پروین کمار اشک: محبت کی ایک آواز ڈوب گئی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لیجئے، اک چراغ اور بجھا، معروف بھارتی شاعر پروین کمار اشک بھی چلے گئے۔ چند روز پہلے ہی پروین نے انتظار حسین کے ساتھ بنائی گئی اپنی تصویر انٹر نیٹ پر لگائی تھی۔ کیا عجب انہیں انتظار حسین نے ہی بلا لیا ہو۔

ا ن کی وفات پر ادبی دنیا میں جو صفِ ماتم بچھی اس کی مثال کم کم ملتی ہے۔ اس کی دو وجوہات ہیں۔ ایک تو یہ کہ پروین کمار اشک ایک مقبول شاعر تھے اور دوسری یہ کہ وہ سرتاپا پیار ہی پیار تھے۔ پاکستان میں شاید ہی کوئی قابلِ ذکر شاعر یا ادیب ہو جس کے ساتھ ان کا رابطہ نہ رہا ہو۔ وہ ہمہ وقت میسنجر یا فون کال پر سب کی خیریت دریافت کرنے واے آدمی تھے۔ پروین بہت ٹھکا ہوا مصرع نہیں کہتے تھے مگر ان کے کلام میں اخلاص کی خوشبو تھی۔ اسی خوشبو نے انہیں مقبولیت کے درجے پر فائز کیا

کچھ عرصہ قبل جب شمس الرحمان فاروقی نے ان کی شاعری پر اچھی رائے دی تو ظفر اقبال نے کہا کہ فاروقی کی یہ رائے محض حوصلہ افزائی نہیں ہے تو جانبداری ہے کیونکہ ان کے خیال میں پروین اپنے ہم عصروں جیسا شعر نہیں کہہ پائے، اس کے علاوہ کچھ عرصہ قبل پاکستان میں ایک کتاب ’’چار جدید شاعر‘‘ میں جب ان کی شمولیت ان کی مقبولیت کا باعث بنی تو کچھ لوگوں نے اسی وجہ سے ان کے خلاف بھی لکھا۔ اس سلسلے میں ہم ظفر اقبال اور دیگر ناقدین سے اس حد تک اختلاف یقیناً کرتے ہیں کہ پروین کے لفظوں میں برکت ضرور تھی۔ یہ وہ مقام ہے جہاں نقاد کی فہم و فراست عاجز آ جاتی ہے لیکن اگر تھوڑا سا غور کیا جائے تو یہ راز پروین کی شاعری کے مضامین پر غور کرنے سے کھل جاتا ہے۔ وہ ایک بولڈ شاعر تھے۔ ان کے موضوعات منفرد بھی تھے اور ترقی پسندانہ بھی۔ ان کا شعری اسلوب بھی غزل کی حقیقی ( ایرانی) روایت کے تتبع میں تھا۔ یہ تمام عناصر ہندوستان میں کچھ عرصے سے بڑھتی ہوئی مذہبی عدم رواداری کی فضا میں خطرناک بھی ہو سکتے تھے لیکن پروین نے انہیں اپنے اصولوں کی ذیل میں شامل رکھا اور اسی کا صلہ پایا۔

پروین نے اگرچہ تقسیم ہندکے بعد جنم لیا مگر اس کا یہ کاٹ دار شعر ہر دل کو چیر جاتا تھا

مہاجر کا مکاں خالی ہے لیکن
میں در کھولوں تو کوئی بد دعا دے

بر صغیر کی تقسیم پر انہوں نے بھی بعض ایسے اشعار کہے جنہیں پاکستان میں قابلِ اعتراض سمجھا جاسکتا ہے۔ اس سلسلے میں امجد اسلام امجد نے ذکر کیا کہ انکے دورہ بھارت کے دوران ایک مشاعرے میں پروین انہیں بڑے پیار سے ملے۔ اچھی گپ شپ ہوئی، مشاعرے میں پروین نے اپنا کلام بھی سنایا جس میں یہ شعر بھی شامل تھا

محبت میں بدل جائے سیاست
خدا لاہور سے دلّی ملا دے

اس پر امجد صاحب کہتے ہیں کہ میں چونک اٹھا اور انہیں اسی روایتی دبستان کا نمائندہ سمجھا جو ہر پاکستانی مندوب کو تقسیم کی لکیر کے خلاف قائل کرتا رہتا ہے لیکن پروین کے ساتھ مسلسل رابطے اور ملاقاتوں کے بعد یہ کھلا کہ یہ شخص حقیقتاً محبت کا اوتار ہے اور اپنی دانست کے مطابق ہر اس تقسیم کے خلاف ہے جو امن، خوش حالی، صلح اور انسانی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بننے والی ہو۔ چنانچہ امجد صاحب نے ان کے اس اخلاص پر ایک مختصر مضمون میں انہیں خراج تحسین بھی پیش کیا۔

پاکستان اور بھارت میں کشیدگی کی جو صورت حال مختلف فریق ہمیشہ قائم رکھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں اس کے خلاف بھی پروین کا یہ شعر خوب کوٹ ہوتا ہے۔

میں ہمسایہ ہوں تیرا، اشک ! مجھ کو
ذرا سی دھوپ، تھوڑی سی ہوا دے

پروین کی ذات کے بارے میں زیادہ معلومات میسر نہیں ہیں لیکن شاید ان کا براہ راست تعلق کسی مخصوص تحریک کے ساتھ نہیں تھا۔ بس وہ انسانی قدروں کی عظمت کے علم بردار تھے اور بین المذاہب ہم آہنگی کے زبردست قائل بھی۔ حقیقتاً ان کی شناخت کا سفر اسی سوچ کے تعارف سے ہوا تھا جب انہوں نے یہ کہا کہ

کسی کسی کو تھماتا ہے چابیاں گھر کی
خدا ہر ایک کو اپنا پتا نہیں دیتا

ان کے تین شعری مجموعے ’’در بدر‘‘ ( 1981)، ’’چاندنی کے خطوط‘‘ (1992) اور ’’دعا زمین‘‘ ( 2009) شائع ہوئے۔ بہار کی ایک یونیورسٹی میں ان پر پی ایچ ڈی کی سطح کے کام کی خبر بھی آئی تھی۔ چنانچہ کہا جا سکتا ہے کہ پروین کا شعری سفر ضائع نہیں گیا۔ انہوں نے اپنی ادبی زندگی کا لطف بھی لیا اور اچھی یادوں کے نقوش چھوڑ کر رخصت ہوئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •