کتابیں اپنے آباء کی
پاکستان میں آج کل ہماری سیاست اور ریاست جمہوریت کے لیے سرگرم عمل ہے۔ ہماری ستر سال کی تاریخ میں اب جمہوری دور زیادہ نظر آتا ہے۔ اگرچہ جمہوری دور میں ہی شخصیت پرستی کو جمہوری اقتدار میں شامل کرلیا گیا۔ اب تک سب سے کامیاب جمہوری دور سابق صدر آصف علی زرداری کے زمانہ صدارت میں رہا۔ انہوں نے اپنے دو وزیراعظموں کو شاہراہ جمہوریت پر قربان کردیا اور جمہوری طرز حکومت کے فروغ میں اپنی حیثیت منوالی۔ ستر سال کی تاریخ میں آمریت کو ملکی سلامتی کے لیے خطرہ محسوس کیا گیا اوردوسری طرف سیاسی اشرافیہ جواب جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کا مضبوط سیاسی گروہ بن چکا ہے وہ بھی جمہوریت کی جنگ میں بڑی سنجیدگی سے غیر سنجیدہ سیاسی کردار ادا کررہا ہے۔ جمہوریت ایک معاشی نظریہ نہیں یہ ایک سماجی رویہ ہے۔ اس سماج میں بدلاؤ تو نظرآتا ہے مگر ہمارے سماجی اورجمہوری رویئے مثبت نظر نہیں آتے۔
آج کل کے جمہوری دور میں ہماری سینٹ جس کو عوام کے قومی اسمبلی کے ممبران منتخب کرتے ہیں پھراکثریت کے تناظر میں چیئرمین کا چناؤ ہوتا ہے۔ اس وقت پاکستان کی سینٹ کے چیئرپرسن رضاربانی ہیں۔ پرانے جیالے ہیں اور ان کی انفرادیت کتاب پرستی ہے۔ ان کی سیاسی اور سماجی سرگرمیوں کے بارے میں کچھ کچھ جانکاری تو ملتی ہے۔ اس سے پہلے ”یادِ جمہوریت“ اور ”دستور گلی“ کے لیے سینٹ کے ممبران نے تقریب کا انتظام کیا اورنیک نامی کمانے کی کوشش کی۔ دوسری طرف ان کی پارٹی کے سدا بہار لیڈر اور سیماب صفت سابق صدر آصف علی زرداری ان کو نظریاتی نہیں مانتے اور نظریہ کے حوالہ سے سینٹ میں اپنے سنیٹر اعتراز احسن کو فوقیت دیتے نظر آتے ہیں۔ آصف علی زرداری کی شخصیت کافی پراسرار سی ہے۔
پاکستان میں جمہوریت کی جنگ بھی پراسرار سی ہے۔ ہماری جمہوریت پر ہمارا پرانا مہربان امریکہ کبھی بھی خوش نہیں ہوا۔ وہ ہمارے سیاسی لوگوں میں نیک لوگوں کی تلاش میں رہتا ہے۔ وہ امداددینے کے بعد اخباروں میں اشتہار بھی لگواتا ہے کہ اگر ان کی امداد میں خوردبرد ہو تو براہ راست امدادی ملک کو خبردو۔ وہ کبھی بھی اطلاع پر کارروائی نہیں کرتا۔ اس کے اپنے ملک میں جمہوریت کے ساتھ جو ڈرامہ ہورہا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ صدر امریکہ کو غیرجمہوری شخص کے طور پر شناخت کیا جارہا ہے اور کوشش ہورہی ہے کہ ان کو نا اہل قرار دے دیا جائے۔
کمال کی بات ہے جمہوری دور میں عوام کی اکثریت مرحوم مہربانی نظرآتی ہے۔ ہمارے ہمسائے میں دنیا میں بڑی جمہوریت کا دعویٰ کرنے والی مودی سرکار جس طرح سے سرکار چلا رہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں جو کچھ ہورہا ہے وہ کتنا جمہوریت دوست عمل ہے۔ ایک طرف انتخابات ہوتے ہیں اور لوگوں کے نمائندے اسمبلی میں آتے ہیں۔ دوسری طرف لوگ آزادی اور خودمختاری کے لیے گرفتاریاں دے رہے ہیں۔ ریاستی انتظامیہ تشدد کررہی ہے تو وزیراعظم بھارت کوخیال آتا ہے کہ کشمیری جنتا کو محبت کی ضرورت ہے۔ ہائے یہ ضرورت ہی تو ماردیتی ہے اور جمہوریت کی ضرورت ہی عوام کو بے بس اور پریشان کرتی ہے۔ امریکہ بہادر کوکشمیر کے لوگ نظر نہیں آتے۔ وہ ان کے لیے غیرجمہوری عینک استعمال کرتا ہے اور پاکستان کے لیے اس کے پاس ایک اور طرز کی جمہوری نظر ہے۔ اب کی بار افغانستان کے حالات نے امریکی فوج کو ویت نام کے بعد سب سے زیادہ ناکام دکھایا ہے اور اس کو غصہ پاکستان پر ہے اور ہم بھی مفت میں اس کے غصے کو اہمیت دے رہے ہیں۔
سینٹ کے چیئرمین رضاربانی نے بھی امریکی ناراضی پر ردعمل دیا اور موصوف نے بیان جاری کیا ”امریکہ نے غلطی کی تو پاکستان ان کے فوجیوں کا قبرستان بنے گا“ ان کو کون بتائے، پاکستان امریکہ سے جنگ نہیں کررہا اور ا مریکہ کو ہلہ شیری دینے کی ضرورت بھی نہیں۔ جمہوری دور میں ایسا بیان دینا ضروری ہوتا ہے اور چیئرمین نے اپنا حصہ ڈال دیا خواہ اس کا کوئی بھی نتیجہ نکلے۔ بس ہم سب لوگوں کے لیے امتحان دینا ضروری ہوتا ہے۔ خواہ تیاری ہو یا نہ ہو۔ امتحان ہی تو عوام کو صبراورہمت دیتا ہے۔ نئی امریکی پالیسی پر ہماری سرکار مسلسل غوروفکر میں مبتلا ہے اور امریکی پالیسی کے آتے ہی ہمارے وزیراعظم جناب شاہد خاقان عباسی نے اپنے پہلے غیرملکی دورہ کا آغاز کیا۔ اگرچہ اس دورہ کا منصوبہ تو اس ہی دن شروع ہوا تھا جب آپ جناب کو میاں نوازشریف کی جگہ وزیراعظم بنایا گیا۔ ہمارے وزیراعظم جناب عباسی زندگی کے ابتدائی عملی سال سعودی عرب میں گزار چکے ہیں اور سعودی اہم لوگوں سے تعلق خاطر بھی ہے۔ اب نئی امریکی پالیسی کے بعد دفتر خارجہ کے مشورے سے سعودی عرب سے بات چیت ضروری ہوگئی تھی دوسری طرف سعودی عرب کو بھی قطر کی وجہ سے امریکی پالیسی پر تحفظات ہیں۔
میاں نوازشریف کی سرکار کے آخری دنوں میں سعودی عرب سے گرم جوشی کمزوری کا شکار تھی کچھ غلط فہمیاں جنرل راحیل شریف کے حوالہ سے بھی تھیں۔ اب نئے وزیراعظم کو موقع مل گیا ہے کہ ان تعلقات میں تجدید نو کی جائے۔ اگرچہ امریکی امداد کی بندش کے بعد ہم کو اپنے اخراجات کے بارے میں خودکفالت پرتوجہ دینے کی ضرورت ہے۔ سعودی عرب سے مالی امداد کی ضرورت نہیں مگر وزیرخزانہ کے سابقہ اقدامات کے بعد ملکی معیشت شدید خدشات سے دوچار ہے۔ نئے وزیراعظم کے لیے حالات اتنے آسان نہیں ہیں۔ ایک طرف ملکی سیاست طوفانی کیفیت سے دوچار ہے اور ملکی عدالتی نظام سیاست کی نظر ہورہا ہے اور سب کچھ ایک جمہوری دور میں ہورہا ہے۔ ہمارے سیاسی لوگوں میں سے صرف کپتان عمران خان اور سابق صدر آصف علی ز رداری نے واضح طور پر امریکی پالیسی پر اظہار خیال کیا اور شاہد خاقان عباسی کی سرکار کو اخلاقی مدد فراہم کی ہے اور حوصلہ دیا ہے کہ امریکی پالیسی کا جواب دینا ضروری نہیں اور ایک ہی جواب کافی ہے اگر وہ دوبارہ کہتے ہیں ڈومور تو بس آپ کا جواب ہو نومور (Do more sorry no more)
ہمارے قومی اسمبلی کے سپیکر صاحب کو معاملات کا اندازہ نہیں ہوتا۔ اس دفعہ جب اجلاس شروع ہوا تو ممبران کی تعداد بہت ہی کم تھی اورچار درجن سے زیادہ کابینہ کے ممبران کی اکثریت غیر حاضر تھی اورایسی صورت میں مسلم لیگ سرکار کے چیف ویپ کو شدید شرمندگی کا سامنا تھا۔ حزب اختلاف کے لیڈر خورشید شاہ کا بیانیہ بہت ہی پرآشوب تھا اور سپیکر عزت مآب ایاز صادق کا چہرہ ندامت سے بھرپور لگا مگر اشرافیہ اور سیاسی لوگوں کا گروہ اسمبلی کی اہمیت کو ہمیشہ ہی نظرانداز کرتا آیا ہے۔ اس اسمبلی نے آج تک عوامی مسائل کو اہمیت نہیں دی اور اس نئی امریکی پالیسی پر اجلاس بلانے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی۔
چیئرمین سینٹ نے حالیہ دنوں میں ایک کتب خانہ کے لیے تقریب کا اہتمام بھی کیا۔ کوشش اور عزم تو کمال کا ہے کیونکہ جناب کتاب پرست اور اصول پرست ہیں اس لیے کتب خانہ کی تقریب ایک سنگ میل ہوسکتا ہے۔ ہماری سینٹ کے تمام ممبران کو مشہور کتاب ”کتابیں اپنے آباءکی“ پڑھنے کی ضرورت ہے جن کی وجہ سے کچھ روشنی سی ہے۔ یاد رھے یہ کتاب رضا علی عابدی کی ہے جو ایک عرصہ تک بی بی سی لندن سے وابستہ رہے۔


