خدا کرے سعودی عورت کو کوئی چھرا نہ گھونپ دے!
کہتے ہیں کہ وہ خوبصورت اور نفیس نقوش اور پرکشش آنکھوں والی عورت تھیں۔ عربی اور فرانسیسی ادب کا گہرا مطالعہ رکھتی تھیں۔ ان کے دروازے عام سعودی عورتوں کے لیے آخر تک اور ہر وقت کھلے رہتے تھے۔ وہ ان کے مسائل براہِ راست سنتیں اور ذاتی طور پر حل کرتیں۔
عفت ہوتیں تو شاید اب تک وہاں کی لڑکیاں ڈرائیونگ بھی کر رہی ہوتیں! جیسے عفت کے بوئے ہوئے بیج سے آج وہاں کی مقامی لڑکیاں زندگی کے کئی شعبوں میں نظر آتی ہیں۔ اب تو malls اور خواتین کی مصنوعات سے متعلق بڑی دکانوں میں سیلز گرل کے طور پر بھی کام کر رہی ہیں جو کام ڈرائیونگ کی طرح ناممکنات میں شامل تھا۔ صحت کے شعبے میں مردوں کے ساتھ کام کرتی دکھتی ہیں۔
بینکنگ، صحت، تعلیم، آئی ٹی اور اس طرح کے کئی شعبوں میں سعودی لڑکیاں کام کرتی نظر آتی ہیں اور سی ای او کے عہدوں تک بیٹھی ہیں۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے جو سعودی لڑکیاں امریکہ اور انگلینڈ جاتی ہیں ان کے اور ان کے ساتھ جانے والی فیملی کے اخراجات سعودی حکومت برداشت کرتی رہی ہے۔
عفت الثنیان کا ہی خواب اور بویا ہوا بیج ہے کہ سعودی لڑکیاں یونیورسٹی سطح تک کی تعلیم اور میڈیکل کی تعلیم سعودی عرب میں موجود یونیورسٹیوں سے بھی حاصل کرتی ہیں اور ایک شاندار مستقبل کی طرف جاتی نظر آتی ہیں۔
لڑکیاں خود فقہ اور حدیث میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے خود اسلام میں موجود اپنے حقوق کا علم بھی رکھتی ہیں اور ان پر بات بھی کر رہی ہوتی ہیں۔ فتوے لینے کے لیے مولویوں کے پاس نہیں جا رہی ہوتیں بلکہ خود اپنے حقوق و حدود کا معاملہ طے کر رہی ہوتی ہیں اور کوئی انہیں غلط ثابت نہیں کر سکتا۔ سعودی سوسائٹی میں لڑکی کے رشتے کا معاملہ بہت دلچسپ ہے۔ دونوں طرف کے خاندانوں کے بیچ تعارف کے بعد لڑکا اور لڑکی، لڑکی کے گھر میں، تنہائی میں ملتے ہیں۔ لڑکا اپنے ساتھ ایک کنگن لایا ہوتا ہے جو دونوں افراد کی قبولیت کی صورت میں لڑکا لڑکی کو خاموشی سے پہنا دے گا۔ اس کنگن کے ذریعے یہ اعلان ہوگا کہ ہم ایک دوسرے کو قبول کرتے ہیں شادی کے بندھن کے لیے۔ لیکن اگر دونوں میں سے کسی ایک کو بھی رشتہ منظور نہیں ہے تو یہ کنگن نہیں پہنایا جائے گا۔ اور لڑکی کی خالی کلائی کی صورت میں دونوں کے خاندان ایک دوسرے سے کوئی سوال نہیں کریں گے۔
سعودی سماج میں جہاں ایک طرف مرد کی ایک سے زائد شادیوں اور مرد کی طرف سے طلاق دینے کا بہت زیادہ رجحان پایا جاتا رہا ہے، وہیں برسوں سے حیرت انگیز طور پر عورت کا بھی طلاق مانگنا معیوب نہیں بلکہ اس کا حق سمجھا جاتا ہے۔ عورت کتنے شوہروں سے طلاق لیتی ہے اور کتنی شادیاں کرتی ہے، یہ کوئی معیوب بات نہیں بلکہ عورت کا شرعی حق سمجھا جاتا ہے۔ بچے جس کے ساتھ بھی رہنا چاہیں مگر خرچہ اصلی باپ دے گا۔ ماں باپ سے بچے آزادی سے ملتے بھی رہیں گے۔ اس طرح کے معاملات میں سماجی رویّہ کچھ ایسا ہے کہ دوسرے شوہر کے لیے بیوی کی پہلے شوہر سے اولاد کو بیوی کے ساتھ قبول کرنا کوئی سماجی اور نفسیاتی طور پر مشکل یا ناممکن بات نہیں لگتی۔
قانونی طور پر اس طرح کے معاملات میں عورت کو ایک تحفظ یہ بھی حاصل ہے کہ اگر شوہر سعودی نہیں بلکہ غیر ملکی ہے اور صرف اقامہ رکھتا ہے تو وہ تنہا اپنے نابالغ بچے لے کر ملک سے نہیں نکل سکتا، جب تک اس کی سعودی بیوی ساتھ نہ ہو۔ کیونکہ اس طرح بچوں کا اپنی ماں سے چھن جانا ممکن نہیں رہتا۔ گو کہ یہ قانون وہاں کے لوگوں کو پسند نہیں۔ اس موضوع پر میری جب بھی کسی سعودی خاتون سے بات ہوئی میں نے اسے کہا کہ تمہیں نہیں پتا کہ بچے کس طرح ماؤں سے چھن جاتے ہیں اور جس خوف سے تمام عمر مائیں ظلم برداشت کرتی رہتی ہیں۔
سعودی مولوی عورت پر ہلکے پھلکے تشدد کی کتنی ہی ترکیبیں بتائے مگر عورت کو طلاق لینے کے حق سے روک ہی نہیں سکتا۔ ایسی عورت سے دوسرے مرد کی شادی اتنی ہی عام سی بات ہے جس طرح مغرب میں۔
اسی طرح شادی سے پہلے میڈیکل سرٹیفکیٹ بھی سرکاری طور پر درکار ہوتا ہے کہ دونوں کے بلڈ گروپ آپس میں ملنے کے بعد معذور بچوں کی پیدائش کا سبب تو نہیں بنیں گے! اس کے بعد سرکاری طور پر شادی کی اجازت ملتی ہے۔
مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


