کیا شرمین چنائے کی شکایت پر ڈاکٹر کی برطرفی درست ہے؟


شرمین کی تین ٹویٹس نے سوشل میڈیا پر طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ شرمین نے ان ٹویٹس میں کہا ہے کہ ”پاکستان میں کوئی حدود ہی نہیں ہیں، پچھلی رات میری بہن آغا خان یونیورسٹی کی ایمرجنسی میں گئی اور جس ڈاکٹر نے ان کو دیکھا، اس نے ان کو فیس بک پر ایڈ کرنے کی کوشش کی۔ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ایک ڈاکٹر جو ایمرجنسی میں مریضوں کو دیکھتا ہے وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کے لئے یہ بات ٹھیک ہے کہ وہ خواتین مریضوں کی معلومات لے کر انہیں فیس بک پر ایڈ کر لے۔ غیر اخلاقی۔ بدقسمتی سے ڈاکٹر نے نشانہ بنانے کے لئے غلط خاندان کی غلط خواتین کو چنا ہے۔ میں لازمی طور پر اسے رپورٹ کروں گی۔ ہراسانی کو رکنا چاہیے“۔اطلاعات کے مطابق آغا خان ہسپتال کی انتظامیہ نے ڈاکٹر کو برطرف کر دیا ہے۔ گو کہ انتظامیہ نے اس بات کی تصدیق یا تردید کرنے سے انکار کرے ہوئے کہا ہے ”کہ آغا خان یونیورسٹی ہسپتال ہمیشہ معلومات کو صیغہ راز میں رکھنے کے اعلی ترین معیار کی پاسداری کرتا ہے اور وہ اپنے کسی بھی ملازم یا مریض کے بارے میں معلومات عام نہیں کرتا“۔

پاکستانی قوانین کے مطابق اس معاملے کو ہراسانی قرار دینا کچھ مشکل ہو گا۔ ایف آئی اے کراچی کے سائبر کرائم سیل کے انچارج عبدالحمید بھٹو کے مطابق فیس بک ریکویسٹ، جو کہ قبول یا مسترد کی جا سکتی ہے، ہراسانی نہیں ہے اور اسے پاکستان الیکٹرانک کرائم ایکٹ 2016 کے تحت کسی عدالت میں نہیں لایا جا سکتا۔ سپریم کورٹ کے وکیل خلیل احمد صدیقی کہتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر فرینڈ ریکویسٹ بھیجنا ہراسانی کی کسی تعریف پر پورا نہیں اترتا۔ لیکن یہ آغا خان ہسپتال کے ضابطہ اخلاق کے منافی ہو سکتا ہے۔

جنسی ہراسانی کے الزام سے ہم بھِی شرمین سے مکمل طور پر اتفاق یا اختلاف نہیں کرتے مگر یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ہسپتال میں، اور خاص طور پر ایمرجنسی میں، کسی مریض سے حاصل شدہ کوئی بھی ذاتی معلومات دنیا میں ایک پیشہ ورانہ راز سمجھی جاتی ہیں۔ میڈیکل ریکارڈ کو عام کرنا یا پروفیشنل کی بجائے اپنے ذاتی مقاصد کے لئے استعمال کرنا نہ صرف پیشہ ورانہ بددیانتی سمجھی جاتی ہے بلکہ اس کی بنیاد پر ڈاکٹر اور ہسپتال پر مقدمہ بھی قائم کیا جا سکتا ہے۔ خاص طور پر آغا خان ہسپتال کی پوزیشن نہایت نازک ہو جاتی ہے اگر اس کے بارے میں یہ تاثر عام ہو جائے کہ ادھر مریضوں کی معلومات کا غلط استعمال کیا جا سکتا ہے یا انہیں پبلک کیا جا سکتا ہے۔ اس تناظر میں ڈاکٹر کی برطرفی درست دکھائی دیتی ہے۔

اس معاملے میں ہماری تاریخ کا مشہور ترین کیس تو قائداعظم کا ہی ہے۔ ان کے معالج نے ان کی ٹی بی کو صیغہ راز میں رکھا تھا اور کسی کو یہ علم نہیں ہونے دیا تھا کہ مرض آخری سٹیج پر پہنچ چکا ہے۔ بعد میں یہ بات سننے میں آتی رہی کہ کانگریس کے لیڈروں کو اگر یہ بات معلوم ہو جاتی تو وہ تاخیری حربے استعمال کرتے تاکہ مسلمان اپنے مقبول ترین لیڈر سے محروم ہو کر کمزور پڑ جائیں۔

جہاں تک ہراسانی کی بات ہے تو ہم اس سے سو فیصد اختلاف کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ اگر کوئی شخص کسی معاملے میں دوسرے شخص، خاص طور پر خاتون، پر اختیار رکھتا ہو اور اس اختیار سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے تو یہ ہراسانی کا معاملہ قرار پا سکتا ہے۔ اختیار کی پوزیشن سے پروفیشنل تعلق کو پرسنل تعلق میں بدلنے کی کوشش ہراسانی قرار پا سکتی ہے۔ شرمین کی ہمشیرہ نے ڈاکٹر کو اپنی معلومات دوستانہ محفل میں نہیں دی تھیں۔ یہ معلومات انہوں نے اپنے علاج کی ریکوائرمنٹ پوری کرنے کے لئے ایک ڈاکٹر/ہسپتال کو دی تھیں جس کے ہاتھوں میں ان کی صحت تھی اور وہ ان کے رحم و کرم پر تھیں۔ اس معاملے پر کوئی ماہر ہی فیصلہ کن رائے دے سکتا ہے۔

ہم یہ نہیں جان سکتے کہ ڈاکٹر نے شرمین کے سیلیبریٹی سٹیٹس سے متاثر ہو کر ان کی ہمشیرہ کو فرینڈ ریکویسٹ بھیجی تھی یا پھر اس کی نیت خراب تھی۔ لیکن ہراسانی کا معاملہ ہو یا نہ ہو، طبی مقاصد کے لئے دی گئی معلومات کو ذاتی مقاصد کے لئے استعمال کرنے پر ڈاکٹر کی برطرفی ایک درست فیصلہ دکھائی دیتا ہے۔ (ختم شد)


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1500 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar