جبری گمشدگیاں اور قانونی داد رسی


جبری گمشدگیوں کے حالیہ واقعات نے سندھ بھر میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ اگرچہ ملک بھر میں اس طرح کے واقعات ایک عشرے سے بھی زائد عرصے سے پیش آ رہے ہیں مگر ابھی تک کسی نے اس پر زیادہ تحقیق نہیں کی ہے۔ تینجا فلورتھ نے جنوب مشرقی ایشیا میں جبری گمشدگیوں پر تحقیق کی ہے چونکہ یہ مسئلہ پاکستان میں بھی سنگین نوعیت اختیار کر چکا ہے،اس لئے یہ تحقیق ہمارے لئے بھی مددگار ثابت ہو گی۔ ’’جبری گمشدگی کے حوالے سے پہلا سوال یہ ذہن میں آتا ہے کہ ایسے شخص کو قانونی تحفظ کیسے فراہم کیا جائے جسے قانون کی حدود سے باہر کہیں رکھا گیا ہے؟ظاہر ہے ایک موثر طریقہ حبس بے جا یا habeas corpusکی درخواست دائر کرنا ہے‘‘۔ پاکستانی سیاسی ایکٹوسٹ اپنے ہم خیال وکلا کی مدد سے یہ طریقہ اختیار کرتے رہے ہیں۔ لیکن تینجا کی رائے میں ’’یہ طریقہ ہمیشہ موثر ثابت نہیں ہوتا۔ کیونکہ لاطینی امریکہ کے اکثر ممالک کی عدالتیں ایسی درخواستوں کو مسترد کر دیتی ہیں۔

لوگوں کو غائب کیسے کیا جاتا ہے۔ اس بارے میں سیکورٹی فورسز کا طریقہ ہر جگہ یکساں ہوتا ہے۔ تینجا کے بقول سیکورٹی فورسز کے لوگ منہ اندھیرے کسی کے گھر میں داخل ہوتے ہیں اور گھر کے کسی ایک یا ایک سے زیادہ افراد کو اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ یہ لوگ کبھی وردی میں اور کبھی سادہ لباس میں ہوتے ہیں۔ عام طور پر یہ لوگ مسلح ہوتے ہیں، کبھی اہل خانہ کو دھمکاتے ہیں، کبھی انہیں یہ بتاتے ہیں کہ جس شخص کو وہ لے جا رہے ہیں ،وہ جلد ہی واپس آ جائے گا۔ بعد میں جب گھر والے پولیس تھانے اور دیگر اداروں سے رابطہ کرتے ہیں تو ہر جگہ سے انہیں ایک ہی جواب ملتا ہے کہ اس نام اور حلیے کا شخص ان کے پاس موجود نہیں ہے اور وہ اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ اٹھائے جانے والے شخص سے تفتیش کی جاتی ہے، اس پر تشدد کیا جاتا ہے، ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جاتا ہے اور اکثر صورتوں میں قتل کر دیا جاتا ہے۔ اس تمام عرصے میں بیرونی دنیا سے اس کا کوئی رابطہ نہیں ہوتا اور نہ ہی اسے قانونی معاونت حاصل ہوتی ہے۔ کبھی ان کی لاشیں ورثا کو مل جاتی ہیں اور کبھی لاشوں کا بھی پتہ نہیں چلتا۔ ‘‘

پاکستان میں 2003-4 سے پہلے بڑے پیمانے پر جبری گمشدگیاں نہیں ہوتی تھیں۔ اس مسئلے کو سامنے لانے والوں میں ایک اہم نام آمنہ مسعودجنجوعہ کا ہے۔ ان کے شوہر مسعود جنجوعہ کو 2005 میں اٹھایا گیا تھا ۔ انہوں نے اپنے شوہر کی بازیابی کے لئے جدوجہد شروع کی تو دیگر گمشدگان کے لواحقین ان سے رابطے میں آتے گئے اور یوں انہوں نے ایک تنظیم ڈیفنس آف ہیومن رائٹس کی بنیاد ڈالی۔ 2010میں سپریم کورٹ کے نوٹس لینے کے بعد سے بہت سے کیسز سامنے آئے۔ تب ہی انٹرن منٹ  Internment کیمپس کا پتا چلا۔ کوئی 29 کیمپس تھے جن میں لگ بھگ پندرہ سولہ سو لوگوں کو رکھا ہوا تھا جو بیرونی دنیا سے بلا کسی رابطے کے جانوروں سی زندگی گزار رہے تھے۔ سپریم کورٹ نے انہیں کھلوایا اور لوگوں سے ملوایا۔ انہی دنوں میں گمشدہ لوگوں کے لئے ایک ٹاسک فورس بھی بنی لیکن اس کی رپورٹ کو ابھی تک منظر عام پر نہیں لایا گیا۔ سپریم کورٹ کے اس معاملے میں دلچسپی لینے کے بعد خاص طور پر بلوچستان میں گمشدگی کے واقعات میں کمی نظر آئی۔ لیکن افتخار چوہدری کے جانے کے بعد 2014 سے عدالتوں نے خاموشی اختیار کر لی ہے۔ 2013 میں محبت شاہ کے فیصلے میں عدالت نے جبری گمشدگی کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا تھا۔

برسوں کی پیروکاری کے بعد بین الاقوامی برادری اس تعریف پر متفق ہوئی ہے کہ ریاست کے ایجنٹوں یا ریاست کی جانب سے اختیار رکھنے والے لوگوں کا کسی کو گرفتار کرنا، حراست میں رکھنا، یا کسی بھی صورت سے آزادی سے محروم کرنا اور پھر اس سے انکار کرنا یا لاپتہ افراد کے بارے میں یہ نہ بتانا کہ انہیں کہاں رکھا گیا ہے اور یوں انہیں قانونی تحفظ سے محروم کرنا جبری گمشدگی کہلاتا ہے۔ (آرٹیکل2، جبری گمشدگیوں سے لوگوں کی حفاظت کا بین الاقوامی کنونشن)۔ جبری گمشدگی کا مطلب بہت سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

پاکستان کا آئین اور قانون شہریوں کی جان اور آزادیوں کی حفاظت کی ذمہ داری لیتا ہے اور ہم نے ایسے بہت سے بین الاقوامی معاہدوں پر بھی دستخط کر رکھے ہیں جن کے تحت کسی بھی شہری کو اس طرح غائب نہیں کیا جا سکتا۔ اگر کسی کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو اسے انصاف تک رسائی کا حق ہونا چاہئیے۔ اس کے نقصان کی تلافی ہونی چاہئیے۔ اور اسے معلومات کا حق ملنا چاہئیے۔ لاپتا فرد کے اہل خانہ کو سب سے پہلے تو حبس بے جا یا  habeas corpusکی درخواست دائر کرنا چاہئیے۔ جبری گمشدگی کا مقصد معاشرے میں خوف و دہشت کی فضا پھیلانا ہوتا ہے۔ کسی شخص کو اٹھائے جانے کے نتیجے میں جو عدم تحفظ اور خوف کا احساس پیدا ہوتا ہے، وہ صرف اس شخص کے خاندان تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے معاشرے میں پھیل جاتا ہے۔ ایمنسٹی کے بقول اب یہ ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔ پہلے تو صرف فوجی آمریتیں اسے استعمال کرتی تھیں لیکن اب تو داخلی تنازعات اور سیاسی مخالفین کو دبانے کے لئے بھی اسے استعمال کیا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کا دفاع کرنے والے کارکنان، متاثرین کے رشتہ دار، وکلا خصوصی نشانہ بنتے ہیں۔ ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ اگر حکومتوں کو واقعی نہیں پتا کہ ان لوگوں کو کہاں رکھا جا رہا ہے تو انہیں اس ضمن میں اپنی کوششوں کو تیز کرنا چاہئے اور ان لوگوں کو بازیاب کرانا چاہئیے۔

جہاں تک پاکستان کی سول سوسائٹی کا تعلق ہے، اسے سپریم کورٹ کو جبری گمشدگیوں کے حوالے سے پھر متحرک کرنا چاہئیے۔ ماضی میں اس حوالے سے سپریم کورٹ کا کردار بہت موثر رہا ہے۔ عدالتیں ہی متاثرین کو موثر ریلیف دے سکتی ہیں۔ سول سوسائٹی کو چاہئیے کہ وہ ججز کو  sensitizeکرے۔ مرکزی اورصوبائی حکومتوں کو اپنی یہ روش ترک کرنا ہو گی کہ ان کے اختیار میں کچھ نہیں اور وہ کچھ نہیں کر سکتیں۔ عوام کو ان کا یہ عذر قبول نہیں کرنا چاہئیے۔ کریمنل لا concurrent سبجکٹ ہے۔ جبری گمشدگی کے حوالے سے قانون سازی کی جائے۔ ویسے بھی محبت شاہ کیس میں سپریم کورٹ کا آرڈر ہے کہ اس کے بارے میں قانون بنایا جائے۔ نیز جبری گمشدگیوں کے کمیشن کی ٹاسک فورس کی رپورٹوں کو عام کیا جائے۔

Facebook Comments HS