ایک ملک، تین وزیراعظم

جی ٹی روڈ پر نواز شریف صاحب نے جو چار روزہ سیاسی چلہ کاٹا، جس طرح سرکاری وسائل استعمال ہوئے اور وفاقی وزرا ہیلپنگ ہینڈز بنے رہے اس سے تو یہی لگ رہا تھا کہ وہ نا اہل نہیں بلکہ اچھے خاصے اہل ہیں۔ میاں صاحب پنجاب ہاؤس سے نکلنے سے پہلے شاہد خاقان عباسی کو حکومت کی ڈرائیونگ سیٹ پر بٹھا چکے تھے اور کابینہ کی صورت میں انہیں سرکاری لائنسس بھی مل چکا تھا لیکن معلوم نہیں وہ وزیراعظم بن کر بھی وزیراعظم لگتے نہیں ہیں وہ تو اس کرسی کو عوام کی نہیں سلسلہ شریفیہ کی دین سمجھتے ہیں شاید اسی لئے وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد انہوں نے قومی اسمبلی میں جو پہلی تقریر کی وہ انہوں نے نوازشریف کی تصویر کو ڈائس پر لگا کر کی اور وزیراعظم کے بجائے نااہل ہونے والے وزیراعظم کا متوالا بن کر خطاب کیا۔ جب محبت کا یہ عالم ہو تو پھر بعض اوقات دراز قد افراد بھی بونے بن جاتے ہیں اور عباسی صاحب کا پہلا پندرہواڑہ تو یہی کہانی سنا رہا ہے کہ باقی لیگی رہنماوں کی طرح وہ بھی نواز شریف ہی ہیں اور یہی وہ غلامانہ، تابعدارانہ اور فدویانہ سوچ ہے جس میں نوازشریف بھی وزیراعظم کےعلاوہ خود کو کسی اور کرسی پر بیٹھا دیکھنا نہیں چاہتےہیں۔
اب صورتحال یہ ہے کہ وطن عزیزکےعزیز ہم وطنوں کے ہاں تین وزیراعظم ہیں، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، نااہل وزیراعظم محمد نوازشریف اور وزیراعظم آزاد کشمیر راجا فاروق حیدر۔ مظفر آباد کے وزیراعظم کی سمجھ آتی ہے،اسلام آباد کے وزیر اعظم بھی قابل قبول اوراہل ہیں لیکن رائے ونڈ کے وزیراعظم کی کیا تک ہے انہیں کسی حیثیت میں وزیراعظم کا درجہ دیا جا رہا ہے؟ وفاقی کابینہ کے ارکان ان کے گرد کیوں منڈلاتے رہتےہیں؟ بھلے میاں صاحب آپ نظام، قانون اورآئین بدلنے کی بات کریں، انقلاب لانے کی بات کریں لیکن جاتی امرا کو وزیر اعظم ہاؤس بنانے والوں کے متعلق قوم سوچ رہی ہے کہ جن کے خلاف عوامی انقلاب آ چکا ہے وہ انقلاب کی باتیں آخر کیوں کر رہے ہیں؟

