اپنے موکل کی کشتی ڈبونے والے وکیل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ساڑھے نو بجے تینوں جج عدالت کے کمرے میں داخل ہوئے تو شور مچاتی آوازیں خاموشی میں ڈھل گئیں مگر حبس برقرار رہا۔ ہرکارے نے پکارا کہ آئینی درخواست نمبر انتیس، عمران خان بنام نوازشریف و دیگر۔ وکیل سلمان اکرم راجا ڈائس پر آئے اور کہا کہ ٹرسٹ ڈیڈ پر گزشتہ روز اٹھائے گئے سوالات کا اس وقت جواب تفصیل سے نہیں دے سکا تھا، عدالت نے کہا تھا کہ اس کی کوئی معصومانہ وضاحت موجود ہوگی، تو آج وہی معصومانہ وضاحت کر رہا ہوں۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ عدالت نے ٹرسٹ ڈیڈ کے فرانزک آڈٹ رپورٹ پر اس کو بادی النظر میں جعلی دستاویز کہا تھا۔ وکیل سلمان اکرم نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ میں وہ ٹرسٹ ڈیڈ درست طور پر لف کی گئی ہے جو سپریم کورٹ کے ریکارڈ میں وکیل اکرم شیخ کے اسٹاف کی معمولی غلطی سے دوبار ایک ہی صفحہ لف کردیا گیا تھا اس لیے دستخط مکمل طور پر فوٹو کاپی نظر آئے۔ ٹرسٹ ڈیڈ نومبر کی تھی مگر غلطی سے جلد بندی میں دوسرے صفحے پر نیلسن اور نیسکول کا شیڈول شامل ہوگیا۔ تاہم جے آئی ٹی کو یہ دونوں دستاویزات الگ الگ دی گئیں اور اس پر رپورٹ میں نتائج بھی اخذ کیے گئے، اس لیے عدالت میں کوئی جعل سازی نہیں ہوئی۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال پوچھنے کے لئے لب کھولے تو وکیل نے کہا کہ اب چھٹی والے دن نوٹری پبلک سے دستاوزیزات کی تصدیق کا بتاتا ہوں، گزشتہ روز عدالت میں یہ معاملہ سامنے آنے کے بعد میرے پاس سوشل میڈیا اور ای میلز کے ذریعے حوالوں کا انبار لگ گیا کہ لندن میں اتوار کے دن بھی نوٹری پبلک سے تصدیق ہوتی ہے۔ اس حوالے سے مختلف نوٹری پبلک کی یہ دستاویزات عدالت کے سامنے پیش کرتا ہوں، جسٹس اعجاز الاحسن نے پوچھا کہ کیا ان دستاویزات میں اس سولیسٹر کے کاغذ بھی ہیں جس سے حسین نواز نے تصدیق کرائی تھی۔ وکیل نے کہا کہ حسین نواز اس سولیسٹر کا برسوں سے موکل ہے اور وہ تو گھر پر آکر بھی تصدیق کرسکتا ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جے آئی ٹی کے سامنے حسین نواز نے کہا کہ اتوار کے دن لندن میں دستاویزات کی تصدیق نہیں ہوتی۔ وکیل نے کہا کہ حسین نواز سے عمومی سوال کیا گیا، اگر اس دستاویز پر مخصوص سوال کیا جاتا تو وہ بتا دیتے۔

اس کے بعد ورجن آئی لینڈ کے اٹارنی جنرل کی خط کی باری آئی۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ اٹارنی جنرل کا یہ خط گزشتہ روز ملا ہے جب کہ جے آئی ٹی کے سولہ جون کے خط کے جواب میں لکھا گیا تھا، 23 جون کو اگر یہ آیا ہے تو اس کے بعد کہاں رہا؟ جے آئی ٹی تک کیوں نہ پہنچا۔ جسٹس عظمت نے وکیل کو مخاطب کرکے کہا کہ امید ہے ہوم ورک کرکے آئے ہوں گے۔ وکیل بولے کہ مائی لارڈ، آپ نے مجھ سے زیادہ ہوم ورک کیا ہوگا۔ خط وکتابت کی تاریخ دکھانے کے لئے عدالت نے وزیراعظم اور ان کے بچوں کے وکلاء کو رپورٹ کی دسویں جلد کے وہ صفحات دکھائے جن پر خطوط موجود تھے۔ وکیل نے کہا کہ چون کہ بعد میں متعلقہ تمام تفصیلات حاصل ہوگئی تھیں اور سارے لنک آپس میں مل گئے تھے اس لیے اب اس کی اہمیت نہیں رہی۔ ان دستاویزات کو ایک باقاعدہ شہادتی ٹرائل ہو تب ہی دیکھاجائے گا۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ کیا آپ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ نیب کو ریفرنس بھیجا جائے۔ وکیل نے کہا کہ میرا موقف یہ ہے کہ لائی گئی دستاویزات اور مواد اتنا نہیں کہ اس پر معاملہ ٹرائل کے لئے بھیجا جا سکے، مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ جسٹس عظمت نے کہا کہ یہ مواد قانون کی نظر میں قابل قبول ہے یا نہیں، ٹرائل کورٹ دیکھ سکتی ہے، معاملہ صرف فونٹ کا رہ گیا ہے۔ وکیل نے کہا کہ پہلے مرحلے میں یہ عدالت اس ریکارڈ کا ضروری جائزہ لے لے۔

جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ گزشتہ روز ساتھی جج نے شیخ حمد کا پوچھا تھا کیا وہ گواہی کے لئے تیار ہیں۔ وکیل نے کہا کہ شیخ حمد سے کبھی ویڈیو لنک رابطے پر گواہی کے لئے نہیں پوچھا گیا۔ وکیل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ اگر بیٹا کاروبار یا اثاثوں پر عدالت کو مطمئن نہ کرسکے تو باپ پر قانون کے مطابق کوئی ذمہ داری عائد نہیں کی جا سکتی۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ اگر عوامی عہدہ رکھنے والے کے اثاثے آمدن کے مطابق نہ ہوں تو کیا اثرات ہوں گے؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ وزیراعظم نے اسمبلی میں واضح کہا تھا کہ وہ سب ریکارڈ فراہم کریں گے، وزیراعظم نے ’ہمارے‘ کہا تھا جس میں وہ خود شامل ہوتے ہیں۔ وکیل نے کہا کہ وزیراعظم قانون کی عدالت میں بیان نہیں دے رہے تھے بل کہ عمومی سی بات کی تھی۔ جسٹس اعجاز نے کہا کہ ایک سال سے ریکارڈ کا انتظار کررہے ہیں، وزیراعظم کی تقریر کے مطابق چیزیں سامنے نہیں آئیں۔ اس مرحلے پر سلمان اکرم نے دلائل مکمل کیے تو جسٹس اعجاز افضل نے کیپٹن صفدر کے بارے میں سوال کرلیا کہ مریم کو کمپنیوں کا مالک کہا گیا لیکن صفدر کے کاغذات نامزدگی کے گوشواروں میں اس کا ذکر نہیں، اس کے اثرات کیا ہوں گے؟ وکیل نے کہا کہ مریم نواز کے آف شور کمپنیوں کی دستاویز اگر تسلیم کربھی لی جائے تو وہ دوہزار بارہ کی ہے جب کہ الیکشن کے لئے کاغذات نامزدگی دو ہزار تیرہ میں جمع ہوئے تھے۔ کیا اس وقت بھی مریم اثاثوں کی مالک تھی اس کا تعین نہیں ہوا۔

سلمان اکرم کے دلائل مکمل ہونے کے بعد اسحاق ڈار کے وکیل ڈاکٹر طارق حسن نے دلائل کا آغاز کیا تو ان کے سامنے کاغذ کا بڑا سا کارٹن یا ڈبہ ڈائس پر رکھا گیا تھا جس پر اسحاق ڈار کے ٹیکس کاغذات کا ٹیگ لگا ہوا تھا جو سب کی نگاہوں کا مرکز تھا۔ وکیل نے کہا کہ گزشتہ روز کے دلائل میں مشکلات کا شکار تھا کیون کہ عدالت نے کئی ایسے سوال پوچھے تھے جن پر تیاری نہ تھی، دراصل لہروں کے ساتھ تیرنا آسان اور لہروں کے مخالف تیرنا بہت مشکل کام ہوتا ہے۔ جسٹس اعجاز افضل نے وکیل کی بات کے پس منظر کو نہ سمجھتے ہوئے کہا کہ بہاؤ کے مخالف تیرنے سے شہرت نہیں ملتی مگر قانون کے مطابق کام ہوتا ہے۔

وکیل نے کہا کہ میں اپنے بارے میں بات کر رہا تھا، عدالت یا ججوں کے بارے میں اشارہ نہیں تھا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے وکیل کے سامنے رکھے ڈبے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا یہ ہمارے لیے لایا گیا ہے۔ اس پر عدالت میں قہقہے گونجے تو جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ سوچ رہا ہوں کہ یہ ڈبہ سیکورٹی سے کیسے کلیئر ہو گیا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ یہ ٹیکس کاڈبہ سارا دن اب ٹی وی پر فلیش ہوتا رہے گا۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ حدیبیہ پیپرز کیس کھولنے پر جے آئی ٹی کو مینڈیٹ سے تجاوز کا کہا گیا، اگر آپ کے اس نکتے کو تسلیم بھی کر لیا جائے تب بھی آمدن سے زیادہ اثاثے بنانے کے معاملے پر اسحاق ڈار کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کیا جاسکتا ہے، اسحاق ڈار اپنے اثاثوں پر جے آئی ٹی کو مطمئن نہیں کرسکے تھے۔

وکیل نے کہا کہ یہ جے آئی ٹی کی مکمل بدنیتی تھی کہ اسحاق ڈار کے ٹیکس ریکارڈ کو رپورٹ کا حصہ نہ بنایا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ مسٹر ڈار کے اثاثے پانچ سال میں آٹھ ملین سے آٹھ سو تیس ملین تک پہنچے۔ اس کی وضاحت صرف شیخ نہیان کے خطوط کی صورت میں آئی ہے کہ اسحاق ڈار نے ان کے مشیر کے طور پر کمائے، کیا اس نوکری کا لیٹر یا تنخواہ کی دستاویز موجود نہیں ہے؟ وکیل نے کہا کہ عام نوکری کا اپوائنمنٹ لیٹر ہوتا ہے مگر جب آپ کسی حکمران کے مشیر ہوں تو گلف میں ایسی کوئی روایت نہیں ہے۔ پھر بولے کہ مثال دیتا ہوں کہ اگر بطور وکیل یہاں دو لاکھ کماتا ہوں تو باہر جاکر اس کے چار گنا تنخوا ہ ہوگی۔ جسٹس عظمت سعید نے مذاق کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ بطور وکیل دو لاکھ کماتے ہیں تو پھر معذرت کے ساتھ یہ پیشہ چھوڑ دیں۔ وکیل نے کہا کہ اسحاق ڈار پروفیشنل اکاؤنٹنٹ ہیں ملک سے باہر اکاؤنٹنٹ اور تجربے کی بہت مانگ ہے، ڈار صاحب یہاں بھی اہم عہدے پر فائز ہیں۔ جے آئی ٹی نے ان سے دستاویزات پر سوالات نہ کیے، بیرون ملک رہتے ہوئے بھی اسحاق ڈار نے ٹیکس ریٹرن جمع کرائے۔ عدالت چاہے تو بین الاقوامی آڈیٹر سے آڈٹ کرا سکتی ہے۔ جسٹس اعجاز افضل نے ازراہ تفنن کہا کہ ہم نے یہ نکتہ لکھ لیا ہے، آپ چاہتے ہیں کہ یہ مقدمہ کبھی ختم نہ ہو۔ وکیل نے کہا کہ مسٹر ڈار کے ٹیکس گوشواروں کی کئی بار سکروٹنی ہو چکی ہے، جسٹس عظمت نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ مسٹر ڈار سکروٹنی کرا کے تھک چکے ہیں۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں کہ یہ ’ساگا‘ ختم ہو، اگر یہ کوئی ’ساگا‘ ہے۔ (رزمیہ داستان)۔

( وکیل طارق حسن کے پاس جب کہنے کے لئے نئی بات نہ رہی تو تینوں ججوں نے وقفے وقفے سے ان کو باور کرانا شروع کیا کہ عدالت کا وقت ضائع کیا جا رہا ہے۔ میڈیا کے نمائندے بھی بار بار سر پکڑتے رہے، وزیراعظم اور ان کے بچوں کے وکلاء بھی کرسیوں پر پہلو بدلتے رہے، بہت سے لوگ سرگوشیوں میں کہتے پائے گئے کہ لگتا ہے وکیل صاحب مسٹرڈار کو پھنسا کر ہی جان چھوڑیں گے۔ )

جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ پر تحریری جواب کے علاوہ کچھ کہنا چاہیں تو بتادیں، تحریری دلائل ہم پڑھ لیں گے۔ وکیل نے کہا کہ اسحاق ڈار جے آئی ٹی میں بطور گواہ پیش ہوئے تھے مگر یہاں عدالت میں لگتا ہے کہ وہ ملزم ہیں۔ جسٹس عظمت سعید نے جملہ اچھالا کہ کیا اسحاق ڈار ماضی کی طرح پھر شریف خاندان کے بارے میں گواہ بننا چاہتے ہیں۔ عدالت میں قہقہے گونج اٹھے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اسحاق ڈار نے جے آئی ٹی کے سامنے کاروبار کے بارے میں معلومات دینے کی بجائے استحقاق میں پناہ ڈھونڈی، حیرت ہے کہ بیٹے کی کمپنی کے بارے میں بتانے کی بجائے اسحاق ڈار نے کہا کہ مجھے معلومات عام نہ کرنے کا استحقاق ہے۔ وکیل نے کہا کہ صرف اس بات کی وجہ سے مجھے ملزم نہیں بنایا جاسکتا۔ جسٹس اعجاز نے کہا کہ مگر بیٹے نے آپ کو رقم بھیجی سوال تو پوچھا جا سکتا ہے۔

ججوں نے پوچھا کہ کیا آپ نے دلائل مکمل کرلیے ہیں۔ وکیل نے پرانی باتیں دہرانا شروع کیں تو جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ وکیل صاحب، آپ نے اپنے موکل سے انصا ف کرلیا ہے، اب ہمیں موقع دیں کہ آپ کے دلائل اور جواب سے انصاف کریں۔ وکیل نے پھر بولنا شروع کیا تو جسٹس عظمت سے رہا نہ گیا اور منت سماجت کے انداز میں بولے کہ ہم وعدہ کرتے ہیں کہ آپ کے تمام دلائل اور تحریری جواب کو سامنے رکھ کر ایک ایک نکتے پر غور کریں گے۔ وکیل طارق حسن نے پھر بھی بات جاری رکھی تو جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں کہ ہم آپ کے دلائل پر اپنے اطمینان کا اظہار اس سے بھی زیادہ کھل کے کریں؟ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ دونوں اطراف کو کہتے ہیں کہ ہم قانون سے باہر نہیں جائیں گے۔ ردعمل جو بھی آئے، قانون کے مطابق فیصلہ دیں گے، تمام فریقوں کے بنیادی حقوق کو سامنے رکھیں گے، عدالت وہی کرے گی جس کی قانون نے اجازت دی ہے۔ ہمیں تمام فریقوں کے حقوق کا احساس ہے۔

وکیل نے پھر اپنے دلائل کا آغاز کیا تو جسٹس عظمت نے کہا کہ آپ وہ بات سمجھیں جو ہم کہہ رہے ہیں اور وہ بھی سمجھ لیں جو ہم نہیں کہہ رہے۔ عدالت میں موجود افراد جج صاحب کے طنز کو سمجھ کر ہنسنے پر مجبور ہوگئے مگر وکیل طارق حسن نے ڈائس نہ چھوڑا۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ آپ نے اسحاق ڈار کے بارے میں کہا تھا کہ ٹیکس سکروٹنی کراتے کراتے تھک گئے ہیں، جب تک آپ نہیں تھکتے سنیں گے۔ جسٹس عظمت نے کہا کہ فریق آپس میں جو بھی کریں ہمیں کچھ نہ کہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لئے روزانہ سماعت کررہے ہیں۔ ہم آپ کا تحریری جواب دیکھ چکے ہیں دوبارہ بھی دیکھ لیں گے۔ آخرکار جسٹس عظمت سعید نے تنگ آکر میزائل داغنے کا فیصلہ کیا اور بولے کہ وکیل صاحب، بہت زیادہ تفصیل کہانی کا بیڑہ غرق کردیتی ہے۔ اس کے بعد وکیل نے ڈائس چھوڑا، وفاق کے وکیل کی باری آئی۔

آخری حصہ: نااہل نہیں تو معاف کردیں جج صاحب

 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Comments are closed.