ڈنمارک سے ایک مسیحی پاکستانی کا وزیراعظم کے نام خط

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جناب عالی!

شروع کرتا ہوں رب جلیل کے بابرکت نام سے جس نے ہمیں پاکستان جیسی سر زمین عطا کی ہے۔ وہ سر زمین جس کو خدا نے طرح طرح کی نعمتوں سے نوازا ہے، جن کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے۔

جناب عالی! میرا نام نواز سلامت ہے اور میں آپ کو یہ خط یورپ کے ایک چھوٹے سے ملک ڈنمارک سے لکھ رہا ہوں۔ میرے خیال میں ڈنمارک کو آپ سے زیادہ اچھے طریقے کوئی اور نہیں جانتا۔ بات کی جائے شوکت خانم کینسر ہسپتال کی یا نمل یونیورسٹی کی تو اس چھوٹے سے ملک میں بسنے والے پاکستانیوں نے دل کھول کر آپ کا ساتھ دیا ہے۔ بندہ ان خوش نصیب پاکستانیوں میں سے ایک ہے، جس نے آپ کے ان دونوں نیک مقاصد کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔

جناب عالی! اس سے پہلے کہ میں آپ کو خط لکھنے کی وجہ بتاؤں، چند سطور میں آپ کو اپنے خاندان کی قربانیوں کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں۔ جناب عالی! 1972ء میں جب ذوالفقار علی بھٹو نے مسیحیوں کے بہت سے ادارے قومی تحویل میں لئے تو پاکستان کے کونے کونے سے مسیحیوں نے اس زیادتی کی خلاف آواز اٹھائی لیکن ایک مشترک آواز جو اٹھی تو راولپنڈی سے، لیکن پاکستان کے کونے کونے میں سنی گئی۔ جی میں بات کر رہا ہوں راولپنڈی اور اسلام آباد کے ہزاروں مسیحیوں کی آواز جو انہوں نے اپنے مسیحی قائد پروفیسر سلامت اختر کی قیادت میں اٹھائی تھی۔

جناب عالی! اس آواز نے بڑے بڑے ایوانوں کے دروازے تک ہلا دیے لیکن بدقسمتی سے اس وقت کے حکمرانوں نے مسیحیوں کے مسائل حل کرنے کی بجائے سودے بازی کرنا مناسب سمجھا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے پروفیسر سلامت اختر کو ان کی خواہش کے مطابق نوازنے کی پیشکش بھی کی لیکن پروفیسر سلامت اختر نے وہ فیصلہ کیا جو ایک نڈر، حقیقی اور ایماندار لیڈر کو کرنا چاہیے تھا۔ انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی تمام آفرز کو ٹھکرا دیا۔ لیکن ان کو کیا پتہ تھا کہ کسی حکمران کی آفر ٹھکرانے کی سزا ان کے ساتھ ساتھ ان کی آنے والی نسلوں تک کو بھگتنا پڑے گی۔

جناب عالی! پروفیسر سلامت اختر کی قیادت میں نکلے ہوئے پر امن جلوس پر گولی چلانے کا حکم دیا گیا۔ پولیس کے اس ظلم و ستم سے دو نہتے مسیحی نوجوان آر۔ ایم جیمس اور نواز مسیح کو شہید کر دیا گیا۔ پروفیسر سلامت اختر سمیت ان کے بہت سے ساتھیوں کو گرفتار کر لیا گیا۔

جناب وزیراعظم! ان دو شہیدوں کی قربانی کو زندہ رکھنے کے لئے پروفیسر سلامت اختر نے خدا سے وعدہ کیا کہ اگر ان کے دو بیٹے ہوئے تو وہ ان کے نام شہیدان راولپنڈی جیمس اور نواز پر رکھیں گے۔ خدا نے ان کی دعا سنی اور آج یہ نواز سلامت اپنے والد کے نقش قدم اور شہید نواز مسیح کے مشن کو اپنا مشن سمجھ کر مسیحیوں کے دکھ درد کی کہانی آج کے حکمران وزیراعظم عمران خان کے سامنے رکھنے آیا ہے۔

پروفیسر سلامت اختر

جناب والا! میرے خاندان پر ہونے والے ظلم و ستم کی کہانی آپ کسی بھی مسیحی رہنما سے پوچھ سکتے ہیں۔ جناب! اس بہادر اور نڈر خاندان کا حوصلہ تو اس وقت بھی پست نہیں ہوا جب ہمارے والد کو دور دراز علاقوں میں ٹرانسفر کر دیا جاتا، ان کی تنخواہ بند کر دی جاتی، پانی اور بجلی کے کنکشن کاٹ دیے جاتے۔ ہمارے والد ہم سے ہمیشہ یہ کہتے کہ یہ مصیبتیں نہیں، تمغے ہیں جو ہماری قربانیوں کے صلہ میں مل رہے ہیں۔ ہمارے دکھ، درد اور تکلیف کی کہانی بہت لمبی ہے لیکن آپ کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ پاکستان میں ایک ایسا مسیحی خاندان بھی ہے جس نے اپنی کمیونٹی کے لئے اتنی مشکلات برداشت کیں۔

جناب عالی! یہ نواز مسیح اور آر۔ ایم جیمس کی ہی قربانی کے نتیجہ تھا کہ مسیحیوں کے لئے قومی اسمبلی میں چار سیٹیں مختص کی گئیں لیکن بعد میں ان چار سیٹوں پر شرمناک کاروبار ہوا۔

جناب وزیراعظم ! کئی حکمران آئے لیکن کبھی ضمیر نے گوارا نہیں کیا کہ ان کو اس طرح کا خط لکھا جائے کیونکہ یقین تھا کہ وہ بھی پچھلے حکمرانوں کی طرح ہمیں انصاف نہیں دے پائیں گے۔

وزیراعظم صاحب! میری وابستگی آل پاکستان کرسچن لیگ سے رہی ہے، لیکن ہمیشہ آپ کی جماعت تحریک انصاف کو ووٹ دیا ہے۔ آپ کو ووٹ اس لئے دیا کیونکہ آپ مجھے امید کی آخری کرن لگے اور دل کہتا تھا کہ آپ پاکستان میں بسنے والے تمام لوگوں کو بلا رنگ و مذہب کے انصاف دلائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ آج آپ کے سامنے پاکستانی مسیحیوں کا کیس پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

جناب والا! ہمارے پیارے ملک کو بنانے اور بچانے میں مسیحیوں کی جدوجہد سے آپ بخوبی واقف ہوں گے لیکن پھر بھی اپنے والد پروفیسر سلامت اختر کی کتاب ”تحریک پاکستان کے گمنام کردار“ اس خط کے ساتھ ارسال کر رہا ہوں۔

ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ ریاست ہمارے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہی ہے۔ جناب! گلے شکوؤں کی فہرست تو بہت لمبی ہے لیکن آپ کی نظر میں صرف چند اہم ایشوز رکھوں گا اور امید کرتا ہوں کہ آپ ہماری آواز ضرور سنیں گے۔

جناب وزیر اعظم! یہ جو سلیکش کا نظام اقلیتی سیٹوں پر چل رہا ہے، آپ نے اس کے خاتمے کا وعدہ کیا تھا لیکن ابھی تک کوئی ایک قدم بھی ایسا نہیں اٹھایا گیا جس سے یہ امید جاگے کہ آنے والے دور میں مسیحیوں کو ان کے نمائندے، اپنے ووٹ سے چننے کا حق ملے گا۔ موجودہ سلیکٹڈ لوگوں کو مسیحی قوم اپنا نمائندہ نہیں مانتی۔ مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ آپ نے بھی اقلیتوں کی سیٹیں پارٹی کے چند ورکرز میں بانٹ دیں۔ یہ لوگ بھی بس اپنے گھر اور بینک بھرنے میں لگے ہوئے ہیں،اس لئے ان سے ہم کیا امیدیں رکھ سکتے ہیں۔

جناب والا! یہ سلیکٹڈ نمائندے کبھی بھی موجودہ الیکشن کے نظام کو غلط نہیں کہیں گے۔ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماریں۔ ہماری پہلی اور آخری امید ہمارے وزیراعظم عمران خان سے ہی وابستہ ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ہمارا وزیراعظم اپنی اسمبلی میں اس سلیکشن سسٹم کے خلاف بل پاس کروا کر مسیحی پاکستانیوں اور ان کے ووٹ کو عزت دے گا۔

جناب عالی! امن کے دشمن، پاکستان میں بسنے والے پر امن مسیحی اور مسلمانوں کو خوش نہیں دیکھنا چاہتے، جس سے دونوں مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں میں تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔ مسیحی اور ہندو لڑکیوں کی جبری تبدیلیٔ مذہب اور شادی بھی امن کے دشمنوں کی ایک سازش ہے۔ ہم اپنے وزیراعظم سے امید کرتے ہیں کہ وہ جلد ایسی قانون سازی کریں گے جس سے ایسے منفی عناصر کا ہمارے معاشرے سے مکمل خاتمہ ہو سکے۔

جناب! میں آپ کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں کہ آپ کے دور حکومت میں امتیازی قوانین کے غلط استعمال میں نمایاں کمی آئی ہے۔ لیکن اس کے باوجود بہت سے مسیحیوں پر جھوٹے مقدمات آج بھی بن رہے ہیں، حال ہی میں کراچی کی ایک نرس پر توہین مذہب کا جھوٹا الزام لگا کر اس پر ایف آئی آر کروا دی گئی۔ ہم امید کرتے ہیں کہ آپ اس واقعے کا نوٹس بھی لیں گے اور کچھ ایسی قانون سازی کریں گے کہ اس قسم کے جھوٹے مقدمات درج کروانے والوں کو بھی وہی سزا ملے جو وہ کسی بے گناہ کو دلوانا چاہتے ہیں۔

جناب وزیراعظم صاحب! مجھے یقین ہے کہ آپ مشنری اداروں کی تعلیمی خدمات سے بخوبی واقف ہیں، اسی لئے ہمیں امید تھی کہ آپ مشنری اداروں کو مزید مضبوط بنانے کے لئے عملی اقدامات اٹھائیں گے لیکن افسوس کہ آپ کی حکومت کے ہی کچھ لوگوں نے ایڈورڈز کالج پشاور کو جبراً ایک سازش کے تحت حکومتی تحویل میں لے لیا۔ وہ مافیا اتنا طاقتور ہے کہ عدالتی نظام بھی اقلیتوں کو انصاف دینے میں ناکام رہا۔

جناب عمران خان صاحب! پاکستان کے مسیحی آپ کو اس وقت سے اپنا ہیرو مانتے ہیں جب آپ عملی طور پر سیاست میں نہیں آئے تھے لیکن جب آپ نے سیاست میں قدم رکھا اور انصاف کا نعرہ لگایا تو پاکستان کے لاکھوں مسیحیوں نے آپ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا، وہ فیصلہ اس لئے کیا کہ ان کو بھی آپ کی صورت میں انصاف کی کرن نظر آئی۔ ہم امید کرتے ہیں کہ آپ اپنے اس خیر خواہ کی ان چند گزارشات پر ضرور توجہ فرمائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply