پاکستان ریجیکٹس ٹرمپ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ٹرمپ کی افغان پالیسی نے تین دن سے پھر ایک طوفان کھڑا کیا ہوا ہے جو کم از کم ان کے لئے حیران کن نہیں ہے جو ٹرمپلومیسی کو سمجھتے ہیں۔ ٹرمپلومیسی کیا ہے؟

اسے سمجھنے کے لئے آپ کو ٹرمپ کو سمجھنا ہوگا۔ ٹرمپ ایک بزنس مین ہے، اور ایک بزنس مین کبھی بھی گھاٹے کا سودا نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے اپنی پوری الیکشن کمپئین میں افغانستان سے نکلنے کا نعرہ لگانے والا اب ٹرلین ڈالرز کی معدنیات کا سن کے وہاں ٹکنے پر مجبور ہوگیا ہے کہ اگر امریکا ان معدنیات تک رسائی کر لیتا ہے تو پچھلے سولہ سالوں میں ہونے والے بلینز آف ڈالرز کا خرچہ بھی نکل آئے گا۔ موجودہ افغان حکومت نے جس طرح ”مدر آف آل بومبس“ کے گرنے پر غیرت کا مظاہرہ کیا تھا اس سے امریکی پالیسی سازوں کو یقین ہوگیا کہ شمالی اتحاد کا زہر نکل چکا ہے، ڈر صرف ان طالبان سے ہے جن کو پاکستان سپورٹ کر رہا ہے، اور ان کو مارنے سے پہلے پاکستان کو ”فکس“ کرنا ضروری ٹھہر گیا جس کے لئے امریکہ کے پاکستان کے لئے برسوں پرانے ”ڈاکٹرائن آف ائیکسپشلنزم“ کو چھوڑ کے ”ڈاکٹرائن آف کنٹرولڈ ڈپلومیسی“ کا انتخاب کیا گیا ہے، جس کا ہمارے کسی پالیسی ساز کو ککھ (رتی برابر) پتہ نہیں۔ ہم بس ”امداد نہیں احترام“ پر مصر ہیں، لیکن یہ احترام کا ہدف کیسے حاصل کیا جائے، وہ کوئی طے نہیں کر پارہا۔

امریکی پالیسی میں پاکستان کے لئے یہ تبدیلی مئی 2011 ہی میں آگئی تھی کہ بہت ہوگیا، اب مزید ڈبل کراس نہ کیا جائے، لیکن اوباما انتظامیہ اتنی ”بلنٹ“ نہیں تھی جس طرح ٹرمپ آفس چل رہا ہے۔ اوباما انتظامیہ نے پاکستان کو نہ چاہتے ہوئے بھی ڈائلاگ میں انگیج کیا، جو کہ ڈپلومیسی کا ایک بنیادی اصول ہے۔ پاکستان کی ملٹری ڈپلومیسی گو کہ اوباما انتظامیہ کو مطمئن نہ کرسکی لیکن ایسی صورت حال بھی پیدا نہیں ہوئی جس کا ابھی سامنا ہے اور معاملات ڈیڈلاک کی طرف بڑھتے چلے جارہے ہیں جس کا چین اور روس کی حمایت کے باوجود بھی نقصان بہرحال پاکستان ہی کوہونا ہے کہ یہ حمایت ٹرمپ پالیسی بدل نہیں سکتی۔

نئی ٹرمپ پالیسی کیا ہے؟
کہ پاکستان پر ”کیرٹ اور اسٹک“ کی کویرسیو ڈپلومیسی کو چھوڑ کر صرف اسٹک یعنی کہ لترول یا کنٹرولڈ ڈپلومیسی کا انتخاب کیا جائے۔
یہ رویہ دو مہینے پہلے سعودی عرب ہی میں نظر آرہا تھا جہاں السیسی کے ہاتھ میں ہاتھ دے کے گھومنے والے ٹرمپ نے ”اپنے ٹیریفک گائے“ سے ہاتھ ملانا بھی پسند نہ کیا۔ عربوں کو بھی تیوروں کا اندازہ تھا لہٰذا میاں صاحب کو خطاب کا موقع ہی نہ دیا گیا۔ ہمارےپالیسی سازوں (اگر وہ کہیں وجود رکھتے ہیں) کو تب بھی عقل نہ آئی کہ برے دن آرہے ہیں۔

جبکہ یہاں سارا زور بس پی سی او زدہ ججوں کے ہاتھوں انہی کو زرداری سے بچانے والے نواز شریف کو ہٹانے میں لگا رہا، جس کے نا اہل ہونے کے بعد ملک سے دودھ اور شہد کی نہریں بہنا شروع ہوگئی ہیں اور قوم کو بھی کرپشن سے لوٹی ہوئی ساری دولت واپس مل گئی۔ دوسری طرف اس نئے ڈاکٹرائن کے تحت امریکہ نے ہمیں وہ امداد دینے سے انکار کردیا جو کہ امریکی مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے پاکستان نے اپنی رقم خرچ کرکے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اہداف حاصل کرکے کی۔ ہمیں کہا گیا تھا کہ پہلے آپ پیسے خرچ کریں، وہ رقم ہم آپ کو واپس ادا کریں گے۔ اب کہا جارہا ہے کہ کیونکہ آپ ابھی تک افغانستان میں ہونے والی دہشت گردی کا ایپی سینٹر ہیں، لہٰذا ہم آپ کو نہ صرف وہ پیسے نہیں دیں گے بلکہ بقیہ امداد بھی روک دیں گے، پابندیاں بھی لگوا دیں گے اور ناٹو سے بھی نکلوا دیں گے۔

دوسری طرف ہمارا فارن آفس ان سارے مہینوں میں گنگ رہا اور ابھی تک گنگ ہے۔ کیونکہ پالیسی فارن آفس میں بنتی ہی نہیں۔ جتنے ٹاپ سفارت کار ہیں ان کا بنیادی مقصد صرف یا تو بیگمات کی این جی اوز کی فنڈنگ لینا رہا یا بچوں کو نیشنلٹی دلوانا۔ اسلام آباد آفس نواز شریف کو دیکھتا رہا، نواز شریف پانامہ کے ہنگامے کو بھگتتا رہا۔ اور ”وہ“ احسان اللہ احسان اور نورین لغاری کے انٹرویو نشر کرواتے رہے۔ اگر کسی نے دبے دبے الفاظ میں ”آپ غلط کر رہے ہیں“ کہہ کے اختلاف کی کوشش بھی کی تو ایکس مین کے ذریعے امریکن اور انڈین فنڈڈ کہہ کے گالیاں پڑوائی گئیں۔ یعنی جو ”ان“ سے متفق نہیں ہوتا وہ یا تو ملک دشمن ہے یا غدار ہے۔

دوسری طرف امریکی کانگریس نے ”ان“ کے خلاف بیانات جاری کیے اور اقوام متحدہ سے بھی ہمارے اداروں کے خلاف ٹارچر کے کنونشن پر مذمت کروا دی۔ کانگریس مین ڈھونڈ ڈھونڈ کے الطاف بھائی سمیت ایسی قوتوں سے ملتے رہے جو خود دہشت گردی میں ملوث ہونے کے باوجود پاکستان کو دہشت گردی کا مرکز گردانتے ہیں (جس کا سندھ رینجرز کو مہینوں بعد آج ہوش آیا ہے کہ ایک مسنگ پرسن کو پیش کرکے کہا گیا ہے کہ اس کو ایم کیو ایم لندن نے مارنے کا پلان بنایا ہوا تھا) اور یوں وہ پالیسی کم از کم سندھ رینجز کے ذریے سامنے آگئی جس کا تین دن سے میں پاکستانی وزارت خارجہ کے ردعمل کی صورت میں انتظار کر رہی تھی، لیکن فارن آفس کی بند دکان پر ”تہمینہ آئے گی، اسٹیٹمنٹ بتائے گی“ کا بورڈ لگا ہوا تھا۔ کیونکہ موصوفہ چین کے دورے پر ہیں، ادھر عباسی بھائی سعودیہ سدھار گئے، جہاں سے واپس آنے کے بعد خدا خدا کر کے جب میں یہ کالم لکھ رہی ہوں تو بریفنگ دی جارہی ہے کہ پاکستان اپنے موقف پر ڈٹ گیا ہے۔

لیکن ہمارا موقف کیا ہے؟
اس بریفنگ میں ٹرمپ پالیسی کو ریجیکٹ تو کردیا گیا لیکن رسک اسسیسمنٹ یا بیک اپ کا نہیں بتایا گیا، یہ بھی نہیں بتایا کہ حقانی نیٹ ورک کے لئے پورے ملک کو داؤ پر لگایا ہی کیوں جائے۔ ہماری کیا پالیسی ہوگی، ہمارا مفاد کیا ہے، اور حقانی نیٹ ورک کا اس مفاد میں کیا کردار ہے۔

تین دن تک تو ہم بس اپنے آزاد میڈیا سے ہی سورس لیتے رہے کہ ہمارا موڈ کیا ہے۔ دفاعی تجزیہ نگاروں کی غیرت حسب معمول اوور لوڈڈ نظر آئی کہ ٹرمپ پالیسی کے بعد امریکا بس اب برباد ہوا کہ تب ہوا۔ ہم چونکہ نارتھ کوریا سے بھی آگے کی چیز ہیں، لہٰذا ہم اپنے نیوکلیئر ہتھیاروں کی مدد سے کسی کو بھی اڑا سکتے ہیں، چاہے وہ امریکا ہی کیوں نہ ہو۔
دوسری طرف جو کام خواجہ آصف کو پاکستانی میڈیا کے بجائے انٹرنیشنل میڈیا پر پاکستان کا موقف دے کر کرنا چاہیے تھا وہ عمران خان نے کردیا۔ میرے یہ کالم لکھنے کے دوران ہی سی این این پر عمران خان کے انٹرویو کی تفصیلات سامنے آرہی ہیں، لیکن عمران بھی یہ جواب نہیں دے سکا کہ طالبان پاکستانی گورنمنٹ کی ناک نیچے بڑے شہروں میں کیسے رہتے رہے ہیں، کیسے بن لادن کا کسی کو پتہ نہیں چل سکا۔ عمران اپنی طالبانیت دکھاتے ہوئے یہ کہہ رہا ہے کہ تین ہزار پر مشتمل حقانی نیٹ ورک کیسے ڈیڑھ لاکھ امریکی فوج کو برباد کر سکتی ہے، لیکن یہ نہیں بتا سکا کہ بائیس کروڑ پاکستانیوں کو کیوں ان تین ہزار افغانیوں پر داؤ پر لگا دیا جائے؟

عمران کی اس لاجک پر بی بی سی، سی این این یا اسکائی نیوز پر صرف گورے تجزیہ نگار ہی تبصرے کر کے پاکستان کو مزید ایول ظاہر کریں گے کیونکہ ہمارے ڈیفنس ایکسپرٹ جغادریوں کو انٹرنیشنل میڈیا کے غیرت فیکٹر پر کم بخت کسی، ہولا گورانی، امان پور یا ذکریا نے گھاس نہیں ڈالنی، کیونکہ وہاں آپ کی بات ہی تب سنی جاتی ہے جب کوئی بے غیرتی کی لاجک بیان ہو۔ جو کہ یہاں بتانے والا کوئی نہیں کہ کیوں ہزاروں جانیں گنوانے اور اربوں ڈالرز کا بجٹ جھونکنے کے باوجود دنیا ہمیں دہشت گردی کا ایپی سینٹر کیوں کہنے پر تلی ہوئی ہے۔ کوئی ایک ڈپلومیسی کا ایکسپرٹ نہیں جو کہ انٹرنیشنل میڈیا پر آکے امریکی پالیسی سازوں کو لاجواب کردے کہ افغانستان کی ڈومیسٹک پالیٹکس پر انٹرنیشنل گیم تھیوری نہیں اپلائی کی جاسکتی کیونکہ پلیئرز کا نیشن اسٹیٹ ہونا لازم ہے، اور جب آپ انڈیا کو ایک پلیئر کے طور پر افغانستان میں متعارف کرا رہے ہیں تو یہ نہ بھولیں کہ افغانستان ایک لینڈ لاکڈ ملک ہے، جہاں سے پاکستان کو چاہنے کے باوجود بھی نہ نظر انداز کیا جاسکتا ہے نہ ہی جغرافیہ تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ لہٰذا اگر جان نیش کی ایکیلبریم کے تحت پاکستان کو اچھا بچہ بنانے کے لئے کنٹرولڈ ڈپلومیسی کا ڈاکٹرائن اپلائی کرنا ہی ہے تو انڈیا کو بھی کشمیر کے معاملے پر حدود میں رہنا سکھانا ہوگا۔ جب امریکہ اس خطے میں امن چاہتا ہے، افغانستان کو مستحکم دیکھنا چاہتا ہے تو انڈیا کو کیسے واچ ڈاگ کا رول دے رہا ہے جس کا اپنا کردار داغدار ہے، یہ بات ٹرمپ کو کون سمجھائے گا جب خواجہ صاحب کا دورہ ہی منسوخ کردیا گیا

میں نے شروع ہی میں لکھا کہ ٹرمپ ایک بزنس مین ہے اور بزنس مین کو رجھانے کے لئے آپ کو اپنی پراڈکٹ کی کریڈیبلٹی دکھانا ہوگی، ٹلرسن اگر آپ کو تڑی دے رہا ہے تو آپ کو بھی لندن یا واشنگٹن سے اپنے بندے لانچ کرنا ہوں گے، جو لابنگ فرمز سے خریدے ہوئے نہ ہوں بلکہ آپ کے اپنے پاکستانی ہوں۔

ڈپلومیسی کا اصول ہی یہ ہے کہ آپ اپنا موقف کتنی مضبوطی سے بیان کرسکتے ہیں اور دوسرے کو کس طرح اپنی انٹلیجینٹ لاجکس سے لاجواب کر سکتے ہیں۔ لیکن یہاں ہماری کوکھ بانجھ پڑی ہوئی ہے، جو کچھ پڑھ لکھ کے سیکھ بھی جائے اس کو غدار کا ٹیگ لگا کے حسین حقانی جیسا سلوک کیا جاتا ہے تو وہی ہوگا جو تین دن سے چل رہا ہے۔ جہاں غیرت کا سبق سکھانے والے ایک ٹیلیفون کال پر لڑھک جاتے ہیں۔

سینیٹ میں پاکستان کو امریکی افواج کا قبرستان لگانے کی بڑھک لگانے والے اپنے جیالے ربانی صاحب وہ دن بھول گئے جب بی بی کی پاکستان واپسی ہی کنڈولیزا رائس نے کروائی تھی۔ دوسری طرف امریکا جا کے کانگریس مینوں سے اپنی لابنگ کے لئے صرف ایک ناشتے میں شرکت کے لئے (ان ہی کے ایک لیڈر کی لیک کے بقول) لاکھوں ڈالرز جھونکنے والے اور ایبٹ آباد میں بن لادن کی موجودگی پر صفائیاں دینے زرداری صاحب بھی للکارے دے رہے ہیں کہ امریکا میں ہمت ہے تو پاکستان میں فوجیں اتار کے دکھائے۔ ان سے کوئی یہ پوچھے کہ جب آپ کے دور حکومت میں ڈرون حملے ہوتے تھے تب آپ کی سوورینٹی کہاں تھی۔ آپ نے تو الٹا مضامین لکھ کے واہ واہ کی کہ امریکیوں نے وہ ڈھونڈ نکالا جو آپ کی ناک کے نیچے ہونے کے باوجود نظروں سے اوجھل تھا۔ غیرت کی اس دوڑ میں عمران خان نے پاکستان کو ایران بنانے کی ٹھان لی، وہاں موجود دوسرے صحافیوں اور میرے ٹویٹ پر رد عمل دینے والے سینکڑوں غیرت مندوں میں سے کوئی ایک بھی نہ پوچھ سکا کہ اگر امریکی ایڈ ختم ہوگئی تو ان کا اپنا صوبہ کے پی کیسے چلے گا جو پل ہی امریکی ایڈ پر رہا ہے۔ ہمارا المیہ ہی یہ ہے کہ ہم پہلے غیرت کا غبارہ ناقابل برادشت حد تک پھلا دیتےہیں اور اس کے بعد وہ کرتے ہیں جو ہنری کیسنجر نے اپنے پچھلے سال اٹلانٹک کو دیے گئے انٹرویو میں کہا جس کو حیران کن حد تک پاکستان میں کوئی توجہ نہیں دی گئی نہ ہی کہیں سے جھٹلایا گیا۔ کیسنجر نے صاف کہا کہ جنرل یحییٰ نے نومبر 1971 ہی میں مشرقی پاکستان کی آزادی کا وعدہ کردیا تھا اور اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ صرف ملکی جذبات کو قابو میں رکھنے کا ایک طریقہ تھا۔ یعنی کہ لاکھوں لوگ اس غیرت کے جھنڈے کو اونچا رکھنے کے لئے جھونک دے جائیں اور اگر کوئی سوال کرے تو اس کو غدار ٹھہرا دیا جائے جیسا کہ ابھی ہورہا ہے کہ جو بھی حقانی نیٹ ورک کے لئے سب کچھ داؤ پر لگانے کا سبب پوچھ رہا ہے تو وہ غدار ہے۔

تو ایسی صورت میں پاکستان کی پالیسی کیا ہوگی؟
دو راستے ہیں یا تو غیرت کے راستے پر چلتے ہوئے نارتھ کوریا اور ایران بن جائیں اور پابندیاں لگوا لیں۔ اس کے بعد قرضے آپ کا۔ اتارے گا۔ جس ملک میں بجلی نہیں، پانی نہیں، کچرا ملک ریاض اٹھوا رہا ہے وہ اپنی اکانومی بس مائی باپ کے آسرے پر چلائیں گے۔ ایران کے پاس تو تیل ہے، ہمارے پاس کیا ہے۔ چین بھی سی پیک کے تحت جو دے رہا ہے اس کا سود اگر ہم کیلکولیٹ کرلیں تو رونگٹے کھڑے ہوجائیں۔ آپ ذرا سوچئے کہ اگر کل پاکستان پر امریکا ویزا کی پابندی لگا دیتا ہے تو کیا ہوگا؟

تو پھر دوسرا راستہ کیا ہونا چاہیے؟
دوسرا راستہ وہ ہے جو ”ان کے مطابق“ بے غیرت اور غدار لوگ بتاتے ہیں کہ آپ اپنی پارلیمنٹ میں جاکر بتا دیں کہ بن لادن کو کس نے رکھا ہوا تھا، اختر منصور کو پاسپورٹ کس نے جاری کیا تھا۔ آپ قوم کویقین دلائیں کہ تین ہزار کے حقانی نیٹ ورک کے لئے بائیس کروڑ عوام کو داؤ پر نہیں لگایا جائے گا۔
آپ عہد کرلیں کہ صرف ڈیڈ طالبان ہی گڈ طالبان ہیں، کیوں کہ ان کی اپنی جنگ میں ہماری پچاس ہزار جانیں گنوا کر بھی اس قوم نے جب ہندو بنیے کو اپنا انفراسٹرکچر ہینڈ اوور کردیا تو وہ آپ کی کبھی دوست نہیں بن سکتی۔ خود کو سوورین کہنے سے پہلے آپ اپنے پڑوسیوں کی سوورینٹی کی عزت کریں اور ان پر مسلط ہونے کی کوشش نہ کریں۔

آپ مان لیں کہ آپ کو اسٹریٹجک ڈیپتھ کا ڈاکٹرائن پٹھا پڑ گیا اور اسی کی وجہ سے پاکستان میں جتنے مذہبی کیچوے تھے، وہ اژدھے بن گئے۔ آپ مولانا سمیع جیسے لوگوں کا منہ بند کروا دیں جو کھلم کھلا بیان دے رہے ہیں کہ پاکستان آرمی ”چاہے کچھ بھی ہو“ حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی نہیں کرے گی۔ آپ اپنے ”مغرب زدہ“ غداروں کو انٹرنیشنل میڈیا پر ملک کی حمایت کے لئے انگیج کریں، کیوں کہ جب آپ احسان اللہ احسان کو بھٹکا ہوا کہہ کے دوسرا موقع دے سکتے ہیں تو حسین حقانی کے اندر کے پاکستانی کو کیوں نہیں زندہ کرسکتے۔ آپ انٹرنیشنل میڈیا کو وزیرستان کے دورے کرائیں، سوشل میڈیا پر شہیدوں کے بچوں کی ڈاکومنٹریز جاری کریں۔ آپ پاکستان کے گلوکاروں اور موسیقاروں کو دنیا میں متعارف کرائیں۔ یلغار جیسی فلموں کی بجائے آئینہ جیسی فلمیں بنا کے ٹرمپ کو دکھائیں اور اسے احساس دلائیں کہ جب وہ 1970 کے گمشدہ افغانستان کی عورتوں کے منی اسکرٹس دیکھ کے وہاں امن کی کوششیں کر سکتا ہے تو پاکستان میں تو یہ سب ویری مچ ائیگزسٹ کرتا ہے۔ آپ امریکہ میں اپنی پبلک ڈپلومیسی کے ذریے ثابت کردیجئے کہ پاکستان ایک ہارڈ پاور نہیں بلکہ سافٹ پاور ہے۔

دوسری طرف آپ بیشک امریکا کے ساتھ اچھے تعلقات کے متمنی رہیں لیکن چین اور روس کو اپنا بیک اپ بنائیں۔ کیونکہ ہماری قدرتی جیو اسٹریٹیجی روس کے ساتھ ہے۔ آپ ہر اس سفارت کار کو نکال پھینکیں جس کی بیگم نے غیر ملکی فنڈنگ سے این جی اوز بنائی ہوئی ہیں۔ آپ اپنے فارن آفس کے افسروں کو ڈپلومیسی کی ڈگریز لینے کے لئے باہر بھیجئے اور آخر میں اپنے دوروں سے ٹرمپ انتظامیہ کو پاکستان کی اسٹریٹجک اہمیت سمجھائیں۔ آپ اپنے انسٹیٹیوشنز مضبوط کریں اور دنیا میں سول ملٹری تعلقات اس طرح سے پورٹرے کریں کہ پرویز رشید جنرل غفور کے ساتھ پریس کانفرنس میں امریکا کو بتائے کہ پاکستان کو اچھا بچہ رکھنے کے لئے انڈیا کا ستھرا ہونا بہت ضروری ہے۔ یقین کیجئے ملک کے مفادات سے بڑھ کے اور کچھ نہیں اور اس کے لئے آپ سب کو ایک ٹیبل پہ بیٹھ کے دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے پاکستان زندہ بعد کہنا ہوگا۔ کیونکہ ورنہ بیشک مجھے پھانسی دے دیں لیکن یہ ڈاکٹرائن آف اسٹریٹجک ڈیپتھ پاکستان کو تباہ کرکے ہی چھوڑے گا۔ افغان تو پناہ لینے پاکستان آگئے، بائیس کروڑ پاکستانی کہاں جائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شمع جونیجو

شمع جونیجو علم سیاسیات میں دلچسپی رکھنے والی ماہر قانون ہیں۔ یونیورسٹی آف لندن سے ایل ایل بی (آنرز) کے علاوہ بین الاقوامی تعلقات میں میں ایم اے کیا۔ ایس او اے ایس سے انٹر نیشنل سیکورٹی اسٹڈیز اور ڈپلومیسی میں ایم اے کیا۔ آج کل پاکستان مین سول ملٹری تعلاقات کے موضوع پر برطانیہ میں پی ایچ ڈی کر رہی ہیں۔ تعلیم کے لئے بیرون ملک جانے سے پہلے شمع جونیجو ٹیلی ویژن اور صحافت میں اپنی پہچان پیدا کر چکی تھیں۔

shama-junejo has 14 posts and counting.See all posts by shama-junejo