پاک ٹی ہاؤس اور زاہد ڈار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”یار کئی لوگ ایسے لگتے ہیں جیسے انہیں میں نے کہیں دیکھا ہو، اب اسی برس کی عمر میں پتہ نہیں کتنے ہی لوگوں کو دیکھا ہو گا۔ وہ دیکھو وہ جو سامنے بندہ ہے، اب وہ کبھی نہ کبھی کہیں دیکھا ہے، پر کہاں، یہ اگر یاد آ جائے تو پھر کیا بات ہے۔ بہت سے لوگ مجھے دیکھتے ہیں اور حیران ہو جاتے ہیں کہ تم ابھی تک زندہ ہو ہم سے تو جو بھی ٹی ہاؤس والے گروپ کا پوچھتا ہے ہم کہتے ہیں سارے مر کھپ گئے۔ میں کہتا ہوں ہاں جیسا بھی ہوں تمہارے سامنے ہوں۔ “

زاہد ڈار ریڈنگز کے باہر بیٹھے ہوئے سگریٹ پی رہے تھے۔ پارکنگ سے فارغ ہو کر ان کے ساتھ ہی جگہ مل لی، سگریٹ سلگائی اور باتیں شروع ہو گئیں۔ کہنے لگے یہاں جب میں پہلی مرتبہ آیا تو میں نے ایک ایک شیلف دیکھا، اتنی ڈھیر ساری کتابیں تھیں، میں نے ان میں سے کوئی ایک دو سستی سی نکالیں اور جب کاؤنٹر پر گیا کہ بل دے دوں تو پیچھے سے ڈاکٹر صاحب آ گئے۔ لڑکوں کو منع کیا کہ بھئی زاہد ڈار سے پیسے نہیں لینے، یہ جب بھی آئیں جو کچھ بھی لیں، ان کی اپنی دکان ہے۔ بس تب سے پھر میں یہاں آ جاتا تھا۔ یہ دیکھو، موبی ڈک، یہ میرا فیورٹ ناول ہے اور ایک اور تھا، ہاں یہ رہا، ڈان کے خوتے، یہ اسپینیش ناول تھا، کیا زبردست کتاب تھی۔ ایک اور ناول تھا، وہ رشین تھا، اوبلوموو، اس پر تو انتظار حسین نے کہیں لکھ بھی دیا تھا میرے بارے میں، زاہد ڈار اور اوبلوموو، شاید اس کی پہلی کتاب جو ایسے خاکوں یا کالموں کی تھی، اس میں لکھا ہو گا۔

پہلے زاہد ڈار کیفے میں ہی بیٹھے بیٹھے سگریٹ پی لیتے تھے، انہیں سپیشل اجازت تھی۔ پھر انہوں نے جب دیکھا کہ چھ سگریٹ اور میرے احترام کے چکر میں جل جاتے ہیں تو انہوں نے خود ہی باہر جا کر پینا شروع کر دیا۔ اسی بہانے تھوڑا چلنا پھرنا ہو جاتا اور واپسی پر کتابوں کو بھی نظر بھر دیکھ لیتے۔ وہ اندر آ کر بیٹھ چکے تھے۔ اموڈیم کا چھ گولیوں والا پتہ سامنے دھرا تھا، بتانے لگے، یار میرا پیٹ کبھی ٹھیک ہی نہیں ہوتا، یہ کیسی دوائی ہے؟ کہا بس ایک گولی لے لیجیے، بہتر ہو جائے گا۔ بولے، یار میں تو کتنے عرصے سے یہ کھا رہا ہوں میرے اوپر تو کوئی اثر ہی نہیں ہوتا۔ بات آئی گئی ہو گئی۔ ڈیڑھ گھنٹے بعد چھ کی چھ گولیاں ڈار صاحب کھا چکے تھے! اموڈیم اور ان کا عشق برسوں پرانا ہے، جتنی مرضی کھا لیں ان کا کچھ نہیں بگڑتا۔

پوچھا انتظار صاحب کس شاعر یا ادیب کی تعریف کرتے تھے، کہنے لگے شاعر تو ان کا ایک ہی پسندیدہ تھا، ناصر کاظمی، ویسے وہ محمد حسن عسکری کی بہت عزت کرتے تھے، وہ تو واقعی بہت بڑے آدمی تھے، میرے خیال میں تو ان کے پائے کی تنقید مغرب میں بھی کم ہی کسی نے کی ہو گی۔ کیا نقاد، کیا افسانہ لکھنا، کیسے عمدہ ترجمے کرتے تھے، مادام بواری جیسا ترجمہ دوبارہ اردو میں کہاں ہوا ہو گا، شروع میں وہ فرانس کے ادیبوں سے بہت متاثر تھے، پھر پاکستان بننے کے بعد وطن پرستی اور مذہب نے انہیں اپنی جانب کھینچ لیا۔ کہاں تو وہ بات بات میں سارتر اور جوائس کے حوالے دیتے تھے، کہاں ایک مرتبہ سلیم احمد نے پوچھا کہ عسکری صاحب، کچھ بتائیے میں کیا پڑھا کروں، کہنے لگے نماز پڑھا کرو۔

استاد فتح علی خان کی وفات کا ذکر ہوا تو بہت حیران ہوئے، افسوس کیا، بولے، یار مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا، اسے میں نے ہمیشہ امانت کے پیچھے بھاگتے دیکھا تھا۔ وہ بہت فکر کرتا تھا اس کی۔ اس کے بھی کام ہی ایسے تھے، نسبت روڈ والے گھر سے نکلتے ہی وہ جا کر ادھا خریدتا تھا اور سیدھے پاک ٹی ہاؤس آ جاتا تھا۔ اسے پتہ نہیں کیوں شوق ہو گیا تھا کہ شاعروں ادیبوں کے ساتھ بیٹھ کر محفل جمانے کا، تو میری والی میز پر آ جاتا تھا۔ لیکن ہم لوگوں کے پاس بھی وہ تھوڑی دیر ہی بیٹھتا تھا، زیادہ وقت ادھر فیروز سنز کے سامنے کوئی شوروم تھا گاڑیوں کا، تو وہاں جا کر شغل کرتا تھا۔ وہ امیر لوگ تھے، ظاہری بات ہے ایسے شوق وہیں پورے ہو سکتے ہیں، ہم تو شروع سے ہی فقیر تھے۔

وہ جب آتا تھا تو میں کبھی کبھی اسے لے کر منیر نیازی کے پاس چلا جاتا تھا۔ منیر نیازی بھی بہت شوقین تھا، اس کے پاس جو بھی اچھی قسم کا مشروب لے کر جاتا تھا تو وہ کہتا، یار یہ بہت اعلیٰ انسان ہے، اور جو ایویں خالی ہاتھ چلا جاتا اسے کہتا، یہ تو بالکل فارغ ہے۔ باہر سے جو شاعر ادیب آتے اور انہیں منیر نیازی سے ملنا ہوتا تو وہ پاک ٹی ہاؤس میں آ کر میری میز پر پہنچ جاتے، میں انہیں بتا دیتا کہ اس سے ملنا ہے تو اچھا برانڈ لے کر جاؤ، وہ بہت خوش ہو گا۔ ایک بار اس نے مجھے کئی لوگوں کے سامنے کہا کہ زاہد ڈار، تم میرے بعد لاہور کے سب سے بڑے شاعر ہو گے۔ میں نے قتیل شفائی کو بتایا تو وہ بہت ناراض ہوا۔ ایویں تم ہو گئے بڑے شاعر، یہ کیا بات ہوئی، بہت دیر تک بولتا رہا۔

امانت اور منیر نیازی کی محفل ختم ہونے لگتی تو ان کی لڑائی ہو جاتی تھی۔ امانت جب ترنگ میں آتا تو وہ گلاس سامنے رکھ کر بیٹھ جاتا اور کہتا، دیکھو اب میں تان لگاؤں گا اور گلاس ٹوٹ جائے گا۔ پھر وہ ایک تان اٹھاتا، دوسری، تیسری، جب وہ اچھا خاصا پکا گانا گا لیتا تو منیر اسے ٹوک دیتا، توں بس کر دے ہن، وہ جھلا جاتا، کہتا تھوڑا سا اور گانے دو، یہ ٹوٹ جائے گا، منیر کہتا، ایہنے تے ٹٹنا نئیں، میرا کی قصور اے (اس نے تو ٹوٹنا نہیں، میرا کیا قصور ہے) اسی چکر میں دونوں لڑ پڑتے تھے۔ گلاس نے تو ٹوٹنا ہی نہیں ہوتا تھا اور نہ وہ کبھی ٹوٹا۔ عجیب لوگ تھے یار اس زمانے کے، کیسے کیسے بڑے شاعر تھے، منیر نیازی میں انا بہت زیادہ تھی۔

انا کا ذکر چھڑا تو جون ایلیا کے بارے میں ڈار صاحب سے پوچھا، کہ ان کی انا کا عالم کیا تھا۔ کہنے لگے، وہ تھوڑے عرصے کے لیے لاہور آیا تھا۔ کراچی میں ایک مشاعرہ تھا، وہاں کوئی بڑا لیڈر آنے والا تھا۔ اس کو آنے میں دیر ہو گئی۔ جون ایلیا نے شور مچا دیا کہ میں زیادہ انتظار نہیں کر سکتا، کارکنوں نے اس بے چارے کو بڑا مارا۔ تو بس یہ ناراض ہو کر لاہور آ گیا۔ ایک دن میری میز پر آ کر بیٹھا اور کہنے لگا اب میں یہاں سے نہیں جاؤں گا۔ میں نے اسے سمجھایا کہ وہاں کراچی میں تو مفت کا معاملہ ہوتا تھا، ادھر کیسے ماکولات کا بندوبست کرو گے۔ بس وہ کہتا تھا اب یہیں رہوں گا۔ اسے جب خمار ہوتا تو وہ دیواروں پر چڑھنے کی کوشش کرتا، درختوں پر چڑھ جاتا وہاں سے چھلانگ لگا دیتا۔ بہت سی باتیں کرتا تھا۔ بیوی سے علیحدگی ہو چکی تھی تو اس کو بھی یاد کرتا تھا۔ انا تو بہت ہی تھی، خود پسند تھا وہ بھی منیر نیازی کی طرح۔ وہ بہت تھوڑا عرصہ یہاں رہا، پھر واپس چلا گیا۔ کمال شاعر تھا یار، اور اس کی تو نثر بھی کیا بہترین تھی۔ اس کی پہلی کتاب، شاید کا دیباچہ ہی ایسا شاندار لکھا تھا اس نے، بہت زبردست لکھتا تھا۔ لوگ پتہ نہیں کیا کہتے ہیں، مجھے تو بہت پسند تھا۔

زاہد ڈار کو انٹرویو دینا پسند نہیں ہے۔ اگر انہیں معلوم ہو جائے کہ ان کی باتیں ریکارڈ ہو رہی ہیں تو وہ سخت ناراض ہو جاتے ہیں۔ یہ سب باتیں ان کی گپ شپ کا حصہ تھیں۔ دماغ کے زور پر لکھ کے انہیں دکھایا تو بہت خوش ہوئے کہ ہاں یار، یہ تو میں نے ہی کہا تھا۔ ٹی ہاؤس جن کے دم سے آباد رہا، زاہد ڈار ان آخری مکینوں میں سے ایک ہیں۔ ان کے پاس یادوں کا بیش قیمت خزانہ ہے لیکن اپنی مرضی سے موتی لٹاتے ہیں، قسمت سے جو چن لیے ان کی آب پر گزارا کیجیے۔

 Aug 30, 2017

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 481 posts and counting.See all posts by husnain