خدا کرے سعودی عورت کو کوئی چھرا نہ گھونپ دے!


برسوں پہلے میری ایک سعودی دوست کی شادی تھی اور وہ 1980 کی دہائی تھی۔ تب پتہ چلا کہ لڑکی کو قاضی کے سامنے پیش ہونا پڑتا ہے اور حلفیہ بتانا پڑتا ہے کہ اس کے ساتھ زبردستی نہیں ہو رہی۔ اور یہ کہ اس نے لڑکے کو دیکھا بھی ہے اور پسند بھی کیا ہے۔

سعودی سماج میں بوڑھی اور بیوہ عورت کا کسی سے بھی نکاح کرنا معیوب بات نہیں سمجھی جاتی اور اکثر اس طرح کے واقعات دیکھنے میں آتے ہیں، جنہیں ان عورتوں کی اولاد بھی قبول کرتی ہے اور اس بات کو ان کا شرعی حق سمجھتی ہے۔

مغرب جہاں مسلمان عورت کی آزادی کو بکنی کے ساتھ مشروط کر رہا ہے کہ جب تک وہ بکنی نہیں پہنے گی تب تک آزاد نہیں سمجھی جائے گی اور خود ہم لبرلز بھی اکثر لفظ بکنی بظاہر حذف کرکے ان کے ہم آواز ہو جاتے ہیں مگر جب انھی سعودی لڑکیوں سے برقع پر بات کرو تو وہ اپنے قرآنی اور تہذیبی دلائل کے ساتھ اپنے برقعے کا تحفظ کرتی ہیں۔

گو کہ بہت سی سعودی عرب سے باہر برقع چھوڑ کر گاؤن اور حجاب لے لیتی ہیں اور کئی ایسی بھی ہیں جو سعودی عرب سے باہر برقع یا عبا یا گاؤن بھی نہیں لیتیں۔

مگر یہ برقع یا عبا اپنی جگہ، سعودی عورتوں اور لڑکیوں کا لباس مکمل طور پر مغربی انداز کا ہے۔ یورپ اور امریکہ سے ہی درآمد شدہ ہے۔ بہت ہی بیباک لباس بھی عام ہے۔ عمومًا پیرس کا فیشن اپناتی ہیں اور فیشن سے متعلق الفاظ فرانسیسی زبان سے عربی لہجے میں مستعار لیے ہوئے ہوتے ہیں۔

منی اسکرٹ اور ٹائٹ پینٹس off shoulder، low neck اور backless dresses کے ساتھ ساتھ سلیوِلیس بلاؤز اور گھر میں ایک نفیس سی نائٹی ان کا معمول کا لباس ہے۔ گو کہ اس لباس کا استعمال گھر میں بھی اور خواتین کی محفلوں میں بھی عام ہے مگر اس کے لیے گھروں میں ایک خوبصورت رواج ہمیشہ سے قائم ہے جو اس طرح کا لباس اپنانے سے بھی پہلے کا ہے۔

گھر میں اگر صرف شوہر اور بیوی ہیں تو پھر کوئی حدبندی نہیں، لیکن اگر گھر میں بیٹیاں جوان ہیں اور جوان بھائی بھی ہیں تو کوئی بھی مرد اپنے ہی گھر میں بغیر اجازت داخل نہیں ہو سکتا۔ جب داخل ہوتا ہے تو اپنے کمرے تک جاتے ہوئے یا گھر کے مختلف حصوں سے گزرتے ہوئے اونچی آواز میں یااللہ یااللہ یااللہ کہتا ہوا جائے گا تاکہ گھر کی خواتین اپنی پرائیویسی کا خیال رکھ سکیں۔ بھائیوں اور باپ کے سامنے آتی ہیں تو پھر یا تو لباس بدل لیں گی یا پھر وہی عبا اس لباس پر اوڑھ کر ان کے سامنے آئیں گی۔

اسی پرائیویسی کے خیال سے سعودی عرب کے ہر طبقے میں اس کی مالی اسطاعت کے مطابق لازم ہے کہ شادی سے پہلے ہی لڑکا اپنے لیے علیحدہ گھر کا انتظام کرے جہاں آنے والی دلہن کو مکمل پرائیویسی میسر ہو۔ اس لیے وہاں اپارٹمنٹ سسٹم بہت زیادہ ہے۔ مالی طور پر مستحکم لوگ گھر عمارت کی صورت بنواتے ہیں جس کے ہر فلور پر ہر ایک بیٹے کا علیحدہ گھر ہوتا ہے۔ والدین عموماً نچلی منزل پر رہتے ہیں۔

شادی سے پہلے لڑکے کو اپنا گھر خود سجانا اور بھرنا ہوتا ہے۔ لڑکی جہیز میں فرنیچر اور گھر کا سامان نہیں لاتی۔ لڑکے کی طرف سے پہلے سے ہی معجل مہر ادا کر دیا جاتا ہے۔ عموماً غریب والدین بیٹی کو اسی میں سے کچھ نہ کچھ بنا کر دیتے ہیں۔

مرد کی کثرت سے شادیوں کا معاملہ بھی اپنی جگہ موجود ہے مگر میرے لیے یہ بات بہت دلچسپ ہو جاتی ہے جب کسی کی پہلی بیوی شوہر کی دوسری بیوی کے شرعی حق کی بات کرتی ہے اور اگر شوہر کسی بیوہ سے شادی کرے تو وہ اس بیوہ کے حق کی محافظ بنی دکھتی ہے۔

معاشرہ اب اس جگہ کھڑا ہے جہاں ساس اپنی بہو کے معاملات میں دخل اندازی کا سماجی حق نہیں رکھتی۔ ساس نچلی منزل پر علیحدہ گھر میں رہتی ہے مگر ماں کی خدمت بیٹے کے لیے عبادت کا درجہ رکھتی ہے۔ ماں کے معاملے میں سماج بہت حساس ہے اور مذہبی طور پر حساس ہے۔

شادی کی محفل میں زنان خانہ الگ اور مردان خانہ الگ ہوتا ہے۔ آج تو بڑی بڑی اور جدید قسم کی مارکیاں اور شادی ہال بنے ہوئے ہیں۔ زنان خانے میں ہمارے ملک کی طرح ہی موسیقی کی محفل سجتی ہے جس میں مغربی انداز میں ملبوس رشتہ دار لڑکیاں اور سہیلیاں بیلی ڈانس وغیرہ بھی پوری آزادی سے کرتی ہیں۔ شادی بھی مغربی انداز کی ہوتی ہے۔ لڑکی مغربی طرز کا سفید لباس پہنتی ہے۔ چہرے پر اسی طرح سفید باریک جالی کا نقاب ہوتا ہے۔ وہی اس کا گاؤن پیچھے سے تھامے ہوئے سفید خوبصورت فراک میں ملبوس بچیاں۔ وہی سفید پھول۔ ایک بڑا سا کیک جسے دونوں نے سب کے بیچ کاٹنا ہوتا ہے اور ایک دوسرے کو کھلانا ہوتا ہے۔

دولہا روایتی سعودی لباس پہنتا ہے۔ دولہا بھائیوں اور باپ کے ساتھ اندر آتا ہے۔ ان کے آنے کے اعلان کے ساتھ ہی شادی میں شریک لڑکیاں اور خواتین اپنے عبا اوڑھ کر ایک طرف ہو جائیں گی اور صرف دونوں طرف کے گھر کی خواتین سامنے رہیں گی۔ گو کہ وہ بھی خود کو عبا سے ڈھانپ چکی ہوں گی۔

پردے کی وجہ سے ہی سعودی عرب میں لڑکیوں کا فوٹوگرافی کے پروفیشن میں بہت زیادہ اسکوپ ہے۔ وہی زنان خانے کی فوٹوگرافی کرتی ہیں اور ان کی وڈیوز اور البم بناتی ہیں۔ ہاں دولہا دلہن کے پوز بھی وہی لیتی ہیں، جس کے لیے ظاہر ہے کہ انہیں دولہا لے سامنے کھلے منہ ہی کھڑے ہونا ہوتا ہے۔ خواتین نے گھروں میں بیوٹی پارلرز کھول رکھے ہیں۔ مگر دلہن کا لباس جو انتہائی مہنگا ہوتا ہے، بہت سے لوگ وہ لباس صرف ایک رات کے لیے کرائے پر بھی لیتے ہیں، کیونکہ وہ صرف ایک رات کا لباس ہوتا ہے۔

انگریزی زبان بھی اب بہت زیادہ بولی جاتی ہے۔ ہر طبقے کی لڑکیوں میں نوکری کرنے کا رجحان بہت زیادہ ہے۔ بلکہ فارغ بیٹھی لڑکی کو کچھ زیادہ اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ محفل کی گفتگو اکثر یہاں سے شروع ہوتی ہے کہ پڑھتی کیا ہو اور کام کیا کرتی ہو؟ لڑکیوں کی مزید اعلیٰ تعلیم کے لیے جدہ اور ریاض جیسے بڑے شہروں کی یونیورسٹیوں میں بہت ہی اعلیٰ معیار پر بورڈنگ کا انتظام رکھا گیا ہے، جن کے اسٹوڈیو اپارٹمنٹ دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔

امیر سعودی خواتین میں بہت رجحان ہے کہ وہ ان یونیورسٹیوں میں متوسط اور غریب طبقے کی ان لڑکیوں کے تعلیمی اور تعلیم کے دوران زاتی اخراجات برداشت کرتی ہیں جو اپنا اچھا تعلیمی رکارڈ رکھتی ہوں۔ اس کے لیے ایسی امیر خواتین خود یونیورسٹی اور کالج جا کر انتظامیہ سے بات کرتی ہیں اور انتظامیہ انہیں ایسی لڑکیوں کے نام دیتی ہے۔

میں نے ایسی لڑکیوں سے یہ بھی سنا کہ انہیں خود نہیں معلوم ہوتا کہ ان کے اخراجات ادا کرنے والی خاتون کون ہے کہ وہ اس کا شکریہ ادا کریں۔ بس انتظامیہ بتا دیتی ہے کہ آپ کے اخراجات کوئی اور خاتون ادا کر رہی ہیں۔ باقی کا معاملہ خاتون اور انتظامیہ کے بیچ ہوتا ہے۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4

نورالہدیٰ شاہ

نور الہدی شاہ سندھی اور اردو زبان کی ایک مقبول مصنفہ اور ڈرامہ نگار ہیں۔ انسانی جذبوں کو زبان دیتی ان کی تحریریں معاشرے کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔

noor-ul-huda-shah has 102 posts and counting.See all posts by noor-ul-huda-shah