ہمیں اپنی اسٹیبلشمنٹ سے پیار ہے


دانشوری بھی ایسا خبط ہے انسان کو کہیں کا نہیں چھوڑتا۔ اب یہی دیکھیے کہ دانشوری کے خبط میں نوجوانوں کے ناپختہ ذہن کو کیسی کیسی لغویات سے آلودہ کیا جاتا ہے۔ اپنی دکان چمکانے کے لیے ملکی مفاد کو پسِ پشت ڈال کر محبِ وطن اور قوم کے خیرخواہ حلقوں کو ان نام نہاد دانشوروں نے اسٹیبلشمنٹ کا نام دیا، اور پھر ہر مثبت تبدیلی کو نادیدہ قوتوں کی سازش قرار دے کر اس کا ملبہ اسٹیبلشمنٹٹ پر ڈالا جانے لگا۔ ایسی گرد اڑائی گئی کہ الحفیظ و الامان۔ ایسے حلقے جو ملکِ عزیز کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کے محافظ تھے، ان پر دانشوری کی آڑ لے کر ایسی سنگ باری کی گئی کہ وہ مدافعانہ پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور ہو گئے۔ یہ تو ہم پر خدا کا خصوصی کرم ہے کہ اس سب کے باوجود بھی یہ سرفروشانِ وطن اپنے اپنے محاذ پر ڈٹے ہوئے ہیں۔

اب دیکھیں اگر جناح صاحب نے اقلیتوں کے متعلق وقتی جذبات کے زیرِ اثر کوئی تقریر کر ہی دی تھی، یہ محّبِ وطن حلقے اگر فوری طور پر اس تقریر کا متن پبلک ہونے سے روکنے کے لیے سرگرم نہ ہوتے، تو آج یہ اقلیتیں کیسے ہمارے سر پر چڑھ کر ناچ رہی ہوتیں۔ غضب خدا کا، کیسا اندھیر ہوتا کہ اسلام کے قلعے میں دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے بھی خود کو برابر کا شہری سمجھنے لگتے۔ اور پھر جمہوریت جیسے نظام کا نفاذ۔ اگر یہاں بھی ملک کی اسلامی اساس کے یہ محافظ آڑے نہ آتے، تو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نام کے آغاز میں اسلامی کا لفظ دیکھنے کو آج آپ کی آنکھیں ترستیں۔ حد تو یہ ہے کہ کم عقلوں نے پہلے وزیرِ اعظم کے انجام سے بھی سبق نہیں سیکھا۔ یعنی ٹھیک ہے آپ بانئ پاکستان کی بہن ہیں۔ آپ کا بہت احترام ہے ہمارے دلوں میں۔ مگر یہ کہاں کی دانشمندی کہ آپ ایسے مردِ جرّ ی کے مقابل انتخاب میں حصّہ لیں۔ یہ عورت کی ضد بھی نا۔ کیا ملا آخر۔ ان نادانوں کو سمجھایا بھی کہ یہ جمہوریت وغیرہ سرد علاقوں میں بسنے والوں کے چونچلے ہیں۔ ہم گرم خطے کے گرم مزاج لوگ، ڈنڈے کے بغیر سیدھے چل ہی نہیں سکتے، مگر افسوس کہ دورس نگاہ ہر کس و نا کس کا نصیب کہاں۔ اچھا چلو اب نام رکھ ہی لیا تو کیا ضروری تھا کہ جمہوریت کو اتنی ہی سنجیدگی ہی سے لے لیا جائے کہ ملکی مفاد پر بھی مقدّم رکھا جائے۔

جمہوریت کے نام پر کیا کیا کچھ نہیں ہوا اس ملک کے ساتھ۔ یہ تو خدا کی نصرت کے ساتھ نظریہ پاکستان کے ان محافظوں کی مخلصانہ کوششیں نہ ہوتیں تو خاکمِ بدہن۔ ہم نے بہت کوشش کی تھی ان بنگالیوں کو راہِ راست پر لانے کی۔ مگرجو خود سے مخلص نہ ہو اسے کون سمجھائے۔ دیکھا آخر پاکستانی کہلوانے کی سعادت سے محروم ہو گئے نا۔ ایک اور صاحب آئے، کہ فکر معاش میں منہمک لوگوں کو نئے خواب دکھانے لگے۔ اور تو اور اسلامی سوشلزم کا نعرہ لگا دیا۔ کہاں اسلام اور کہاں سوشلزم جیسا کفریہ نظام۔ ایک یہ جمہوریت بی بی ہی کیا کم تھی کہ لگے لوگوں کو روٹی، کپڑا، مکان کے خواب دکھانے اور عوام کی طاقت کا درس دینے۔ عوام نے ہی ملک کا نظم و نسق چلانا ہے تو پھر ہو گئی حکومت اور چل گیا نظامِ مملکت۔ اوپر سے ایسا آئین منظور کروا دیا کہ جس نے لٹیا ہی ڈبو دی۔

خیر خدا کے ہاں، دیر ہے اندھیر نہیں۔ اس گھٹاٹوپ اندھیرے میں ایک ایسا مرد مجاہدامید کی کرن بن کر چمکا جس نے ازسرِ نو اسلام کے اس قلعے کی بنیادوں کو استحکام بخشا۔ کیا سنہرا گیارہ سالہ دور تھا۔ ملحد روس کے چھّکے چھڑا دیے۔ ایسے نظریاتی اثاثے تیار کیے جو آج بھی اسلام دشمنوں کی نظروں میں کھٹکتے ہیں۔ملک کو اسلامی نظام کے نفاذ کی راہ پر گامزن کیا۔ جہاد کا علم بلند کیا۔ اب کیا کیا گنوایا جائے۔ وہ تو عمرِ عزیز نےوفا نہ کی ورنہ وطنِ عزیز کو اسلام کا گہوارہ بنا کر دم لیتا۔

مگر ہائے ری قسمت، جمہوریت اور سویلین قیادت کا وہی ٹنٹنا پھر شروع ہو گیا۔ یہ لوگ بھی کبھی نہیں سمجھیں گے۔ لیکن سلام ہے ہماری اسٹیبلشمنٹ کو، کہ وہ اپنے مشن سے پھر بھی پیچھے نہ ہٹی۔ ہر ہر محاذ پر ان باطل جمہوری طاقتوں کو دھول چٹائی۔ ان کی کرپشن اور ملک دشمنی کو بے نقاب کیا۔ اور پھر اسی مٹی نے ایک اور بطلِ جلیل قوم کی جھولی میں ڈالا۔ سچ ہے کہ ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی۔ کیا ہوا جو ذرا لبرل تھا، مگر تھا تو کمانڈو۔ قدرت کی فیّاضی کہ کمال اتاترک کی ایک ہم پلّہ شخصیت ہمیں بھی عطا ہوئی۔ اس نے انہیں سمجھایا بھی کہ سب سے پہلے پاکستان ہے۔ یہ آئین اور جمہوریت وغیرہ کیا بیچتے ہیں۔ مگر کیا بدنصیب قوم ہے کہ یہ جمہوریت کا ڈھول اپنے گلے سے نہ اتار سکی۔ بندہ پوچھے کہ اگر صحیح طرح سے بجانا نہیں آتا تو اس کو گلے سے اتار کیوں نہیں پھینکتے۔ کیوں مغرب کی نقالی کرتے ہو۔ شاعرِ مشرق کا یہ پیغام یادنہیں کہ شاہیں کا جہاں اور ہے، کرگس کا جہاں اور۔ مگر انہیں شاعرِ مشرق کے پیغام کی کیا قدر۔ ان کی فکر تو فیض اور جالب جیسے لوگوں کی شاعری کی اسیر ہو کر رہ گئی ہے۔

مجھے ایک بات ایمانداری سے بتائیں۔ کیا پاکستان جیسے ملک کو جمہوریت راس آ سکتی ہے جو چاروں سمت سے دشمنوں میں گھرا ہو، اور یہود و ہنود کی سازشوں کا نشانہ ہو۔ اب دیکھ لیں عوام کی سمجھ کا میعار کہ ایسے لیڈر چنتے ہیں کہ جو وزارتِ عظمیٰ کی مدّت پوری سکنے کی طاقت بھی نہیں رکھتے۔ بھئی یہ جمہورت سے چمٹے رہو گے تو ایسے کمزور لیڈر ہی نصیب ہوں گے۔ اب بھی سنبھل جاؤ۔ ریاست پر حکمرانی ان کمزور لوگوں کو زیب نہیں دیتی۔آج تک تمھارا ہر وزیرِ اعظم مکافات عمل کا شکار ہو کر اپنے اقتدار کی مدّت ختم ہونے سے پہلے گھر کو جاتا رہا ہے۔ اب ھی وقت ہے سنبھل جاؤ۔ اب اس عدل و انصاف کی فتح کو بھی اسٹیبلشمنٹ کے کھاتے میں ڈال دیں۔ آپ کو تو ہر مثبت قدم میں اسٹیبلشمنٹ کی نیّت کا کھوٹ ہی نظر آتا ہے۔

بہرحال سمجھانے کا مقصد یہی تھا کہ اب یہ ووٹ کی طاقت وغیرہ کے سپنے دیکھنا چھوڑو۔ اپنے ووٹ کی اوقات تو تم نے دیکھ ہی لی ہو گی۔ میں تو بس یہی کیوں گا کہ یہ اسٹیبلشمنٹ ہماری ہے، اور ہمارے ملک کی سلامتی کی ضمانت ہے۔ ہمیں اپنی اسٹیبلشمنٹ سے پیار ہے۔ اور یاد کھنا، جب کبھی اس قوم کو شعور آ گیا تو کراچی تا خیبر ہر ٹرک کے پیچھے یہی لکھا نظر آئے گا کہ "ہمیں اپنی اسٹیبلشمنٹ سے پیار ہے”

Facebook Comments HS