے کہا تو وہ خاموش ہوگئے کیونکہ یہ کسی اور کو اس معاملے میں گھسیٹنے یا ملوث کرنے کے مترادف تھا۔ عدالت میں مشینری برآمد کی کسٹم دستاویز سامنے آئی تو جسٹس عظمت سعید نے ازراہ تفنن کہا کہ دستاویز رنگین ہے لیکن کچھ چیزیں بلیک اینڈ وائٹ میں ہی اچھی لگتی ہیں۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ نئی دستاویز کو بھی دیکھیں گے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ دبئی حکام نے دوسری تصدیق شدہ دستاویز کوبھی جعلی کہا ہے۔ وکیل بولے کہ میں ان سے اتفاق نہیں کرتا۔ جسٹس عظمت سعید کو پھر مذاق سوجھا اور برجستہ کہا کہ آپ کو حق ہے کہ اتفاق نہ کریں، دبئی اور برطانیہ کے حکام کی دستاویزات سے اتفاق نہ کریں، حق ہے کہ کیلبری فونٹ سے بھی اتفاق نہ کریں۔ جسٹس اعجاز نے کہا کہ حسین کہتے ہیں اسکریپ ٹرکوں پر گیا مگر دبئی حکام نے تصدیق نہ کی۔ وکیل بولے کہ جے آئی ٹی نے اس کو اسکریپ کہا، یہ اسٹیل مل کی پرانی مشینری تھی۔ جج نے پوچھاکہ اسٹیل مل دبئی میں تھی مگر مشینری ابوظہبی سے جدہ کیسے گئی، دستاویزات تو یہی دکھا رہی ہیں۔ اگر دبئی سے ابوظہبی گئی تو اس کا ریکارڈ کیوں نہیں؟ وکیل نے کہا کہ امارات کی مختلف ریاستوں کے اندر نقل وحمل پر کسٹم دستاویز نہیں بنتی۔ اسٹیل مل دبئی میں ہی تھی یہ مشینری بذریعہ سڑک ابوظہبی گئی، وہاں سے جدہ منتقل کی گئی۔ جے آئی ٹی نے مشینری درآمد کا سوال ہی نہیں کیا وگرنہ حسین نوازان کو تفصیل سے سمجھا دیتے۔ ہم نے معاملے کی تمام کڑیاں جوڑ دی ہیں تاکہ سمجھنے میں آسانی رہے اور اس کے دستاویزات بھی فراہم کردیے ہیں۔

جسٹس عظمت نے کہا کہ ایسا عدالت کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ یہ سب کڑیاں وقت گزرنے کے ساتھ ملائی گئیں اور خلا کو پر کیا گیا۔ وکیل بولے کہ ان دستاویزات کو فکشن (اختراع) نہیں کہاجاسکتا۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ ہم تفتیشی ٹیم کی رپورٹ میں اخذ نتائج نہیں بلکہ ریکارڈ پر لائی گئی دستاویزات کو دیکھ رہے ہیں۔ وکیل بولے کہ تفتیشی ٹیم کی دستاویزات کی نفی کے لئے اپنی دستاویز لایا ہوں۔ جسٹس اعجاز نے کہا کہ ہم نے یہ تمام نکات لکھ لیے ہیں، آگے بڑھیں۔ وکیل بولے مائی لارڈ، یہ بہت اہم نکتہ ہے۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ کیاہم آپ کو دکھادیں کہ یہ نکتہ لکھ چکے ہیں۔

وکیل سلمان نے کہا کہ عدالت کو یہ بتا رہا ہوں کہ جن دستاویزات پر تفتیشی ٹیم نے انحصار کیا وہ درست نہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے پوچھاکہ کیا عزیزیہ اسٹیل مل تریسٹھ ملین ریال میں بکی؟ رقم کس نے وصول کی؟ کیا اس کے ذمے اکیس ملین کا قرض واجب الادانہ تھا؟ وکیل نے کہا کہ اس کا تمام ریکارڈ دستیاب ہے۔ جسٹس اعجاز نے پوچھا کہ عزیزیہ کے ذمے قرض کتنا تھا؟ وکیل نے کہا کہ کہ تمام تریسٹھ ملین حسین کو ملے، کوئی قرض نہیں تھا۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ ابتدائی کیس میں مخدوم علی خان اور نعیم بخاری نے دلائل دیے تھے کہ اکیس ملین کا قرض مل کے ذمے واجب الادا تھا۔ وکیل بولے کہ مائی لارڈ، وہ گلف اسٹیل کا معاملہ تھا، عزیزیہ اسٹیل مل دوہزار پانچ میں فروخت ہوئی، تفتیشی ٹیم کی رپورٹ کہتی ہے کہ اس کی فروخت سے بیالیس ملین ریال ملے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ معاہدہ ریکارڈ پر ہے کہ بنک کو اکیس ملین ریال کا قرض لوٹانا ہوگا۔ وکیل نے کہا کہ حسین کے پاس سارے تریسٹھ ملین اکاونٹ میں منتقل ہوئے، اکیس ملین قرض پہلے ہی ادا کر دیا گیا تھا۔ جسٹس اعجاز نے کہا کہ یہ تو مان لیاکہ قرض ذمے واجب لاداتھا، اب یہ کس نے اورکیسے ادا کیامعلوم نہیں۔ جسٹس عظمت نے وکیل کو مخاطب کیا اور بولے کہ یہ اتنا سادہ معاملہ نہیں مری جان، کسی نے تو آپ کی طرف سے اکیس ملین ادا کیے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ مطلب تو یہ ہواکہ عزیزیہ میں تین شراکت دارتھے، اب اس کی بھی دستاویز لائیں اور بتائیں کہ کیا دیگر دو افراد نے اپنا حصہ نہیں لیا۔ وکیل بولے کہ جے آئی ٹی نے یہ سوال پوچھا ہی نہیں۔ جسٹس عظمت نے کہا کہ اور کیسے پوچھتے، کیا اخبار میں اشتہار دیتے؟

وکیل نے کہا کہ میرا مقدمہ یہ ہے کہ عزیزیہ سے تمام تریسٹھ ملین مجھے ملے۔ جسٹس اعجاز نے کہا کہ ثابت کریں باقی دوشراکت داروں نے اپنا حصہ بھی حسین کو دیا، حسین کی جانب سے شراکت داروں کے حصص خریدنے کی دستاویز دکھادیں۔ وکیل نے کہا کہ شراکت دار اپنے حصے کے لئے کسی عدالت نہیں گئے، بارہ برس پرانا معاملہ ہے دستاویز ملی تو دکھا دوں گا، باقی اگر حصہ داروں نے حسین کو دیدیا تو کیا ہوسکتا ہے، یہ خاندانی معاملہ ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ حسین نے عدالت میں الگ اور جے آئی ٹی کے سامنے مختلف موقف اختیارکیا۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ یہ بتادیں کہ تریسٹھ ملین ریال کہاں گئے؟ وکیل بولے کہ ان کاکچھ حصہ لندن اور کچھ واپس یہاں آیا۔ جسٹس اعجاز نے پوچھاکہ کیا یہاں واپس آنے والی رقم کی کوئی دستاویز ہے؟ وکیل نے کہا کہ یہ تمام ٹرانزیکشن بنک کے ذریعے ہوئی اور ان کا ریکارڈ موجود ہے۔ جسٹس اعجاز نے کہا کہ کب پیش کریں گے؟ ڈیڑھ سال سے اس منی ٹریل کا پوچھ رہے ہیں۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ اسٹیل مل کا منافع تو نظر آرہاہے مگر اس کو لگانے کے لئے سرمایہ کہاں سے آیا معلوم نہیں۔

وکیل نے کہا کہ پہلے یہ بتانے دیں کہ حسین پر الزام کیا ہے؟ بانوے ترانوے میں فلیٹ لینے کا الزام نہیں کیونکہ اس وقت وہ بچے تھے۔ جسٹس عظمت نے پوچھاکہ فلیٹ کس کے بچوں کے پاس تھے؟ وکیل نے کہا کہ فلیٹ تین بھائیوں کی اولاد یعنی حسن، حسین، حمزہ اور ہارون کی رہائش گاہ تھے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ الزام فلیٹوں کی خریداری کے ذرائع نہ بتانے کا ہے۔ جسٹس عظمت نے معاملے کی پس منظر کی جانب تفصیل سے توجہ دلائی اور کہا کہ موزیک فونسیکا کی دستاویزات سے کمپنیاں سامنے آئیں، معلوم ہواکہ نیلسن اور نیسکول لندن فلیٹوں کی مالک ہیں، موزیک فونسیکا نے منروا دستاویزات کی بنیاد پر مریم بی بی کو کمپنیوں کامالک کہا ہے، مریم آپ کی موکل ہے، اوپر سے نیچے کی طرف آئیں یا نیچے سے اوپر کی طرف جائیں لیکن عدالت کو بتائیں کہ مریم نواز مالک نہیں ہیں تو کمپنیوں کامالک کون ہے۔

وکیل نے کہا کہ مریم کی ملکیت بتانے کے لئے صرف ایک منروا کمپنی کی دستاویز پر انحصار کیا گیا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اگر ثابت ہو گیا تو پھر بتانا ہوگا کہ مریم نے کمپنیاں کیسے بنائیں۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ دستاویزات آنے کے بعد یہ الزام نہیں رہا ’میٹر آف فیکٹ‘ بن چکاہے۔ وکیل نے کہا کہ پہلے مجھے معاملے کی جڑ کی طرف جانے دیں۔ دراصل یہ دستاویزات سامنے ہی غلط طریقے سے آئی ہیں۔

جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ عدالت میں درخواست اس الزام کے ساتھ دائر کی گئی کہ شریف خاندان کے اثاثے وزیراعظم نے بچوں کے نام پر بنائے۔ اس دوران جسٹس عظمت کو میڈیا کی خبریں یاد آگئیں اورکہا کہ باہر سب اپنے مطلب کی بات نکالتے ہیں، ہم پریس سے نہیں وکیل سے مخاطب ہوتے ہیں، یہ صرف ہم اور وکیل جانتے ہیں کہ نیب قانون کا سیکشن ن واے پانچ کیا ہے۔ باہر تو لوگ اس کو صرف کرپشن اور کرپٹ پریکٹس کہہ کر اپنا مطلب بیان کرتے ہیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ الزام یہ ہے کہ یہ لوگ بے نامی مالک ہیں۔ وکیل نے کہا کہ حسین نے دوہزارچھ میں فلیٹس کی ملکیت تسلیم کی، اس سے پہلے جس کے تھے اسی سے پوچھاجاسکتاہے۔ مریم، حسن اورحسین پر کسی غلط کام کا الزام نہیں ہے۔ جسٹس عظمت نے کہا کہ اگر بچوں پر الزام نہیں تو پھر وزیراعظم پر الزام ہے۔ وکیل نے کہا کہ صرف یہ بتا رہا ہوں کہ الزام بانوے ترانوے میں فلیٹس خریدنے کاہے۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ الزام مریم کے مالک ہونے اور ان کے وزیراعظم کے زیرکفالت ہونے کاہے۔ مریم کے نام ٹرسٹ ڈیڈ ہے اور صفدر اور نوازشریف نے اپنے اثاثوں کے گوشواروں میں اس کا ذکر نہیں کیا، یہ الزام ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ یہ بھی الزام سامنے آیاہے کہ مریم نے عدالت میں جعلی دستاویز جمع کرائی۔

وکیل نے کہا کہ یہ الزام ہیں کوئی دستاویز تفتیشی ٹیم لے کر نہیں آئی۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ باربار پرانی باتیں دہرارہے ہیں، آگے بڑھیں۔ جسٹس عظمت نے کہا کہ راجا صاحب، اب ذرا چکری سے آگے چلیں۔ وکیل راجا سلمان اکرم نے کہا کہ حسین نے جدہ میں کمپنی لگائی اور کاروبار کا آغاز کیا، جسٹس اعجاز الاحسن برجستہ گویاہوئے کہ اور یہ کمپنی خسارے میں چلنا شروع ہوئی۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ یہ بتادیں کہ اسٹیل مل اگر دادا کے سرمائے سے لگائی تو منی ٹریل کہاں ہے۔ ڈیڑھ سال سے پوچھ رہے ہیں۔ وکیل نے کہا کہ یہ بتانے عدالت میں کھڑا ہوں، امید ہے کہ ایسے ریمارکس نہیں دیے جائیں گے کہ کہ میڈیا پر ہمارے خلاف استعمال ہوں۔ حسین نواز کوئی حکومتی عہدیدار نہیں۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ اگر بچے اثاثے بنانے کے ذرائع بتاکر مطمئن کرتے ہیں تو وہ خود اور وزیراعظم بھی بری الذمہ ہوجائیں گے اور اگر ایسا کرنے میں ناکام ہوتے تو پھر نقصان عوامی عہدے دار (وزیراعظم) کو ہوگا۔ عدالتی وقفے کے لئے نشست سے اٹھتے ہوئے جسٹس اعجاز افضل نے وکیل کو مخاطب کیاکہ پہلے بیس منٹ تک آپ نے متاثرکن دلائل دیے مگر بعد بھی پرانی باتیں باربار دہرائیں۔

وقفے کے بعد وکیل نے کہا کہ جے آئی ٹی نے شیخ حمد کا بیان ریکارڈ نہیں کیاحالانکہ اس پورے معاملے میں ہمارا بنیادی دفاع ہی شیخ کے خطوط پر ہے، جے آئی ٹی نے حسین نواز کے سامنے دستاویزات رکھ کر سوالات نہیں کیے، اگر کسی دستاویز کی تصدیق نہیں ہوسکی یا اس پر سوال اٹھائے گئے ہیں تو اس کی مزید تحقیق کی جاسکتی ہے۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ اب یہ نئی بات کی جارہی ہے کہ مزید تحقیق کی جائے۔ جے آئی ٹی نے رپورٹ میں کوئی نئی بات نہیں کی، رحمان ملک کے بیان کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ قرار دیا۔ دستاویزات کے تجزیہ کا کہہ رہا ہوں، تفتیش کی بات نہیں کررہا، ہزاروں پاکستانی ملک سے باہر کاروبار کررہے ہیں، جب تک کسی پر غلط کام کرنے کا تعین نہ ہوجائے نیب قانون کیسے لاگوکیا جا سکتا ہے؟

جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ معاملہ غلط کام کا نہیں، جس کی ملکیت ہے اس نے وضاحت دینی ہے۔ وکیل نے دوبارہ کہا کہ حسین نواز بیرون ملک کاروبار کررہے ہیں اس پر احتساب کا قانون نہیں لگایا جاسکتا۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ مقدمہ کہاں جانا ہے، فیصلہ کہاں ہونا ہے یہ ابھی طے کیا جاناہے۔ وکیل نے کہا کہ حسین نواز عوامی عہدہ نہیں رکھتے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ وہ وزیراعظم کے بیٹے ہیں۔ جسٹس عظمت نے پوچھاکہ کیا ہم یہ مقدمہ نیب کو بھیج دیں، وکیل نے کہا کہ پہلے درست تفتیش تو ہو کہ مقدمہ بنتا بھی ہے یا نہیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سرمایہ کاری کی وضاحت نہیں آئی، قانون کہتاہے کہ اگر وضاحت نہیں آتی تو سمجھا جائے گاکہ وضاحت موجو د نہیں۔ وکیل نے کہا کہ ہمارا مقدمہ ہے کہ قطر میں سرمایہ کاری سے اثاثے بنائے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے پوچھاکہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ وضاحت قابل قبول ہے۔ وکیل نے کہا کہ وضاحت قابل قبول ہے، مگر یہ عدالت اس مرحلے پر اس کا تعین نہیں کرسکتی۔ جسٹس عظمت نے کہا کہ کیا آپ نے ہمارا ذہن پڑھ لیاہے کہ ہم اس کا فیصلہ کرکے بیٹھے ہیں۔ وکیل بولے کہ گزشتہ بیس برس سے عدالتوں میں پیش ہو رہا ہوں۔ جسٹس عظمت نے کہا کہ مجھے تو جج بنے صرف بارہ برس ہوئے ہیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ برٹش ورجن آئی لینڈ کی ایجنسی نے سرکاری ذریعے سے تصدیق کی کہ مریم آف شور کمپنیوں کی مالک ہے، اس کے جواب میں آپ اپنی نجی خط وکتابت لے کر آئے ہیں کہ منروا نے حسین نواز کے کہنے پر کمپنیوں کا انتظام سنبھالا، بتائیں آپ کی نجی دستاویز کو کیسے مان لیں۔ وکیل بولے کہ اس وقت برٹش ورجن حکام نے غلطی کی، اسی کو درست کرنے کا کہہ رہا ہوں۔ جسٹس اعجاز نے پوچھاکہ کیا آپ نے اس غلطی کو درست کرنے کے لئے متعلقہ حکام سے رابطہ کیا تھا؟ وکیل نے کہا کہ دوہزار بارہ کی بات ہے، اب دوہزار سترہ ہے، یہ خط وکتابت کمپنی کے مالک کو بتائے بغیر کی گئی۔ جسٹس عظمت نے کہا کہ یہ نجی طورپر تیار کی گئی دستاویزات ہیں۔

وکیل نے کہا کہ حسین نواز کے جس نمائندے نے دبئی میں حکام سے دستاویزات کی تصدیق کرائی وہ اس عدالت میں موجودہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ حسین نے اس نمائندے کا جے آئی ٹی کو کیوں نہ بتایا؟ وکیل بولے کہ حسین سے جے آئی ٹی نے پوچھا ہی نہیں، اور تفتیشی ٹیم میں موجود فوجی افسران کی وجہ سے بھی حسین جواب نہ دے پائے۔ نیلسن اور نیسکول کے رجسٹرڈ شیئرز دوہزار چھ میں جاری ہوئے، یہ سب کچھ نئے قوانین کی وجہ سے چند گھنٹوں میں کیاگیا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ چند گھنٹوں نہیں بلکہ بارہ دنوں میں ایک درجن ای میلز کے تبادلے کے بعد مریم کو آف شور کمپنیوں کا مالک بتایا گیا۔ اگر یہ سب کچھ غلطی کی وجہ سے ہوا تو اس کو درست کرنے کے لئے کیا کیا گیا؟ جسٹس عظمت نے کہا کہ عدالت میں پہلی ٹرسٹ ڈیڈ وکیل اکرم شیخ نے دی تھی، یہ ہے تو کومبر کمپنی کے بارے میں مگر شیڈول نیلسن اور نیسکول کا دیاگیاہے۔ وکیل سلمان اکرم نے کہا کہ کلریکل غلطی ہے۔ جسٹس عظمت نے فورا مذاق میں کہا کہ آپ نے یہ غلطی دیکھ لی اب ہماری فائل واپس کردیں ہمیں اعتبار نہیں۔ وکیل نے بھی جواب دیاکہ میں بھی آپ کی گرم فائل زیادہ دیر ہاتھ میں اٹھائے رکھنے کا متحمل نہیں رہا۔

اس کے بعد عدالت مریم کے ٹرسٹ ڈیڈپر کیلبری فونٹ یا رسم الخط کی طرف آئی۔ جسٹس عظمت کے سوال پر فرانزک آڈٹ رپورٹ کہتی ہے کہ مریم کے دستخط والا صفحہ دوبار استعمال کیاگیا، اور بادی النظر میں ایک جعلی دستاویز سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی، اٹارنی جنرل بتائیں کہ اس کی کیا سزاہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیاکہ اس جرم میں سات سال قید ہوسکتی ہے۔ وکیل نے کہا کہ یہ دستاویز سپریم کورٹ سینئر وکیل اکرم شیخ نے دی تھی، ان سے پوچھ کر بتاسکتا ہوں۔ جسٹس عظمت نے کہا کہ راجا صاحب، یہ آپ لوگوں نے کیا کردیا، ہم تو سوچ بھی نہیں سکتے کہ ایسا ہوسکتاہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ایک اور بات بھی ہے کہ جس دن ٹرسٹ ڈیڈکی تصدیق کرائی گئی لندن میں چھٹی تھی، چار فروری دوہزار چھ بروز ہفتہ بنتاہے۔ صرف یہ دستاویزات ہی مختلف دنوں میں نہیں تیار کرائی گئیں بلکہ تصدیق بھی مختلف دنوں میں کی گئی۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ امید ہے اور ممکن ہے کہ اس دستاویز پر وضاحت موجود ہوگی، قانون اپنا راستہ بنائے گا اور عدالت اس کو دیکھے گی۔ وکیل نے کہا کہ دوہزار چھ میں کیلبری رسم الخط کا بیٹا ورژن دستیاب تھا اور لگ بھگ پانچ لاکھ لوگ اس کو استعمال کررہے تھے۔ جسٹس عظمت نے کہا کہ کیا انگلش لاء فرم کی جانب سے ایسا فونٹ غیر قانونی طورپر استعمال کیے جانے کا تصور بھی کیا جا سکتا ہے؟ وہ تو پھونک پھونک کرچلتے ہیں، چھینک مارنے پر جرمانہ کردیتے ہیں۔ جسٹس اعجاز نے کہا کہ اس ٹرسٹ ڈیڈ کے ساتھ بہت سے مسائل ہیں۔ وکیل نے کہا کہ یہ سوال کسی باقاعدہ سماعت کے دوران عدالت کے سامنے رکھ کر جواب تلاش کیا جاسکتا ہے۔

وکیل نے کہا کہ مریم کے کمپنیوں کے مالک ہونے کی براہ راست دستاویز موجود نہیں صرف ایک موزیک فونسیکا کی خط وکتابت ہے، مگر کیا کوئی تھرڈ پارٹی کے کہنے سے مالک تسلیم کیا جاسکتا ہے۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ ایک طرف قانونی طریقے سے لائی گئی دستاویز ہے اور دوسری جانب جیب سے دستاویز نکالی جائے تو دونوںکی حیثیت میں فرق ہوتاہے۔

وکیل نے کہا کہ حسن نواز کی کمپنی لگانے کے لئے بھی ابتدائی سرمائے پر سوال اٹھائے گئے۔ جسٹس اعجاز نے کہا کہ سوال یہی ہے کہ سرمایہ کس ذریعے سے آیا؟ کیا نقد کی صورت میں حاصل کیا گیا؟ وکیل نے کہا کہ حمد بن جاسم نے کاروبار کی شراکت داری کے خاتمے پر مہیا کیا، ان کو بلاکر پوچھا جانا چاہیے تھا۔ جسٹس عظمت نے کاکہ یہ سرمایہ لندن گیا ہے، وہاں قوانین سخت ہیں، وہ کوئی ٹمبکٹو تو نہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کاکہ نہ ہی وہ پانامہ ہے۔ شیخ حمد نے اپنے دونوں خطوط میں اس سرمائے کی فراہمی کا ذکر نہیں کیا۔ وکیل نے کہا کہ شیخ حمد نے دیگر سرمائے کا بھی کہا ہے اس کو بلایا جاتا تو وہ وضاحت کردیتے کہ دیگر میں یہ سرمایہ شامل تھا۔

جسٹس عظمت نے کہا کہ شیخ حمد یہاں آنے کے لئے تیار نہیں، اس نے کہا کہ وہاں آجائیں۔ اب اگر ہم دوحا جائیں تو واپس کیسے آئیں گے اور وہاں تو براہ راست فلائٹ بھی نہیں جاسکتی۔ اس مذاق کے بعد جسٹس اعجاز الاحسن کو بھی مذاق سوجھا اور کہنے لگے کہ جب شیخ حمد پیش ہونے کے لئے تیار ہی نہیں تو معاملہ ہی ختم ہو جاتا ہے، وہ تو ویڈیو لنک پر بھی نہیں آتے، شاید فوٹو جینک نہ ہوں۔ اس پر عدالت میں قہقہے گونجے۔

جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ شیخ حمد اہم گواہ ہیں مگر کسی بات کے لئے تیار ہی نہیں تو عدالت کیا کرے۔ وکیل نے کہا کہ یہ عدالت ارسلان افتخار کیس فیصلے میں اسی طرح کی صورتحال پر کو تفصیل سے بیان کرچکی ہے، تفتیش کی رپورٹ پر رائے دی گئی ہے۔ میری استدعا یہ ہے کہ جب معلومات درکار ہوں تو گواہ سے رابطے کے لئے بہت کچھ کیا جاتاہے، یہاں تو شیخ حمد سے گواہی کے لئے بات ہی نہیں کی گئی۔ شیخ حمد کو صرف قوانین کے حوالے دے کر بلایا گیا، عدالت کو معلوم ہے کہ قطر میں ان دنوں کیا صورتحال ہے۔ جسٹس عظمت نے پوچھا کہ کیا آپ کو حسین نواز نے کوئی ہدایات دی ہیں کہ شیخ حمد آنے کے لئے تیار ہیں؟ وکیل نے کہا کہ مجھے ایسی کوئی ہدایات نہیں ہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ شیخ حمد کو پیش کرنا حسین کی ذمہ داری تھی کیونکہ ان کے گواہ ہیں۔

سماعت کے اختتام پر جسٹس عظمت نے پوچھا کہ دبئی میں ایف زیڈ ای کمپنی تھی اس کے لئے سرمایہ کہاں سے آیا؟ جسٹس اعجاز افضل نے پوچھاکہ کیا وزیراعظم اس کمپنی کے بورڈ میں چیئرمین تھے اور کیا تنخواہ بھی لیتے تھے؟ وکیل نے جواب دیاکہ یہ کمپنی دوہزار چھ سے دوہزار چودہ تک قائم رہی، وزیراعظم بورڈ چیئرمین تھے مگر تنخواہ نہیں لی۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اس کمپنی کے ذریعے حسن کی فلیگ شپ کمپنی کو ساڑھے چھ لاکھ پاؤنڈ بھیجے گئے۔ وکیل نے کہا کہ اس پر کل دلائل دوں گا۔
عدالت کے پوچھنے پر ایف بی آر کے وکیل نے بتایاکہ اسحاق ڈار کے گوشوارے نیب کی جانب سے لیے جانے اور واپس کیے جانے کی سرکاری رسیدیں موجود نہیں ہیں۔ عدالت نے سماعت کے اختتام پر ہدایت کی کہ کیپٹن صفدر کی جانب سے اگر کسی نے پیش ہونا ہے تو کل آگاہ کیا جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •